وزیر آغا

وزیر آغا

نثری نظم کا قضیہ

    نثری نظم کا قضیہ

    ڈاکٹر وزیر آغا

    اگر یہ کہا جائے کہ نثر اور نظم میں بنیادی طور پر کوئی فرق سرے سے موجو دہی نہیں تو پھر نثری نظم کے سوال پر غور کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اگر یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ نثری نظم نثری نہیں بلکہ  شاعری ہے تو پھر دفعتا ًسواں میں جان سی پڑ جاتی ہے۔ نثری نظم کی حمایت میں آواز بلند کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ خارجی آہنگ کے بغیر شعری آہنگ وجود میں آہی نہ سکے۔ چناں چہ وہ نمونے کے طور پر نثری نظموں کے چند ٹکڑے پیش کر کے یہ اعلان فرماتے ہیں کہ دیکھا خارجی آہنگ کے منہا ہو جانے کے بعد بھی شعری آہنگ برقرار ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ شاعری کے لیے خارجی آہنگ ناگزیر نہیں ۔

     میرے نزدیک نثری نظم کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کی یہ دلیل اسی وقت قابل اعتنا قرار پا سکتی ہے جب شعری آہنگ کی ماہیت کے بارے میں ان کی پیش کردہ تو ضیح بھی قبول کر لی جائے مگر کیا یہ توضیح قابل قبول ہے ؟ مثلاً اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ کے نزدیک شعری آہنگ سے مراد کیا ہے تو وہ اس کی توضیح کے لیے شاید پھر کوئی نثری نظم بطور نمونہ پیش کرکے کہیں گے کہ دیکھو اس میں امیج زایسے موجود ہیں جن سے شعری آہنگ ترتیب پاتا ہے۔ مگر جب کوئی جواباً کہے کہ صاحب  آپ نے امیج اور شعری امیج میں حد فاصل قائم کیوں نہیں کی تو پھر شاید ساری بات طعن تشیع کی سرحد میں داخل ہو جائے اور جس سے کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہ ہو سکے۔ واقعہ یہ ہے کہ شعری آہنگ بجائے خود داخلی  اور خارجی  آہنگ کے ایک ، انوکھے امتزاج کو پیش کرتا ہے۔ ان میں سے خارجی آہنگ تو گویا ’’دھڑکن‘‘ سی مہیا کرتا ہے اور داخلی آہنگ توازن اور تناسب ! جب کوئی امیج  محض داخلی آہنگ تک محدود رہے اور خارجی آہنگ کی دھڑکن میں مبتلانہ ہو تو وہ شعر ی ا میج کے مقام تک نہیں پہنچ پاتا بلکہ نثری امیج  کی سطح پر ہی رہتا ہے۔ شعری آہنگ کے مندرجہ بالا دونوں حصوں کی نشان دہی بھی محض افہام و تفہیم کے لیے کی گئی ہے ورنہ شعری امیج تو ایک ایسی بیضویت کا حامل ہوتا ہے جس میں شعری آہنگ کے داخلی اور خارجی دونوں عناصر باہم شیر و شکر ہو چکے ہوتے ہیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شعری امیج بجائے خود ایک ایسی پیچیدہ اکائی ہے جو نثری   آہنگ کی اکہری حالت سے بالکل مختلف ہے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ اگر آپ شعری امیجز کی حامل کسی نظم کو سلیس نثر میں منتقل کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے جلد شعری امیجز ، نثری امیجز میں تبدیل ہو گئے اور نظم کا سارا جادو ہی ختم ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح اگر آپ اردو کی کسی نظم یا شعر کو انگریزی میں منتقل کریں تو آپ فوراً محسوس کریں گے کہ اصل جادو یا  اسرار ( Mystery ) غائب ہو گیا ہے۔ وجہ یہ کہ شعر کا جادو تو لفظوں کی ایک خاص پر اسرار ترتیب کے تابع ہے اور امیج بھی اس خاص ترتیب کا حصہ بن کر ہی شعریت سے لبریز ہوتا ہے جب یہ ترتیب برباد ہوتی ہے تو امیج سے اس کی شعریت چھن جاتی ہے اور شعر کا تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر آپ غالب کا یہ شعر لیں :

     ہے کہاں تمنا کا دوسراقدم یا رب

    ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

     اور اسے نثر میں یوں منتقل کریں :

    يا رب!

