سید محمد جعفری

سید محمد جعفری

کثرتِ آبادی

    کثرتِ آبادی

    سید محمد    جعفری

     

    پاپولیشن ایکسپلوژن(١) مائل فریاد ہے

    کہہ رہا ہے زندگی کیا ہے بڑی اُفتاد ہے

    آج کل دنیا میں اتنا دورِ زندہ باد ہے

    کل جسے کہتے تھے گھر وہ آج طفل آباد ہے

    نسلِ سابق جا نہیں پائی نئی نسل آگئی

    زندگی کی آگ جو سینے میں تھی کجلا گئی

    بڑھتے بڑھے اتنا بڑھ جائے نہ یہ نوعِ بشر

    کھیت میں گنے کے استادہ ہوں جیسے نیشکر

    کھا لیا جنت میں گیہوں اور نکل آئے مگر

    اب یہاں بڑھ جائیں گے اتنے تو جائیں گے کدھر

    زندہ کیسی رہے گی ایسی دھکم پیل میں

    ٹُھس کے بیٹھیں جیسے دیہاتی عوامی ریل میں

    آدمی دنیا میں رہنے کے لیے آتا رہا

    رہروِ ملک عدم چلتا رہا گاتا رہا

    مرغ و ماہی اور پھل جتنے ملے کھاتا رہا

    ہل چلا کر کھیت میں محنت کا پھل پاتا رہا

    لیکن اب ملتی نہیں غلہ اُگانے کی جگہ

    ہو گئی ہے اس کی دنیا جی جلانے کی جگہ

    اس زمیں پر جب کھڑے رہنے کی گنجائش نہ ہو

    آدمی بڑھتے رہیں غلہ کی پیدائش نہ ہو

    کیا اُگائیں جس جگہ اُگنے کی آسائش نہ ہو

    ہم نہیں مانیں گے جب تک ہم کو فہمائش نہ ہو

    آدمی اک دوسرے سے بھاگیں اس انداز سے

    ’’رونقیں ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سے‘‘

     

    حواشی

    (١) Explosion