وزیر آغا

وزیر آغا

درمیانہ درجہ

    درمیانہ درجہ

    ڈاکٹر وزیر آغا

    رات کا پچھلا پہر ہے ۔ ریل گاڑی فراٹے بھرتی اُڑی چلی جا رہی ہے۔ گرمی اور حبس کی فضا کو آنے والی صبح کی نیم خنک، بھیگی ہوئی ہوا مس کرنے لگی ہے اور غنودگی میں ڈوبی ہوئی گردن زمیں بوس ہونے کی سعیِ مسلسل میں مبتلا ہے کہ دفعۃً میرے اندر کا گارڈ شعور کی کھڑکی پر دستک دے کر فرید کو اُس کی منزل کے قرب کا احساس دلاتا ہے اور فرید میاں ہڑ بڑا  کر بیدار ہو جاتے اور اپنی بو جھل آنکھوں سے نیند کو بھگانے کے لیے کمپارٹمنٹ کا بلب روشن کر دیتے ہیں۔ پھر وہ کھڑکی میں سے اپنی گردن باہر نکال کر تادیر پیچھے کی طرف بھاگتی ہوئی جھاڑیوں اور کھیتوں میں ارضِ وطن کے کسی آشنا نشیب یا فراز کو نظر کی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اُس کے بعد تا دیر اپنی دائیں آنکھ میں سے کوئلے کا وہ ریزہ نکالنے میں مصروف رہتے ہیں جو ریل کی کھڑکی سے باہر جھانکنے والے ہرمسافر کو مفت عطا ہوتا ہے ۔

    لیکن یہ صورتِ حال درمیانے درجے کے مسافر کو ہی در پیش ہے۔ اُونچے درجے میں سفر کرنے والا تو ٹھنڈی میٹھی فضا میں لمبی تانے سویا رہتا ہے اور منزل کے قرب کا اندیشہ اُس کے لیے سوہانِ روح نہیں بنتا۔ اُس کے پاس نہ تو زادِ راہ کی کمی ہے اور نہ اسے اِس خدشے کا سامنا ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد اُسے زمان و مکان کی الجھنوں میں گرفتار ہونا پڑے گا۔ سکون ،طمانیت اور اعتماد کی اس فضا میں اندر کے کسی گارڈ کی مجال نہیں کہ اس کے سینے پر دستک دے .....کچھ یہی حال نچلے درجے کے مسافر کا ہے ۔ خدشے یا الجھن سے یہ شخص بھی بے نیاز ہے۔ وہ اول شام سے اپنے ایک فٹ چوڑے تخت پر براجمان ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ اگر اُس نے ذرا بھی پہلو بدلا تو اُس کے شانے سے لگ کر بیٹھا ہوا مسافر اپنی مملکتِ خداداد میں اضافے کی فوراً کوشش کرے گا ۔ وہ پتھر کے بت کی طرح بے حس و حرکت آخری اسٹیشن تک بیٹھا رہتا ہے۔ نیند کی پریاں اُس کی تنہائی میں مخل نہیں ہوتیں اور اُس کی دُھلی دُھلائی شفاف آنکھیں ہر طرح کے رنگین خواب سے قطعاً محفوظ رہتی ہیں۔

     اُونچے درجے کا مسافر اطمینان سے گہری نیند سوتا ہے، اور نچلے درجے کا مسافر سونے کی بد عادت میں مبتلا ہی نہیں ۔ اس لیے خواب ان میں سے کوئی بھی نہیں دیکھتا۔ خواب تو صرف درمیانہ درجے کے مسافر کے لیے مختص ہیں ۔

