واپسی
واپسی
ڈاکٹر وزیر آغا
کل میں نے اپنے دوست .... ع کے سامنے ایک بجھارت رکھ کر اُسے بُری طرح اُلجھا دیا۔ بجھارت یہ تھی کہ فرض کرو، کوئی شخص اپنے آبا ؤ اجداد کی تقلید میں پیادہ پاروانہ ہے (سائیکل پر بھی ہو تو کوئی مضائقہ نہیں) اچانک وہ حیرت سے دیکھتا ہے کہ اُس کے سامنے ایک دریا نمودار ہو گیا ہے جوپل سے قطعاً بے نیاز ہے۔ اسے عبور کرنے کے لیے کوئی ناؤ یا ملاح تک موجود نہیں ۔ حتیٰ کہ وہ روایتی عاشق مزاج گھڑا بھی غائب ہے جس کا ذکر اب صرف ریڈیو پر ہی سننے میں آتا ہے ۔ دریا کا پاٹ کشادہ اور اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور مسافر آئینِ شناوری میں بالکل کو را ہے ایسی صورت میں وہ کیا کرے گا ؟ .....یہاں میں نے اپنے سوال کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے قدرے توقف کیا اور جب میں نے دیکھا کہ .....ع کا سر کو ئلوں کی انگیٹھی کی سطح تک جھک آیا ہے اور اُس کا ازلی و ابدی رفیق یعنی سگریٹ اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر کسی جلتے ہوئے کوئلے کی چٹان پر ہولے ہولے سلگنے لگا ہے تو میں نے معاً اپنے سوال پر ایک اور سل رکھتے ہوئے پوچھا ..... ’’اچھا، تو ایسی صورت میں تم’’ کیا کرو گے ؟‘‘ میرا خیال تھا کہ اب میرے دوست کا سر کچھ اور جھک کر انگیٹھی سے جاٹکرائے گا، اُس کے سگریٹ کی ادھ جلی ارتھی دفعۃً بھڑک اُٹھے گی اور وہ بڑے عجز سے اپنی شکست تسلیم کرلے گا، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ میں نے انسانی مدافعت کے سارے اِمکانات کا جائزہ لیے بغیر ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا ( اپنی ناتجربہ کاری کا مجھے اعتراف ہے) ، کیوں کہ ع کے سامنے جب یہ نازک مرحلہ نمودار ہوا تو اچانک اُس کے سارے تو بصورت دانت کھٹ سے نمودار ہو گئے اور اُس نے قومی کردار کے تمام تر پہلوؤں کو اپنی ذات میں مجتمع کر کے اور اپنے بدن کی کمان کو ایک زہر آلود بان میں تبدیل کرتے ہوئے تنک کر کہا .....’’جنابِ والا! آپ کا کیا خیال ہے کہ میں وہاں دریا کنارے کسی جھونپڑی میں سمادھی لگا کر بیٹھ جاؤں گا ۔ ہرگز نہیں ! اگر دریا نے مجھے راستہ نہ دیا تو میں..... تو میں.....فوراً واپس آجاؤں گا‘‘ ۔
اب میری باری تھی کہ میرے جملہ دانت کھٹ سے نمودار ہو جاتے اور میرا سر جھک کر انگیٹھی کی سطح سے جا ٹکراتا۔ ع شاہد ہے کہ اس کی زبان سے یہ تاریخی جملہ سن کر میری حالت غیر ہو گئی تھی اور میں تادیر کچھ ایسی حرکتیں کرتا رہا تھا جو ٹھنڈے پانی میں گرے ہوئے نا تجربہ کار غوطہ خور کی قسمت میں ازل سے مرقوم ہیں۔
لیکن اس سانحے کو گزرے اب پورے چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں۔ چناں چہ اب مجھے ع کے رد عمل میں بزدلی یا عافیت کوشی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا بلکہ مجھے تو محسوس ہوتا ہے جیسے اُس نے واپسی کی خواہش کا اظہار کر کے خود میرے دل کی بات کہہ دی ہو۔ بہر کیف اب میرے سوچنے کا انداز کچھ یوں ہے کہ واپسی کے عمل میں بزدلی کا عنصر ہرگز شامل نہیں۔ بے شک بزدلی کی مروجہ تعریف یہ ہے کہ انسان دشمن کے دباؤ کے تحت اپنے نقوش قدم پر واپس ہٹتا آئے، لیکن میں ایسی کسی ’’واپسی‘‘ کا ذکر نہیں کر رہا ، کیوں کہ یہ عمل واپسی کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے دو بیل ماتھے سے ماتھا اور سینگ سے سینگ جوڑے ایک دوسرے کو مخالف سمتوں میں دھکیل رہے ہوں اور اُن میں سے جو بیل زیادہ قوی الجثہ ، طاقتور اور خون خوار ہو، وہ دوسرے نسبتاً شریف اور مہذب بیل کو دھکیلتے دھکیلتے کسی کھڈ کے کنارے تک لے جائے اور پھر ایک ہی ٹکر سے اُسے کھڈ میں گرا دے ۔ اس قسم کی واپسی آئین شہ زوری کی زبان میں بزدلی، کم جہتی اور شکست کے الفاظ ہی سے موسوم ہوگی۔ میں جس واپسی کی تعریف میں رطب اللسان ہوں، وہ یہ ہے کہ جب حریت زیادہ طاقتور ہو اور کامیابی کا امکان باقی نہ رہے تو رات کے اندھیر میں دشمن کی آنکھوں میں راکھ جھونک کر اس کے نرغے سے نکل آئیے اور اُوپر سے ایک بڑا سا چکر لگا کر دوبارہ اُس معتام پر تشریف لے آئیے، جہاں سے آپ نے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس مقام پر تمام لوازم پہلے سے موجود ہوں گے ۔ کوئی خوش ذائقہ سا مشروب پیجئے ، کیک کا کوئی لذیذ سا ٹکڑا منہ میں ڈالیے، چائے کے بڑے بڑے گھونٹوں سے مشامِ جان کو تازہ کیجیے اور اپنا مزے سے بیٹھ کر شیخ چلی مرحوم کی وصیت پر عمل کیجیے ۔ واپسی کا یہ اقدام ایک ضروری اور مثبت عمل ہے اور تمام بڑے بڑے شاعروں، فلاسفروں اور جاسوسی ناول لکھنے والوں نے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا ہے ۔
اِس بات کے ثبوت میں سب سے پہلے مشہور نظم ’’ہمالہ‘‘ کو یاد کیجیے ، جس میں شاعر نے اُس زمانے کا ذکر کرتے ہوئے جب ہمالہ کا دامن مسکنِ آبائے انساں بنا تھا، اس خواہش کا اظہار کھلے بندوں کیا ہے کہ اے تصور! تو مجھے پھر وہی صبح و شام دیکھا اور اے گردشِ ایام! تو مجھے اپنے اُڑن کھٹولے میں بٹھا کر پیچھے کی طرف دیوانہ وار دوڑتی جا !.....اِس قسم کی واپسی پر آپ یا مجھ کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔ یوں بھی شاعر تو شاذ ہی اپنے بچپن کی فضا سے باہر آتا ہے۔ پھول کی پتی کو انگلیوں میں مسل کر یا تتلی کے پیچھے بے تحاشہ بھاگنے میں اسے جو لطف آتا تھا وہ آج بھی اُسی کے رحم و کرم پر ہے اور ہر اُس موقع کی تلاش میں رہتا ہے جب اُسے دوبارہ بچپن کی یہ فضا نصیب ہو جائے۔ بعض لوگ تو شاعر کے ہاں اس سے بھی پیچھے ہٹنے کی آرزو کو کلبلاتا تھا دیکھ چکے ہیں اور اُنہوں نے شعر کے لبادے میں سے ماں کی گود کی ساری خوشبو بھی سونگھ لی ہے مگر میں اِس قسم کے جاسوسی پیشہ لوگوں کو سخت نفرت کی نظروں سے دیکھتا ہوں ۔ آخر جاسوسی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے اور پھر شاعر لوگ معاشرے کے شریف افراد بھی تو ہیں۔ اُن کے افکار کو خرگوش جان کر اُن کا پیچھا کرنا، کسی صورت بھی جائزہ نہیں۔
واپسی کی اِس اِنسانی خواہش کا سب سے بڑا نباض داستان گو ہے۔ پرانے قصوں میں جب ہیرو اور ہیروئن آلام ومصائب سے گزر کر آخر ایک روز لقمۂ اجل ہو جاتے تھے تو داستان گو اپنی دستار کے تحفظ کے لیے یعنی سامعین کی گالی گلوچ سے بچنے کے لیے فوراً کہانی میں اس فقرے کا اِضافہ کر دیتا تھا کہ مہر بانو ! اِس کے بعد ہیرو اور ہیروئن سورگ یا جنت میں دوبارہ زندہ ہوئے اور بادل کے رنگین بجروں پر نیم دراز،جنت کے شالا مار میں ڈیوٹ گانے لگے‘‘ .....اور سامعین، ہیرو اور ہیروئن کی حیات ِنو یعنی واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کا راستہ لیتے تھے ۔ آج کا فلم پروڈیوسر اتنا ہی تجربہ کار ہے جتنا کہ پرانا داستان طراز ! چناں چہ جب وہ اپنے کسی شہرۂ آفاق جاسوس یا قاتل کو ایک فلم میں کیفر کردار تک پہنچا لیتا ہے تو اگلی فلم میں اس کی ’’و اپسی‘‘ کا اہتمام کر کے اہل وطن کو دوبارہ فلم دیکھنے پرمجبور کر دیتا ہے۔ محض اس لیے کہ اُسے پتہ ہے کہ ہم بے چارے قند مکرر کا لطف لینے کے لیے ازل سےتیار بیٹھے ہیں ۔
