وزیر آغا

وزیر آغا

ریل کا سفر

    ریل کا سفر

    ڈاکٹر وزیر آغا

    ریل میں سفر کرنے کے یوں تو بہت سے فائدے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اس سفر کی ترغیب دلانے والے اکثر و بیشتر جسمانی آسائشوں کے حصول پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ایک ایسے شخص کی تصویر پیش کرتے ہیں جو پوری سیٹ پر دراز، سر کے نیچے تکیہ اور پاؤں کے نیچے تہہ کیا ہوا بستر رکھے ایک شانِ دلربانی کے ساتھ کتاب پڑھنے میں منہمک ہوتا ہے ۔ آخر میں یہ لوگ اس شخص کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ دنیا میں آسائش کا اس سے زیادہ لطیف اور پاکیزہ تصور نا ممکن ہے ۔

    بادی النظر میں تو مجھے اس شخص کا قول قابل ِقبول ہی نظر آتا ہے۔ لیکن جب میں اپنے پچھلے تجربات کی روشنی میں دیکھتا ہوں تو شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ کیوں کہ مجھے یاد آتا ہے کہ ریل میں سفر کرتے وقت اوّل تو ساری سیٹ پر دراز ہونے کی سعادت ہی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ اور اگر نصیب ہو بھی جائے تو چلتی گاڑی میں کتاب پڑھنا اس سے مشکل تر مسئلہ بن جاتا ہے ۔ میں بمشکل اپنی انگلی کی مدد سے آدھی سطر پڑھنے میں کامیابی حاصل کرتا ہوں کہ ریل کے ایک ہی ہچکولے سے میری انگلی کسی اور سطر پر جا ٹکتی ہے۔ کچھ وقت اصل سطر کی تلاش میں صرف ہو جاتا ہے۔ اور جب یہ خرابی بسیار مجھے اس سطر تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو ریل کا تازہ جھٹکا انگلی کو پھر کسی دوسری سطر تک پہنچا دیتا ہے ۔ کتاب تو در کنار مجھے کبھی چلتی ریل میں ایک گلاس پانی پینے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔  ویسے کوشش میں نے کئی بار کی ہے اور دوسرے مسافروں کی طنز آلود آنکھوں کے با وجود کنگ بروس اور مکڑی کی روایات کو برقرار رکھتا آیا ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے گلاس اور ہونٹ میں کبھی ملاپ نہیں ہو سکا۔ تصادم البتہ کئی بار ہوا ہے ۔

