وزیر آغا

وزیر آغا

مجلسی تنقید

    مجلسی تنقید

    ڈاکٹر وزیر آغا

    تنقید خواه مجلسی ہو یا غیر مجلسی (یعنی چاہے یہ اپنے اظہار کے لیے زبان کی محتاج ہو یا قلم کی) اس کا مقصد بہر حال ایک ہی ہے۔ بے شک ابھی اس مقصد کی حدود متعین نہیں کی جاسکیں۔ اور تنقید کے طریقِ کار اور میدانِ عمل کے بارے میں بھی مختلف نظریات کسی ایک نقطے پر مرتکز نہیں ہو سکے۔ تاہم بحیثیت مجموعی تنقید کا کام فن پارے کے حسن وقبح کا جائزہ اور اس کی جمالیاتی قدرو قیمت کی پر کھ قرار پایا ہے یہ سوال کہ حسن و قبح کا جائزہ کس معیار کے تابع ہو یا قیمت کسی نظریے کے تحت متعین کی جائے، ابھی تک اہل نظر کی نظریاتی بحث کا موضوع ہے اور اس ضمن میں ارسطو سے ٹالسٹائی اور ٹالسٹائی سے آئی اے رچرڈز تک مختلف نظریات ہمارے پیش نظر ہیں خوش قسمتی سے موجودہ موضوع کے لیے ان متنازعہ فیہ مسائل میں الجھنا ضروری نہیں۔

     لیکن مجلسی تنقید اور غیرمجلسی تنقید کی یہ مماثلت غالباً یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک کشادہ خلیج کا احساس ہونے لگتا ہے۔ مثلاً جہاں غیر مجلسی تنقید ایک ایسے لمحۂ  فراغت کی پیداوار ہے جس میں نقاد میدانِ خارزار سے چند لحظوں کے لیے قطعاً الگ تھلگ ہو جاتا ہے وہاں مجلسی تنقید اپنے قریبی ماحول سے واضح اثرات قبول کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں غیر مجلسی تنقید تو بڑی حد تک خارجی اثرات سے محفوظ ہوتی ہے۔ لیکن مجلسی تنقید میں نہ صرف نقاد پر انبوہ کے اثرات مسلط ہو جاتے بلکہ اس پر خود نمائی کا جبلی  رجحان insltnct of sele display بھی غالب آجاتا ہے ۔

    اس کے علاؤہ فن پارے کے خالق کی شخصیت سے بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ نتیجتًہ      اس کے پیش کر دہ تنقیدی نتائج میں غیر جانبداری کی وہ کیفیت موجود نہیں ہوتی جو تنقید کے لیے ایک ضروری شرط ہے مگر یہی بات تو بحث طلب ہے ۔

    مجلسی تنقید پر انبوہ کا اثر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ بے شک تنقیدی مجلس بالعموم سلجھے ہوئے اراکین پرمشتمل اور ایک نکھرے ہوتے ذوقِ نظر کی آئینہ دار ہوتی ہے ، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ایسی مجلس میں جیسے جیسے حاضرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے انبوہ کے رحجانات زیادہ کا ر فرماہونے لگتے ہیں اور ا گر یہ  مجلس بالعموم ایک علمی سطح پر قائم رہتی ہے۔ تاہم نہ صرف بہت سے افراد کی موجودگی سے فضا پر ا نبوہ کے اثرات ثبت ہونے لگتے ہیں بلکہ ایک نازک مقام ایسا بھی آتا ہے جب یہ مجلس واقعتاً مشتغل انبوہ   کا نمونہ بھی بن جاتی ہے۔ مؤخر الذکر صورت ہماری بحث سے خارج ہے لیکن اول الذکر کے تجزیاتی مطالعے سے مجلسی تنقید کے اخذ کردہ نتائج پر بخوبی روشنی پڑ سکتی ہے۔

