دُھند
دُھند
ڈاکٹر وزیر آغا
ہر صبح جب میری آنکھ کھلتی ہے تو میں تڑپ کر بستر میں سے نکل آتا ہوں اور ہتھیلیوں سے آنکھیں ملتا ہوا ڈائننگ روم کی کھڑکی سے لگ کر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ میری اس عجیب سی اضطراری حرکت سے گھر کے بیشتر افراد نالاں ہیں۔ خاص طور پر میری بیوی تو اسے سخت ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھتی ہے۔ البتہ میرے بھائی کے خیال میں میری یہ اضطراری حرکت کوئی مشکوک یا قابلِ نفرت عمل نہیں اور نہ یہ کسی ذہنی بیماری ہی کا پیش خیمہ ہے ۔ اس کی دانست میں میرے اس عمل کے پسِ پشت صرف یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں گھر کے افراد نے میرے بیدار ہونے سے پہلے پہلے ناشتہ کی میز تو صاف نہیں کردی ..... در اصل ان میں سے کوئی بات بھی درست نہیں ۔ میری اس اضطراری حرکت کی وجہ محض یہ ہے کہ میں اس سنہر ی منظر کو دیکھنے کا متمنی ہوتا ہوں جب ابھرتے ہوئے سورج کی شعاعیں سامنے کے پہاڑ پر چیڑ کے گھنے جنگل میں آگ لگا دیتی ہیں۔ اور سارا ماحول ایک دل نوا ز رخشندگی میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ درختوں پر جھکے ہوئے قرمزی رنگ کے ابر پارے جگمگا اٹھتے ہیں اور پہاڑ کی کمر سے لپٹی ہوئی پیچ دار سٹرک سونے کے تار کی طرح چمکنے لگتی ہے۔ اس منظر کی حیات اتنی مختصر ہوتی ہے کہ اگر چند لمحوں کی بھی دیر ہو جائے تو پھر مجھے دوسرے روز تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چناں چہ میں بیدار ہوتے ہی دیوانہ وار کھڑکی کی طرف لپکتا ہوں۔ اس سے میری بیوی کو خواہ مخواہ میرے ذہنی توازن پر شک گزرنے لگتا ہے اور میرے بھائی کو اپنے ناشتے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
لیکن آج صبح جب میں حسب ِمعمول تڑپ کر بستر میں سے نکلا اور بیوی کے تفکر اور بھائی کے زہر خند کو نظر انداز کرتے ہوئے کھڑکی میں آن کھڑا ہوا تو صبح کا مانوس منظر مجھے دکھائی نہیں دیا۔ یہ نہیں کہ میں دیر سے بیدار ہوا تھا اور سورج اپنے مخصوص زاویے سے بلند ہو چکا تھا بلکہ عجیب بات یہ تھی کہ پہاڑ، چیڑ کے جنگل، سونے کے تارکی طرح چمکتی ہوئی سڑک اور قرمزی رنگ کے ابر پارے ..... ان میں سے کوئی شے بھی موجود نہیں تھی۔ ان کی جگہ چاروں طرف ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ جس میں میرا مکان ایک بے پتوار کشتی کی طرح بہتا چلا جارہا تھا ..... گویا طوفان نوح ؑنے ایک بار پھر زمین کو نگل لیا تھا اور میں کسی نہ کسی طرح نوحؑ کی کشتی میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن جب میں نے زور زور سے آنکھیں ملیں اور پلکیں جھپکا جھپکا کر ماحول پرنگاہ دوڑائی تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ جسے میں سمندر سمجھ رہا تھا وہ تو محض برسات کی پہلی دھند تھی .....دھند جس نے گلیم ڈال کر ہر شے کو غائب کر دیا تھا ۔
اور پھر کہیں سے ہوا کا ایک جھو نکا لڑ کھڑاتا ہوا نمودار ہوا اور سفید دھند کا مرغولہ میرے جسم کو چھوتا ہوا اور میری نس نس میں ایک عجیب سے خوش گوار لمس کا تاثر چھوڑتا ہوا میرے قریب سے نکل گیا۔ ہوا کے اس آوارہ جھونکے سے دھند کچھ لطیف ہوگئی اور اس کی دودھیا سکرین پر دیو قامت درختوں کے سا ئے ناچتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ ننھی ننھی پہاڑی پگڈنڈیاں بھی نظر آنے لگیں۔ جن پر اکا دکا پہاڑ ی کسان پانی کا کنستر اٹھائے ایک ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح سنبھلتا لڑکھڑاتا دکھائی دے جاتا۔ پھر اچانک دھند کے اس پر دے میں ایک بڑا سا شگاف نمودار ہوا اور درختوں سے ڈھکا ہوا سامنے کا پہاڑ ایک الف لیلوی قلعے کی طرح نمودار ہو گیا۔ اس قلعے پر ایک بڑا سا محل تھا۔ جس کی چھت پر کوئی پری اپنے پروں کو سمیٹے اور افق پر نظریں گاڑ ے بے حس و حرکت کھڑی نظر آ رہی تھی۔ لیکن اس سے قبل کہ میں اس پری کا چہرہ دیکھ سکتا ، دُھند کے ایک آوارہ آنچل نے سارے کے سارے پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چاروں طرف دھند کے مرغولے ننھے ننھے بھوتوں کی طرح ناچنے لگے۔
لیکن یہ سارا قصہ صبح کا ہے .....صبح جواب میرے ماضی کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ اس وقت جب کہ چاروں طرف شام کی آمد آمد ہے، میرے اور اس پر اسرا صبح کے درمیان سینکڑوں دھندلے لمحات حائل ہو چکے ہیں۔ تاہم دھند جیسے تب مسلط تھی، ویسے ہی اب بھی چھائی ہوتی ہے۔ البتہ ماحول میں فرق ضرور ہے اور دُھند کے تیور بھی کچھ بدل گئے ہیں ۔ صبح میں نے ڈائننگ روم کی کھڑکی سے پہلی بار دھند کا نظارہ کیا تھا اور کیف و وارفتگی کے سیل رواں میں ڈوب ڈوب گیا تھا۔ اور اب میں گزرگاہ کے کنارے ایک اکیلی چیڑ کے نیچے بیٹھا ھند سے ہم کنار ہو رہا ہوں۔ گزرگاہ کے ساتھ ساتھ بجلی کے قمقمے روشن ہیں ۔لیکن ہر قمقمے کے گرد دھند نے ایک طلسمانی کیفیت قائم کر رکھی ہے۔ قمقمہ دھند کے سحر سے پار دیکھنے کی سعی کرتا ہے۔ لیکن دُھند مسکرا کر اس کا راستہ روک لیتی ہے ۔ اور اس کی یہ مسکراہٹ ابدی طور پر قمقمے کے گردا گرد ایک ہالہ سا بن کر رہ گئی ہے۔ دھند اور نور کی اس آمیزش سے بے نیاز کچھ سائے گزرگاہ کو اپنے قدموں سے روند رہے ہیں ۔ جب وہ قمقمے کے نیچے سے گزرنے لگتے ہیں تو نورانی دھند ان کے چہروں پر ملکوتی حسن بکھیر دیتی ہے۔ لیکن جب وہ ذرا آگے بڑھتے ہیں تو دھندلے ہوتے ہوتے غائب ہو جاتے ہیں۔ تا آں کہ دوسرے قمقمے کے قریب انہیں پھر ایک حیاتِ تازہ حاصل ہو جاتی ہے ۔
میرے چاروں طرف خاموشی کی بادشاہت قائم ہے۔ البتہ جب دھند کا کوئی سفید آنچل چیڑ کی شاخوں میں اٹک جاتا ہے تو چیڑ کی ٹہنیوں سے موتیوں جیسے قطرے ایک ہلکی سی جھنکار کے ساتھ میرے شانوں پر گرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ ..... ازلی و ابدی لا متنا ہی خموشی۔ دھند کا ایک اور آنچل بڑھتا ہے ۔ پھر ایک جھنکار سنائی دیتی ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ جیسے دُھند کےلمس پر چڑ کے آنسو چھلکتے ہی رہیں گے .....مجھے دھند کا یہ انداز اچھا لگتا ہے ۔ اس نے مجھے انبوہ میں رہتے ہوئے بھی تنہائی کا ایک شیریں احساس بخشا ہے ۔ میرے چاروں طرف تڑپتی اور گنگناتی ہوئی زندگی اسی طرح قائم ہے۔ لیکن اس دھند کے طفیل میں اور میری طرح ہر ذی روح ایک جزیرے کی طرح زندگی کے بر اعظم سے کٹ گیا ہے ۔ دھند نے ہم میں سے ہر ایک کی انفرادیت کو واضح کیا ہے ۔ ہماری شخصیتوں کی حدود متعین کی ہیں ۔ ہمیں انبوہ میں کھو جانے سے باز رکھا ہے۔