    جسمانی آسائش سے قطع نظر ریل کے سفر کے بعض دوسرے پہلو یقیناً بڑے جاذبِ نظر اور خیال انگیز ہیں اور میں در اصل انہی پہلوؤں کے پیش نظر ریل کے سفر کی پرز ور سفارش کرنے لگا ہوں ۔ ان میں سے ایک پہلو تو یہ ہے کہ ریل کا سفر انسانی فطرت کے نفسیاتی مطالعہ کے بعض نہایت قیمتی مواقع فراہم کرتا ہے ۔ جب تک ہم اپنے گھر ، محلہ، شہر یا گاؤں میں اقامت پذیر رہتے ہیں ، ہماری بہت سی جبلتوں پر رسم ورواج اور روایت و اخلاق کے کے بھاری پر دے پڑے رہتے ہیں۔ لیکن جب کبھی ہم اپنے اس زندان سے نکل کر ریل میں سوار ہو جاتے ہیں اور گھر، محلہ، شہر یا گاؤں کے ساتھ ہمارے روابط کچھ مدت کے لیے ٹوٹ جاتے ہیں تو قدرتی طور پر ہمارے فطری اوصاف یا برائیاں ابھر کر نمایاں ہو جاتی ہیں چناں چہ میں نے اکثر اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ریل کے سفر کے دوران میں یا تو لوگ حد سے زیادہ ملن سار اور با مروت نظر آتے ہیں۔ اور یا حد سے زیادہ چڑ چڑے اور بدمزاج دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح فطری طور پر خاموش لوگ ریل کے ڈبے میں اس درجہ خاموش ہو جاتے ہیں کہ ان پر رحم آنے لگتا ہے اور فطرتاً با تونی لوگ کچھ اتنے باتونی ہو جاتے ہیں کہ جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مجھے یوں تو ریل کے سفر میں انسانی فطرت کے اس دلچسپ مطالعہ کے بہت سے مواقع ملے ہیں لیکن ایک واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ پچھلے موسم سرما کی بات ہے ۔ رات کا وقت تھا اور میں لاہور جانے کے لیے ایک غیر معروف اسٹیشن سے انٹر کلاس کے ڈبے میں سوار ہوا تھا۔ اتفاق سے ڈبے میں ایک سیٹ خالی تھی اور میں جلدی سے بستر بچھا کر اس پر دراز ہوگیا ۔ اور دراز ہوتے ہی سو گیا۔ نہ جانے میں کتنی مدت سویا رہا کہ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی منوں بھاری چیز میری ٹانگوں پر آگری ہے ۔ میں نے جلدی سے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور منہ سے کمبل ہٹا کر دیکھا تو ایک صاحب نظر آئے جو میری سیٹ کے آخری  کونے .....میں بڑے اطمینان سے برا جمان ہوچکے تھے۔ خیر میں دوبارہ سوگیا۔ لیکن چند ہی لمحوں کے بعد محسوس ہوا جیسے کوئی چیز مجھے آہستہ آہستہ اوپر کو دھکیل رہی ہے۔ اس بار میں نے منہ سے کمبل ہٹا کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ وہی صاحب اب آدھی سیٹ پر قبضہ کر چکے تھے اور بتدریج اپنی مملکت کی حد کو بڑھا رہے تھے۔ اب میرے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ کا نہیں تھا کہ میں کچھ اور سمٹ جاتا۔ چناں چہ میں کچھ اور سمٹ گیا ۔ وہ کچھ اور پھیل گئے ۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ لیٹ گئے اور بڑی بے تکلفی سے خراٹے لینے لگے ۔ اب اتفاق دیکھئے کہ میرے سامنے والی سیٹ پر دوسرے مسافروں کے علاوہ ایک انتہائی مریل قسم کے صاحب تشریف فرما تھے اور قرائن سے ظاہر ہوتاتھا کہ انہوں نے یہ سارا ڈراما انتہائی غور سے ملاحظہ فرمایا ہے لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ان کے چہرے سے استہزائیہ تبسم کی بجائے خشونت مترشح تھی۔ جیسے وہ میرے بزدلانہ فعل کو انتہائی حقارت سے دیکھ رہے ہوں اور سچ تو یہ ہے کہ اس وقت مجھے اپنی نالا ئقی پر اس قدر شرمندگی محسوس ہوئی کہ میں نے اپنی گردن جھکالی اور ان سے آنکھیں چار کرتے ہوئے ڈرنے لگا۔ لیکن شاید کارکنانِ قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ اگلے ہی اسٹیشن پر جب گاڑی رکی تو ایک انتہائی بھاری بھر کم صاحب ہانپتے کانپتے گاڑی میں سوار ہوئے اور مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر ان مریل صاحب کے پہلو میں تشریف فرما ہو گئے۔ ان صاحب نے انتہائی حقارت اور غصے سے نووارد کی اس حرکت کو دیکھا اور کچھ دیر تک ماتھے پر تیوری چڑھائے انہیں بڑی سختی سے گھورتے رہے ۔ اس کا رروائی کا کچھ نتیجہ نہ نکلا تو انہوں نے اپنا شانہ نووارد کے پہلو سے لگا دیا اور پورے جوش اور ولولے کے ساتھ انہیں سیٹ پر سے دھکیلنے کی سعی کا آغاز کردیا۔ خاصی دیر تک وہ بڑے زور شور سے یہ کام سرانجام دیتے رہے۔ لیکن وہ بھاری بھر کم صاحب کچھ کھانے میں اس درجہ منہمک تھے کہ انہیں زور آزمائی کا احساس نہیں ہوا ۔ بہر حال کچھ مدت تک تو حملہ یک طرفہ تھا اور پھر اچانک ان بھاری بھر کم صاحب کو اپنے ساتھی مسافر کی حرکت کا علم ہو گیا ۔ وہ مسکرائے اور ذرا سا پہلو بدل ڈالا ۔ لیکن ان کی اس انتہائی بے ضرر حرکت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مریل صاحب سیٹ سے دو گز پر سے اُچھل کر دوسرے مسافروں پر جا گر ہے ۔ تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ اپنی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ باقی راستہ یہ ڈراما برابر جاری رہا یہ زور لگاتے رہے ، وہ مسکراتے اور پہلو بدلتے رہے اور میں جاگتا رہا۔

