اسلم انصاری

اسلم انصاری

اب سے پہلے تک تو وہ چہرہ ہمارے ساتھ تھا

    اب سے پہلے تک تو وہ چہرہ ہمارے ساتھ تھا یا نہ جانے صرف اک سایہ ہمارے ساتھ تھا دفعتہ ہم جھیل کی جانب نہ مڑ جاتے اگر مقبروں تک تو وہی رستہ ہمارے ساتھ تھا ہم رواں تھے، دوریوں کے سبز جنگل کی طرف ایک گہرا سرخ سناٹا ہمارے ساتھ تھا سب افق کی اوٹ میں تھے، خواب، ساحل، منزلیں جان و تن کا ٹوٹتا رشتہ ہمارے ساتھ تھا اک تغیر تھا ہمارے پیش و پس صورت نشاں جاوداں لمحوں کا اک دھوکا ہمارے ساتھ تھا پھول، خوشبو، رنگ، چہرے، گفتگو کے ذائقے پچھلے اک منظر میں بھی کیا کیا ہمارے ساتھ تھا ہم کو صحرا میں نہ آیا اپنی چھاگل کا خیال ایسا لگتا ہے کہ اک دریا ہمارے ساتھ تھا وہ جدائی کی روش پر آخری لمحات تھے اور چپ کا ایک پیرایہ ہمارے ساتھ تھا خواب ہوتی قربتوں میں ہم اکیلے تھے مگر آنے والے وقت کا دھڑکا ہمارے ساتھ تھا