’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘‘
’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘‘
ڈاکٹر وزیر آغا
غالب مسکرا کر کہتا ہے .....’’ یار! دیکھ یہ زندگی کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ میں تُو یا وہ ..... سب موم کے پتلے ہیں ۔ موم کے پتلوں کی لاف زنی یعنی چہ ؟ اس لیے۔ اے میرے پیارے دوست ! مسکرا ، دیکھ کسی نے ہم سے مذاق کیا ہے کیوں نہ ہم بھی اس سے مذاق کریں؟‘‘ مگر اقبال اس طرح نہیں سوچتا ۔ وہ بے حد سنجیدہ ہے۔ اس کے سامنے ایک عظیم مقصد ہے ۔ وہ کہتا ہے .....’’دیکھو، تمہیں کیا ہونا چاہتے تھا ۔ اور تم کیا ہو۔ اٹھو! اٹھو! کچھ بن جاؤ ۔ اپنی شخصیت کی تعمیر کرو۔ دیکھو ہر چیز رواں دواں ہے ۔ اس دوڑ میں خود کو نمایاں کرو۔ اپنے آپ کو اتنا اونچا اٹھاؤ کہ سب کی نگاہیں تم پر جم کر رہ جائیں.....‘‘ کتنا بڑا فرق ہے اِن دو بڑے شاعروں میں۔ اقبال کو کچھ ہونے ، کچھ بن جانے کی آرزو ہے ..... غالب کچھ ہونے ، کچھ بن جانے پر نادم ہے ۔
نجا نے آپ ان میں سے کس کے ہم نوا ہیں؟ میں خود اس بارے میں مؤخر الذکر کا معتقد ہوں۔ مجھے شخصیت اور انفرادیت میں خاصی بڑی خلیج نظر آتی ہے ۔ انفرادیت اپنے اندر کی دنیا سے آشنا ہونے پر نمودار ہوتی ہے۔ جب آپ لحظہ بھر کے لیے اردگرد کی دنیا کو بھول کر اپنے دل کے نہاں خانے میں اتر جاتے ہیں تو آپ سے ایک انوکھی خوشبو آنے لگتی ہے۔ یہی خوشبو غالب کے کلام سے بھی آتی ہے۔ لیکن جب آپ باہر کی دنیا میں کھو جاتے ہیں اور دوسرے اشخاص کی نسبت سے اپنی ذات میں کوئی وصف پیدا کر لیتے ہیں تو آپ کی ذات کے گردا گرد ایک رنگین اور منور سا ہالہ نمودار ہو جاتا ہے۔ یہی ہالہ آپ کی شخصیت ہے۔ انفرادیت سطح کے نیچے نمو پاتی ہے۔ شخصیت سطح سے اوپر روشنی پھیلاتی ہے۔ کتنا بڑافرق ہے ان دونوں میں ! !
شخصیت!.....شخصیت کوئی ایسا باریک ساریشمیں نقاب نہیں جسے آپ پہن لیں تو چند لمحوں کے بعد آپ کو اس کے وجود کا احساس بھی باقی نہ رہے ۔ شخصیت تو ایک وزنی عمامہ ہے جو ہر لحظہ آپ کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے اور ہر قدم پر آپ کو سر بلندی کی دعوت دیتا ہے ۔ اس طلسمی عمامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے پہنتے ہی آپ کو ہر شے چھوٹی اور حقیر نظر آنے لگتی ہے اور آپ خود کو ہفت اقلیم کے تاجدار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ مزید بر آں آپ کو انسانوں کا جمِ غفیر کیڑوں مکوڑوں کی طرح زمین کی سطح پر رینگتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے اور آپ کسی اونچے سنگھاسن پر بیٹھے، ایک نگاہِ غلط انداز سے ہر کس و ناکس کو مسترد کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے آپ اور آپ کے بھائی بندوں کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہوتی ہے جو پھر کبھی عبور نہیں ہو سکتی .....اس کے برعکس انفرادیت آپ کو اونچے سنگھاسن سے نیچے اتارتی ہے ۔ آپ کے سر سے عمامہ اتار کر ایک طرف رکھ دیتی ہے ۔ اپنی نازک نازک انگلیوں سے آپ کی اکڑی ہوئی گردن کو سہلاتی ہے۔ حتیٰ کہ گردن کے پٹھوں میں لچک سی پیدا ہوتی ہے اور آپ گردن کو جھکا کر ’’اندر‘‘ کی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ شخصیت ، تصادم اور حرکت کی پیداوار ہے۔ لیکن انفرادیت ، خاموشی اور عافیت سے جنم لیتی ہے۔
