پرانی موٹر کار
پرانی موٹر کار
سید محمد جعفری
گردش میں تھا اک روز ستارہ جو ہمارا
اک دوست کی اِک کار میں کچھ وقت گزارا
کہتے تھے اُسے کار، مگر تھی وہ کھٹارا
کھٹ راگ ہر اِک پرزے کو تھا جان سے پیارا
یہ کار کہیں تھی تو دھواں اُس کا کہیں تھا
اُس کار کا حلیہ جو تھا کاروں کا نہیں تھا
اُس کار کے لاشے میں نہیں تھا کوئی دم خم
ناکارہ تھی وہ کار مگر سمجھے تھے یہ ہم
یہ گاڑی ہے گاڑی ہوئی اپنی جگہ محکم
’’جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ کار کا عالم
میں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا‘‘
ٹائروہ پھٹا جو کبھی پنکچر نہ ہوا تھا
دس موٹروں کے پرزوں کے چندے سے بنی تھی
ہر پرزے کی ہر دوسرے پرزے سے ٹھنی تھی
پھر چھاؤں میں اور دھوپ میں رنگت جو چھنی تھی
’’کیا گل بدنی، گل بدنی، گل بدنی تھی‘‘
اُس کار کے قالب میں جو چیتا نظر آیا
دھکے جو دیے، خون ہی پیتا نظر آیا
میں مرغِ گرفتار تھا، یہ کار تھی صیاد
کیا چلتی چلاتی تھی اسے مردوں کی اولاد
ہر پرزے سے اس کار کے اٹھتی تھی یہ فریاد
’’ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر اُن کردہ گناہوں کی سزا ہے‘‘
رہ جائیں ٹھٹک کر یہی چلنے کا مزا ہے
رستے میں پڑی ہے کہ پڑا ہے کوئی مردار
جو پاس سے گزرا وہ یہ کہتا ہے خبردار
ڈیزل سے نہ پٹرول سے چل سکتی تھی یہ کار
درویشوں کی تھیں صرف دعائیں اِسے درکار
اسٹارٹ اگر ہو گئی لرزاں نظر آئی
ماتم زدہ اور اشک بداماں نظر آئی
اس کار کی بکری سے سڑک پر ہوئی ٹکر
بکری تو کھڑی رہ گئی، یہ کھا گئی چکر
دوچار قدم بھی نہ چلی، رہ گئی تھک کر
اس کار کا انجن ہے بڑا موذی مذکر
ہینڈل کو نہ مارو کہ کہیں اُترے نہ پہونچا
جو بیٹھ گیا اِس میں وہ گھر تک نہیں پہنچا