وزیر آغا

وزیر آغا

قطب مینار

    قطب مینار

    ڈاکٹر وزیر آغا

    بزرگوں کا ارشاد تھا کہ دلّی جاؤ تو قطب مینارضرور دیکھو۔ اب کی بار میں دلّی گیاتو اس مصمم ارادے کے ساتھ کہ قطب مینار دیکھے بغیر واپس نہیں آؤں گا۔ لیکن جب میں دلّی سٹیشن کی بلند و بالا عمارت سے نکل کر اُس شہر میں داخل ہوا، جو کبھی ایک عالم میں انتخاب تھا اور تانگوں ، موٹروں، رکشاؤں اور پھٹ پھٹ رکشاؤں (اہلِ دلّی موٹر رکشا کو اسی طرح بولتے ہیں ) کے سیلِ بے پناہ میں ڈوب گیا تو قطب مینار کا خیال ہی ذہن سے محو ہو گیا۔ آخری بار میں نے دلّی کو دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں دیکھا تھا۔ اس وقت اس کے مزاج میں ایک آشنا ضبط اور اس کی رفتار میں ایک مخصوص ٹھیراؤ تھا اور اس کے کوچہ و بازار میں اگلے وقتوں کے وہ لوگ بھی نظر آ جاتے تھے، جنہیں کچھ کہنے کو جی چاہتا تھا ۔ اور اب ؟ لیکن اب تو دلّی شہد کا ایک چھتہ ہے..... چھتہ، جسے کسی شریر لڑکے نے اپنی چھڑی سے چھیڑ دیا ہو اور چھتے ہیں نہ صرف اضطراب کی ایک لہر سی دوڑ گئی ہو، بلکہ خود سر مکھیاں اس میں سے نکل کر چاروں طرف دیوانہ وار اڑنے لگی ہوں۔ یہ مکھیاں دلّی کے ہر بازار اور ہر سڑک پر پھٹ پھٹ رکشا کی صورت میں نظر آتی ہیں اور ان کی رفتار، سیمابی مزاج اور بے ہنگم شور نے دلّی کو صدیوں کی گہری نیند سے گویا جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا ہے۔

     موٹر رکشا کے علاوہ آج کی دلّی کا دوسرا تحفہ وہ صندوق نما ، بلند و بالا عمارت ہے۔ جسے عرفِ عام میں کبوتر خانہ کہتے ہیں۔ دلّی کی ہر شاہراہ کے دونوں کناروں پر ایسے سینکڑوں کبوتر خانے گویا رات ہی رات میں زمین کے سینے کو چیر کر اُگ آئے ہیں۔ اہل نظر کی رائے میں یہ عمارت دلّی کے شاندار مستقبل کی ضامن اور اس کی مادی ترقی کا ایک ادنیٰ مظہر ہے۔ لیکن میری رائے میں یہ عمارت اہل ہند کا وہ  ’’بندی خانہ‘‘ ہے جس میں فرد کی ذاتی تگ ودو ایک سماجی شیرازہ بندی میں ضم ہو کر رہ گئی ہے۔ مجھے ان عظیم عمارات کو دیکھ کر لاہور کی وہ ننھی ننھی خوبصورت کو ٹھیاں یاد آگئیں جن میں سے ہر کوٹھی کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔ اور جو فرد کے شخصی میلانات کی گویا غماز ہے ۔ دلّی کے فرد کو ایک کلبلاتے ہوئے سماج نے اپنے اندر ضم کرلیا ہے لیکن لاہور میں ابھی تک فرد کا بول بالا ہے ۔ یقین نہ آئے تو لاہور کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے ۔ ہم لوگ سماجی شیرازہ بندی سے کہیں زیادہ فرد کی بقا کے قائل ہیں..... گھروں میں، دفتروں میں، وزارتوں میں..... ہر جگہ فرد کا طوطی بول رہا ہے زندہ باد لاہور! پائندہ باد فرد!