خود فطرت بھی تو شخصیت کی نفی کرتی ہے ۔ درختوں کے کسی جھنڈ میں داخل ہو کر دیکھئے اپنے رنگ، رُوپ اور باس میں ایک پیڑ دوسرے پیڑ سے مختلف نہیں۔ بھیڑوں کے کسی گلے کو ہانک کر دیکھئے اللہ میاں نے سب بھیڑیں ایک ہی سانچے میں تیار کی ہیں۔ انسانوں کے کسی گروہ پر نظر دوڑائیے۔ معمولی تبدیلیوں سے قطع نظر، بنیادی صورت میں یک رنگی کا احساس ہوگا .....پھر یہی نہیں، فطرت کا ہر جاندار اپنے پس منظر میں ضم ہونے کے لیے بےتاب ہے۔ گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑ گلے میں دوبارہ داخل ہونے پر اطمینان کا سانس لیتی ہے۔ انسان ، اپنے قبیلے یا گھر میں واپس آکر ہی مسرت حاصل کرتا ہے۔ خود فطرت جزو کو کل میں گم کردینے پر آمادہ ہے ۔ طوطا سبز پتوں میں غائب ہونے کے لیے سبز رنگ اختیار کرتا ہے ۔ چیتا جنگل کی چتکبری فضا میں خود کو چھپانے کے لیے ویسا ہی لباس پہن لیتا ہے ۔ رنگین پھولوں میں اڑنے والی تتلی خود بخود رنگین پروں سے خود کو مزین کر لیتی ہے ۔ کیوں؟ اس لیے کہ فطرت کی نظروں میں اخفا ہی تحفظِ ذات کا بہترین حربہ ہے اور اخفا کیا ہے ؟..... شخصیت کی نفی ، جزو کا کل میں گم ہو جانا، شےکا اپنے ماحول میں ضم ہو کر اپنی شخصیت کو مٹا دینا۔
لیکن اگر ہر شے اپنے پس منظر کی رِدا میں چھپ جانے کو بے تاب ہے تو پھر ارتقا کس طرح ممکن ہے ؟ اس کا جواب قطعاً مشکل نہیں۔ فطرت، شخصیت کی نفی کرتی ہے ، کیوں کہ شخصیت ایک ایسی شے ہے جو باہر سے عائد ہوتی ہے ، از خود فطرت کی کوکھ سے جنم نہیں لیتی۔ دوسری طرف فطرت کی ہموا رسطح کے نیچے انفرادیت کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔ اس عمل کو دیکھنے کے لیے شہر کی فضا بالکل سازگار نہیں۔ کیوں کہ وہاں تو پہلے ہی دھواں اگلتی چمنیوں اور شخصیتوں کا بول بالا ہے ۔ اگر آپ فطرت کے اس خاموش عمل کو دیکھنے کے متمنی ہیں تو میرے گاؤں میں آئیے۔ چند روزہ میرے دیہاتی مکان میں ٹھہر یے تاکہ میں آپ کو اپنے انوکھے تجربے سے آشنا کر سکوں تاکہ میں آپ کو بتا سکوں کہ فطرت کی خاموش سطح کے نیچے انفرادیت کی نمو کا عمل کس طرح جاری ہے ۔ مثلاً میرے اس گندم کے کھیت پر ہی نظر دوڑائیے: دیکھئے یہ فصل کیسی ضعیف اور مدقوق سی ہے ۔ موسمی تغیرات ، اندرونی امراض اور بیرونی حملوں نے اسے کم زور کر دیا ہے ۔ لیکن اس کم زور فصل میں گندم کے اس خوشے کی طرف دیکھئے یہ کس قدر مضبوط ، تازہ اور سر بلند ہے ۔ آپ پوچھتے ہیں یہ سر بلند خوشہ کہاں سے آیا ہے ؟..... یہ خوشہ از خود فطرت کی کوکھ سے ابھرا ہے ۔ یہ وہ دیدہ ور ہے جو بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے ، لیکن جب وجود میں آتا ہے تو اپنی نسل سے زیادہ تو انا اورسر بر آوردہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک اپنی انفرادیت ہے ۔ جس کے پر تو نے اسے ایک انوکھی عظمت عطا کر دی ہے ۔ یہ عظمت اس نے براہ راست فطرت کی لازوال قوتوں سے اخذ کی ہے ، اس سماجی امتیاز سے حاصل نہیں کی جسے آپ شخصیت کا نام دیتے ہیں اور جو آپ کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے .....میں خوش ہوں کہ میرے کھیت میں اس خوشے نے جنم لیا ہے اب میں اسے توڑوں گا، اس کے ہر بیچ سے ایک نیا خوشہ پیدا کروں گا ۔ ان خوشوں سے میں پھر بیج نکالوں گا اور یوں کسی روز میری پیدا کی ہوئی گندم کی یہ قسم سارے کھیت میں لہلہائے گی۔ اس سے ارتقا کی دوڑ میں ایک نئے سنگِ میل کا اضافہ ہوگا اور میری اپنی جیب میں بھی کچھ سکے کھنکنے لگیں گے ۔
ایک بار نہیں، کتنی ہی بار میں نے خود کو اپنی شخصیت کے بوجھ تلے کراہتے ہوئے پایا ہے جب ساون کی گھنگھور گھٹائیں اُمڈ امڈ کر آتی ہیں اور آنگن میں ’’اہل وطن ‘‘ لباس کے بندھنوں سے آزاد ہو کر نہاتے، اور قہقہے لگاتے ہیں تو میں اپنی شخصیت، اپنے وقار، اپنے نام ونمود کے بوجھل احساس تلے سمٹ کر رہ جاتا ہوں ۔ میں بھی لپک کر ان میں شامل ہونا چاہتا ہوں ۔ لیکن ایسا کر نہیں سکتا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شخصیت کا خول در اصل روح کا بندی خانہ ہے اور یہ بندی خانہ میں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے..... اس شاعر کی طرح جس نے خود کو ایک ذہنی قفس کے سپرد کر کے محبت کے جذبے کو سلاخوں سے باہر ہی روک دیا تھا۔ پھر جب ایک دن اس نے قفس سے باہر نکل کر اڑنے کی کوشش کی تو اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کے پروں میں تو اڑنے کی سکت ہی باقی نہیں۔ شاید کسی روز میرا بھی یہی حال ہو۔ کیوں کہ روز بروز میری شخصیت کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ میں اس آزادی سے محروم ہو رہا ہوں جو کھلی فضا میں لمبے لمبے سانس لینے اور جذبے کی ہلکی سے ہلکی تحریک پر لپک کر اُٹھنے اور بلا وجہ ناچنے چلے جانے میں مضمر ہے ۔ لیکن نہیں! میں اپنے پروں کو مفلوج نہیں ہونے دوں گا ۔ آج میں نے ایک انوکھا فیصلہ کر لیا ہے۔ خود کو آزادی دلانے ، مصنوعی بندھنوں سے خود کو نجات دلانے کا فیصلہ ۔ اگلے اتوار تک انتظار کیجیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ میں صبح اٹھتے ہی پہلے بالکنی میں کھڑا ہو کر ورزش کروں گا۔ پھر دھوتی پہنے اور ایک چھڑی ہاتھ میں لیے ، کوئی فلمی گیت گنگناتا بھرے بازار میں سے گزروں گا۔لسی والے کی دکان پر کھڑا ہو کر لسی کا ایک لمبا سا گلاس غٹاغٹ پی جاؤں گا ۔ پان والے کی دکان سے ایک موٹا سا پان لے کر اپنے کلے ہیں دباؤں گا اور بازار میں سرخ پیک سے چھڑکاؤ کرتا ہوا باغ کا رخ کروں گا۔ چڑ یا گھر پہنچ کر بندروں سے چھیڑ خانی کردوں گا یا سبزے پر لوٹ پوٹ ہو کر زمین کی خوشبو سونگھوں گا یا گلہری کی تقلید میں کسی درخت پر چڑھ جاؤں گا اور جب آپ کو کوٹ پتلون میں ملبوس، ہاتھ میں باریک سی چھڑی اور ہونٹوں میں سگار دبائے ، باغ کی پختہ سڑک پر پھونک پھونک کے قدم رکھتے اور کسی گہرے خیال میں مستغرق گزرتے ہوئے دیکھوں گا تو درخت کے تنے سے کمر لگا کرا اور درخت کی موٹی شاخ پر اپنی ٹانگیں پسار کر ایک ایسا بے ہنگم قہقہہ لگاؤں گا کہ درخت سے ننھی ننھی سنہری چڑیاں پھڑ پھڑا کر اڑ جائیں گی اور آپ یکا یک چونک کر میری سمت دیکھیں گے اور پھر مجھے پاگل سمجھ کر جلدی جلدی قدم اٹھاتے، باغ میں سے لپکتے ہوئے باہر نکل جائیں گے ۔
- ادراک حسن کا مسئلہ
- اردو افسانے کے تین دور
- اردو انشائیہ کی کہانی
- اردو اور پنجابی کا باہمی رشتہ
- اردو غزل میں محبوب کا تصور
- اردو کا تہذیبی پس منظر
- آشوب آگہی
- اقبال کا تصورِ عشق
- اقبال: اردو نظم کا پیش رو
- انشائیہ کیا ہے؟
- بیسویں صدی کی ادبی تحریکیں
- تخلیقی عمل اور اس کی ساخت
- ثقافت، ادب اور جمہوریت
- جدیدیت اور مابعد جدیدیت
- حسرت موہانی کا کاروبار عشق
- حقیقت اور فنکشن
- عصمت چغتائی کے نسوانی کردار
- غالب کا ایک شعر
- غزل اور جدید اردو غزل
- کلچر کا مسئلہ
- کلچر ہیرو کی کہانی
- مجلسی تنقید
- معنی اور تناظر
- منٹو کے افسانوں میں عورت
- نثری نظم کا قضیہ
- نئی اردو نظم
- ولی کی غزل
- ادراک حسن کا مسئلہ
- اردو افسانے کے تین دور
- اردو انشائیہ کی کہانی
- اردو اور پنجابی کا باہمی رشتہ
- اردو غزل میں محبوب کا تصور
- اردو کا تہذیبی پس منظر
- آشوب آگہی
- اقبال کا تصورِ عشق
- اقبال: اردو نظم کا پیش رو
- انشائیہ کیا ہے؟
- بیسویں صدی کی ادبی تحریکیں
- تخلیقی عمل اور اس کی ساخت
- ثقافت، ادب اور جمہوریت
- جدیدیت اور مابعد جدیدیت
- حسرت موہانی کا کاروبار عشق
- حقیقت اور فنکشن
- عصمت چغتائی کے نسوانی کردار
- غالب کا ایک شعر
- غزل اور جدید اردو غزل
- کلچر کا مسئلہ
- کلچر ہیرو کی کہانی
- مجلسی تنقید
- معنی اور تناظر
- منٹو کے افسانوں میں عورت
- نثری نظم کا قضیہ
- نئی اردو نظم
- ولی کی غزل
اوراق شمارہ سالنامہ 1967
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 2005
