وزیر آغا

وزیر آغا

اردو انشائیہ کی کہانی

    اردو انشائیہ کی کہانی

    ڈاکٹر وزیر آغا

    آج سے کم وبیش چالیس برس پہلے اُردو انشائیہ کے خدو خال واضح ہو نے شروع ہوئے ، یہ نہیں کہ اُردو انشائیہ اس سے قبل اپنا کوئی الگ وجود رکھتا تھا اور کسی خزانے کی طرح زیر زمین پڑا تھا جسے کسی نے اتفاقاً دریافت کر کے اہل نظر کے سامنے پیش کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم ملک سے پہلے طنزیہ ، مزاحیہ اور سنجیدہ مضمون بلکہ جواب مضمون لکھنے کی روش تو عام تھی جو کتابوں اور رسائل سے نکل کر آہستہ آہستہ اخباری کالموں اور شذروں کی صورت میں ڈھل رہی تھی مگر اُردو انشائیہ کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ پھر جیسا کہ قاعدہ عام ہے کہ جب کوئی نئی شے وجود میں آجائے تو فوراً اس کا سلسلۂ نسب دریافت کرنے کی مساعی کا آغاز ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح جب ١٩٦٠ء  کے لگ بھگ اُردو انشائیہ اپنے بھر پور انداز میں ابھر کر سامنے آیا اور اُردو انشائیوں کا پہلا مجموعہ بھی شائع ہو گیا تو پوری اُردو دنیا میں انشائیہ کی جڑوں کی تلاش کا سلسلہ فی الفور شروع کر دیا گیا ۔ انہیں دنوں میں نے انشائیہ کے امتیازی اوصاف کو واضح کرنے کے لیے متعدد مضامین لکھے اور ایک مضمون میں جو علی گڑھ میگزین کے انشائیہ نمبر میں چھپا، اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ انشائیہ کے عناصر تقسیم سے پہلے کی غیر افسانوی نثر میں جابجا مل جاتے ہیں۔ لیکن سرسید احمد خاں کے مضامین سے لے کر تقسیم ملک تک لکھے گئے مضامین کے انبار میں کوئی ایسی تحریر موجود نہیں جسے مکمل انشائیہ کا نام دیا جاسکے !

     سب جانتے ہیں کہ تقسیم ملک سے پہلے ہر قسم کے مضامین کو بطور ایسے پیش کرنے کی روش عام تھی ۔ البتہ تقسیم کے بعد انگریزی کے لائٹ یا پرسنل ایسے کے تتبع میں ایسی تحریریں وجود میں آئی ہیں جو تقسیم سے پہلے کے مضامین سے صنفی اعتبار سے مختلف ہیں۔ لہٰذا میں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نو مولود کو ایک نئے نام سے موسوم کیا جائے تا کہ اذہان پر اس کی انفرادیت کا نقش مرتسم ہو سکے اور وہ اسے دوسری اصناف نثر سے الگ کرنے میں کامیاب ہوں۔ اپنے اس موقف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میں نے انگریزی کے پرسنل یا لائٹ ایسے کے لیے ایک متبادل اُردو لفظ کی تلاش شروع کی تاکہ وہ غلط فہمیاں جو لفظ ایسے سے انگریزی ادب میں پیدا ہوئی تھیں، اُردو میں بھی پیدا نہ ہو جائیں۔ مگر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ادھر میں نے پرسنل ایسے کے لیے ’’انشائیہ‘‘  کا لفظ تجویز کیا اور ادھر یار لوگوں نے اس لفظ کو ساری غیر افسانوی نثر کے لیے مختص کرنا شروع کر دیا۔ بس سارا جھگڑا یہیں سے شروع ہوا مگر اس اجمال کی تفصیل ضروری ہے۔

    میں نے ١٩٥٠ء سے ١٩٦٠ء تک کے عرصے میں ادب لطیف میں متعدد پرسنل ایسے تحریر کیے تھے جنہیں لائٹ ایسے ، انشائے لطیف، لطیف پاره، مضمون لطیف وغیرہ ناموں کے تحت شائع کیا گیا تھا مگر چوں کہ ایسے کے لفظ نے خود مغرب میں بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا تھا جنہیں ہمارے انگریزی پڑھانے والوں نے وراثت میں حاصل کیا تھا لہٰذا میں چاہتا تھا کہ پرسنل یا لائٹ ایسے کے لیے کوئی نیا اور منفرد اُردو نام تجویز کیا جائے ۔ انہی دنوں میں نے بھارت کے کسی رسالے میں انشائیہ کا لفظ پڑھا اور مجھے یہ اتنا اچھا لگا کہ میں نے میرزا ادیب صاحب سے جو ان دنوں ’’ ادب لطیف‘‘ کے مدیر تھے ، اس نام کو پرسنل ایسے کے لیے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی جسے انہوں نے فوراً قبول کر لیا ۔ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ مجھ سے پہلے ڈاکٹر سید حسنین ’’ انشائیہ‘‘  کا لفظ لائٹ ایسے کے معنوں میں استعمال کر چکے تھے ۔ مگر جن لائٹ ایسوں کے لیے انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا تھا وہ سرے سے لائٹ ایسے تھے ہی نہیں۔