     مجلسی تنقید پر انبوہ کے اثرات کئی طرح سے ثبت ہوتے ہیں مثلاً انبوہ کا تخریبی رجحان تو خاص طور سے اس پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ انبوہ کے اس تخریبی رجحان کو مثالوں سے واضح کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ مہذب   سے مہذب فرد بھی انبوہ کے اجتماعی اقدامات میں غیر شعوری طور سے شریک ہو جاتا ہے اور ایک ایسی تخریبی کارروائی میں مصروف ہو جاتا ہے جو بصورت دیگر اس کے لیے ناممکن تھی۔ انبوہ کا یہ اثر محض انسانوں تک ہی محدود نہیں۔ ٹڈی دل کے بارے میں یہ تحقیق کی جا چکی ہے کہ ہر ٹڈی بے ضرر  ہوتی ہے لیکن ٹڈی دل میں پہنچتے ہی تخریبی اقدامات کی طرف از خود مائل ہو جاتی ہے۔ ایف ۔ ایچ۔ آل پورٹ نے انبوہ کے اس تخریبی رجحان کا باعث یہ امر قرار دیا ہے کہ افراد کی وہ خواہشات جن کے راستے میں بند باندھے  جاچکے ہیں۔ انبوہ کے اجتماعی اقدام کا سہارا لے کر اس بند کو توڑتی اور اپنی تسکین حاصل کرتی ہیں ۔ اسی طرح مارٹن کا خیال ہے سوسائٹی ہمارے فطری رجحانات اور خواہشات کو مسلسل دباتی رہتی ہے اور ہم بچپن  ہی سے سزا کے خوف یا دوسروں کی ناراضی کے پیش نظر اپنی خواہشات کو دبا دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ دراصل یہ خوف کہ سوسائٹی ایک چوکیدار کی طرح ہماری ہر حرکت کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ہمیں بڑی حد تک پابہ  زنجیر رکھتا ہے لیکن انبوہ کے زیر اثرجب ہم دیکھتے ہیں کہ چوکیدار خود جذ بات کی رو میں بہہ گیا ہے تو ہماری شخصیتوں کے حصار بھی از خود ٹوٹنے لگتے ہیں اور ہم سوسائٹی کے احتساب سے آزاد ہو کر اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے دیوانہ وار اٹھ  دوڑتے ہیں۔

     ہر چند  مجلسی تنقید میں انبوہ کا تخریبی رجحان اپنی روایتی شدت کے ساتھ کارفرما نہیں ہوتا تاہم اس کے اثرات ضرور نظر آ جاتے ہیں۔ چناں چہ تنقیدی مقالہ لکھتے وقت جس رواداری، تحمل اور بردباری سے کام لیا جاتا ہے اور جس سنبھلے ہوئے طریق سے اپنا نقطۂ نظر قاری تک پہنچایا جاتا ہے مجلسی تنقید کی ہنگامہ خیز فضا میں اسے قائم رکھنا نہایت مشکل ہے۔ بے شک اس طریقِ کار کے پسِ منظر میں کچھ اور باتیں بھی ہیں (جن  کا آگے چل کر ذکر ہو گا) لیکن انبوہ کے اثر کو اس ضمن میں خاصی اہمیت حاصل ہے اس سلسلے میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ تنقیدی مجلس کے اراکین کا عام رجحان بھی نقاد کے نظریات اور نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نفسیات میں اسے ایمائیت suggestion کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کے زیر اثر فرد کو جسمانی یا احساسی تحریک تو ملتی ہے لیکن تنقیدی صلاحیت جو شخصی سوجھ بوجھ کا نتیجہ ہے، بڑی حد تک مفلوج ہو جاتی ہے اور وہ انبوہ کے نظریات کو بلا سوچے سمجھے اپنا نے لگتا ہے۔ چناں چہ تنقیدی مجلس کے بعض اراکین کا جارحانہ رویہ دوسرے اراکین کے نظریات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور وہ بھی اس طوفان میں غیر شعوری طور پر بہہ نکلتے ہیں۔ مجلسی تنقید کے اس تخریبی رجحان کا ثبوت اس وقت ملتا ہے جب ہم کسی ایسے فن پارے کو علیحدگی میں پڑھتے ہیں جسے تنقیدی مجلس کی ہنگامہ نیز فضا میں ہم نے تنقید کے تیروں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اور ہمیں اچانک احساس ہوتا ہے کہ یہ فن پارہ تو بعض ایسی خوبیوں کا حامل ہے جو نظر انداز ہو ہی نہیں سکتیں۔ ایسے موقعے پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نجانے تنقیدی مجلس میں ہمیں کیا ہو گیا تھا لیکن اس میں حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تنقیدی مجلس میں انبوہ کا تخریبی رجحان جب کارفرما ہو جائے تو تنقیدی صلاحیت کا ایک حد تک مفلوج ہو جانا ایک بالکل فطری امر ہے۔