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 2004
اوراق شمارہ فروری، مارچ 2003
اوراق شمارہ مئی، جون 2002
اوراق شمارہ جنوری، فروری 2000
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1999
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1999
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1998
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1998
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1997
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1997
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1996
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1996
اوراق شمارہ اگست، ستمبر 1995
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1995
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1994
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1993
اوراق شمارہ مئی، جون 1993
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1992
اوراق شمارہ جون، جولائی 1992
اوراق شمارہ دسمبر 1991
اوراق شمارہ جون، جولائی 1991
اوراق شمارہ دسمبر 1990
اوراق شمارہ اگست 1990
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1990
اوراق شمارہ جون، جولائی 1989
اوراق شمارہ جنوری 1989
اوراق شمارہ جون، جولائی 1988
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1987
اوراق شمارہ اپریل، مئی 1987
اوراق شمارہ اکتوبر، نومبر 1986
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1986
اوراق شمارہ اکتوبر، نومبر 1985
1985 اوراق شمارہ اپریل، مئی
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1984
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1984
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1984
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1983
اوراق شمارہ مئی، جون 1983
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1982
اوراق شمارہ اپریل، مئی 1982
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1981
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1981
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1980
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1980
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1979
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1979
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1978
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1978
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1977
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1977
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1976
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1976
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر1975
اوراق اپریل، مئی 1975
اوراق نومبر، دسمبر 1974
اوراق شمارہ اگست، ستمبر 1974
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1972
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1974
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1973
اوراق شمارہ مارچ 1973
اوراق شمارہ اکتوبر 1972
اوراق شمارہ جون، جولائی 1970
اوراق شمارہ دسمبر 1969
اوراق شمارہ اپریل 1969
اوراق شمارہ نومبر 1968
اوراق شمارہ جولائی 1968
اوراق شمارہ فروری 1968
اوراق 1967 شمارہ نمبر 03
اوراق 1967 شمارہ نمبر 02
اوراق 1966 شمارہ نمبر 04
اوراق 1966 شمارہ نمبر 03
اوراق 1966 شمارہ نمبر 02