    پچھلے دنوں اس سلسلے میں مزید دو انکشافات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ تقسیم سے پہلے علی اکبر قاصد کے مضامین کے مجموعہ’’ ترنگ‘‘ کے دیباچے میں اختر اور نیوی نے انشائیہ کا لفظ استعمال کیا تھا اور اس سے مراد پرسنل یا لائٹ ایسے لی تھی لیکن خود علی اکبر قاصد کے مضامین کا انشائیہ سے دور کا واسطہ نہیں تھا گویا اختر اور نیوی کے تجویز کردہ لفظ کے لیے اُردو میں انشائیہ ایسی کوئی تحریر بطور مثال موجود نہیں تھی، لہٰذا ان کے بارے میں اس لفظ کو قبول نہ کیا گیا۔ ان سے قبل شبلی نعمانی کے بعض مضامین میں بھی انشائیہ کا لفظ استعمال ہو چکا تھا مگر ان مضامین میں لفظ انشائیہ کا پرسنل ایسے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مثلاً بلاغت کے باب میں شبلی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ بلاغت اس کا نام ہے کہ مبتدا اور خبر کہاں مقدم لائے جائیں اور کہاں مؤخر، کہاں معرفہ ہوں کہاں نکرہ، اسناد کہاں حقیقی ہوں، کہاں مجازی ! جملہ کہاں خبر ہو کہاں انشائیہ وغیرہ۔‘‘ ظاہر ہے کہ اس میں شبلی نے لفظ انشائیہ تو استعمال کیا ہے مگر ایک بالکل مختلف حوالے سے۔ سو جب ادب لطیف میں لائٹ یا پرسنل ایسے کی پیشانی پر لفظ انشائیہ درج کر دیا گیا تو گویا پہلی بار انشائیہ کے صحیح نمونے کو لفظ انشائیہ سے نشان زد کیا گیا اور ہر قسم کے طنزیہ ، مزاحیہ، سنجیدہ ، تنقیدی یا معلوماتی مضامین سے الگ کر دیا گیا۔ ان دنوں میں اور میرزا ادیب اکثر اس بات پر غور کرتے کہ ہم نے انشائیہ کا لفظ رائج کرنے کی کوشش تو شروع کر دی ہے لیکن یہ رائج کیسے ہوگا ، مثلاً اگر کہاجائے کہ فلاں کتاب انشائیوں  کا مجموعہ ہے۔ تو ’’انشائیوں‘‘  کا لفظ عجیب اور نامانوس لگے گا۔ آج کل یہ لفظ رائج ہو چکا ہے تو انشائیہ نگاری ،انشائیے، انشائیوں اور انشائیہ فہمی ایسی تراکیب اور الفاظ بالکل مناسب اور برمحل لگتے ہیں۔ یہ ایسے ہی جیسے کسی زمانے میں point of view کے لیے ’’ نقطۂ نظر‘‘ کی ترکیب وضع ہوئی تھی جسے لوگوں نے سخت نا پسند کیا تھا۔ مگر پھر یہ سکۂ رائج الوقت ہوگئی اور اب کسی کو یاد بھی نہیں کہ اس ترکیب کی پیالی میں کتنا بڑا طوفان اُٹھا تھا۔

     ان دنوں میں اُردو انشائیہ نگاری کے میدان میں بالکل تنہا تھا۔ پھر ادب لطیف ہی میں مشکور حسین یاد کے دو تین ایسے مضامین شائع ہوئے جن میں انشائیہ کے مقتضیات کو ایک بڑی حدتک ملحوظ رکھا گیا تھا لیکن ایک تو ان مضامین کا اسلوب انشائیہ کی تازگی (ان دنوں میں لفظ شگفتگی بھی استعمال کرتا تھا جس نے بعد ازاں بہت سی غلط فہمیاں پیدا کیں )کا حامل نہیں تھا۔ پھر یہ کہ مشکور حسین یاد مضمون میں اصلاحی رنگ لے آتے تھے۔ چناں چہ میں نے ادب لطیف ہی میں ایک خط لکھ کر ان کے مضمون کی تعریف کرتے ہوئے ان اسقام کی طرف بھی ہلکا سا اشارہ کر دیا۔ میں تو اپنے اس خط کو بھول چکا تھا لیکن اس کی اشاعت کے کم وبیش بیس برس بعد مشکور حسین یاد نے مجھے اس خط کا تراشہ دکھایا جو انہوں نے محفوظ کر رکھا تھا اور کہا کہ دیکھیے آپ نے ایک زمانے میں مجھے انشائیہ نگار تسلیم کیا تھا۔ یہ بات غلط نہیں تھی لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یاد صاحب نے میرے خط کے اشاروں کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور بعد ازاں بتدریج اصلاحی یا انتہائی سنجیدہ فلسفیانہ  یا نیم فلسفیانہ انداز اختیار کرتے چلے گئے۔ حدیہ کہ انہوں نے انشائی اسلوب سے بھی نجات حاصل کر لی۔ آج وہ اپنے جن مضامین کو انشائیہ کے نام سے شائع کراتے ہیں وہ تنقیدی اسلوب میں لکھے گئے اصلاحی وضع کے مضامین ہیں، جن میں انشائیہ کی تازگی کا فقدان ہے ۔

    مگر جن ایام کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ محض انشائیہ لکھنے ہی کا دور نہیں تھا بلکہ انشائیہ فہمی کا دور بھی تھا۔ میں نے اس سلسلے میں انشائیہ فہمی کے سوال پر متعدد مباحث کرائے جن میں غلام جیلانی اصغر اور نظیر صدیقی اور دوسرے دوستوں نے خوب حصہ لیا ۔ ان میں سے نظیر صدیقی انگریزی سے شغف کے باعث انشائیہ (یعنی پرسنل ایسے) کے مقتضیات سے تو واقف تھے لیکن انشائیہ کو پہچاننے کے معاملے میں وہ بھی اختر اور نیوی اور ڈاکٹر محمدحسنین وغیره کے گروہ ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ چناں چہ خود انہوں نے انشائیہ کے نام سے جو مضامین لکھے وہ زیادہ سے زیادہ رشید احمد صدیقی کے تتبع میں لکھے گئے طنز یہ مزاحیہ مضامین ہی کہلا سکتے ہیں۔