فلاسفروں نے زندگی کے ہر مظہر کو واپسی کے عمل میں مبتلا دکھایا ہے اور اس ضمن میں ریاضی کے ہندسوں اور اقلیدس کی لکیروں سے کچھ تجریدی مصوری بھی کی ہے جو خوش قسمتی سے میری اور آپ کی سمجھ سے بالا ہے۔ لیکن ان کے نتائج کو تسلیم کرنے میں لطف سا محسوس ہوتا ہے کیوں کہ وہ پھیلنے اور برابر پھیلتے چلے جانے کے لیے سمٹنے کے عمل کو ضروری قرار دیتے ہیں مثلاً الف اگر اپنی نسل کو آگے پھیلانا چاہتا ہے تو سمٹ کر اپنے بیٹے کا روپ اختیار کرے ۔ اگر ج کوئی نمایاں تخلیقی کارنامہ سرانجام دینے کے مرض میں مبتلا ہے تو اولین فرصت میں اپنی ذات کی انڈر گراؤنڈ ٹرین کا ٹکٹ کٹائے اور وہاں سے روشنی کی مشعل لے کر باہر آجائے ۔ اگرپ خلقِ خدا کو سچائی کا راستہ دکھانے کا آرزومند ہے تو کسی بڑ کے درخت، کسی مچھلی کے پیٹ، کسی کشتی یا ریگستان کی طرف مراجعت کرے۔ تو بہ ہے! یہ فلاسفر لوگ بھی عجیب ہیں ۔ انسان کی ایک ننھی سی، معصوم سی آرزو سے کتنا غلط فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انسان کی فطرت میں واپسی کا یہ نازک سا جذبہ موجود نہ ہوتا تو پھر میں دیکھتا کہ یہ فلاسفر کس طرح لاکھوں صفحات کالے کر کے خلق خدا کے کرب میں اضافے کا موجب بنتے ہیں؟ .....وہ تو شاید ایک لفظ تک نہ لکھ سکتے !
واپسی کا تصور بڑا پر لطف ، خواب ناک اور مسرت افزا ہے اور شاید اِسی لیے میں ہر بار جب اپنا ایک قدم آگے کو بڑھاتا ہوں تو واپس پلٹ جانے کی آرزو بھی کرتا ہوں۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ مستقبل تاریکیوں میں لپٹا، آسیب زدہ اور غیر یقینی ہے اور میں اس کی طرف بڑھتے ہوئے ہزار وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہوں ۔ ایسے سمے واپسی کی خواہش دفعۃً بھڑک اُٹھتی ہے ۔ جی چاہتا ہے، ایک موٹا سا لحاف ہو یا ایک بالکل بند کمرہ جس میں مستقبل کی تیز نگاہی سے محفوظ میں لحظہ بھر کے لیے رُک سکوں..... یہ ایک بالکل معصوم سی آرزو ہے جسے زندگی کے ہر نیم تاریک گوشے پر ماں کی گود کا گمان ہوتا ہے..... وہ گود جس میں راحت، پیار اور نیم بیداری کی کیفیت سدا موجود رہتی ہے ۔ واپسی کی خواہش اسی کیفیت کےمکرر حصول کی ایک خواہش ہے اور بس ! لیکن خود واپسی کا عمل شاید اس قدر پُر لطف اور مسرت افزا نہیں ۔ آپ کسی ایسے لمحے کی طرف مراجعت کرتے ہیں، جس کے بارے میں آپ کو یہ گمان ہے کہ وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ماضی کے کسی پلنگ پر گھونگھٹ نکالے آپ کی واپسی کا منتظر ہوگا لیکن کیا ایسا سونا ممکن ہے ؟ ہر لمحے کو قدرت نے بڑے خوبصورت اور توانا پنکھ عطا کر رکھے ہیں ۔ وہ کب کسی کا انتظار کرتا ہے ! میں یا آپ جب اس لمحے کی بازیابی کے لیے مارے مارے واپس جاتے ہیں تو وہاں ٹوٹی ہوئی طناب ،بکھری ہوئی راکھ اور کارواں کے بجھے ہوئے نقوشِ پا کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا .....یہی واپسی کا المیہ ہے !