بیٹی کا جہیز
بیٹی کا جہیز
سید محمد جعفری
ایک لڑکی کا مجھے تیار کرنا ہے جہیز
ہو رہی ہے عقل اور جذبات میں میری ستیز
اچھا خاصا آدمی تھا بن گیا نہر (١)سویز
بسترِ راحت نہیں ہے آپریشن کی ہے میز
کشمکش میں مبتلا ہوں چوں کہ ہوں لڑکی کا باپ
یہ وہ منزل ہے کہ گزریں گے وہاں سے میں اور آپ
سوچتا ہوں قرض لے کر اِس کی تیاری کروں
اور مہیا عمر بھر کے واسطے خواری کروں
قرض خوا ہوں سے بچوں پھر اُن سے عیاری کروں
منہ چھپاؤں، گھر جب آئیں عذرِ بیماری کروں
یہ خبر پہنچے گی اِس بیٹی کی بھی سسرال میں
اِس کے ابّا قرض لے کر پھنس گئے جنجال میں
قرض پر جو سود ہے دکھلائے گا رعنائیاں
وہ بھی پھر نامِ خدا ہو جائے گا اِتنا جواں
سخت پچھتائیں گے یاد آئے گی جب یہ داستاں
’’ قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
’’رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی اک دِن‘‘
مل ہی جائے گا ہمیں وارنٹِ دستی ایک دِن
سوچتا ہوں پھر کہ ساری زندگی ہے مُستعار
یہ زمانے کی روش ہے میں بھی لُوں سودی اُدھار
ور نہ لڑکی میرے گھر سے جا کے ہوگی شرم سار
کیا جہیز آیا ہے ساتھ اُس سے کہیں گے بار بار
اے مری نُورِ نظر، لختِ جگر ،جانِ پدر
دُوں گا میں تُجھ کو جہیز اب جان پر بھی کھیل کر
ور نہ میری ناک جو چھوٹی سی ہے کٹ جائے گی
کنُبے والوں میں مری عزت بہت گھٹ جائے گی
نُقلِ محفل کی طرح سے یہ خبر بٹ جائے گی
جِس کو گھر گھر ایک بُڑھیا لے کے سر پٹ جائے گی
کیا زمانہ آ لگا بچی کا ہے کیسا جہیز
صِرف قرآن اور چکی! دی نہ کرسی اور نہ میز
ریڈیو ہے نہ گرامو فون ہے نہ کار ہے
نہ کوئی بھاری سا زیور نہ جڑاؤ ہار ہے
بیاہ کیوں کرتے ہیں جلد ان پر یہ بیٹی بار ہے؟
اپنی نظروں میں جہیز ایسا بہت بے کار ہے
لڑکے والے بامروّت ہیں تو کچھ کہتے نہیں
ہم جو سچی بات ہے وہ بِن کہے رہتے نہیں
بعد ازاں سرگوشیاں کرتے رہیں گے رشتہ دار
اپنے ساتھ اِس نے لیا ہم سب کی عزّت کو اُتار
جب برات آئی تو کھانا دے سکا نہ اِن کو یار
کہتا ہے قانون کا پابند ہے بے اختیار
دل اگر چاہے تو ہر صورت بنا لیتے ہیں کام
اپنے مطلب کے لیے قانون کا یہ احترام
باجے گاجے کی نہ ہوگی چوں کہ اِس شادی میں دُھوم
مجھ پہ یہ الزام رکھیں گے کہ میں ہوں مردِ شُوم
عقل سمجھاتی ہے مجھ کو جب کہ میں جاتا ہوں گھوم
’’ہم مُوَحدّ ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم‘‘
لیکن اِک حوّا کی بیٹی ہے جو میری اہلیہ
کہتی ہے میری سنو اب تم نے سب کچھ کر لیا
صِرف خالی شاعری سے چل نہیں سکتا ہے کام
بعد مُدّت کے پھنسا ہے مرغِ وحشی زیرِ دام
اُس کی بیٹی جائے یوں اِتنا بڑا ہو جس کا نام
جیب کاٹو نقد لاؤ بس کہیں سے لاؤ دام
مجھ کو یہ ڈر ہے کہ بہکائے میں آ جاؤں گا میں
لیلیٔ محمل نشیں کو کیسے سمجھاؤں گا میں
حواشی
(١) نہر سوئز (Suaz Canal) کواُنیس سو پچاس کی دہائی میں مصر نے قومیا لیا۔ اس پر برطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کر دیا اور امن عالم خطرے میں پڑ گیا تھا۔