    ١٩٦٥ء تک انشائیہ اور انشائیہ نگاری کے سلسلے میں کچھ دل چسپی پیدا ہوگئی تھی۔ مگر بالکل سرسری سی ۔ چناں چہ میں اور مشتاق قمر اکثر انشائیہ کے مستقبل کے بارے میں سوچتے اور کہتے کہ کم از کم ہماری زندگیوں میں تو اس صنف کے پھلنے پھولنے یعنی مقبول ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ کیوں کہ پچھلے ایک سو برس سے اُردو داں طبقہ مضمون کے لفظ سے مانوس ہو چکا ہے اور مضمون میں اگر طنز و مزاح ہو تو اسے بطور خاص پسند کرتا ہے۔ لہٰذا انشائیہ کے اس خاص وصف سے مانوس ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہے جو معمولی شے کے غیر معمولی پن کو سطح پر لاتا ہے اور جمالیاتی حظ مہیا کرنے کے علاؤہ سوچ کے لیے غذا بھی مہیا کر دیتا ہے۔ گویا اس وقت ہمارے نزدیک انشائیہ کو مقبول بنانے کے لیے انشائیہ کو پہچاننے کی ایک باقاعدہ تحریک کی ضرورت تھی مگر یہ جبھی ممکن تھا کہ ایک بڑی تعداد میں اُردو انشائیے دستیاب ہوتے۔ ادھر یہ حال تھا کہ ابھی انشائیوں کا صرف ایک مجموعہ ہی شائع ہوا تھا۔ مشتاق قمر اس سلسلے میں بہت سنجیدہ تھے لیکن چوں کہ وہ ایک عرصے سے طنزیہ ، مزاحیہ مضامین لکھتے آرہے تھے ، لہٰذا ان کے لیے ایک مدار سے باہر آکر ایک بالکل نئے مدار میں گردش کرنا بے حد شکل تھا۔ تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور چار برس تک انشائیہ نگاری کی کوشش کے بعد ایک انشائیہ لکھنے میں کامیاب ہو گئے جو میں نے ’’اوراق‘‘ میں شائع کردیا یہ گویا بارش کا پہلا قطرہ تھا ۔ اس کے بعد جمیل آذر، غلام جیلانی اصغر اور ڈاکٹر انور سدید نے بھی انشائیے تحریر کرنے شروع کر دیے۔ مشتاق قمر نے تو اتنے انشائیے لکھ لیے کہ ان کے انشائیوں کا مجموعہ’’ ہم ہیں مشتاق‘‘ کے نام سے شائع بھی ہوگیا۔ مگر ابھی تک انشائیہ کی تحریک محض چند اد با تک ہی محدود تھی ۔ نئے لکھنے والے ابھی اس میدان میں نہیں آئے تھے ۔ پھر سلیم آغا کو انشائیہ لکھنے کا خیال آیا اور جب اس کا پہلا انشائیہ ’’اوراق ‘‘میں چھپا تو یہ انشائیہ کے میدان میں نہ صرف نئی پود کی آمد کا اعلامیہ تھا بلکہ اس سے یکا یک انشائیہ نگاری کی تحریک میں تازہ خون کی آمیزش بھی ہوگئی اور انشائیہ کا نام کالجوں اور یونی ورسٹیوں کی سطح پر لیا جانے لگا۔ پنجاب یونی ورسٹی کے ایف اے کے نصاب میں تو اُردو انشائیے بھی شامل کر لیے گئے اور طالب علموں نیز اساتذہ کے ہاں انشائیے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ایک رد وجود میں آگئی مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جہاں سینیراد با انشائیہ کو اکثر و بیش تر ایسے کا متبادل گردانتے تھے اور اس کے دامن میں ہر قسم کی غیر افسانوی نثر کو شامل کر لیتے تھے وہاں نوجوان لکھنے والے انشائیہ کے مزاج سے آگاہ ہو رہے تھے ۔ ان کے لیے یہ آسانی تھی کہ انہیں کسی سابقہ نظریے میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ انشائیہ پڑھتے تو اسے فوراً پہچان لیتے۔ حتیٰ کہ  اسے طنزیہ اور مزاحیہ یا ہکے پھلکے معلوماتی قسم کے مضامین سے الگ کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ۔ ’’اوراق‘‘ نے ان نئے انشائیہ نگاروں کے لیے اپنا دامن کشادہ کر دیا ۔ چناں چہ پہلے جہاں ’’اوراق‘‘ کے ہر شمارے میں محض دو یا تین انشائیے شائع ہوتے تھے جن کا مشکل ہی سے کوئی نوٹس لیتا تھا وہاں اب دس بارہ اور اس کے بعد اٹھارہ بیس  انشائیے ایک ہی شمارے میں شائع ہونے لگے اور نوجوان لکھنے والوں کے علاؤہ بہت سے منجھے ہوئے ادیب بھی انشائیہ نگاری کی طرف راغب ہو گئے۔ چناں چہ کامل القادری ، اکبر حمیدی، محمدمنشایاد، حیدر قریشی ، محمد اسد اللہ، رام لعل نا بھوی، پرویز عالم، طارق جامی، جان کشمیری ، محمد اقبال انجم ، انجم نیازی ،محمد ہمایوں، سلمان بٹ، رشید گریجہ، رعنا تقی ، اظہر ادیب، سعثہ خان ، فرخ سعید رضوی ، یونس بٹ ، امجد طفیل، تقی حسین خسرو، حامد برگی، بشیر سیفی ، راجہ ریاض الرحمٰن، خالد پرویز، شمیم ترمذی اور راغب شکیب کے علاؤہ بہت سے سینیر ادبا مثلاً جوگندر پال، احمد جمال پاشا، غلام الثقلین نقوی، شہزاد احمد اد اور ارشد میر بھی انشائیہ نگاری کی طرف راغب ہو گئے اور مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ وہ انشائیہ کو طنزیہ مزاحیہ مضامین نیز دیگر معلوماتی مضامین سے ایک بالکل الگ صنف قرار دیتے تھے ۔ ’’اوراق‘‘ میں انشائیہ نگاری کو فروغ ملا تو دوسرے رسائل اور بعد ازاں اخبارات نے بھی انشائیہ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا حتیٰ کہ رسالہ ’’فنون“ بھی انشائیہ کو اپنی فہرست میں شامل کرنے پر مجبور ہو گیا۔ لیکن اسے نئے انشائیہ نگاروں کا تعاون حاصل نہ ہوسکا۔