    اور یہی اس کا المیہ بھی ہے ! انٹر کلاس کا یہ مسافر رات بھر خواب دیکھتا ہے۔ کبھی نرم اورسبک اور کبھی ڈراؤنے اور بھیانک خواب ! ہر بار جب گاڑی پہلو بدلتی ہے ۔ انجن ایک لمبی، دل ہلا دینے والی چیخ   مارتا ہے یا چھابڑی والا کھڑکی کے عین نیچے کھڑے ہو کر اُسے گلے کی ساری قوت سے ’’جلیبی‘‘ کے وجود کا احساس دلاتا ہے تو اِس مسافر کے خوابوں کا لامتناہی سلسلہ صرف لحظہ بھر کے لیے ہی ٹوٹتا ہے، کیوں کہ دوسرے ہی لمحے گاڑی کے ہلکورے اُسے پھر سے خوابوں کی پر اسرار دُنیا میں بہالے جاتے ہیں اور وہ از سر نو اُمنگوں، آرزوؤں اور وسوسوں کے تانے بانے میں اُلجھ جاتے ہیں ۔

    انٹر کلاس کے مسافر کی حالت قابل رحم ہے۔ بعض ناتجربہ کار لوگ کچھ یوں سوچنے لگتے ہیں کہ چلو، تیسرے درجے سے تو انٹر کلاس بہر حال . بہتر ہے، لیکن یہ ان کی غلطی ہے ۔ اس غلطی کا احساس انٹر کلاس کے مسافر کو ہر رات ہوتا ہے، جب وہ گاڑی کے حرکت میں آتے ہی محبت اور نفرت، راحت اور دکھ، ذات اور غیر ذات کے درمیان ایک پنڈولم   کی طرح ہلنے لگتا ہے اور ہلتا ہی چلا جاتا ہے ۔نچلے درجے کے مسافر کو ایسے کسی پنڈولم کا سامنا نہیں ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا ڈبہ نیچے سے اوپر اور اندر سے باہر تک تھرڈ کلاس کا ڈبہ ہے۔ اسے روزِ ازل کارکنانِ قضا و قدر یعنی آسمانی انجینئر وں نے صرف نچلے درجے کے مسافر کے لیے تعمیر کیا تھا اور یہ ڈبہ ابد تک اپنے اس مزاج اور وصف سے دستبردار نہیں ہوگا ۔ تھرڈ کلاس کا مسافر اس لڑکے کی طرح نہیں جس کا نام الٰہ دین تھا اور جس نے چراغ کو رگڑ کر تصور ہی تصور میں اپنے لیے ایک عالی شان محل تیار کر لیا تھا۔ یہ الٰہ دین تھرڈ کلاس کا نہیں، انٹر کلاس کا مسافر ہے، کیوں کہ وہ شام سے صبح تک خواب دیکھنے کے مرض میں مبتلا ہے۔ وہ اپنے وجود ،اپنی کائنات، اپنے مقدر سے مطمئن ہی نہیں۔ اور سدا لکڑی کی سخت اور جامد دیوار میں نقب لگا کر اُس کے آگے جتے ہوئے کسی اُونچے محل نما ڈبے میں قدم رکھنے کے منصوبے بنانا رہتا ہے۔ بھلا ایسے شخص کو شانتی کہاں نصیب ہو گی۔ لیکن نچلے درجے کا مسافر کردار کی اس سیما بیت اور ’’الٰہ دینیت‘‘ سے بالکل محفوظ ہے ۔ وہ کسی احمقوں کی جنت کا باسی نہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اُس کے نیچے لکڑی کا ایک سخت تختہ ہے اور اس کے سر پر لکڑی کے ایک اور موٹے تختے کا سایہ ہے ۔ اس کے دائیں اور بائیں دو ٹرائے کے چوبی گھوڑے اُسے چکی کے دو پاٹوں کی طرح گرفت میں لیے بیٹھے ہیں اور اس کی منزل یہاں سے اٹھائیسواں اسٹیشن ہے۔ تیسرے درجے کا یہ مسافر کسی کامپلکس کا شکار نہیں۔ اُس کے ڈبے میں تو صرف ایک احساس ہی پنپ سکتا ہے اور وہ ہے احساس ِکمتری ! صرف ایک رنگ ہی باقی رہ سکتا ہے اور وہ ہے بلب کی کبھی نہ جھپکنے والی آنکھ کا سفید رنگ ! صرف ایک کیفیت ہی قائم رہ سکتی ہے اور وہ ہے ’’جاگتے رہنا بھائی!‘‘ کی ازلی و ابدی کیفیت ! بھلا اس درجے کے مسافر کو کسی اُلجھن کی زد میں آنے کی کیا ضرورت ہے ؟ وہ اپنی جگہ چپ چاپ بیٹھا خلا میں گھورتا ہے ۔ حقے کے متوازن اور مسلسل کش لیتا رہتا ہے اور پھر یکایک کسی ایک لمحے   جب ریل جھٹکے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو اپنی پوٹلی سر پر رکھے، اپنے حقے اور جوتیوں کو ہاتھ میں پکڑے، ہینڈل سے لٹک کر نیچے کسی کھائی میں اُتر جاتا ہے اور کالی بھیانک رات بڑھ کر اُسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ تیسرے درجے کا یہ مسافر ایک چھلا وہ ہے ..... ایک مست ، گونگا اور بے پروا چھلاوہ ! ایک ایسا ابوالہول جو ریت پر بنتی بگڑتی ہوئی تحریروں کو صدیوں سے ایک استہزاآمیز منجمد مسکراہٹ میں سے گھورتا آیا ہے اور گھورتا چلا جائے گا۔

