وزیر آغا

وزیر آغا

لحاف

    لحاف

    ڈاکٹر وزیر آغا

    اہل وطن کا ایک بہت بڑا طبقہ اس حسین سے فریب میں مبتلا ہے کہ لحاف کے بغیر انسانی جسم منجمد کر دینے والی سردی سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ میرے نزدیک یہ محض ایک خوش فہمی ہے جو شدت اختیار کر کے غلط فہمی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اول تو یہی دیکھئے کہ جو لوگ لحاف استعمال نہیں کرتے کیا وہ سردی کے ہاتھوں اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں ؟..... قطب شمالی میں رینڈیر کی کھال اور دوسرے ممالک میں اون کے کمبل اور بجلی کے ہیٹر وہی کام دیتے ہیں جو ہمارے ملک میں لحاف سرانجام دیتا ہے۔ پھر لحاف نفاست اور لطافت سے نا آشنا بھی تو ہے ! رینڈیر کی کھال کو لیجئے۔ کیسی نرم اور خوبصورت ہے ۔ (کم سے کم کتابوں میں اسی طرح لکھا ہے ) یا ادنیٰ کمبل کا تصور کیجئے جس کا حسن نگا ہوں کو خیرہ کر دیتا ہے لیکن لحاف کو دیکھئے کہ یہ کس قدر موٹی، بھدی اور بد نما شے ہے جسے نفاست، فن اور حسن نے چھوا تک نہیں! ممکن ہے اس مقام پر آپ قومی تو ہین کو برداشت نہ کرتے ہوئے لحاف کے بعض خوبصورت نمونوں کا ذکر چھیڑیں اور ’’سب سے اچھی میری بنڈی، ان کوٹوں کو کالی جھنڈی“ کا ورد کرتے ہوئے لحاف کو کمبل اور رینڈیر دونوں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن چوں کہ آپ کی اس سعی کے مشکور ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہیں اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ غصہ پی لیں یا قومی روایات کے احترام میں اسے تھوک دیں اور بڑے تحمل سے میری تلخ گوئی برداشت کرتے چلے جائیں۔

     لحاف کی بدصورتی کی بات چھڑ گئی ہے تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ مجھے آپ کے حسنِ ذوق یا حسنِ عمل پر بھی شبہ ہے بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ یہ آپ کے حسنِ ذوق اور حسنِ عمل ہی کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے کہ لحاف پر کبھی بیل بوٹے اور پھل پھول بھی نظر آجاتے ہیں ۔ پھر اس کی سطح پر بپھرے ہوئے سمندر یا لق و دق صحرا کے نقوش کو اُجاگر کرنے کی کوشش بھی صاف  دکھائی دیتی ہے جو اس بات پر دال ہے کہ آپ اس ’’جنس‘‘ کو خوبصورت بنانے کے عزم میں سرشار ہیں۔ لحاف کو حسن عطا کرنے کے بعد اس حسن کو محفوظ رکھنے کی سعی بھی کہیں کہیں نظر آجاتی ہے ۔ مثلاً کچھ عرصے کی بات ہے مجھے اپنے ایک سکھ دوست کے ہاں رات بسر کرنے کا موقع ملا تھا اور میں نے وہاں لحاف کے حسن کو امتدادِ زمانہ اور گردشِ لیل و نہار سے محفوظ رکھنے کا ایک ایسا منظر دیکھا تھا جو آج تک میری لوحِ دل پر کندہ ہے ۔ یہ لحاف کسی اعلیٰ قسم کی مخمل کا تھا لیکن سردار بھائی نے اس مخمل کی حفاظت کے لیے اس پر ایک نہایت غلیظ ، کھردرے اور بدبودار کورے کھدر کا غلاف چڑھا رکھا تھا ۔ شکر ہے کہ بات یہیں ختم ہوگئی تھی۔ ورنہ اگر وہ کھدر کے اس غلاف کی حفاظت کا اہتمام بھی کرتے تو غلاف در غلاف کا سلسلہ اتنا طول کھینچتا کہ اصل لحاف کسی شعر کے معنی کی طرح لفظوں اور غلافوں کے انبار ہی میں دب کر رہ جاتا۔

    خیر یہ تو لحاف کے ظاہری حسن یا اس کی افادیت کا مسئلہ تھا۔ اور یہ محض ایک اتفاق ہے کہ اس معاملے میں مجھے لحاف کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے انکار ہے تا ہم مجھے اس بات سے قطعاً انکار نہیں کہ لحاف ہمارا ثقافتی ورثہ ہے اور اگرچہ اُردو کے بعض افسانہ نگاروں نے اس کے ساتھ کچھ ایسی ویسی باتیں بھی منسوب کی ہیں، مگر اس سے لحاف کا وہ روشن پہلو کسی طور پر بھی ماند نہیں پڑتا جس کا ذکر میں اب کرنے لگا ہوں ۔

