سید محمد جعفری

سید محمد جعفری

رشوت کا فن

    رشوت کا فن

    سید محمد    جعفری

     

    جب سے فائن آرٹس میں شامل ہوا رشوت کا فن

    جا بجا ہیں ماہرینِ فن اور ان کی انجمن

    دعوتیں ہیں، رقص ہیں، اور خوش نوایانِ چمن

    اک دلِ نازک ہے اور صد ہا بت ناوک شکن

    پیش کر دیتے ہیں یہ فنکار ایسے شاہکار

    بالمقابل ہو اگر ابلیس ہو جائے فرار

    بعض فنکاروں سے انساں بچ کے جا سکتا نہیں

    ایسے پھندے ڈالتے ہیں پھڑپھڑا سکتا نہیں

    پھونک وہ بھرتے ہیں جامے میں سما سکتا نہیں

    ’’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

    محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی‘‘

    حیثیت رشوت کی جب مثلِ وبا ہو جائے گی

    اس وبا کو روکنا ہے کارپوریشن پر محال

    کیوں کہ یہ رشوت کا دھندہ ہے نہیں چنگی کا مال

    اس پہ دست اندازیاں کر لے پولس کی کیا مجال

    دوسروں سے کیا لڑیں گے جن کا خود پتلا ہے حال

    ’’دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

    ’’زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا‘‘

    چوں کہ فائن آرٹس میں ہوتا ہے رشوت کا شمار

    قدر داں اس فن کے ہوتے ہیں فقط سرمایہ دار

    وہ ہی قیمت دے کے لے سکتے ہیں اس کا شاہکار

    وہ اگر چاہیں، کبوتر کر لے شاہیں کو شکار

    پیش کر دیتے ہیں اکثر تحفۃً وہ کیڈلک

    اُن کی تو قسمت ہے ایسی اور ہماری بیڈ لک

    ایک صاحب نے جنہیں اس فن میں حاصل تھا کمال

    اور اک افسر سے تھا مطلب بر آری کا سوال

    اس کو سمجھایا تجارت میں مری تو حصہ ڈال

    جس کو کہتے ہیں تجارت وہ تو ہے بالکل حلال

    پھنس گیا جس وقت افسر راز تب اُس پر کھلا

    ’’آستیں میں دشنبہ پنہاں، ہاتھ میں خنجر کھلا‘‘

    ایک صاحب نے کسی افسر کو کھلوایا شکار

    یعنی اس نے اس بہانے سے لیا تیتر کو مار

    کر دیا کم نشۂ ایمانداری کا خمار

    اب جو یہ پر قینچ تیتر ہے نہ اڑ پائے گا یار

    اک ذرا سی بات کے لالچ میں کیسا آگیا

    ’’شوق بے پروا گیا،فکرِ فلک پیما گیا‘‘

    فصل آموں کی جب آئی شاطرِ شیریں کلام

    آم لایا جا کے منڈی سے اور اونچے دے کے دام

    جا کے اک افسر کے گھر پر کر دیا فرشی سلام

    اور کہا سرکار میرے باغ سے آئے ہیں آم

    جب کہ بیگم صاحبہ اور اُن کے بچے کھائیں گے

    آم ایسے ہیں کہ ان کو کھا کے خوش ہو جائیں گے

    اب وہ افسر جس کو رشوت کی ابھی عادت نہیں

    کسمساتا ہے مبادا اس میں تو رشوت نہیں

    کہتے ہیں سب لوگ مل جل کر یہ وہ لعنت نہیں

    اس کے بدلے کام کرنے میں کوئی حجت نہیں

    اس نے بھیجے ہیں خلوص اور دوستی میں اپنے آم

    اس میں رشوت آگئی کیسے کہ ہو جائے حرام

    ماہر فن پہلے ہی حل کر گیا تھا یہ سوال

    یہ کوئی رشوت نہیں، دل میں نہ لائیں یہ خیال

    سوچتے ہیں یہ بھی، لے لو، مفت ہاتھ آتا ہے مال

    رفتہ رفتہ قلبِ افسر کو جکڑ لیتا ہے جال

    جس نے رشوت دی کہ لی، یہ ساری باتیں اس کی ہیں

    ’’نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں‘‘

    ایک دن فن کار ایسا کام لے کر آئے گا

    جس کو ابلیسِ لعیں بھی دیکھ کر شرمائے گا

    اپنی سب خدمات کی یادوں سے دل گرمائے گا

    اور جو سرمایہ لگایا تھا اُسے بھر   پائے گا

    اس کو ہم رشوت نہیں کہتے یہ ہے فنِ لطیف

    آدمی کرتا ہے یہ اور پھر شریفوں کا شریف

    رشوتوں کے ہاتھ میں پرمِٹ اگر آجائے گا

    برسر بازار اس یوسف کو بیچا جائے گا

    ہاتھ بدلیں گے تو اس کا نرخ بالا جائے گا

    آخری گاہک کے اوپر بوجھ ڈالا جائے گا

    اس طرح چکر گرانی کا زمیں پیما ہوا

    اس میں ہر فردِ بشر پھرتا ہے بولایا ہوا