    دوسری طرف اُونچے درجے کے مسافر کو خواب دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ، کیوں کہ خواب تو اُس وقت جنم لیتے ہیں جب آرزوئیں تشنہ رہ جاتی ہیں ۔ یہ مسافر تو سیراب شده آرزوؤں اور اُمنگوں کی جنت کا قیدی ہے۔ گرمی اور حبس سے اسے کوئی سروکار ہی نہیں۔ کیوں کہ سانس کی ایک ہی ادا نے اُس کے ڈبے میں خنکی کی ایک کیف آگیں اور معطر رو  یوں پھیلا دی ہے جیسے شعر میں کوئی خوبصورت تشبیہہ ! اس کا بستر نرم ،گداز اور کشادہ ہے، دیواریں بلور کی طرح فروزاں اور آئینے معصوم بچے کی آنکھوں کی طرح شفاف اور بے داغ ہیں ۔ کھڑکیوں کے شیشے رنگین اور پردے دبیز ہیں۔ وہ چاہے تو باہر کی دنیا کو بآسانی دیکھ سکتا ہے۔ لیکن باہر کی دُنیا اُسے نہیں دیکھ سکتی ۔ باقی لوازم کی فراہمی مسافر کی صوابدید پر ہے اور اگر اس کی طبیعت مائل ہو تو کوئی نازک سا شر مگیں چہرہ اور تندی ِصہبا سے پگھلا ہوا کوئی پیمانہ بھی اس کا ہم سفر ہوسکتا ہے ۔ اُونچے درجے کے اِس ڈبے میں خطرے کے الارم کی زنجیر تو موجود ہے لیکن دروازہ مقفل ہے اور خطرہ کہیں باہر ہی رہ گیا ہے .....یہ ایک چھوٹی سی جنت ہے جس میں مسرت خود اپنی تمام اضطراری کیفیات سے دست کش ہو چکی ہے ۔ فضا کی خنکی نے جذبات کو بھی خنک اورجامد کر دیا ہے ۔ ہر طرف سکون، انجماد اور یکسانیت کا دور دورہ ہے ۔ وقت رک چکا ہے اور وقت کے ساتھ ہی زندگی کا سارا ہیجان ،افکار کی ساری بہیمانہ تندی اور نارسا آرزؤوں کا سارا کہرام بھی میٹھی نیند سو گیا ہے ۔