     میر و غالب کی دلّی مرچکی! اب اس کی خاک سے ایک نئی دلّی نے جنم لیا ہے ۔ ماں میں ایک بزرگانہ وقار تھا اور وہ ضبط و تحمل ، سکون و اطمینان کا گہوارہ تھی۔بیٹی شان و شرکت ،غرور و تمکنت اور بناؤ سنگھار کی طرف مائل ہے ۔ ماں کے پاؤں زمین پر تھے اور نظر یں آسمان کی رفعتوں پر۔ بیٹی ساتویں منزل پر بصد ناز و ادا کھڑی ہے لیکن اس کی نظریں زمین میں گڑی ہوئی ہیں۔

     میں کوئی پندرہ برس کے بعد دلّی گیا تھا۔ اس کی یہ نئی شان دیکھی تو دنگ رہ گیا۔ کئی روز تک ایک عجیب سے نشے میں سرشار، اس کی طویل اور کشادہ شاہراہوں پر پھرتا اور قدم قدم پر اس کی رعنائیوں اور بوالعجبیوں کے سامنے سرجھکاتا رہا۔ لیکن پھر ایک شام کو جب میں کناٹ پیلیس کے وسیع میدان میں جنگلے پر بیٹھا اپنے چاروں طرف گول دائرے میں پھیلی ہوئی دکانوں کو دیکھ دیکھ کر مبہوت ہو رہا تھا کہ مجھے قبلائی خاں کی طرح اپنے بزرگوں کی پُر اسرار  آوازیں سنائی دیں .....کہ او زود فراموش ! تو نے دلّی پہنچ کر قطب مینار دیکھنے کا مصمم ارادہ کیا تھا۔ دیکھ تیر سے اُس ارادے کا کیا حشر ہوا !..... میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ضمیر کی علامت سے خود کو بچانے کے لیے بے تحاشا سٹرک کی طرف بھاگنے لگا عین اس وقت میری نگاہ اُس موٹر رکشا پر پڑی ، جو سٹرک کے کنارے ایک عجیب کس مپرسی کے عالم میں کھڑی تھی اور جس کے ڈرائیور.....  ایک سردار جی ، اپنی گدی پر بیٹھے اُونگھ رہے تھے۔ میں جب لپک کر رکشا میں سوار ہوا تو وہ ہڑ بڑا کر بیدار ہو گئے۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ اپنے مخصوص انداز سے میرا’’ سواگت‘‘ کرتے ،میں نے انتہائی لجاجت سے ہانپتے کہا:.....’’ قطب مینار ، قطب مینار، سردار جی !!‘‘

    اب میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں ۔ اکثر لوگ جو قطب مینار دیکھنے جاتے ہیں اشتیاق ِدید میں دور ہی سے اُچک اُچک کر مینار کی جھلک پانے کی کوشش کرتے اور بیشتر اوقات کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ اس سے حیرت و استعجاب کی وہ کیفیت بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے جو قطب مینار کو اچانک اپنے رو برو یانے میں حاصل ہوتی ہے۔ میرا یہ اصول ہے کہ جب کبھی کسی ’’عجوبۂ روزگار‘‘ کو دیکھنے جاؤ تو اپنی فطرت کی سیماب وار اور اضطراری کیفیات کو پا بہ زنجیر کر لو۔ بلکہ اگر ممکن ہو سکے تو اس بات کو ہی فراموش کردو کہ تم کیا دیکھنے والے ہو۔ جو لطف کسی عظیم یا خوبصورت شے کو اچانک اپنے سامنے پانے میں ہے ، اُس اہتمام اور تیاری سے بڑی حد تک ختم ہو جاتا ہے، جو اس تک پہنچنے میں صرف ہوتی ہے ۔ یوں بھی شاید ہمارا تخیلی نظام مادی نظام سے کہیں زیادہ دلکش اور حیرت انگیز ہے اور جب ہم اپنے ذہن میں کسی شے کی پہلے سے ایک تصویر بناتے ہیں تو پھر اس شے کی اصل صورت اس تصویر کی جاذبیت سے کمتر ہی نظر آتی ہے ۔ اور ہم رنج اور مایوسی کے ملے جلے جذبات میں ڈوب کر سوچنے لگتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے اس شے کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے تھے، محض ایک فریب نظر میں مبتلا تھے ۔ اس سے ہمیں ایک احساس برتری بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم ہی وہ پہلے انسان ہیں جس کی بدولت اس طلسم کا پردہ چاک ہوا ہے ۔ تاہم یہ محض ایک خوش فہمی ہے ۔ اور میں اس بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں۔ چناں چہ اب جو میں قطب مینار دیکھنے گیا تو قطب مینار کے خیال کو ذہن سے نکالنے کے لیے راستہ بھر سکھ ڈرائیور سے مختلف منڈیوں کے بھاؤ پوچھتا رہا۔ سردار صاحب کو اس بارے میں اتنی معلومات حاصل تھیں کہ مجھے ان کی وسعت نظر پر رشک آنے لگا۔ ایک آدھ بھاؤ کے سلسلے میں مجھے اِن سے اختلاف کی جرأت بھی ہوئی۔ لیکن انہوں نے اپنے دلائل کو اس شد و مد سے پیش کیا اور اپنے جوش و خروش میں موٹرکشا اس بے تحاشا انداز سے چلائی کہ میں نے ان کے دلائل کے ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر ہی گھٹنے ٹیک دیے اور اپنی شکست تسلیم کر لی..... سردار صاحب فوراً خوش ہو گئے اور میری بدقسمتی کہ اس خوشی میں انہوں نے موٹر کی رفتار میں بیس میل کا اضافہ کر دیا۔