چیڑ کے نیچے سبزۂ نورستہ پر نیم دراز، میں ایک عجیب سی دنیا میں جا پہنچا ہوں ۔..... ایک ایسی دنیا جو حقیقت کی کرخت اور ٹھوس دنیا سے کسی قدر مختلف ہے ۔ لیکن شاید دنیا تو وہی ہے ۔ صرف میرے محسوسات تبدیل ہو گئے ہیں۔ دُھند نے، دُھند کی عجیب سی غیر مانوس خوشبو نے ، دھند کے لطیف اور بہاریں آنچل نے نہ صرف ہر شے کی کرختگی کو ڈھانپ لیا ہے، بلکہ احساسات و جذبات میں بھی ایک ملائمت پیدا کر دی ہے دھند کا یہ عمل کس قدر قیمتی ہے کہ چند لخطوں کے لیے سہی، اس کرخت اور ٹھوس دنیا کے نشیب وفراز تو برا بر ہو گئے ہیں۔ دُھند کسی ایک کی رعایت نہیں کرتی۔ محل ، جھونپڑی، پہاڑ، ندی ، امیر، غریب ہر کسی کو دھند کی دیوی اپنی گود میں لے کر سلا دیتی ہے..... مادی نیا کے نشیب و فراز، اذہان کی خلیج ، روحوں کا ازلی اور ابدی فرق .....کچھ بھی تو باقی نہیں رہتا ہاں اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ دھند کا سیل رواں ہے جو نہ جانے کس روزن کوہ سے نکلا ہے اور نہ جانے کس دامانِ کوہ کی طرف رواں دواں ہے۔
دھند کی ایک موج پھر میرے قریب سے نکل گئی ہے۔ میں سوچنے لگا ہوں دھند اور با دل میں یہ ظاہر کوئی فرق نہیں۔ دونوں پانی کے بخارات ہی تو ہیں۔ لیکن یہی بخارات بلندی پر پہنچ جائیں تو بادل کہلاتے ہیں اور زمین پر اتر آئیں تو دھند بن جاتے ہیں۔ جب تک یہ بلندیوں پر رہتے ہیں۔ ان کے طریق کار میں سنگ دلی ، شقاوت ، بے نیازی اور غرور سب کچھ ہوتا ہے ۔ یہ چمکتے ہیں ، گرجتے ہیں اور موت کے فرشتے بن کر زمین کے باسیوں کو خاکستر کر دیتے ہیں۔ لیکن جونہی یہ عرش سے اتر کر فرش پر آتے ہیں تو نہ ان میں گرج باقی رہتی ہے نہ چمک..... یہ دُھند کی دیوی کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔ دیوی جس کے ریشمی آنچل زمین کے تمام باسیوں کو اپنی آغوش میں لے لیتے ہیں ۔ پیار سے ہم کنار کر لیتے ہیں۔ سوچتا ہوں ان پانی کے بخارات کا کوئی قصور نہیں۔ بلندی شاید ہر شے کی فطرت کو بدل دیتی ہے۔
دُھند کچھ اور گہری ہو رہی ہے۔ شاید شام کے کارواں نے اپنی منزل کو پا لیا ہے ۔ میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ہولے ہولے چلتا گزرگاہ کے سایوں میں تحلیل ہو جاتا ہوں ۔
- ادراک حسن کا مسئلہ
- اردو افسانے کے تین دور
- اردو انشائیہ کی کہانی
- اردو اور پنجابی کا باہمی رشتہ
- اردو غزل میں محبوب کا تصور
- اردو کا تہذیبی پس منظر
- آشوب آگہی
- اقبال کا تصورِ عشق
- اقبال: اردو نظم کا پیش رو
- انشائیہ کیا ہے؟
- بیسویں صدی کی ادبی تحریکیں
- تخلیقی عمل اور اس کی ساخت
- ثقافت، ادب اور جمہوریت
- جدیدیت اور مابعد جدیدیت
- حسرت موہانی کا کاروبار عشق
- حقیقت اور فنکشن
- عصمت چغتائی کے نسوانی کردار
- غالب کا ایک شعر
- غزل اور جدید اردو غزل
- کلچر کا مسئلہ
- کلچر ہیرو کی کہانی
- مجلسی تنقید
- معنی اور تناظر
- منٹو کے افسانوں میں عورت
- نثری نظم کا قضیہ
- نئی اردو نظم
- ولی کی غزل
- ادراک حسن کا مسئلہ
- اردو افسانے کے تین دور
- اردو انشائیہ کی کہانی
- اردو اور پنجابی کا باہمی رشتہ
- اردو غزل میں محبوب کا تصور
- اردو کا تہذیبی پس منظر
- آشوب آگہی
- اقبال کا تصورِ عشق
- اقبال: اردو نظم کا پیش رو
- انشائیہ کیا ہے؟
- بیسویں صدی کی ادبی تحریکیں
- تخلیقی عمل اور اس کی ساخت
- ثقافت، ادب اور جمہوریت
- جدیدیت اور مابعد جدیدیت
- حسرت موہانی کا کاروبار عشق
- حقیقت اور فنکشن
- عصمت چغتائی کے نسوانی کردار
- غالب کا ایک شعر
- غزل اور جدید اردو غزل
- کلچر کا مسئلہ
- کلچر ہیرو کی کہانی
- مجلسی تنقید
- معنی اور تناظر
- منٹو کے افسانوں میں عورت
- نثری نظم کا قضیہ
- نئی اردو نظم
- ولی کی غزل
اوراق شمارہ سالنامہ 1967
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 2005
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 2004