    نچلے درجے کے ڈبے کی حالت اس سے بظاہر مختلف ہے۔ ایک چھوٹا سا جہنم ہے جس میں گرمی اور حبس کا بول بالا ہے۔ مسا فروں کی ریل پیل سے یوں گمان ہوتا ہے جیسے کسی دڑبے میں مرغ بند کر دیئے گئے ہوں ۔ پسینے کی بدبو چاروں جانب پھیل رہی ہے اور اس بدبو میں حقے اور سگرٹ کا دھواں، نسوار کا غبار، کھانسی کی برقی لہریں اور منہ کے بھبھو کے..... سب کچھ شامل ہو چکا ہے ۔ ہوا اس قدر گرم ،بوجھل اور غلیظ ہے کہ نتھنوں کو اسے اندر کھینچنے کے لیے بہت زور مارنا پڑتا ہے لیکن نچلے درجے کا مسافر اسی ہوا کا طائر اور اسی سمندر کی ایک مچھلی ہے۔ وہ صدیوں سے اس بو جھل اور گرم ہوا کو سونگھتا اور اُسے اپنے اندر کھینچتا آیا ہے اور اب اس کے نتھنے اُسے باہر کی ہوا سے ممیز کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ نچلے درجے کے مسافر کی حسیات کند ہیں۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس قدر بے حس ہے کہ اگر باہر کی تاریکی سے کوئی خوفناک اور مکروہ پنچہ اندر اگر اُس کے ہم سفر کی گردن مروڑ ڈالے تو بھی اس پر کوئی اثر مرتسم نہ ہو ۔ وہ تو اپنے ماحول اور اپنی تقدیر سے کبھی کا سمجھوتہ کر چکا ہے، اس لیے اب اس کا من شانت، ذہن  شفاف، اور اُس کا بدن بے حس ہے۔ اُونچے درجے کی طرح نچلے درجے کا یہ مسافر بھی وقت کی بے رحم زد سے قطعاً محفوظ ہے۔ ایک خوشی کے ہاتھوں زندۂ جاوید ہو گیا تھا ، دوسرا دُکھ کے ہاتھوں امر ہو چکا ہے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ جہنم بھی ایک قسم کی جنت ہی ہے۔ بس  ذراٹمپریچر کا فرق ہے !

    لیکن درمیانے درجے کا مسافر نہ جنت کا باسی ہے اور نہ جہنم کا ! اس کا مسکن تو ایک عالم برزخ ہے۔ اس مسافر کو اُونچے درجے کا امرت بھی حاصل ہے اور نچلے درجے کا زہر بھی!  لیکن دونوں کی مقدار بس اتنی ہوتی ہے کہ وہ ایک کی حلاوت اور شیرینی سے ابھی متمتع نہیں ہو چکتا کہ دوسرے کی تلخی اور کڑواہٹ اُسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ وہ ابھی ہوا کے کسی بھولے بھٹکے نیم خنک جھونکے سے بمشکل مس ہی کرتا ہے کہ کوئی غلیظ ساگرم جھونکا آگے بڑھ کر اس سے ٹکرا جاتا ہے ۔ اُونچے درجے کا مسافر بڑ کے گھنے اور پھیلے ہوئے چھتنار کے نیچے بیٹھ کر نروان حاصل  کرتا ہے اور نچلے درجے کا مسافر اس درویش کی طرح ہے جو ہر روز اپنے بدان کو راکھ ہوتے دیکھتا ہے لیکن اُف تک نہیں کرتا۔ لیکن انٹر کلاس والا ان دونوں سے مختلف ہے۔ وہ بیچارہ تو براہ راست مایا کی طوفانی بلغار کی زد میں ہے اور مارا کی بیٹیوں نے اسے چاروں طرف سے پوری طرح گھیر رکھا ہے ۔ ان میں سے جب کوئی اُسے گدگداتی ہے تو وہ ہنس پڑتا ہے۔ کوئی چٹکی لیتی ہے تو سی کر کے چُپ ہو جاتا ہے اور کوئی زور سے کچھ کا لگاتی ہے تو بے اختیار رونے لگتا ہے۔ یہ مسافر آنسوؤں اور قہقہوں ، خوشیوں اور دکھوں کے جھولے میں ازل سے جھول رہا ہے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ صرف اسی شخص کو جنت اور جہنم .....دونوں کے ذائقے سے آشنائی ہے۔

    آپ پوچھتے ہیں :’’ انٹر کلاس کے ڈبے میں کون لوگ سفرکرتے ہیں ؟‘‘

    ’’بہت بہت شکریہ ! لیکن یہ دروازہ ذرا بند کر لیجیے ۔ کہیں بُو کا کوئی گرم جھونکا اندر نہ چلا جائے!‘‘