    تمنا کا دوسرا قدم کہاں ہے ؟

    ہم نے دشتِ امکان کو ایک نقشِ پا ( کی صورت میں) پایا ہے۔

    تو آپ خود دیکھ لیں گے کہ شعری ترتیب کو نثری ترتیب میں منتقل کر دینے سے جادو کی وہ ساری کیفیت غارت ہوگئی ہے جس سے شعر کا تاثر عبارت تھا۔ سوال یہ ہے کہ جادو کی یہ کیفیت کن عناصر سے مرتب ہوئی تھی اور کس طرح وجود میں آئی تھی کہ اس کی محض ایک اینٹ کو سرکانے سے ساری عمارت ہی ڈھے گئی۔ میں عرض کرتا ہوں کہ قصہ کیا ہے ؟

    ہنری ملرکا قول   ہے کہ ہر شخص اپنے ہی وجود کے جزیرے میں قید ہے۔ اس ملاح کی طرح جس کا جہاز تباہ ہو چکا ہو۔ نفسیات کی زبان میں کہہ لیجئے کہ ہرشخص اپنی ایغو Ego) ) یا Moi کے زندان میں قید ہے جب کہ اس زندان کے چاروں طرف ذات ( Self ) یا Sol   کا کشادہ سمندر ہے جس میں وجود  کی پابندیاں موجود نہیں اور جہاں تصورات خود بخود سطح سے بھاپ کی طرح اٹھ رہے ہیں ۔ ایغو ایک بند سی دنیا ہے جب کہ ذات بے کنار ہے۔ ایغو براعظم سے کٹا ہوا ایک جزیرہ ہے جب کہ ذات براعظم اور اس کے کٹے ہوئے سب جزیروں پر محیط ہے۔ ذات کی صفت اس کی یکتائی اور ہم آہنگی ہے جب کہ ایغو کی صفت اس کا اکیلا پن ہے۔ شاعر جب شعر لکھتا ہے تو ایغو کو عبور کر کے ذات کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور وہاں کی جادو نگری میں ہر دم پیدا ہونے والے امیجز کی قلبِ ماہیت کر کے اور انہیں اپنے دامن میں بھر کر واپس آتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ اس جادو نگری میں داخل ہی کیسے ہوتا ہے ؟

