وزیر آغا

وزیر آغا

فٹ پاتھ

    فٹ پاتھ

    ڈاکٹر وزیر آغا

    جب سُر خ ساڑھی میں لپٹی ہوئی شام آسمان کے بام و در سے لحظہ بھر کے لیے جھانکتی ہے تو میں چھڑی ہاتھ میں لیے گنجان سڑک سے چھٹے ہوئے فٹ پاتھ پر چہل قد می کے لینے نکل آتا ہوں ۔ اس اُمید کے ساتھ کہ شاید میں آج اس حسینۂ فلک کے درشن کر سکوں ، لیکن آسمان سے آنکھ مچولی   کھیلتی ہوئی دیواروں کے اس شہر میں میری نظر یں  اُس تک پہنچ ہی نہیں پاتیں۔ اس کے بجائے میں اس سیہ پوش، بپھرے ہوئے جم غفیر کا نظارا کر کے لوٹ آتا ہوں جو میرے دائیں ہاتھ بہتی ہوئی سڑک پر سائیکلوں، تانگوں، موٹروں، سکوٹروں اور رکشاؤں کی صورت میں رواں دواں ہے۔ اُس وقت مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں کسی تیز رفتار پہاڑی دریا کے کنارے یا متلاطم سمندر میں گھرے ہوئے کسی خاموش اور تنہا جزیرے میں کھڑا سرکش موجوں کا نظارہ کر رہا ہوں۔ یہ منظر اس محرومی کی بدرجۂ اتم تلافی کر دیتا ہے جو شام کے درشن نہ ہو سکنے کے باعث میرے دل میں پیدا ہو گئی تھی ۔

     اکثر لوگ سڑک اور فٹ پاتھ میں تمیز نہیں کر سکتے ۔ اُن سے پوچھیے تو وہ یہی کہیں گے کہ سڑک تیز رفتار ٹریفک کے لیے مختص ہے اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کو الاٹ کر دیا گیا ہے۔ گویا فٹ پاتھ در اصل سڑک ہی کا ایک مختصر روپ ہے ۔ دوسرے لفظوں میں بقول ایک مشہور ادبی نقاد ان میں صرف ہیئت کا فرق ہے۔ میری رائے میں اس سے زیادہ غلط بات اور کوئی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ سڑک اور فٹ پاتھ جنس کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، بلکہ طبعاً اور مزاجاً تو ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ مثلاً سڑک میں مرد کی سی بے قراری اور سیماب پائی ہے ۔ اُس پر چلتی ہوئی مخلوق ،تخلیقی جرثومے کی طرح ایک ازلی اور ابدی بے قراری میں اسیر اور آگے بڑھنے اور ٹکرانے کی ایک شدید آرزو میں سرشار ہے ۔ اس کی منزل کون سی ہے اور وہ کون حریف ہے، جس سے یہ بالآخر ٹکرائے گی۔ اس بات کی نہ تو اس مخلوق کو کوئی خبر ہے اور نہ پر وا ! اس کا کام تو چل چل رے نو جواں، کی عملی تفسیر پیش کرنا ہے اور بس ! دوسری طرف فٹ پاتھ عورت کی طرح چنچل ، ملائم اور سست گام ہے ۔ وہ سڑک کے جذباتی فشار کو ایک معنی خیز مسکراہٹ سے دیکھتا ہے، اس کی بے قراری اور شوریدہ سری سے محفوظ ہوتا ہے اور ایک نگاہِ غلط انداز سے اس کی ہر کروٹ کو مسترد کرتا چلا جاتا ہے ۔ فٹ پاتھ سدا اُس دُور دیس سے آنے والے کی راہ دیکھتا ہے، جو سڑک کے کسی برق صفت اُڑن کھٹولے سے اتر کر اس کی معطر تنہائیوں میں ایک روز داخل ہو گا اور پھر اسی خواب ناک جزیرے کا ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے فٹ پاتھ میں ٹھہراؤ ہے، ترغیب ہے، سکون اور آرام ہے اور یہ سڑک کے جلے جھلسے ہوئے مسافروں کےلیے ایک ایر کنڈیشنڈ ریستوران کا درجہ رکھتا ہے۔

