نئی اردو نظم
نئی اردو نظم
ڈاکٹر وزیر آغا
نئی ار دو نظم کے بارے میں ایک مفروضہ یہ قائم کر لیا گیا ہے کہ اس سے مراودہ شاعری ہے جس نے زبان اور ہیئت کے سلسلے میں مروجہ شعری سانچوں سے انحراف کیا ہے ۔ یہ مفروضہ نظر کی سطحیت کا غماز ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نظم معرا کی مقبولیت اور آزاد نظم لکھنے کی روش بیسویں صدی کے عالمی ادب کے ایک عام اور مقبول شعری میلان سے منسلک ہے تاہم اسی کو سب کچھ سمجھنے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ آپ چائے کی پیالی کے ڈیزائن کو تو اہمیت دیں مگر پیالی میں پیش ہونے والے مشروب کے ذائقے اور خوشبو کو کلیتاً نظر انداز کردیں۔ یہ اسی انتہائی اور یک طرفہ رویے کا نتیجہ ہے کہ نئی نظم کے نام ژولیدہ کٹی پھٹی اور مسخ شدہ شعری ہیئت کی حامل تخلیقات کا بآواز بلند پروپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ ایسی شاعری کو آپ اخبار اور میگزین ، ریڈیو، ٹیلی ویژن کی بیساکھیوں کی مدد سے کچھ عرصہ کے لیے ’’زندہ‘‘ تور کھ سکتے ہیں اور اگر خدا توفیق دے تو اسے غیر ملکی زبانوں میں منتقل کرکے دسادر کو بھی بھیج سکتے ہیں لیکن اگر یہ شاعری پیدائشی طور پر کمر شکستہ ہے تو پھر یہ ساری کاوش محض مشقت ٹھہرے گی اور اس مشقت کا مشکل ہی سے کوئی نتیجہ برآمد ہو سکے گا۔
لہٰذا گزارش ہے کہ نئی نظم سے مراد محض ہیئت کا pup petshow (پتلیوں کا تماشہ) ہرگز نہیں ۔ نئی نظم ہیئت کے تجربات کو یقیناً اہمیت دیتی ہے مگر ان تجربات کو اگر محض مصرعوں یا لائنوں میں تخفیف و تحریف یا شعر کو نثر بناکر پیش کرنے کی کاوش قرار دیا جائے تو نئی نظم کے مسلک کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ نئی نظم تو آزاد کے علاوہ پابند ہیئت میں بھی کی گئی ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں اس نے جہاں جہاں لفظ، تلمیح یا تصور کو از سرِ نوخلق کیا ہے، اس کی انفرادیت اجاگر ہوئی ہے اور جہاں جہاں اس نے پرانی شراب کو نئی بوتلوں بلکہ ٹوٹی پھوٹی بوتلوں میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس کی مضحکہ خیزی چھپی نہیں رہ سکی۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو اقبال نئی نظم کا علم بردار ہے کہ اس نے مستعمل لفظی تراکیب، تلمیحات اور الفاظ کو مفہوم کے مروج ہالے سے باہر نکال کر مفہوم کا ایک نیا دائرہ عطا کیا ۔ چناں چہ چراغ دار و رسن ، رہبر، رہزن ، لالہ و گل، مقتل ، قفس، صیاد، بلبل، زندان اور زنجیر ایسے الفاظ کا مزاج ہی تبدیل کر دیا ۔دوسری طرف وہ شعرا جنہوں نے نئی ہیئت کے نام پر پٹی ہوئی فارسی تراکیب سے مزین شاعری کی ’’نظریہ ساز‘‘ کا لقب اختیار کرنے کے باوجود پرانی وضع کی شاعری ہی کے علم بردار ر ہے۔
ہیئت کی تبدیلیوں اور لفظ کے تخلیقی استعمال کے علاوہ نئی نظم کا ایک خاص وصف اس کا لہجہ ہے۔ حالی کے زمانہ میں فرد نے صدیوں کی نیند سے بیدار ہو کر ماضی اور مستقبل پر ایک نظر تو ڈالی تھی اور وہ خلقِ خدا سے ہم کلام ہونے کی کوشش بھی کرنے لگا تھا لیکن چوں کہ وہ ابھی قدیم معاشرتی اداروں کے سائے تلے ہی نہ ند گی گزار رہا تھا ۔ اس لیے اس کے ہاں انفرادیت کے اظہار کا کوئی واضح میلان پیدا نہ ہو سکا۔ مگر بیسویں صدی میں جب پرانے زنگ آلود نظام نے ٹوٹنا شروع کیا اور معاشرتی ا داروں کی گرفت ڈھیلی پڑی تو ان کے شکنجے میں کسے ہوئے فرد نے آزاد روی کا علم بلند کر دیا۔ اقبال کی شاعری بیسویں صدی کے اس متحرک اور فعال شخص کا اظہار ِآزادی ہی نہیں اعلانِ ذات بھی تھا ۔ چناں چہ دیکھ لیجئے کہ اقبال کے ہاں پہلی بار خدا اور بندے کے باہمی تعلقات میں بندہ کے موقف کو کیسے زور دار انداز میں پیش کیا گیا اور بندہ عاجز و گنہگار نے کیسی عجیب سی داخلی توانائی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی انفرادیت کا بھر پور احساس دلایا۔ چناں چہ راضی بہ رضا ہونے کے بجائے اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اب کچھ بندے کی رضا کو بھی اہمیت دے۔ اقبال اس نئے جمہوری طرز فکر کا سب سے بڑا نقیب تھا کہ اس کے ہاں مرد ِمومن اور اس کی علامت شاہین کی پیش کش فرد کی نئی نویلی انفرادیت کے اظہار ہی کی ایک کا وش تھی ۔ لہجے کے اعتبار سے دیکھئے تو نئی نظم کے ترقی پسند گروہ نے تخاطب کا انداز براہ راست اقبال سے اخذ کیا اور’’ داخلیت پسند‘‘ شعرا نے اقبال کے فعال لہجہ کو فرد کی انفرادیت کے اظہار میں برتنے کی کوشش کی۔ چناں چہ نئی نظم میں سرکشی کا عام انداز، نظریات، رسوم، اور اقدار کو شک کی نظروں سے دیکھنے کی روش نیز بیسویں صدی کی سیال سوچ کو خود میں جذب کرنے کا میلان، یہ سب کچھ اقبال کے اس انقلابی اقدام ہی کا نتیجہ تھا جس کے تحت اس نے کائنات میں آدم کو اس کی کھو ئی ہوئی عظمت، وقار اور خودی واپس دلانے کی کوشش کی تھی ۔ اردو شاعری میں فرد کے مقابلے میں معاشرہ جزو کے مقابلے میں کُل ا ور زمین کے مقابلے میں آسمان کو نسبتاً زیادہ اہمیت ملی ہے اور یہی تہذیبی ورثہ ہم تک دست بدست منتقل ہوتا آیا ہے مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ اس نے فرد کو معاشرے، بندے کو خدا اور زمین کو آسمان کے رو برولا کھڑا کیا۔ (آزادی کے ساتھ پا بہ گل ہونے کی شرط اسی اندازِ فکر کا ایک پہلو تھا )نتیجہ یہ کہ نئی نظم زمین اور زمینی فضا کےلمس سے جگمگا اٹھی۔
نئی اردو نظم کا ایک اور امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ بحیثیت مجموعی علامتی ہے اور جب میں کہتا ہوں کہ وہ علامتی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی مقرر معنی کو قاری تک پہنچانے کا اہتمام نہیں کرتی بلکہ عادت اور لفظ کی دیواروں کو توڑ کر ذات کے پھیلاؤ اور وجود کی مسافت کو طے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کچھ عرصہ سے اردو تنقید علامت کا ذکر بڑے شدومد سے کر رہی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نئی نظم کو علامتی قرار دینے سے پہلے علامت کی توضیح کر دی جائے۔ عام خیال یہ ہے کہ علامت کو بڑی آسانی سے الگ کر کے دکھایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے کہ ہر علامت کا ایک مقرر معنی ( fixed meaning ) ہوتا ہے جس کی نشاندہی ممکن ہے۔ علامت کے بارے میں اس سے زیادہ غلط بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اس قسم کی بات کہی جاتی ہے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ بات کرنے والا علامت Symbol) ) اور نشان ( Sign ) میں حد فاصل قائم نہیں کر رہا جب کوئی لفظ یا شے ایک مقر ر معنی کو ذہن میں لائے تو یہ نشان ہے نہ کہ علامت ۔ مثال کے طور پر جب ہارن بجے اور فوراً کار کا خیال آئے تو ہارن کا بجنا نشان ہے کار کے وجود کا۔ اسی طرح جب صلیب کا لفظ التزاما ً قربانی کے مفہوم کو سامنے لائے تو یہ بھی نشان ہے نہ کہ علامت! علامت کسی مقررہ معنی کے بجائے امکانات کی طرف ایک اشارہ Pointer کا دوسرا نام ہے۔ نئی نظم بنیادی طور پر علامتی ہے ۔ کیوں کہ وہ ایک بندھے ٹکے مفہوم، تصور یا معنی کو بیان کرنے کے بجائے امکانات کے ایک نیم تاریک جہان کے دروازے کھول دیتی ہے اور قاری اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر ان امکانات کے نفس سے سرشار ہوتا ہے۔ میں اپنی ذات کے قید خانے اور لفظ کی کال کوٹھری سے باہر آکر ذات کے امکانات اور وجود کے فاصلوں کو طے کرتا ہی علامت کا سب سے بڑا کام ہے ۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو علامت کو الگ کر کے دکھا نا گمراہ کن ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہنا چاہیے کہ فلاں لفظ ، تصور یا خیال علامتی انداز میں سامنے آیا ہے بلکہ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ شعر یا نظم علامتی ہے اور کسی مقرر کا روباری مفہوم کے بجائے مخفی مفاہم کی طرف پیش قدمی کی ایک کوشش ہے۔ اس توضیح کو سامنے رکھتے تو نئی نظم اس موم بتی کی طرح ہے جو اندھیرے میں روشنی کے سایوں کو جنم دیتی ہے۔ یہ اس ٹارچ کی طرح نہیں جو دیو ار پر روشنی کا ایک ایسا دائرہ بنا دیتی ہے جس میں تخیل قید ہو کر رہ جاتاہے۔
شاعری اور اس کے ماحول کا رشتہ کچھ یوں ہے کہ شاعری نہ صرف اپنے ماحول کے اجتماعی کردار Collective self کے اس خواب کو اجاگر کرتی ہے جو زود یا بدیر حقیقت میں ڈھل کر معاشرے کو بدل دیتا ہے بلکہ وہ اپنے عہد اور زمانے کے افکار کو بھی خود میں سمو لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کوئی شعر سنتے یا پڑھتے ہیں تو اس کے لفظوں ، استعاروں اور خوابوں کو دیکھ کر بڑے وثوق سے اس کا زمانہ بھی متعین کرلیتے ہیں۔ چناں چہ نئی نظم کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ اس نے ت نئے زمانے کے چونے گارے ہی کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے مزاج، جہت اور مسائل کو بھی اپنی ذات کا حصہ بنایا ہے۔ یہ مسائل قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے بھی ہیں اور ان کا تعلق معاشیات، اخلاقیات اور روحانیات سے بھی ہے۔ مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ نئی اردو نظم نے خود کو ان مسائل پررائےزنی کا منصب عطا نہیں کیا بلکہ بیسویں صدی کے اس انسان کو پیش کر دیا ہے جو بیک وقت شکست و ریخت کی زد پر بھی ہے، مشینی ماحول اور مشینی نظریات کے رحم و کرم پر بھی ہے اور اس ہنگامۂ دارو گیر میں اپنے خوابوں کو بچانے کی سعی میں بھی مبتلا ہے۔ قدیم اردو نظم ایک محدود سے جاگیر دارانہ یا زیادہ سے زیادہ ایک نو آبادیاتی نظام کی پروردہ تھی مگرنئی اردو نظم کا تناظر اتنا وسیع ہے کہ اس میں ساری دنیا کی آویزش سمٹ آئی ہے۔ یہ ایک ایسے عہد کی پیداوار ہے جس میں قدیم مابعد الطبیعاتی نظام ٹوٹ پھوٹ رہا ہے اور ایک ایسا نیا جہان طلوع ہو رہا ہے جس کے خدو خال تا حال واضح نہیں لیکن جس کی سرحدیں وسیع اور بے کنار ہیں ۔ شاید اسی لیے نئی اردو نظم کا سارا انداز اور رویہ علامتی ہے ۔ کیوں کہ وہ طلوع ہوتے ہوئے ایک ایسے بے نام اور بے صورت جہان کو دیکھ رہی ہے جو بجائے خود نئے امکانات کی طرف ایک اشارے ( Pointer ) کی حیثیت رکھتا ہے جس کا کوئی معنی ابھی مقرر نہیں ہوا۔
نئی اردو نظم کا ایک اور امتیازی وصف یہ ہے کہ اس نے مستقبل ہی سے رشتہ نہیں جوڑا بلکہ پیچھے ہٹ کر ماضی کی بھی سیاحت کی ہے۔ مستقبل کی توضیح اوپر کر دی گئی ہے کہ اس سے مراد زمان ومکان کی حدود میں ٹھہرا ہو کوئی واقعہ یا پورے خدوخال اور چہرے مہرے کا حامل کوئی مسیحا یا نظریاتی نظام نہیں بلکہ معنی کی پرتوں کا حامل وہ خواب ہے جو صاف چھپتا بھی نہیں سامنے آتا بھی نہیں۔ اب ماضی کے بارے میں مجھے یہ کہتا ہے کہ اس سے مراد بھی کوئی گزری ہوئی ساعت ، تہذیب، نظام یا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ سائکی کا وہ حصہ ہے جو لاکھوں برس کے انسانی تجربات سے عبارت ہے۔ ینگ نے فن کی دو صورتوں کی نشان دہی کی ہے ۔ ایک وہ جسے اس نے Psychologic Almdde کہا ہے اور جس میں مواد انسانی شعور سے وارد ہوتا ہے جیسے مثلاً کوئی جذباتی دھچکا ، سانحہ یا انسانی مقدر کا بحران وغیرہ اور دوسرا Visionary جس میں سو ادعام زندگی کامانوس مواد نہیں ہوتا بلکہ ایسے انتہائی قدیم انسانی تجربات پرمشتمل ہونا ہے جنہیں انسان سمجھنے سے قاصر ہے مگر جو انسان کے اجتماعی لا شعور سے متعلق ہونے کے باعث ایک اپنی ’’زبان‘‘ رکھتے ہیں۔ یہ زبان آرکی ٹائیپل تصور Arch Ety Palimage کی وہ زبان ہے جس کا مفہوم واضح نہیں لیکن جو اصلاً مفاہیم کی آماجگاہ ہے۔
اب ایک چھوٹی سی مثال لیجئے : پانی کے ایک گلاس میں کچھ ذرات دُر دِتہ جام کی صورت میں پڑے ہیں۔ اگر آپ پانی میں انگشتِ شہادت ڈبو کر ایک دائرے کی صورت میں گھمائیں تو معاً سارا دردِ تہِ جام سطح پر آجائے گا۔ بالکل یہی کچھ بیسویں صدی میں ہوا ہے ۔ اس صدی میں واقعات اور انقلابات کی۔ ’’انگشتِ شہادت‘‘ کچھ اس بے دردی سے گھوم گئی ہے کہ سائکی کا گلاس اوپر سے نیچے تک ایک بھنور میں تبدیل ہو گیا ہے۔ نتیجۃً سائکی کا دردِ تہِ جام جو آر کی ٹائیپل تصورات کی صورت میں محفوظ اور بے حرکت پڑا تھا۔ معاً لپک کر بالائی سطح پر آگیا ہے اور فنونِ لطیفہ بالخصوص نئی نظم میں جھلکنے لگا ہے ۔
آخرمیں کچھ ذکر اس نئے جذباتی اور فکری ’’ موسم‘‘ کا بھی ہونا چاہیے جس کے تھپیڑے سہہ کر نظم پر وان چڑھی ہے۔ بیسویں صدی سے قبل ہمارا سارا فکری میلان ایک ایسے ما بعد الطبیعاتی نظام کے تابع تھا جس میں ’’موجود‘‘ پر ’’جوہر‘‘ کو فوقیت حاصل تھی ۔ اس نظام میں موت ماندگی کا ایک وقفہ تھا۔ چناں چہ اس کے ساتھ خوف تنہائی اور بے بسی کے احساسات منسلک نہیں تھے اور فردنیا اور عقبیٰ کے ربطِ باہم کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں تھا۔ مگر بیسویں صدی کے طلوع ہوتے ہی فرد کے سامنے بعض ایسے متضاد امور ابھر آئے جنہیں حل کرنے سے وہ قاصر تھا۔ مثلاً یہ کہ انسان کی ساری زندگی موت کی پر چھائیں سے آلودہ ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے موت ضرور آئے گی مگر ساتھ ہی وہ زندگی کرنے کے تجربے میں پوری سنجیدگی اور تندہی سے مبتلا بھی ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے ؟ اسی طرح انسان کی ذہنی اور روحانی پرواز کے امکانات تو لامحدود ہیں۔ مگر وہ جسم اور ماحول کے زنداں میں خود کو مقید بھی محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ جانتا ہے کہ بالآخر ایک گمبھیر تنہائی ہی اس کا مقدر ہے مگر ساتھ ہی رشتوں میں منسلک ہونے کو وہ اپنی ضرورت بھی گردانتا ہے۔ ان قضادات نے جو قدیم فکری نظام کے ٹوٹنے پر اس کے شعور میں داخل ہوئے، فرد کو خوف، متلی کی کیفیت بے بسی اور تنہائی کے سپرد کر دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ اپنے ہر اقدام کے لیے اپنے سامنے خود ہی جواب دہ ہے اور آزادی کا یہ لمحہ بجائے خود اس کے لیے سوہانِ روح بن گیا ہے ۔ بیسویں صدی کے شاعر نے با لخصوص نئے موسم کے اس کرب کو پوری شدت سے محسوس کیا ہے اور اس کی شاعری اس کرب کی زیریں لہروں کی وجہ سے متلاطم ہوگئی ہے۔ اُردو کی نئی نظم نے بھی آج کے فرد کی ڈانوا ڈول حیثیت کو پوری طرح محسوس کیا ہے اور اس محفوظ آوری ٹاور سے باہر آگئی ہےجس میں قدیم اردو شاعری کے نام لیوا اور مورت کو ماندگی کا وقفہ قرار دینے والے مرنجاں مرنج لوگ بڑے مزے سے اپنے اپنے بستروں پر دراز، آگے چلنے سے پہلے، دم لےرہے تھے۔