     شاعری کے بارے میں ایک مقبولِ عام نظریہ یہ ہے کہ شاعر کے دل میں پہلے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور پھر وہ مناسب الفاظ تلاش کر کے ان جذبات کی ترسیل کرتا ہے ۔ ایک خاص قسم کی رومانی اور جذباتی شاعری کے لیے یہ بات شاید ایک حدتک قابل قبول ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعر جذبے کو لفظ کی کشتی میں سوار ہو کر ذات کے سمندری سفرپر نکلتا ہے اور یوں اپنے بے نام اور بے صورت تجربات سے رابطہ قائم کرنے میں کا میاب ہو جاتا ہے۔ کافی عرصہ ہوا میں نے کسی جگہ لکھا تھا کہ شاعرلفظ کو بالکل اسی طرح استعمال کرتا ہے جیسے مچھلی پکڑنے والا اپنے ( Bait ) کو مگر لفظ کو اس طور استعمال کرنا جبھی  ممکن ہے کہ پہلے ایک خاص قسم کی خواب ناک یا طلسمی یا Hypnotic فضا پیدا ہو کیوں کہ شعور کی   چند ھیا دینے والی روشنی میں لفظ کی کشتی میں سفر کر ناممکن  نہیں ۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کر جا دو کرنے کے لیے جو منتر پڑھا جاتا ہے وہ ایک خاص قسم کی تکرار کا حامل ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ منتر میں لفظ اپنے لغوی اور رائج  مفہوم کوتج کر ایک صوتی مفہوم کواپنا لیتا ہے یہی حال ہپناٹزم میں ہوتا ہے۔ جہاں عامل کی ایک خاص قسم کی پرآہنگ لفظی یا صوتی تکرار ’’ معمول‘‘ کی شعوری قوتوں کو صلب کر لیتی ہے اور وہ ایک صوتی مدو جزر میں پوری طرح بہہ جاتا ہے۔ شعر گوئی بنیادی طور پر جادوگری کے عمل کے مماثل ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ اس میں شعری آہنگ صوتی مدوجزر کی جگہ لے کر شاعر کو ایک پراسرار جہاں سے منسلک کو دیتا ہے مگر خود شعری لفظوں کے ایک انوکھے ’’ ظہور ترتیب‘‘ سے وجود میں آتا ہے۔ شاعری میں قلبِ ماہیت ( sis Metahdrpho ) کی یہ صورت کیمیا گری کے عمل سے بھی مشابہ ہے ۔ چناں چہ پہلی قلبِ ماہیت لفظ کے سلسلے میں ہوتی ہے جس کے نتیجے میں لفظ اپنے نثری آہنگ اورلغوی میکانکی مفاہیم سے دست بر دار ہو کر ایک شعری آہنگ کو اختیار کر لیتا ہے۔ دوسری قلب ماہیت اس وقت ہوتی ہے جب یہ منقلب لفظ (ایک طلسمی لمس کی طرح ) تصورات کو بھی منقلب کردیتا ہے یعنی تصور یا امیج کو بھی شعری آہنگ سے ملو کر دیتا ہے۔ مگر اس کی اصل بنیا د لفظوں کے ’’ظہور ترتیب‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں کیوں کہ جیسے ہی آپ نے اس ترتیب کو توڑا ، نہ صرف لفظ بلکہ تصور بھی شاعری کے زمرے سے خارج ہو کر نثر کی سطح پر اتر آئے گا۔ بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعری آہنگ لفظوں کی پر اسرار طلسمی ترتیب کے تابع ہے اور یہ ترتیب ایک خوابناک سی فضا میں سفر کرنے کا وہ انعام ہے جو شاعر کو اپنی ذات کی طرف سے عطا ہوتا ہے ملحوظ رہے کہ ایغو محض سطح کی ایک کروٹ ہے۔ جب کہ ذات اس سطح سے نیچے اور اوپر ہر طرف پھیلی ہوئی ہے جب شاعر اپنی ذات میں غواصی کرتا ہے تو ساتھ ہی ذات میں پرواز بھی کرتا ہے ۔ یوں وہ وجود کی سرحدوں کو عبور کر جاتا ہے۔ مگر ایغو کی نثری میکانکی  اور منطقی فضا کو توڑے بغیر ذات کی شعری ، خواب ناک پر اسرار اور غیر منطقی فضا میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں آپ خود غور کر لیجیے کہ جب کوئی شاعر نثر میں نظم لکھنے کی کوشش کرے تو کیا اس کی یہ سعی کبھی مشکورہو سکتی ہے ؟

     شاعر پر جب شعر کہنے کا موڈ طاری ہو تا ہے تو وہ خواب دیکھنے لگتا ہے۔ یہ خواب بے ربط بھی ہوتا ہے اور نبض کی بے قاعدگی کا حامل بھی۔ مگر اس کے بعد جب شاعر شعری آہنگ کی گرفت میں آکر اور لفظ کی کشتی میں سوار ہو کر آگے بڑھتا ہے تو پورے خواب کی نبض میں باقاعدگی آجاتی ہے اور اس خواب سے ابھرنے والے امیجز بھی ایک مخصوص شعری دھڑکن کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں ۔ لہٰذا گزارش ہے کہ جب تک آپ نثری آہنگ اور شعری آہنگ میں تمیز نہیں کریں گے ۔ نیز اس بات کو ملحوظ نہیں رکھیں گے کہ لفظوں کی صوتی ترتیب سے شعری آہنگ کا تعلقِ خاص ہے۔ آپ لفظوں کو ان کے نثری اسلوب میں استعمال کرنے کی غلطی کے مرتکب ہوتے ہی رہیں گے ۔

     شعری آہنگ اور نثری آہنگ کے فرق کا ذکر چھڑا ہے تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ آہنگ صرف ادب تک محدود نہیں ۔ موسیقی کا بھی ایک آہنگ ہے اور پلاسٹک آرٹس کا بھی۔ اسی طرح روشنی کا آہنگ بھی ہے اور فطرت کا بھی بلکہ ایک کائناتی آہنگ بھی ہے جس کی تال پر یہ سارا عالم ہیئت دھڑکتا چلا جارہا ہے ۔ گویا ہر شے کا آہنگ ہی در اصل اس کی پہچان ہے۔ لہٰذا نثر کا تشخص اس کے نثری آہنگ سے اور شعر کا شعری آہنگ سے ہوگا۔ نثری نظم کے نام لیوا نثر کے عام آہنگ ( General Rhythm ) اور نشر کے فنی آہنگ ( Artistic Rhythm ) میں تو تمیز کرلیتے ہیں مگر نثر کے فنی آہنگ اور شعر کے شعری آہنگ کو بالعموم خلط ملط کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ نثر جب نثری ادب کا لباد پہنتی ہے تو یہ فنی آہنگ کے باعث ہوتا ہے نہ کہ شعری آہنگ کے باعث ! شعری آہنگ کے سلسلے میں مختلف نظریات مثلاً Graphic prosody کے نظریے یا Musical کے نظریے یا پھر   acous tre metris کے نظریے کا تفصیلی ذکر کروں تو بات تکنیکی سی ہو جائے گی جب کہ یہاں صرف اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ شعری آہنگ بنیادی طور پر نثری آہنگ سے ایک بالکل مختلف شے ہے اور نثری نظم کے نام لیواؤوں نے ان دونوں کو غلط ملط کر کے محض گرد  اڑانے کی کوشش کی ہے۔