    لیکن فطرت ِانسانی کی بو العجبیوں کا یہ مطالعہ ہی مجھے ریل کے سفر کی ترغیب نہیں دیتا۔ بلکہ میں تو ان پر اسرار مناظر میں کھو جانے کے لیے بھی ریل میں سوار ہوتا ہوں جو ریل کی کھڑکی سے با ہر حدِ نظر تک پھیلے ہوتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ریل کا سفر بیک وقت مجھے انبوہ اور تنہائی کا احساس دلاتا ہے۔ یعنی جب میں اپنے ساتھی مسافروں کو دیکھتا ہوں جنہیں تقدیمہ نے زندگی کے مختلف شعبوں سے اٹھا کر چند لحظوں کے لیے ایک جگہ گڈ مڈ کر دیا ہے اور جو بھانت بھانت کی بولیوں، انوکھے متضاد خیالات اور بدمزاجی اور مروت کے مظاہروں سے چہکتی بولتی زندگی کا ایک انتہائی سچا نمونہ پیش کرتے ہیں تو میں خود بھی اس کلبلاتی ہوئی مخلوق کا ایک جز و بن جاتا ہوں اور اس سنجیدگی سے اپنی آرا کو دلائل سے مضبوط کرتا ہوں گویا فریق مخالف کا اقرار ہی میری زندگی کا اہم ترین مشن ہے۔ لیکن پھر جب میں دوسرے ہی لمحے ریل کی کھڑکی سے ایک نظر باہر کی دنیا پر ڈالتا ہوں تو نہ صرف یہ کہ اپنے ساتھی مسافروں کی موجودگی سے بے نیاز ہو جاتا ہوں بلکہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اس طویل و عریض کائنات میں یکہ و تنہا کھڑا ہوں ۔ ایسے میں میرے ساتھی مسافروں کی آوازیں میرے کانوں سے ٹکراتی تو ہیں لیکن اس طور گویا کسی گہرے کنویں سے آرہی ہوں اور میری تمام تر توجہ اس ہر آن بدلتے ہوئے منظر پر مرکوز رہتی ہے جو مجھے تیزی سے حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔ میں اس منظر کے اجزائے ترکیبی پر غور کرتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ بظاہر تو محض چند نہروں ،کھیتوں اور پہاڑیوں سے اس کی تشکیل ہوئی ہے ، لیکن اس کا مجموعی تاثر کس درجہ حسین و دلفریب ہے اور تب ایمرسن کی طرح مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر چہ اس منظر کا ہر جزو کسی نہ کسی کی ملکیت ہے۔ یعنی نہر سرکار کی ہے ، کھیت زید کا ہے ، مکان بکر  کا ہے۔ لیکن یہ منظر..... سارے کا سارا منظر میرا اور صرف میرا ہے نیلے آسمان پر قرمزی ابر پار سے بھرے ہوئے ہیں اور میرے ساتھ ساتھ دوڑتے جارہے ہیں۔ حد نظر تک کھیتوں اور پہاڑیوں کا دل فریب سلسلہ ہے جو بھنور کی طرح چکر لگا رہا ہے۔ شام ہونے کو آئی ہے۔ گاڑی ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب سے گزر رہی ہے۔گاؤں میں زندگی کی رفتار کس قدر سست ہے ! ایک جوان لڑکی پانی کا گھڑا اٹھائے ہوتے ہولے ہولے رہٹ کی طرف آرہی ہے ۔ کوئی گڈریا دھیرے دھیرے اپنے ریوڑ کو لیے گاؤں میں داخل ہو رہا ہے ۔ گاؤں کے تنور سے گاڑھا گاڑھا سست رو  دھواں اُٹھ رہا ہے اور گاڑی فراٹے بھرتی ، ہر شے کو پیچھے چھوڑتی ، کسی نا معلوم منزل کی جانب اڑی چلی جارہی ہے آپ ہی کہیے کوئی ایسے منتظر کو کیسے فراموش کر سکتا ہے ! یہ منظر تو دل میں رکھ لینے کے قابل ہے اور میں ایسا ہی کرتا ہوں ۔