     انشائیہ کے یکایک اس قدر مقبول ہو جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس محاذ آرائی نے تین واضح صورتیں اختیار کیں۔ پہلی یہ کہ کسی ایسی شخصیت کی تلاش کی جائے جسے اُردو میں انشائیہ نگاری کا بانی اور منتہی قرار دیا جاسکے۔ دوسری یہ کہ اردو انشائیہ کے بارے میں یہ تاثر دیا جائے کہ انشائیہ تقسیم کے بعد وجود میں نہیں آیا بلکہ سرسید کے زمانے سے بعض کے نزدیک ملا وجہی کے زمانے سے لکھا جاتا رہا ہے اور اس لیے انشائیہ نگاری کی جس تحریک کی آج کل پبلسٹی ہورہی ہے وہ صرف پرانی شراب ہے جونئی بوتلوں میں پیش کی جارہی ہے۔ تیسری یہ کہ خود صنف انشائیہ کی مذمت کی جائے۔ انشائیہ اور انشائیہ نگاری کا مذاق اُڑایا جائے ۔ نیز یہ تاثرعام کیا جائے کہ صنف انشائیہ کی کوئی جامع و مانع تعریف نہیں ہے۔ ہر قسم کی نثر پر انشائیہ کا لیبل لگ سکتا ہے ۔ علاؤہ ازیں انشائیہ خود مغرب میں دم توڑ چکا ہے۔ اب اُردو والے اس مردے کو دوبارہ کیسے زندہ کر سکتے ہیں ؟ پہلی صورت کے تحت یکے بعد دیگرے کئی شخصیتوں کو آزمایا گیا ۔ ایک شخصیت کے سر پر تو تاج زریں بھی رکھ دیا گیا لیکن بات بن نہ سکی۔

    دوسری صورت کا معاملہ یہ تھا کہ اگر انشائیہ کی اس تعریف کو قبول کر لیا جاتا جو ہم لوگوں نے پیش کی تھی اور پھر اس کی روشنی میں انشائیہ کی پہچان کا اہتمام بھی ہو جاتا تو وہ لا تعداد طنزیہ مزاحیہ مضامین لکھنے والے کہاں جاتے جن کی شہرت کی اساس ان کے مضامین پر استوار تھی۔ ہم لوگوں نے ان حضرات کو بار بار یقین دلایا کہ طنزیہ مزاحیہ مضامین کا ایک اپنا مرتبہ اور توقیر اور اہمیت ہے وہ کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے مضامین پر ضرور ہی انشائیہ کا لیبل لگایا جائے ۔ مگر ان لوگوں کی ایک مجبوری تھی وہ یوں کہ انشائیہ کے لفظ کی تو قیر اب اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ اس کا لیبل لگائے بغیر خود ان حضرات کا ادبی مرتبہ معرض خطر میں پڑ سکتا تھا ۔ دوسری طرف ہماری مشکل یہ تھی کہ ہم ہر قسم کی طنزیہ مزاحیہ یا سنجیدہ تحریر پر انشائیہ کا لیبل لگا کر انشائیہ کی پوری تحریک کو دریا برد کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ سو ہم نے بہت سے مقتدر طنزو مزاح نگاروں کی نگارشات کو انشائیہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ جن کے تتبع میں انہوں نے اپنے مضامین لکھے تھے ۔ مثلاً کپور اور پطرس اور رشید احمد صدیقی اور شوکت تھانوی وغیرہ ان حضرات کے سلسلے میں بھی اس بات کا برملا اظہار کر دیا کہ اپنے خاص میدان میں تو ان ادبا کی اہمیت مسلم ہے مگر انہیں کسی صورت بھی انشائیہ نگار تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

    فریق مخالف نے معاملے کو بگڑتے دیکھا تو اس نے صنف انشائیہ کے خلاف ایک اور سطح پر محاذ آرائی شروع کر دی یعنی صنف انشائیہ کی مذمت کا آغاز کر دیا گیا ۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر انور سدید نے اپنی معرکۃ الآرا كتاب ’’ انشائیہ اُردو ادب میں‘‘ لکھ کر انشائیہ کی پوری تاریخ کو سمیٹ لیا اور انشائیہ کے سارے خدو خال اس شرح و بسط کے ساتھ پیش کر دیے کہ لکھنے والوں کے نوجوان طبقے کی تربیت ہو نے لگی اور اب وہ  کھلے الفاظ میں بعض طنزیہ مزاحیہ لکھنے والوں کے انشائیہ نگار ہونے کے دعووں کو مسترد کرنے لگے۔ چناں چہ فریق مخالف کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ انشائیہ کو مسترد کرنے کی کارروائی کو مزید تیز کر دیا جائے۔ چناں چہ اس سلسلے میں ایک اخباری مہم شروع کی گئی جس میں عطاء الحق قاسمی اور ان کے دوستوں نے بھر پور حصہ لیا۔ ان کا طریق کار یہ تھا کہ اِدھر اُدھر سے انشائیہ کے خلاف جملے اکٹھا کرتے یا خود اختراع کرتے اور پھر اخبارات میں شائع کر دیتے۔ تاکہ انشائیہ کے خلاف نفرت پیدا ہو سکے۔ چناں چہ اس قسم کے فقرے کہ’’ انشائیہ پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘۔ اور ’’ انشائیہ ایک تیسری جنس ہے‘‘۔ ٹی ہاؤسوں اور محفلوں اور اخباروں میں لڑھکائے گئے۔ جس ادیب سے رونگٹے کھڑے ہونے کا واقعہ منسوب کیا گیا تھا اس کا قصہ یہ تھا کہ وہ اپنی تصنیف کے علاؤہ شاذ ہی کسی دوسرے کتاب کا مطالعہ کرنے کا عادی تھا بلکہ اگر وہ کسی کتاب کی ورق گردانی کرتا نظر آجاتا تو خود دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ بہر حال انشائیہ اور انشائیہ نگاروں کی توہین کا یہ سلسلہ محض اخباروں اور ٹی ہاؤسوں تک ہی محدود نہ رکھا گیا بلکہ ایک خاص منصوبہ کے تحت اسے ایک کتابی شکل میں پیش کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس قسم کی ایک کتاب لکھنے کا کام ڈاکٹر سلیم اختر کے سپرد کیا گیا۔ جنہوں نے ڈاکٹر انور سدید کی کتاب کے جواب میں انشائیہ کی بنیاد پر ایک کتاب شائع کر دی ۔

