اب کیا کہیں کیا مشغلہ ہم دل زدہ لوگوں کا ہے
اب کیا کہیں کیا مشغلہ ہم دل زدہ لوگوں کا ہے آوارگی شاموں کی ہے، اور جاگنا راتوں کا ہے دہشت سی کچھ رستوں میں ہے، کچھ شور سا پتوں کا ہے اک سرسراتا واہمہ سا شام کے لمحوں کا ہے جس سمت بھی دیکھوں، وہی حیرت بلاتی ہے مجھے چاروں طرف اک جال سا پھیلا انہیں آنکھوں کا ہے وعدوں کی رت رخصت ہوئی، باتوں کو چپ سی لگ گئی ملنا تو اب خوابوں میں ہے، رشتہ تو بس یادوں کا ہے جو حرف نا گفتہ رہا، اس کی خلش قاتل بنی جو کہہ کے ہم مجرم ہوئے، رونا اب ان باتوں کا ہے منہ پھیر لیں یا کیا کریں، منظر بدلنا چاہیے کب سے خس و خاشاک پر سایہ گھنی شاخوں کا ہے بے چہرگی کی دھند میں ادراکِ صورت کیا کریں گرداب سا مشکلوں کاہے، آشوب سا لہجوں کا ہے