اوراق شمارہ فروری، مارچ 2003
اوراق شمارہ مئی، جون 2002
اوراق شمارہ جنوری، فروری 2000
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1999
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1999
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1998
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1998
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1997
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1997
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1996
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1996
اوراق شمارہ اگست، ستمبر 1995
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1995
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1994
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1993
اوراق شمارہ مئی، جون 1993
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1992
اوراق شمارہ جون، جولائی 1992
اوراق شمارہ دسمبر 1991
اوراق شمارہ جون، جولائی 1991
اوراق شمارہ دسمبر 1990
اوراق شمارہ اگست 1990
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1990
اوراق شمارہ جون، جولائی 1989
اوراق شمارہ جنوری 1989
اوراق شمارہ جون، جولائی 1988
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1987
اوراق شمارہ اپریل، مئی 1987
اوراق شمارہ اکتوبر، نومبر 1986
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1986
اوراق شمارہ اکتوبر، نومبر 1985
1985 اوراق شمارہ اپریل، مئی
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1984
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1984
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1984
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1983
اوراق شمارہ مئی، جون 1983
اوراق شمارہ نومبر، دسمبر 1982
اوراق شمارہ اپریل، مئی 1982
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1981
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1981
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1980
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1980
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1979
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1979
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1978
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1978
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1977
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1977
اوراق شمارہ جولائی، اگست 1976
اوراق شمارہ جنوری، فروری 1976
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر1975
اوراق اپریل، مئی 1975
اوراق نومبر، دسمبر 1974
اوراق شمارہ اگست، ستمبر 1974
اوراق شمارہ مارچ، اپریل 1972
اوراق شمارہ فروری، مارچ 1974
اوراق شمارہ ستمبر، اکتوبر 1973
اوراق شمارہ مارچ 1973
اوراق شمارہ اکتوبر 1972
اوراق شمارہ جون، جولائی 1970
اوراق شمارہ دسمبر 1969
اوراق شمارہ اپریل 1969
اوراق شمارہ نومبر 1968
اوراق شمارہ جولائی 1968
اوراق شمارہ فروری 1968
اوراق 1967 شمارہ نمبر 03
اوراق 1967 شمارہ نمبر 02
اوراق 1966 شمارہ نمبر 04
اوراق 1966 شمارہ نمبر 03
اوراق 1966 شمارہ نمبر 02