    بہر کیف پچھلے چالیس سالوں میں انشائیہ کے بارے میں بہت سی بے پر کی اڑائی گئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ انشائیہ ایسے معمولی اور بے مصرف موضوعات پر اظہار خیال کرتا ہے جن کی معاشرتی اور سیاسی حتیٰ کہ مابعد الطبیعیاتی نقطۂ نظر سے بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ بھلا بال کٹوانا یا آئس کریم کھانا بھی کوئی موضوع ہے جس پر انشائیہ تحریر کیا جائے اور اس بات کو فراموش کر دیا کہ انشائیہ دنیا کی کسی شے کو بھی معمولی قرار نہیں دیتا۔ اس کی نظروں میں ذرہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی کہ کل کائنات ۔بیسویں صدی جس میں microcosm کی لا محدودیت کا تصور عام ہو رہا ہے اور شیئیت بھی محض روابط کی ایک صورت متصور ہونے لگی ہے ، بڑے اور چھوٹے موضوعات کی تخصیص کیا معنی رکھتی ہے ؟ کسی زمانے میں کہانی شہزادوں اور شہزادیوں ، جنوں اور پریوں کے بارے میں لکھی جاتی تھی یا بڑی بڑی مہمات سر کرنے والوں کے بارے میں قلم کی جولانیاں دکھائی جاتی تھیں۔ پھر جاگیر دار ،سرمایہ دار اور پوش سوسائٹی کے کردار فکشن کا موضوع بنے مگر آج کہانی اونچے اونچے میناروں اور محلوں سے اتر کر بازار میں ننگے پانو چل رہی ہے۔ یہی حال شاعری کا ہے جو کبھی مثنوی اور قصیدے کے ذریعے معاشرے کے اونچے طبقوں کی عکاسی کرتی تھی مگر اب عام شہری کے محسوسات کو مس کر رہی ہے ۔ ایسی صورت میں انشائیہ کا کمال ہے کہ اس نے اپنی ابتدا ہی زمین سے کی ہے۔ اس نے بڑے بڑے محلوں، مقتدر کرداروں، گونجتے ہوئے نظر یوں ،عقیدوں اور نعروں کو اپنا موضوع بنانے کے بجاے سامنے کی اشیا مثلاً کرسی، اونگھنا، چرواہا ، واشنگ مشین ، جھوٹ ، دسمبر اور فائل ایسے موضوعات کو چھوا ہے لیکن ان بالکل معمولی موضوعات نے ایسے غیر معمولی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے کہ معمولی چیزوں کے سامنے نام نہاد غیر معمولی چیزیں بالکل معمولی نظر آنے لگی ہیں۔ یہی نہیں انشائیہ نے ایک اور کام یہ کیا ہے کہ وہ موضوعات اور کردار اور ادارے جنہیں معاشرے نے محض عادتاً یا احتراماً جملۂ نقائص اور اسقام سے ماورا سمجھ رکھا تھا، خودان پر ایک نئے زاویے سے نظر ڈال کر ان کے معمولی پن کو اجاگر کر دیا ہے۔ مثلاً جب کوئی انشائیہ نگار ignorance of the learned  پر انشائیہ لکھتا ہے یا کائنات کی لا محدودیت کو دل کے اندر کارفرما دیکھتا ہے یا سچ کی منافقت اور شرافت کی بزدلی اور بہادری کی حادثاتی نوعیت کو سامنے لاتا ہے تو وہ قاری کو اس نظریاتی اخلاقیاتی اور معاشرتی خول سے باہر نکالتا ہے جس میں اس نے خود کو مجبوس کر رکھا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو انشائیہ اکڑی ہوئی گردنوں اور انانیت میں مبتلا لوگوں کو جھنجھوڑنے اور انہیں بیدار کرنے کا نام ہے۔ اس قسم کی صنف نثر کو جو انسان کے باطن کو اجلا کرنے ، اُسے جگانے اور معمولات کی میکانکی تکرار سے اسے نجات دلانے کے لیے کوشاں ہو، اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ سیاسی یا نظریاتی یا معاشرتی سطح کے اخباری موضوعات کو عصری آگہی کے نام پرحرز جاں بنائے، بالکل ایسے ہی ہے جیسے گھر کے صحن میں چھوٹا سا گڑھا کھودنے کے لیے ایٹم بم چلا دیا جائے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اہل نظر ابھی ایک انشائیہ کی بے پناہ قوت سے واقف نہیں ہو سکے ۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ جس طرح ایک مجدد معاشرے کی تجدید کرتا ہے، اسی طرح جب انشائیہ کسی ادب میں نمودار ہوتا ہے تو پورے ادب کی تجدید ہو جاتی ہے۔ ابھی سے اردو انشائیہ نے اُردو افسانہ اور نظم اور سفرنامے پر اپنے اثرات مرتسم کرنے شروع کر دیے ہیں مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ اس نے نئی پود کو آنکھیں بیچ کر پرانی باتیں تسلیم کرنے کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا ہے اور انہیں سوال کرنے اور بنے بنائے نظریات اور رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ انشائیہ ایک نئے زاویۂ نگاہ کا نام ہے ۔ زندگی کو دوسرے کنارے سے دیکھنے کی ایک روش ہے۔ انشائیہ ایک مثبت طرز کی بغاوت ہے جو شخصیت پر چڑھے ہوئے زنگ کو اتارتی ہے، تشنج کو رفع کرتی ہے اور انسان کو جذباتی اور نظریاتی جکڑ بندیوں سے نجات دلاکر آزادہ روی کی روش پر گامزن کر دیتی ہے۔ ایسی، امکانات کی حامل اور لطافت سے مملو صنف نثر کو پیش یا افتاده اخباری موضوعات پر خامہ فرسائی کی دعوت دینا ایک قومی المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟

    انشائیہ پر ایک اور اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تبسم زیر لب کا اہتمام کرتا ہے لیکن کھل کر قہقہہ لگانے کی اجازت نہیں دیتا اور یوں انسانی مسرت کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے۔ اس کا نہایت عمدہ جواب مشتاق قمر نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ آپ کسی قسم کی مسرت کے جویا ہیں ؟ کیا ایسی مسرت کے جو لطیفے سن کر ایک بھر پور قہقہہ لگانے کے بعد غبارے کی طرح پھٹ جاتی ہے یا ایسی مسرت کے جو آپ کے دل کے اندر موم بتی کی طرح سلگتی ہے اور تادیر سلگتی رہتی ہے ۔ دونوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ طنز یا مزاح سے پیدا ہونے والا قہقہہ فاضل اسٹیم کے اخراج کا اہتمام کرتا ہے اور قہقہہ لگانے کے بعد انسان کی حالت اس کارتوس کی سی ہو جاتی ہے۔ جس میں سے چھرے نکل چکے ہوں. چناں چہ اس کے لیے ارد گرد کے ماحول کو بے معنی نظروں سے دیکھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا یا پھر وہ عادی نشہ باز کی طرح مزید لطائف کی فرمایش کرتا ہے تاکہ مزید جمع شدہ اسٹیم کا اخراج کر سکے ، اس کے برعکس انشائیہ کا مقصد ہنسی کو تحریک دینا نہیں، اس کا مقصد ذہن کو تازہ دم کرنا ہے ۔ اس کے لیے وہ بقدر ضرورت تبسم زیر لب کا اہتمام کرتا ہے یا اس تبسم کا جسے شاعرانہ مزاح poetic humour) ) کہا گیا ہے اور جو غالب کی شاعری کے علاؤہ مشکل ہی سے کسی دوسرے اُردو شاعر کے ہاں نظر آتا ہے ۔ یہ مزاح کی وہ قسم ہے جس میں آنسو اور تبسم ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔ مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تبسم زیر لب کسی لطیفے کو سن کر بر انگیختہ نہیں ہوتا بلکہ معنی کے پرتوں کے اُترنے پر متحرک ہوتا ہے ۔ جب انشائیہ نگار ایک معمولی سی شے میں مضمر معنی کے ایک جہان ہوش رُبا کا منظر دکھاتا ہے اور یکے بعد دیگرے پرت اتار کر ہر بار ایک نئے معنی کو سامنے لاتا ہے تو قاری یا تو زندگی کی بے معنویت کا یا پھر بے معنویت کی معنویت کا عرفان حاصل کر کے ایک معنی خیز مسکراہٹ سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ یہ مسکراہٹ اصلاً ایک عارفانہ مسکراہٹ ہے جو سدھیار تھ کے ہونٹوں پر اس وقت نمودار ہوتی ہے جب اس پر اچانک کائنات کا راز فاش ہو جاتا ہے اور مونا لیزا کے ہونٹوں پر اس وقت جب اسے اپنی تخلیقی حیثیت کا عرفان حاصل ہوتا ہے، سوانشائیہ نگار کو معنی خیز تبسم عطا کرنے کے اہم کام سے روک کر محض فقرہ بازوں اور لطیفہ گویوں کی صف میں لا کھڑا کرنا کفران نعمت نہیں تو اور کیا ہے ؟

     انشائیہ پر ایک یہ پھبتی بھی کسی گئی ہے کہ انشائیہ نگار تھک کر ٹانگوں میں سے سمندر کو دیکھنے کو مشورہ دیتا ہے۔ پس منظر اس پھبتی کا یہ ہے کہ میں نے انشائیہ فہمی کے سلسلے میں ابتداً  جو مضامین تحریر کیے ان میں اس بات پر زور دیا تھا کہ انشائیہ سامنے کی چیزوں یا مناظر کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا نام ہے۔ اس کے لیے یا تو وہ چیزوں اور مناظر کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے تاکہ ان کے چھپے ہوئے پہلو نظر کے سامنے آجائیں یا پھر خود اپنی جگہ سے ہٹ کر ان چیزوں اور مناظر کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مؤخر الذکر بات کو میں نے کئی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی جن میں ایک مثال بچپن کے اس تجربے سے لی جب لڑکے کھیل کود کے دوران جھک کر ٹانگوں میں سے منظر کو دیکھتے ہیں اور یوں انہیں ہر روز کا دیکھا بھالا منظر انوکھا نظر آنے لگتا ہے۔ میں نے دوسری مثال دریا کے کنارے کے سلسلے میں دی اور کہا کہ اگر آپ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کو دیکھنے کے عادی ہیں اور آپ کو ہر روز ایک ہی اکتا دینے والا منظر نظر آتا ہے تو آپ کسی روز دوسرے کنارے پر جا نکلیں اور وہاں سے پہلے کنارے کو دیکھیں تو آپ کو سارا منظر ایک نئے روپ میں نظر آئے گا۔ لہذا انشائیہ ’’ دوسرے کنارے‘‘ سے دیکھنے کا نام ہے۔ مراد یہ کہ ہم عادات اور تکرار کے دائرے سے باہر آئیں، شخصیت کی آہنی  گرفت سے آزاد ہوں اور خود پر سے معاشرتی دباؤ کو ہٹائیں تو ہمیں ہر شے ایک نئے تناظر میں نظر آئے گی اور اس کے چھپے ہوئے مفاہیم ابھر کر سامنے آجائیں گے ۔ یہ عمل ہمیں سوچ کی غذا مہیا کرے گا اور ہمارے اندر کی اس ’’حیرت‘‘ کو جگائے گا جس کے بغیر ادب کی تخلیق ممکن نہیں ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اعصابی تناؤ کا شکار ہیں جو معاشرتی، نظریاتی اور اخلاقیاتی دباؤ کا نتیجہ ہے اور انسان کو ایک تنگ دائرے میں مقید رکھتا ہے۔ انشائیہ نگار جب انشائیہ لکھتا ہے تو وہ خود بھی اس اعصابی تناؤ سے آزاد ہوتا ہے اور اپنے قاری کو بھی’’آزاد‘‘ ہونے کی راہ دکھاتا ہے ۔ ’’آزاده روی ‘‘  کا یہ عمل انشائیہ کا محرک بھی ہے اور اس کا ثمر شیریں بھی ۔ وہ لوگ جو بھاری بھر کم لبادوں میں ملبوس ہیں، جنہوں نے خود کو معاشرتی اور اخلاقیاتی پابندیوں میں کچھ زیادہ ہی محبوس کر رکھا ہے، وہ نہ تو انشائیہ لکھنے پر ہی قادر ہو سکتے ہیں اور نہ انہیں انشائیہ سے لطف اندوز ہونے کی سعادت ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگ جو ہمہ وقت اپنی دستار کو سنبھالنے کے شبھ کام پر مامور ہیں ،ان کے لیےجھک کر ٹانگوں میں سے منظر کو دیکھنا یا درخت پر چڑھ کر اس پر ایک نظر ڈالنا یا پھر ہر روز کے دیکھے بھالے کنارے کو چھوڑ کر دوسرے کنارے پر جانکلنا نا قابل برداشت ہے۔ وجہ یہ کہ وہ ’’آزاد‘‘ نہیں ہیں۔ وہ دراصل اس اعصابی خوف میں مبتلا ہیں کہ زمانہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ اگر انہوں نے بنی بنائی کھائیوں سے باہر آنے کی کوشش کی تو زمانہ ان کا مذاق اُڑاے گا یا انہیں سزادے گا۔ لہٰذا وہ جسمانی اور ذہنی دونوں سطحوں پر ساری زندگی لکیر کے فقیر بن کر گزار دیتے ہیں۔ انشائیہ در اصل زنگ آلود معاشرے پر سے زنگ کو کھرچنے کا نام ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو اپنے معمولات سے اوپر اٹھنے کی تحریک ملتی ہے اور عادت اور تکرار کے زندان سے باہر آنے کا موقع عطا ہوتا ہے۔

