اسلم انصاری

اسلم انصاری

سب یہ کہتے ہیں کہ تہ سے لوٹتا کوئی نہیں

    سب یہ کہتے ہیں کہ تہ سے لوٹتا کوئی نہیں زندگی ساحل پہ کیا ہے، سوچتا کوئی نہیں ابتدا کوئی نہیں ہے، انتہا کوئی نہیں فاصلے ہی فاصلے ہیں، راستہ کوئی نہیں یا کوئی چہرہ نہیں، یا آگہی کا خوف ہے آئے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں ایک میں ہوں، وہ بھی اپنے آپ کی اک یاد ہوں اس خرابے میں تو اے موجِ ہوا کوئی نہیں شعلہئ معنی، جلا کر خاک کر الفاظ کو اس سے بڑھ کر اور اب تو معجزہ کوئی نہیں اہلِ دانش، فصلِ گل تعبیر کی طالب بھی ہے گل وہ عقدہ ہے کہ جس کو کھولتا کوئی نہیں کیا اچانک آگیا ہے عالمِ امکاں میں وہ کیسے کافر ہیں کہ اس کو پوجتا کوئی نہیں وہ تو اپنی ذات کا اک ماجرا درپیش ہے ورنہ یوں دیکھو تو ہم سا دوسرا کوئی نہیں