    سڑک اور فٹ پاتھ کا یہ فرق مکانی سطح پر تو خیر لیکن زمانی سطح پر بہت زیادہ ہی واضح ہو جاتا ہے ۔ مثلاً سڑک کا مسافر وقت کی ایک سمت میں ناک کی سیدھ بڑھتا ہے اور دوسری تمام سمتوں کو لحظہ بھر کے لیے بھول جاتا ہے جب کہ فٹ پاتھ کا باسی اِس ایک سمت سے قطعِ تعلق کر کے دوسری سمتوں کو اپنے سینے سے چمٹائے رکھتا ہے۔ اس بجھارت کی گرہ کشائی یوں ہو سکتی ہے کہ جب آپ سڑک پر چلتے ہیں تو مستقبل لپک کر آپ کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے اور آپ اپنے سکوٹر، سائیکل یا موٹر پر بیٹھے مستقبل کے اس بے نشان صحرا میں تیز رفتاری سے بڑھنے لگتے ہیں یا شاید یوں ہوتا ہے کہ وقت کا عفریت عقب سے آکر آپ کو دھکا دیتا ہے اور اگر سامنے کوئی چیز نمودار ہو کر آپ کی اس یلغارکو کامیابی سے نہ روک سکے (رکاوٹ کی صورت میں قومی اِ مکان یہ ہے کہ آپ ابدی طور پر رک جائیں گے) تو آپ کی مستقبل کوشی کا یہ رجحان تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا اور آپ چند ہی لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہو کر نظروں سے غائب ہو جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سڑک اپنی ابتدا  تو زمین سے کرتی ہے اور اس کام کے لیے سکوٹر، موٹر اور اِسی قبیل کے دوسرے ارضی آلات کو بروئے کار لاتی ہے لیکن جب ایک خاص مرحلے کے بعد اِسے پر عطا ہو جاتے ہیں تو یہ جہازوں اور راکٹوں کے ذریعے خلا کی طرف بڑھ کر اس میں یوں ضم ہو جاتی ہے کہ جسم سے اس کا تعلق ہی باقی نہیں رہتا۔ اِسی لیے صوفیاء نے اِس یلغار کو معرفت اور نروان کا نام دیا ہے۔ مگر مجھ ایسے رجعت پسند دنیا دار کی نظروں میں اگر اس کا نام فنا یا موت بھی رکھ دیا جائے تو اِس میں قطعاً کوئی ہرج نہیں ..... آخر اپنا اپنا زاویۂ نگاہ ہر کسی کو عزیز ہے !

    مگر فٹ پاتھ کو سڑک کے اس مستقبل سے کوئی سروکار نہیں اور اسی لیے اس نے اُن تمام شیطانی آلات کو نفرت کی نظروں سے دیکھا ہے جو اسے مستقبل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ فٹ پاتھ کا باسی تو ’حال‘ کے لمحے کا بے تاج بادشاہ ہے اور اگر وہ چہل قدمی بھی کرتا ہے تو صرف ماضی کی سمت میں ! اور ماضی کی جانب چہل قدمی کرنے کے لیے کسی سکوٹر یا موٹر کی ضرورت نہیں۔ صرف ہلکی ہلکی نیم گرم سی یادوں کی ہمرا ہی درکار ہے ۔ متلاطم سمندر کی طرف سے آنکھیں میچ کر اور کان بند کر کے وہ یکایک ایک الٹی زقند لگاتا ہے اور ماضی کے اُن مرغزاروں میں جانکلتا ہے، جہاں ہر شے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وقت کی چٹانوں پر نقش ہو چکی ہے۔ وہ اس تاریک البم کو آہستگی سے کھولتا ہے اور ایک خفیہ ٹارچ کی روشنی میں اس کی ایک ایک تصویر کو دیکھنے لگتا ہے ۔ یہ تصاویر کیا ہیں ؟ .....  وقت کے منجد لمحات! اِن میں سے ہر لمحہ پابندِ سلاسل کر لیا گیا ہے اور اب کبھی آزاد نہیں ہو سکتا ۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ البم تیار کرنے والے نے صرف خوبصورت تصویروں کا انتخاب کیا اور دکھ دینے والی مورتوں کو کہیں دور پھینک دیا اور اب یہ البم مسرت بھرے لمحات کا ایک درخشندہ ہار ہے جسے فٹ پاتھ کا باسی اپنے گلے میں پہن  کر سڑک کے شور و شغب سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ دراصل اس البم سے لطف اندوز ہونے کے لیے فٹ پاتھ کا خاموش اور پرسکون دیا ر ہی موزوں ترین جگہ ہے ورنہ سڑک پر اگر اس البم کو کھولیں تو ورق ورق ہو کر ہوا میں اُڑ جائے۔