     لیکن جہاں انبوہ کے ترکش میں زہر آلود تیر ہوتے ہیں وہاں اس کے دامن میں عقیدت اور توصیف کے پھولوں کی بھی فراوانی ہوتی ہے۔ دیکھنے کی بات محض یہ ہے کہ انبوہ کس حربے کو پہلے جنبش میں لاتا ہے۔ بے شک ان دونوں میں سے کسی ایک حربے کی طرف انبوہ کا رجحان محض اتفاقیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ بعض تحریکات اور اقدامات کے تحت بیدار ہوتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ جب ایک بار یہ رجحان بیدار ہو جاتا ہے تو پھر یہ آنِ واحد  میں انبوہ کے تمام افراد میں پھیل جاتا ہے۔ اس ضمن میں تخریبی رجحان کے ساتھ ساتھ تو صیفی رجحان بھی کم اہم نہیں۔ صرف اسے مناسب تحریک سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک اچھا لیڈر اس نکتے کو بخوبی جانتا ہے اور انیوں کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے بہت سے ایسے حربے استعمال کرتا ہے جو انبوہ کے جذبات کو بر انگیختہ کر سکیں اور اسے بیک زبان لیڈر کے خیال یا ارادے کی تائید پر مجبور کر دیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تنقیدی مجلس میں فن کار بھی اس مقصد کے لیے کوئی ایسا ہی شعوری   قدم اٹھاتا ہے لیکن اگر اس کی تخلیق اراکین  میں سے بعض کو اس انداز سے متاثر کرے کہ وہ بے اختیار ہو کر ’’واہ‘‘ کہہ دیں تو سمجھئے کہ یہ فن کار اس مجلس میں کامیاب ہو گیا ۔ اس نفسیاتی پیچ کے بارے میں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ انبوہ میں ہم نہ صرف اردگرد کے افراد کے جذباتی رد عمل سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ اپنے خیالات اور جذبات کو بھی غیر شعوری طور پر دوسروں تک منتقل کر دیتے ہیں۔ نفسیات میں یہ منتقل کرنا projection کہلاتا ہے اور تنقیدی مجلس میں بالعموم ساری فضا اس قسم کے جذباتی عمل سے متاثر ہوتی رہتی ہے اسی لیے تنقیدی مجلس میں وہ فن کا رنسبتاً زیادہ کامیاب رہتا ہے جس  کی تخلیق میں مزاح کی چنگاریاں ہوتی ہیں اور جو اراکین مجلس کی ہنسی کو بیدار کر لیتا ہے۔ ہنسی ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام اراکینِ مجلس اس کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔ فن کار کو اس سے دو فائدے پہنچتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ساری فضا میں اس کی تخلیق کے لیے ہمدردانہ رد عمل پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہنسی کا جذباتی اظہار تنقیدی نظر کو لمحاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے ۔ چناں چہ بیش تر اوقات ایسے فن کا راپنی ادنیٰ تخلیق پر بھی تنقیدی مجلس کی توصیفی مہر ثبت کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

     بہر کیف تنقیدی مجلس میں بہت سے افراد کی موجودگی تنقیدی نظریات کو انبوه کے مندرجہ بالا رحجانات سے متاثر کرتی ہے یعنی کبھی تو تخریبی رجحان اس انداز سے مسلط ہو جاتا ہے کہ پیش کردہ تخلیق اراکینِ مجلس کی شدید نکتہ چینی سے مجروح ہوتی ہے اور کبھی توصیفی رجحان اس شدومد کے ساتھ بیدار ہوتا ہے کہ تخلیق کے بہت سے قابل اعتراض پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ البتہ انتہا پسندی کے ایسے موقعوں پر صدر  مجلس کی سعی سے فضا میں کسی حد تک توازن اور اعتدال بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ جب بھی ممکن ہے کہ صدر مجلس خود کو انبوہ کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گیا ہوا اور اس نے بحث کو ایک مخصوص درمیانی روش پر چلانے کی سعی کی ہو۔ ایسے موقعوں پر تنقیدی مجلس کے صدر اور ایک مشتعل انبوہ کے لیڈر کے منصب میں مماثلت بھی دکھائی دیتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