    آخر میں محض ایک اور بات کا ذکر کروں گا وہ یہ کہ انشائیہ ایک ایسی غیر افسانوی صنف نثر ہے جو قاری کو بیک وقت فکری لطف اندوزی، جسمانی تسکین اور جمالیاتی حظ مہیا کرنے پر قادر ہے۔ اسی لیے میں اسے امتزاجی صنف کا نام دیتا ہوں جس میں کہانی کا مزہ ، شعر کی لطافت اور سفرنامے کا فکری تحرک یکجا ہو گئے ہیں۔ تاہم انشائیہ محض ان اوصاف کی ’’حاصل جمع‘‘  کا نام نہیں ہے وہ ان سب کو اپنے اندر جذب کر کے خود ایک ایسی اکائی بن کر نمودار ہوتا ہے جس کی انفرادیت ان جملہ اوصاف کی حاصل جمع سے کچھ ’’زیادہ‘‘ ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے انشائیہ کا ایک اپنا سٹرکچر ہے جو سٹرکچرنگ ( structuring ) کے عمل کو بروئے کار لاکر سدا نئے نئے امکانات کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔

    ہمارے ہاں بعض اصناف ادب پر دیگر فنون کا غلبہ صاف محسوس ہورہا ہے۔ مثلاً شاعری پر موسیقی کا اور کہانی پر فلم کا، لیکن انشائیہ وہ واحد صنف ہے جو اپنی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ اس میں اختصار کا دامن وسیع ہے اور خود اس کے اندر امکانات کا یہ عالم ہے کہ اسے کسی اور فن لطیف کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والی صدیوں میں انشائیہ وہ واحد صنف نثر ہے جو اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی اور اپنی ہیئت اور مواد دونوں میں ایجاز و اختصار کو ملحوظ رکھنے کے باعث آنے والے زمانوں کے قدموں سے قدم ملا کر چلنے میں کامیاب ہوگی۔ اپنے going on a journey میں ہیزلٹ نے ایک جگہ لکھا ہے :

    Give me a clear blue sky over my head, a green turf beneath my feet, a winding road before me,    And three hour's march to dinner and then to

    Thinking.

    یہی انشائیہ نگار کا اصل منصب بھی ہے کہ وہ شاہراہ سے اپنے لیے ایک پگڈنڈی نکالتا ہے ۔ پھر اس پر اکیلا، زمین کی سبزی اور آسمان کی نیلاہٹ کے عین درمیان ایک تخلیقی سفر کا اہتمام کرتا ہے۔ پھر رات کے کھانے سے لطف اندوز ہوتا ہے اور کھانے کے بعد وہ سوچ کے اس لامتناہی سلسلے سے متعارف ہوتا ہے جو ازل اور ابد کے درمیان ایک سنہری زنجیر کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ لہٰذا انشائیہ نگار بیک وقت ایک فن کار بھی ہے ، دنیا دار بھی اور صوفی یا مفکر بھی ! وہ پگڈنڈی پر سفر کرتے ہوئے مالیاتی حظ حاصل کرتا ہے تو ساتھ ہی رات کے کھانے سے لطف اندوز ہونے کو ضروری سمجھتا ہے مگر کھانے کے بعد لطیفہ گوئی میں وقت صرف کرنے کے بجائے سوچ کی تازگی میں جذب ہو جاتا ہے گویا وہ بیک وقت جمالیاتی تسکین بھی حاصل کرتا ہے ، جسمانی لذت اور فکری تسکین بھی ! اگر کوئی صنف انسان کو بیک وقت ان تینوں سطحوں پر مسرت مہیا کرنے پر قادر ہو تو اس سے بڑی صنف ادب اور کون سی ہو سکتی ہے ؟

