اسلم انصاری

اسلم انصاری

سارے ماحول پہ طاری تھی شباہت اس کی

    سارے ماحول پہ طاری تھی شباہت اس کی دور سے دیکھ کے لوٹ آئے تھے صورت اس کی ایک مر مر سے اجالے کا تصور کیجیے کیسے الفاظ میں لے آئیں صباحت اس کی اس کی باتوں میں مہکتے تھے فصاحت کے گلاب اس کی آنکھوں میں چمکتی تھی ذہانت اس کی ہم کلامی کی تمنا میں چلے تھے ہم بھی کیسے خاموش ہوئے دیکھ کے نخوت اس کی سارا ہنگامہئ ہستی تھا اسی شخص کے ساتھ چاند اس کا تھا، بہار اس کی تھی، نکہت اس کی وہ جو صدیوں کی بہاروں کو چرا لا یا تھا آگ سی بھر گئی سینے میں محبت اس کی اپنی ہر بات پہ سچائی کا دعویٰ تھا اسے کسے کہیے کہ بس اک کھیل تھا چاہت اس کی اس کا مقصود تھا ہر حال بچھڑنا ہم سے ہم کو منظور تھی ہر رنگ میں راحت اس کی