    لیکن ریل کا سفر محض اڑتے ہوئے مناظر سے حظ اٹھانے تک ہی محدود نہیں۔ اس کا ایک دلچسپ پہلو ان اسٹیشنوں کی زندگی سے لطف اندوز ہونا بھی ہے جو حرکت اور تموج کے سمندر میں ننھے ننھے خاموش جزیروں کی طرح نظر آتے ہیں اور جن کے کناروں پر ریل گاڑی لحظہ بھر کے لیے رکتی ہے۔ لیکن شاید میں نے ان جزیروں کو خاموش قرار دینے میں غلطی کی ہے ۔ کیوں کہ اڑتے ہوئے مناظر کی خاموشی کے مقابلے میں یہاں زندگی کی گہما گہمی نسبتاً ز یا دہ ہوتی ہے۔ بڑے اسٹیشنوں کی بات نہیں کرتا۔ جہاں ریڑھی والے آپ کی کھڑکی کے عین نیچے آکر اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت کے ساتھ ہانک  لگاتے ہیں۔ تاکہ آپ پر اشیا خریدنے کے لیے نفسیاتی دباؤ ڈال سکیں۔ اور جہاں انجنوں کی شنٹنگ ، قلیوں کی بھاگ دوڑ اور بد حو اس مسافروں کی گھبراہٹ پر آپ کو میدانِ کا رزا رکا گمان ہوتا ہے ۔ بلکہ ان ننھے منے یتیم اسٹیشنوں کی بات کرتا ہوں جہاں اسٹیشن ماسٹر صاحب و ردی کے کوٹ کے نیچے لٹھے کی شلوار پہنے ہاتھ میں کاغذات کا پلندہ لیے،   گارڈ کے ڈبے کی طرف بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اور کانٹے والا بآوازِ بلند انجن ڈرائیور سے چلم کے لیے آگ کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے اور جہاں آپ کو اچانک محسوس ہوتا ہے گویا ایک طویل تنہائی کے بعد آپ نے زندہ و شاداب ، تڑپتی اور مسکراتی ہوئی زندگی کا پر تو دیکھا ہے ..... اسٹیشن پرریل کے ٹھہرنے کا ایک رومانی پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ آپ کی گاڑی آہستہ ہوتی ہوئی پلیٹ فارم پر آکر رک جاتی ہے ۔ آپ نظریں اُٹھاتے ہیں اور آپ کو پلیٹ فارم کی دوسری طرف محض دو چار ہاتھ کے فاصلے پر کوئی اور مسافر گاڑی کھڑی نظر آتی ہے ۔ اب اتفاق دیکھیے کہ آپ کا ڈبہ جہاں رکتا ہے اس کے عین سامنے کے ڈبے میں کھڑکی سے لگی کوئی اد اس سی حسینہ بیٹھی ہوتی ہے جو آپ کی گاڑی کو رکتے دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیتی ہے۔ آپ جلدی سے اٹھتے ہیں۔ بالوں کو سنوارتے ہیں ۔ ٹائی کی گرہ درست کرتے ہیں اور جلدی سے واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی دیکھیے کہ آپ کے بیٹھتے ہی انجن کی سیٹی کی تیز آواز آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہے اور محبوبۂ دل نواز کی گاڑی آپ کی تمناؤں اور آشاؤں کو کچلتی ، ہولے ہولے پلیٹ فارم پر سے کوچ کر جاتی ہے ..... اب آپ کے سامنے ایک خلا ہے ، حسرتوں اور محرومیوں کی خلا جس میں ایک بھدا سا انجن چند مال گاڑیوں کا تعاقب کر رہا ہے۔ آپ اس منظر سے نظریں ہٹا لیتے ہیں۔ لمبا سانس لیتے ہیں اور اپنی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کر دیتے ہیں ۔

     آخر میں مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ ریل کے سفر کے ایسے کئی اور پہلو بھی ہیں، جن کے حق میں بہت کچھ کہا سنا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ ریل کا سفر جسمانی آسائش کا موجب بھی ہے ، یقین مانتے :

    ’’یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی‘‘