     مجھے اپنی زندگی میں جو چند ادنیٰ مسرتیں حاصل ہوتی ہیں، ان میں لحاف کی معیت   میں گزارے ہوئے لمحے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ زندگی، بقول شاعر ایک ایسی پیرزنِ حسن فروش ہے جو آلائشوں اور حادثوں سے لیس ہو کر نکلتی اور دل والوں کا پیچھا کرتی ہے اور دل والے ہیں کہ اس سے بھاگ کر کبھی تو رقص گاہ کے راگ رنگ میں کھو جاتے ہیں (اگر چہ اس انہماک کے باوصف، ان کے دلوں میں یہ خطرہ پھڑکتا ہی رہتا ہے کہ کہیں زندگی رقص گاہ کے چور دروازے سے اندر نہ آجائے) کبھی وہ لفظوں، لکیروں اور مجسموں کی سندر دنیا میں اپنے نقوشِ پا کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی زندگی سے فرار حا صل کر کے کسی گھنے گہرے جنگل کے آشرم میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن دل والے آخر دل والے ہیں !وہ جو طریق بھی اختیار کریں جائز اور مستحسن ہے ۔ دوسری طرف میں ایک دنیادار آدمی ہوں اور پھر میرے پاس وقت بھی کم ہے ۔ اس لیے جب زندگی میرا پیچھا کرتی ہے اور مجھے فرار کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی تو میں بھاگتا ہوں اور بھاگ کر سیدھا اپنے لحاف میں گھس جاتا ہوں ۔

     لحاف میرے لیے ایک آشرم ہے .....ایک ایسی جائے پناہ جہاں ’’پیر زنِ حسن فروش“ کی ٹھنڈی سانس پہنچ ہی نہیں سکتی۔ لحاف کی موٹی موٹی دیواریں مجھے پناہ دینے کے بعد ’’زندگی‘‘ کے راستے میں سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور اسے اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتیں کہ وہ کسی چور دروازے سے داخل ہو کر لحاف کے اندر کی پرسکون ، تاریک اور خا موش دنیا میں ہلچل پیدا کر سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں لحاف کو رینڈیر اور کمبل .....دونوں پر سبقت حاصل ہو جاتی ہے ۔ کیوں کہ یہ چیزیں زیادہ سے زیادہ لہو گرم رکھنے کا اہتمام کرتی ہیں ۔ آشرم مہیا نہیں کرتیں۔ لیکن لحاف کی خوبی یہ ہے کہ اس میں داخل ہوتے ہی آپ کو محسوس ہوتا ہے گویا آپ اپنی گم شدہ جنت میں واپس آگئے ہیں ۔ مجھے ہمیشہ لحاف میں داخل ہوتے ہی بے پنا ہ مسرت کا احساس ہوا ہے..... ایک ایسا احساس جس میں ’’میں اب محفوظ ہوں‘‘ کا احساس بھی شامل تھا ۔ گویا لحاف ایک قلعہ ہے جس میں داخل ہو کر  اور جس کے دروازے بند کر کے میں غنیم  سے محفوظ ہو جاتا اور اپنی کھوئی ہوئی مسرتوں اور صلاحیتوں کو دوبارہ حاصل کرنے لگتا ہوں ۔ پھر جب چند گھنٹوں کی خاموشی ، تاریکی اور سکون کے بعد تازہ دم ہو جاتا ہوں تو زندگی سے متصادم ہونے کے لیے لحاف سے باہر نکل آتا ہوں ۔ شاید لحاف میں داخل ہوتے ہی مسرت کا ایک بے پایاں احساس ان ایام کی یاد بھی ہے جب میرے آباؤ اجداد جنگلوں میں رہتے تھے اور بارش، طوفان اور عناصر کی یورشوں سے بھاگ کر غاروں میں پناہ لیتے تھے۔ اور تب انہیں ” میں اب محفوظ ہوں“ کا وہ احساس ہوتا تھا جو آج لحاف میں گھس کر مجھے حاصل ہوتا ہے ۔ یوں بھی لحاف اور غار میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ وہی خاموشی ، سکون اور تاریکی جو غار میں ہے لحاف میں بھی موجود ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ انسانی تہذیب کا ارتقا بھی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ انسان غار سے نکل کر لحاف میں داخل ہو گیا ہے ۔

    لحاف سے مجھے رغبت شاید اس لیے بھی ہے کہ میں دبے پاؤں اپنی ذات کے کنج خلوت میں داخل ہونے کا متمنی ہوں اور لحاف مجھے باہر کی دنیا سے اپناد امن چھڑانے میں مدد دیتا ہے۔ یاشا ید صحیح بات یہ ہے کہ لحاف کا حجرہ دراصل میری ذات کا حجرہ ہے۔ چناں چہ جب میں لحاف میں داخل ہوتا ہوں تو ایک پر اسرار طریق سے اپنی ذات کی اس تاریک، اتھاہ اور بے کنارہ دنیا میں داخل ہوجاتا ہوں جہاں سوچ کی رو پہلی کرن پھوٹتی ہے اور جہاں میرے آباؤ اجداد کی ہڈیاں اور ان کے خزائن ، زمانے کی دستبرد سے محفوظ ، ہزاروں سال سے میری آمد کے منتظر ہیں !