    مگر فٹ پاتھ کا اصل یارِ غار تو حال کے لمحے کا وُہ ساغر ہے جو اُس کے ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تھما دیا گیا ہے ۔ فٹ پاتھ کا مسافر، ’’ہتھیلی پر دھرے ہوئے اس لبا لب پیالے‘‘ سے گھونٹ گھونٹ امرت چکھتا ہے اور زندۂ جاوید ہو جاتا ہے ۔ مسرت، مستقبل کی چیز نہیں، کیوں کہ مستقبل تو فریبِ نظر  ہے ۔ یہ تو حال کے لمحے کا وہ گلاب ہے، جسے آپ اپنے کوٹ کے کالر میں سجا لیتے ہیں اور اپنے حساس نتھنوں سے اس کی دلفریب گاڑھی خوشبو سونگھتے چلے جاتے ہیں۔ فٹ پاتھ کے بعض ازلی دشمن اس خوشبو کے طلسم کو توڑنے کے لیے جگہ جگہ غلیظ دکا نیں کھول کر فٹ پاتھ کے باسیوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک تجربہ کار ’’فٹ پاتھیا‘‘ کبھی کسی ترغیب یا تحریص کی زد میں نہیں آتا اور ان کھولیوں کے قریب سے یوں گزر جاتا ہے جیسے روپیہ نادار کی جیب سے ! اِن دُکان داروں میں سے ایک مخلوق تو’’ نجومی‘‘ کہلاتی ہے اور فٹ پاتھ والوں کو روک کر مستقبل کے رنگین خواب دکھانے کی کوشش کرتی ہے ۔ نجومی کے ماتھے کی ریکھوں پر ’’وقت کے ساتھ ساتھ تقدیر بھی بدلتی رہتی ہے‘‘ کے درخشاں الفاظ کندہ ہوتے ہیں اور نجومی آپ کا ہاتھ تھام کہ آپ کو تقدیر کی متلون مزاجی کا منظر دکھانے لگتا ہے۔ میں نے ہمیشہ اس مخلوق کو سخت خوف اور نفرت کی نظروں سے دیکھا ہے اور ہمیشہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ گیا ہوں ۔ دوسری مخلوق’’ بھکاری ‘‘ کہلاتی ہے اور اپنے اصلی یا نقلی زخموں کی نمائش سے ہر رہرو کو مستقبل کا خوف دلا کر اُس کی جیب خالی کرا لیتی ہے ۔ یہ مخلوق بھی فٹ پاتھ کی مخصوص خوشبو کی ازلی دشمن ہے۔ اور ایک خاندانی فٹ پاتھیا کبھی اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔

     فٹ پاتھ کے یہ ازلی دشمن در اصل محض حملہ آور ہیں جو لوٹ مار کرنے کے بعد واپس اپنے پہاڑی بسیروں میں جا چھپتے ہیں، مگر اُن لوگوں کو آپ کیا کہیں گے جو باسی تو فٹ پاتھ کے کہلاتے ہیں، لیکن جنہیں نہ تو فٹ پاتھ سے محبت ہے اور نہ جو اس کی لطیف خوشبو سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت ہی رکھتے ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا جہاڑ سڑک کے متلاطم سمندر میں تباہ ہو گیا تھا اور وہ کسی ٹوٹے ہوئے تختے پر بیٹھ کر فٹ پاتھ کے جزیرے میں پناہ گزیں ہو گئے تھے ۔ یہ محض تباہ حال مسافر ہیں اور اُس دن کے انتظار میں ہیں جب فٹ پاتھ کے ساحل پر کوئی جہاز لنگر انداز ہوگا اور یہ بڑی خوشی سے اُس میں بیٹھ کر دوبارہ سڑک کی دُنیا میں کھو جائیں گے ۔ ایسے لوگ فٹ پاتھ کے باسی نہیں، ریلوے پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے مسافر ہیں ۔ یقین نہ آئے تو کسی حبیب تراش کی خدمات حاصل کر کے دیکھ لیجیے ۔ ان کی جیبوں سے اگر بجز ٹکٹ کوئی اور شے برآمد ہو تو میرا ذمہ  !