     او پر تنقیدی مجلس کے اجتماعی رجحان پر بحث کی گئی ہے لیکن اب یہ دیکھنا چاہیے کہ مجلسی تنقید میں پیش کردہ انفرادی نظریات کن عناصر سے مرتب ہوتے ہیں اور ان میں کہاں تک بے ریا تنقیدی عمل کار فرما ہوتا ہے۔ اس ضمن میں تنقیدی مجلس کے نقاد کے ردعمل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بعض دلچسپ انکشافات ہوتے ہیں مثلاً تنقیدی مجلس میں بہت سے اراکین کی موجودگی کے باعث نقاد کے نظریات، خود نمائی کے جبلی  رجحان سے متاثر ہوتے ہیں۔ خود نمائی کے اس رحجان کے بارے میں میکڈوگل کا خیال ہے کہ یہ ا نسان کے علاؤہ حیوان میں بھی موجود ہوتا ہے۔ چناں چہ جب اسپ تازی ایک شان دلربائی کے ساتھ اپنی دم اور ٹانگوں کو ایک خاص زاویے پر قائم کر کے چہل  قدمی کرتا ہے یا مور اپنے خوب صورت پروں کو پھیلا کر رقص کرتا ہے تو دراصل خود نمائی کے اسی رجحان کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے لیکن یہی رجحان جو حیوانوں کی دنیا میں انتہائی سادگی سے نمودار ہوتا ہے۔ انسان کی دنیا میں پہنچتے ہی..... پیچیدہ صورت اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم بنیادی طور پر یہ ایک سماجی رجحان ہے اور صرف  اسی صورت میں معرضِ وجود میں آتا ہے جب دوسروں کو متاثر کرنے کی ضرورت درپیش ہو ،چناں چہ میکڈوگل کا خیال ہے کہ فرد صرف اُس وقت اس جبلی رجحان کا مظاہرہ کرتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ ایسے افراد میں گھرا ہوا ہے جو اس سے بہر حال کم تر ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خود نمائی کے اس جبلی رجحان اور احساس برتری میں چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی کیوں کہ اگر اڈلر کے نظریات کا مطالعہ کریں تو محسوس ہوگا کہ احساس ِ  برتری در اصل احساسِ کم تری ہی کی ایک صورت ہے۔ اگر یہ بات ہے تو مسئلہ اور بھی  دل چسپ ہو جاتا ہے۔

    رجحان خود نمائی کے مقابلے میں میکڈوگل نے انسان کے ایک اور جبلی رحجان کا بھی ذکر کیا ہے جیسے وہ ins tinet of sub jection کہتا ہے اور جو در اصل رجحانِ خود نمائی کی ضد ہے ۔ موجودہ بحث کے لیے اس رجحان کا تفصیلی ذکر ضروری ہے تاہم اتنا لکھ دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ جہاں اول الذکر کے تحت انسان دوسروں کی توجہ کو اپنی ذات کی طرف منعطف کرتا ہے۔ وہاں موخر الذکر کے زیر اثر وہ دوسروں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ایک سعیٔ مسلسل میں بھی گرفتار ہوتا ہے ۔ بہر حال جہاں تک رجحان خودنمائی کا تعلق ہے اس کو نمایاں ترین مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ ہم یا ہمارے نام کسی نہ کسی طریق سے دوسروں کی نظروں میں آجائیں۔ بعض صورتوں میں تو فرد اس بات کی بھی پروا نہیں کرتا کہ وہ کس سلسلے میں محفل کا موضوع بنا ہے۔ چناں چہ اس رجحان کا مظاہرہ ان صورتوں میں بھی ہوتا ہے جب لوگ محض اپنے نام کی خاطر خود کو بدنام کر لیتے ہیں۔

