یوں تو دنیا کو بہ عنوانِ تماشا دیکھا
یوں تو دنیا کو بہ عنوانِ تماشا دیکھا سچ مگر پھر بھی یہی ہے کہ ابھی کیا دیکھا چاند کو آخرِ شب سوچ میں ڈوبا دیکھا ایک لمحے کو سہی، کوئی تو تجھ سا دیکھا تو عجب تھا کہ کسی کو تری آہٹ نہ ملی اور ہر شخص نے تجھ کو کہیں جاتا دیکھا سنگ در سنگ صنم خانۂ آذر تھا یہاں عکس در عکس اسی بت کا سراپا دیکھا جوئے نغمات میں تصویر سی لرزاں دیکھی لبِ تصویر پہ ٹھہرا ہوا نغمہ دیکھا بے ثباتی نے بہت رنگ جمایا لیکن لوحِ دوراں پہ کوئی نقش نہ ٹھہرا ہوا دیکھا چاندنی کو ترے قدموں میں تڑپتا پایا چاند کو تیرے دریچے میں سلگتا دیکھا آج بھی میں نے اسی شاخِ صنوبر کے تلے شام کی شال میں لپٹا وہی چہرہ دیکھا درد کہتا ہے کہ آہٹ بھی نہیں ہو پاتی وہم کہتا ہے کہ وہ آیا وہ دیکھا، دیکھا شکریہ موجِ تبسم کا مگر جانِ جہاں میرے ہونٹوں پہ یہ اک پیاس کا صحرا دیکھا عدل گستر تو کوئی ہو کہ نہ ہو، پر ہم نے حشر تو روز ترے شہر میں برپا دیکھا