    اردو میں ’’نثری نظم ‘‘ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ ۱۹۲۹ ء میں حکیم محمد یوسف حسن ایڈیٹر ’’ نیرنگ خیال‘‘ نے ’’پنکھڑیاں‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جس میں زیادہ تر ایسے ادب پارے شامل تھے جو ہیئت اور مزاج دونوں اعتبار سے آج کی نثری نظم کے عین مطابق

    ہیں ۔ مثلاً یہ دو نمونے ملاحظہ کیجئے:

    آخری گیت    از : ڈاکٹر تاثیر

    روپہلی پروں والا راج ہنس اپنا آخری گیت گا رہا ہے

    چاند کی کرنیں یا سمن کے پھولوں میں سے چن چن کر جھیل کی لہروں کو ساکن کر رہی ہیں

     شاخوں کا نیلگوں سایہ چاندنی کو فروزاں کر رہا ہے

    رنگوں پر روشنی کی نیند طاری ہوگئی ہے

     

    راج ہنس نے اپنے رو پہلی پر پھیلا دیتے ہیں۔

     اور اس کےبے صدا نغمے ہر بن مو سے پھوٹ کر بہنے لگے ہیں۔

    یاسمن کی پتیوں نے جھیل کے پانی کو ڈھانپ لیا ہے۔

    اور چاند کی کرنیں سمٹ سمٹ کر رہ گئی ہیں ۔

    رو پہلی پروں والا راج ہنس اپنا آخری گیت گا چکا ہے !

     

    تبسم     از: انیس مجتبیٰ

    نیند جو بچوں کی آنکھوں کی کیفیت تبدیل کر دیتی ہے

     کیا تم جانتے ہو کہاں سے آتی ہے ؟

     سنا ہے کہ اس کا مسکن پرستان اور گھنے دوستوں کے سائے میں ہے جہاں جنگوؤں

    کے چراغ چمکتے ہیں

    اور یہاں ایک پودے میں دو طلسمی شرمائی ہوئی کلیاں لگی ہیں اور یہیں سے نیند

     بچے کی آنکھوں میں آتی ہے

    تبسم جو سوتے ہوئے بچے کے ہونٹوں پر جھلملاتا ہے

     کیا تم جانتے ہو کہ کہاں پیدا ہوا تھا ؟

     سنا ہے کہ چاند کی ایک سنہری شعاع موسمِ خزاں میں ایک بادل سے چھو گئی تھی۔

     اور اسی وقت تبسم سب سے پہلے شبنم کی بھیگی ہوئی صبح  کے خواب میں پیدا ہوا تھا۔

     یہ وہ تبسم ہے جو سوتے ہوتے بچے کے ہونٹوں سے جھلملاتا ہے

    سوز و گداز جو بچے کے اعضاء سے جھلکتا ہے

    کیا تم جانتے ہو کہ یہ اب تک کہاں چھپا تھا ؟

     جب ماں دوشیزہ تھی یہ اس کے دل کے نازک اور خاموش پر دۂ محبت میں چھپا تھا

    وہی سوزوگداز جو بچے کے اعضا سے جھلکتا ہے !