     تنقیدی مجلس میں اس رجحان کا مظاہرہ ایک عام سی بات ہے مگر اس کی بالعموم دوسطحیں  سامنے آتی ہیں ۔ ایک سطح پر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو محض کچھ کہنے کے لیے بات کرتے ہیں اور جن کا مقصد غالباً  اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ کچھ دیر کے لیے وہ محفل کی نگا ہوں کا مرکز بن سکیں یا کم از کم سیکرٹری کی رپورٹ میں ان کا نام آسکے ۔ دوسری سطح پر وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو واقعتاً ایک احساس برتری میں مبتلا ہوتے ہیں اور جنہیں اراکین مجلس کی موجودگی خود نمائی کا بہترین موقع بہم پہنچاتی ہے۔ میں نہیں کہتا کہ ان لوگوں کے نظریات میں وزن نہیں ہوتا یا ان کا مطالعہ وسیع نہیں ہوتا بلکہ یہ کہ ان کی گفتگو کا مقصد دوسروں کو متاثر کرنا اور اپنی برتری کا اظہار کرکے مسرت حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ چناں چہ پیش کر وہ فن پارے پر تنقید کرتے وقت یہ لوگ ایسا انداز اختیار کرتے ہیں جو ان کے رحجانِ خود نمائی کی صاف طور سے غمازی کرنے لگتا ہے۔ در اصل پیش کر دہ فن پارے اور ان لوگوں کے تنقیدی نظریات کے درمیان ان کی انا  ایک دیوا رین کے حائل ہو جاتی ہے اور وہ فن پارے کی تنقیص کے ساتھ ساتھ اپنے وسیع مطالعہ اور موضوع زیر بحث پر اپنی گرفت کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ تنقید کے لیے یہ بے حد خطرناک رجحان ہے کیوں کہ جب تک نقاد ہر قسم کے کامپلکس سے بلند ہو کر کسی فن پارے کا جائزہ نہ لے اس کی تنقید میں وہ تو ازن، اعتدال ، اور غیر جانب داری پیدا ہو ہی نہیں سکتی جو تنقید کے لیے از بس ضروری ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات کبھی قابل غور ہے کہ بالعموم جب کوئی مشہور فن کار تنقیدی مجلس میں اپنی تخلیق پیش کرتا ہے تو خود نمائی اور عاجزی کے ہر دو رجحان نسبتاً زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات تو اراکین اپنی انا کے زیر اثرفن کار کی برتری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور نتیجتًہ اس کی تخلیق کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہیں (و اضح رہے کہ ہم میں سے بیشتر دوسرے انسانوں سے خود کو اعلیٰ و بر تر تصور کرتے ہیں اور خاص طور پر ایک مجمع میں پہنچ کر بت شکنی کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں)  اسی طرح بعض اراکین مجلس عاجزی کے Ins tinct of subjection کے زیراثر ایسے فن کار کی تخلیق کو تنقید سے بالاتر متصور کرتے ہیں اور قیمتًہ ایک نمایاں احساس ِکمتری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو تنقیدی مجلس کے یہ دونوں رجحانات متوازن تنقید کے لیے نہایت مضر ہیں ۔

     خود نمائی کے ان رجحانات سے قطع نظر تنقیدی مجلس کا نقاد ایک اور نفسیاتی الجھن کا بھی شکار ہوتا ہے یعنی اس کے تنقیدی نظریات فن کار کی شکل و صورت اس کی شخصیت آواز اور حرکات و سکنات سے بھی نمایاں اثرات قبول کرتے ہیں۔ چناں چہ اس کی تنقید کا مزاج فن کار کی شخصیت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ بیشک اس ضمن میں خود نمائی اور عاجزی کے رجحانات بھی اس حد تک ضرور موجود ہوتے ہیں کہ نقاد فن کار کے تکبر اور تمکنت کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر ہوتا ہے۔ اور فن کار کی عظمت کے زیر اثر احساسِ کمتری کا مظاہر ہ کرتا ہے تاہم اس سلسلے میں نفرت اور محبت کے وہ رحجانات زیادہ اہم ہیں  جو فرد کے سراپا پربچپن  ہی سے مسلط ہوتے ہیں ۔ اور جن کے زیر اثر اس کے بہت سے اقدامات اپنا مخصوص رنگ اختیار کرتے ہیں۔ محبت اور نفرت کے ان رجحانات کی نفسیاتی توضیح کی ضرورت نہیں لیکن اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ جب ہم بلاوجہ کسی شخص کی طرف از خود کھنچے چلے جاتے ہیں یا بغیر کسی وجہ کے کسی فرد کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے ان اقدامات کے پس پشت ایک پوری داستان کار فرما ہوتی ہے۔ در اصل علم النفس کی تحقیق نے اس لمحاتی نفرت یا محبت کو فرد کی بنیادی نفرت یا محبت سے وابستہ کیا ہے اور اس ضمن میں بعض دل چسپ انکشافات بھی کیے ہیں ۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ تنقیدی مجلس کا نقاد اپنے نظریات کے اظہار میں مکمل طور سے آزاد نہیں ہوتا اور جہاں وہ انبوہ کی موجودگی سے متاثر ہوتا ہے وہاں نہ صرف اپنی تنقید میں رجحانِ خود نمائی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ فن کار کی شخصیت سے بھی ایسے اثرات قبول کرتا ہے جو اس کے تنقیدی نتائج کو خاص سانچوں میں ڈھال دیتے ہیں۔