اسلم انصاری

اسلم انصاری

گزرگاہوں پہ اب بھی روشنی بکھرائے رکھتے ہیں

    گزرگاہوں پہ اب بھی روشنی بکھرائے رکھتے ہیں تجھے اے زندگی کس کس طرح بہلائے رکھتے ہیں کبھی شاخوں میں پیکر ہیں کبھی پھولوں میں چہرے ہیں خیال و خواب بھی کیا کیا عجب پیرائے رکھتے ہیں وہ مستقبل کی باتیں ہوں کہ ماضی کے حوالے ہوں بہر انداز اپنے ذہن کو الجھائے رکھتے ہیں پرندے پھڑ پھڑائے دیر تک اور اب یہ عالم ہے کہ اڑتے بھی نہیں ہیں اور پر پھیلائے رکھتے ہیں رواں ہے طبعِ موزوں اور یادِ دوست پائندہ کہ عکسِ گل کو سطحِ آب پر ٹھہرائے رکھتے ہیں سحر آئی تو پائے گی نشاں صد رنگ کرنوں کے کہ ہم بھی روشنی کے باغ کو دہکائے رکھتے ہیں یہ عصرِ آگہی ہے، یہ شعورِ نَو کی دنیا ہے مگر انساں کو اب بھی وسوسے بہکائے رکھتے ہیں خیال و حرف بھی رم خوردۂ قیدِ عبارت ہیں یہ وہ آہو ہیں جو صیاد کو بھٹکائے رکھتے ہیں تجھے بھی سینچتے ہیں خونِ دل سے، گلشنِ فردا ترے چہرے کو بھی اے زندگی، چمکائے رکھتے ہیں