     ان ’’نثری نظموں ‘‘ اور آج کی نثری نظموں میں فرق صرف زمانے کا ہے ۔ وہ زمانہ رومانویت کے فروغ کا زمانہ تھا۔ لہٰذا ان نثری نظموں نے زیادہ تر تجریدا ور تمثیل سے سروکار رکھا اور شہری زندگی کے امیجز نیز شہری زندگی کے مسائل سے پھوٹنے والے تاثرات ان کا جزو بدون نہ بن سکے ۔ چناں چہ جب ۱۹۳۵ ء کے لگ بھگ ترقی پسند تحریک نے شعراء کو آسمان سے اتار کر زمین سے متعارف کیا تو ’’نثری نظم‘‘ کی یہ تحریک از خود ختم ہوگئی ۔ آج کی نثری نظم رومانویت کے بجائے حقیقت پسندی کی اساس پر استوار ہے اور آج سرمشینی دور سے تاثرات قبول کر رہی ہے ۔ مگر یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے کہ اگر رومانویت کا دور باقی نہیں رہا تو حقیقت پسندی کے دور کے باقی رہنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔

    چناں نہ ماند و چنیں نیز ہم نہ خواہد ماند

    اس لیے اگر محض موضوعات کی تبدیلی نثری نظم کے بارے میں خوش فہمی کا باعث ہے تو اس خیال کو جتنی جلد ترک کر دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ کوئی بھی صنف بعض موضوعات کو قبول اور بعض کو رد کرنے سے کامیاب نہیں ہوتی۔ اس کی کامیابی تو فن کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے ہی سے ممکن ہے۔ میں ذاتی طور پر ’’نثری نظم‘‘ کا ہر گز مخالف نہیں ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہمارے طباع افراد اظہار کے نئے نئے اسالیب کو اپنا ئیں مگر محض نئے اسلوب کو اپنانے یا نئے  موضوعات کو قبول کرنے سے کوئی صنف کا میاب نہیں ہو سکتی۔ ضروری ہے اس میں ’’ خون جگر‘‘ بھی صرف کیا جائے اور خونِ جگر ایسی  چیز ہے جو بازار میں دستیاب نہیں ۔

     ’’نثری نظم‘‘ کے بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ یہ نظم نہیں نثر ہے اور اس کے لیے ’’نثر لطیف‘‘ کا نام ہی موزوں ہے ۔ حکیم یوسف حسن کی مرتب کردہ کتاب ’’پنکھڑیاں‘‘ میں نثر کے جو نمونے پیش ہوئے ہیں وہ آج  کی’’ نثری نظم‘‘ ہی کے نمونے ہیں مگر اس وقت کسی بھی ادیب  نے انہیں نظم کے زمرے میں شامل کرنا ضروری نہ سمجھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج ہم ان کی جنس کو تبدیل کر دینے پر اس قدر مصر ہیں ؟

    میں ادب میں تجربات کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میں تو ہر اس تحر بے کو خوش آمدید کہنے کے حق میں ہوں جو ادب کے افق کو کشادہ کر سکے۔ مگر عذر کی حالت سے بچنے کے لیے میں امتیاز ا ت کو قائم رکھنے کا بھی موئد ہوں۔ اسی لیے میں نے یہ تجو پیش کی ہے کہ ’’نثری نظم ‘‘کے لیے کوئی اور نام تجویز ہونا چاہئے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شعرا کی نئی نسل، نظم اور نثر کے فرق ہی سے نا آشنا ہو کر رہ جائے ۔ اس کے جواب میں بعض احباب کا یہ خیال کہ کسی زمانے میں’’ نظمِ آزاد‘‘ کی ترکیب میں بھی تضاد دریافت کیا گیا تھا اس لیے ’’نثری نظم‘‘ میں تضاد کی نشان دہی بے معنی بات ہے اصولی طور پر اس لیے غلط ہے کہ آزاد یا پابند ہو نا نظم کی ایک صنف ہے اور اس لیے نظمِ آزاد یا نظم پا پند کی تراکیب میں کوئی تضاد موجود نہیں لیکن ’’ نثری نظم‘‘ کی ترکیب تو دو مختلف اصناف کے ناجائز رشتے کی ایک صورت ہے اور اسی لیے قابلِ اعتراض ہے۔

     لہٰذا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ’’نثری نظم‘‘ کو شاعری کے زمرے میں شامل کرنا غلطی ہوگئی مگر اس کے امکانات کا جائزہ لیے بغیر یا یوں کہہ لیجیے کہ اسے برتے بغیر ترک کر دینا یا اس کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا بھی مستحسن نہ ہوگا اگر انشائے لطیف یا ٹیگوریت کے نام سے کیے گئے ادبی تجربات کسی نہ کسی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔ تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہاں کا انصاف ہے کہ ’’نثری نظم ‘‘کا تجربہ بھی لازمی طور پر ناکام ہو جائے گا ۔