    بہر حال قطب مینار آگیا۔ موٹر رکشا رک گئی ۔ اور میں رکشا سے اتر کر نظریں نیچی کیے ہولے ہولے چلتا قطب مینار کے قدموں میں جا کھڑا ہوا۔ پھر میں نے آنکھیں مل کر اس کے مضبوط تنے پر ایک نظر ڈالی اور اس کا سہارا لے کر ہولے ہولے نگا ہیں اوپر کی سمت اٹھاتا چلاگیا۔ حتیٰ کہ میری گردن خم کھا کرد و سر می طرف کو جھک گئی ۔ اور سارا جسم ایک عجیب بےڈھنگے طریق سے پچھلی طرف کو مڑ گیا۔

    اب بزرگوں کے احکام کی تعمیل ہو چکی تھی۔ یعنی میں نے نہایت قریب سے قطب مینار کو دیکھ لیا تھا۔ اور حسبِ قاعدہ اس کی تاریخی عظمت کا تصور کر کے حیرت و استعجاب کے چند کلمات بھی منہ سے نکال دیے تھے .....کلمات، جنہیں سُن کر قطب مینار کے چوکیدار کا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا۔ اور اس نے مونچھوں پر تا ؤ دیتے ہوئے تیز تیز ٹہلنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن جب میں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو اسے سیاح کی فطری کمزوری سمجھئے یا جذبۂ تجسس کو اس کی وجہ قرار دیجئے کہ میرے قدم موٹر رکشا کی طرف جانے کی بجائے از خود قطب کی سیڑھیوں کی طرف مڑگئے اور میں آہستہ آہستہ اوپر کو اُٹھنے لگا۔

     قطب مینارہ کی کئی منازل ہیں اور ہر منزل پر زندگی اور کائنات کی ایک مختلف تصویر آنکھوں کے سامنے آتی ہے ۔ میں جب پہلی منزل پر پہنچا ، تو سڑک پر چلتے ہوئے انسان کیڑوں مکوڑوں کی طرح رینگتے ہوئے دکھائی دیے ۔ بڑے بڑے درخت چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں میں تبدیل ہو گئے۔ اور عمارتیں پچکی ہوئی سی نظر آنے لگیں ۔ دوسری منزل پر انسان قطعاً غائب ہو گئے ۔ جھاڑیاں ننھے ننھے نقطوں کی صورت میں تبدیل ہو گئیں۔ اور عمارتوں کے پیٹ زمین کے ساتھ لگ گئے۔ تیسری منزل پر پہنچا تو اُفق بھی میرے ساتھ گھٹنے ٹیک کر کھڑا ہو گیا۔ زمین اُبھری اور اُبھر کر کشادہ ہوگئی۔ فاصلے سمٹے اور سمٹ کر قریب آگئے اور نظر کی حدو د حیرت انگیز طور پر پھیلتی چلی گئیں ۔ لیکن جب میں آخری منزل پر پہنچا تو زمین کے سارے نشیب و فراز برابر ہو چکے تھے ، اوپر آسمان کی بے پناہ وسعتیں تھیں، نیچے زمین کاکشا دہ  سینہ تھا اور اس کشادہ سینے پر نئی دلّی کی بلند و بالا عمارتیں میں چھوٹی چھوٹی سپید قبروں کی طرح پھیلتی چلی گئی تھیں۔ میں نے ان سے نظریں ہٹا کر قطب مینار کی طرف دیکھا ..... عمارتوں کے اس قبرستان میں میر و غالب کی دلّی اب بھی فاتحانہ انداز سے کھڑی تھی۔ اس کی نگاہیں آسمانی رفعتوں کی طرف تھیں اور اس کے ہونٹوں پر ماضی کی ساری درخشندگی ایک ہلکا سا تبسم بن کر جگمگا رہی تھی ۔