اسلم انصاری

اسلم انصاری

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں

    میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی تم چلے ہو، تو کوئی روکنے والا بھی نہیں دور و نزدیک سے اٹھتا نہیں شورِ زنجیر اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں گل بہ ہر رنگ، تبسم کا گنہہ گار رہا زخمِ ہستی کا سوا اس کے مداوا بھی نہیں کون سا موڑ ہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں اس کی بستی بھی نہیں، کوئی پکارا بھی نہیں بے نیازی میں سبھی قریۂ جاں سے گزرے دیکھتا کوئی نہیں ہے کہ تماشا بھی نہیں وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں اب تو اک رات ہے ہجراں کی دل و جاں پہ محیط صبح کیسی، کہ ترے بعد اجالا بھی نہیں اک مسافر کہ جسے تیری طلب ہے کب سے احتراماٌ ترے کوچے سے گزرتا بھی نہیں کس کو نیرنگیء ایام کی صورت دکھلائیں رنگ اڑتا بھی نہیں، نقش ٹھہرتا بھی نہیں یا ہمی کو نہ ملا اس کی حقیقت کا سراغ یا سرا پردۂ عالم میں کوئی تھا بھی نہیں