     زیر نظر کتاب ’’سمندر اگر میرے اندر گرے‘‘ میرے انشائیوں کا چوتھا مجموعہ ہے جس میں بارہ نئے انشائیے شامل ہیں، تاہم میں نے تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اپنے سابقہ تین مجموعوں میں سے بھی ایک ایک انشائیہ انتخاب کر کے اس نئے مجموعے میں شامل کردیا ہے مثلاً ’’ دوسرا کنارہ‘‘ سے ’’ بارھواں کھلاڑی‘‘ ،’’چوری سے یاری تک‘‘سے ’’ سیاح ‘‘ اور ’’ خیال پارے‘‘ سے ’’پگڈنڈی‘‘ ! مقصود یہ تاثر دینا ہے کہ ہر چند پچھلے تیس پینتیس برسوں میں میرے موضوعات تبدیل ہوتے رہے ہیں، لفظیات میں بھی تبدیلی آئی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ لہجہ بھی بدلا ہے لیکن میرے انشائیہ کا بنیادی مزاج اپنی جگہ قائم ہے۔ یہ بات ان حضرات کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے جن کا انشائیہ کے بارے میں یہ خیال ہے کہ اس کا کوئی متعین مزاج نہیں ہے، حالاں کہ انشائیہ کا ایک بنیادی مزاج ہے جو مغربی ادب میں تو پچھلے کئی سو سال میں تبدیل نہیں ہوا لیکن جو اردو ادب کے پچھلے تقریباً چالیس برسوں میں بھی (یعنی جب سے انشائیہ نگاری کا صحیح معنوں میں آغاز ہوا ہے ) استقات کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ مثلاً خیال پارے ( ۱۹۶۱ ء) کے انشائیہ پگڈنڈی کو لیجیے ۔ اس میں بنیادی زاویہ یہ ہے کہ سڑک گزرگاہ خاص وعام ہے جس پر انسان جب سفر کرتا ہے تو اپنی عادات و اطوار کی کھائیوں میں سفر کر رہا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی آزادہ روی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں لیکن جب وہ شاہراہ کو ترک کر کے ایک پگڈنڈی اختیار کرتا ہے تو اپنی انفرادیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور کارواں کا حصہ بنے رہنے کے بجائے خود کو ایک منفرد اکائی کے طور پر محسوس کرتا ہے ۔ گویا پگڈنڈی نہ صرف جگہ کی تبدیلی کا اعلامیہ ہے (اور جگہ کی تبدیلی سے تناظر کی تبدیلی منسلک ہوتی ہے) بلکہ شاہراہ کی طرح معلوم دنیا کے اندر سفر کرنے کے بجائے ایسے خطے کی سیاحت کا اہتمام کرتی ہے جو انسان کے لیے قطعاً نیا اور پراسرار ہے۔ یہی بنیادی مزاج ’’چوری سے یاری تک‘‘ کے انشائیہ ’’سیاح ‘‘ میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً مسافر تو وہ ہے جو روایات ، قواعد و ضوابط اور سماجی قدروں کا بھاری سامان اٹھائے ریل میں سفر کرتا ہے لیکن سیاح وہ مرد آزاد ہے جو ٹریول لائٹ کے مسلک کے تحت ہوا کے ایک جھونکے کی طرح آزاد اور سبک بار دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیاح ہے تو مسافر لیکن ایک ایسا مسافر جو ایک خاص اسٹیشن سے دوسرے خاص اسٹیشن یک سفر کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ اپنے اندر کے جذبۂ سیاحت کے تحت کسی بھی وقت گاڑی تبدیل کر کے کہیں بھی جاسکتا ہے لہذا وہ مسافر کی بند دنیا کا باسی نہیں بلکہ سیاحت کی وسیع کائنات کا باشندہ ہے۔ ایک نئے زاویہ ٔنگاہ کی یہی کار کردگی ’’دوسرا کنارہ‘‘ کے انشائیہ ’’ بارھواں کھلاڑی“ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ کرکٹ کے گیارہ کے گیارہ کھلاڑی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک سیدھی لکیر بناتے ہیں۔ ایک ایسی لکیر جو کرکٹ کے قواعد وضوابط کے تابع ہے اور جس میں ہر کھلاڑی اس پر زے کی طرح ہے جو مشین میں ایک خاص مقام پر فٹ ہوتا ہے۔ مگر بارھواں کھلاڑی اس ’’ سیدھی لکیر‘‘ سے منسلک ہونے کے باوجود اس سے آزاد ہے۔ وہ گا ہے میدان میں ہوتا ہے گاہے گیلری میں، کبھی وہ کھلاڑی کے روپ میں نظر آتا ہے اور کبھی تماشائی کے روپ میں! تاہم بارھواں کھلاڑی دونوں سطحوں پر ایک مرد آزاد ہے ۔ اپنی ٹیم سے منسلک ہونے کے باوجود اس سے آزاد اور تماشائیوں کے جم غفیر کا ایک جزو ہونے کے باوجود اس سے فاصلے پر ۔

    اب آپ دیکھیں کہ ان تینوں انشائیوں میں آزادہ روی کا مسلک ایک قدر مشترک کی حیثیت رکھتا ہے یعنی یہ خیال پس منظر میں قائم رہتا ہے کہ میکانکی انداز میں محض ایک ہی ڈگر پر زندگی بسر کرتے جانے سے انسان، انفرادیت ، اپج اور جدت سے محروم ہو جاتا ہے ۔ انشائیہ بجائے خود ایک نئے زاویہ ٔنگاہ کو اپنا نے کا نام ہے ۔ انشائیہ کی بہترین تعریف ہی یہ ہے کہ وہ شے یا خیال پر ایک نئی نظر ڈالنے کے لیے یا تو اپنی جگہ تبدیل کرلیتا ہے یا پھر شے کا رخ بدل دیتا ہے تاکہ شے یا خیال کا ایک نیا پہلو اس کے سامنے آجائے۔ متذکرہ بالا تینوں انشائیوں میں بنیادی مسلک ، آزادہ روی ہے ۔ تاہم آپ دیکھیں کہ انشائیہ کے مخصوص مزاج کا حصہ بن کر خود آزادہ روی کا مسلک بھی کسی جامد نظریے میں تبدیل نہیں ہوا ۔ ’’ پگڈنڈی‘‘ کی آزادہ روی ’’لکیر کا فقیر‘‘ بننے کے میلان سے نجات پانے میں ہے ۔ ’’ سیاح ‘‘ کی آزادہ روی معاشرتی پابندیوں کی سنگلاخ فضا سے باہر آنے میں ہے جب کہ ’’ بارھواں کھلاڑی‘‘ کی آزادہ روی، تماشا اور ’’تماشائی‘‘ دونوں کی پابندیوں کو جھٹک کر اس عظیم تر آزادہ روی میں مبدل ہونے کا دوسرا نام ہے جس میں تماشائی کی حیثیت تک تبدیل ہو جاتی ہے۔ یوں آزاد روی کے مسلک میں کشادگی در آتی ہے اور اس کے متعدد نئے پہلو نظر کے سامنے ابھر آتے ہیں تا ہم آزادہ روی کا بنیادی مسلک اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

     انشائیہ اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان آنکھیں میچے اس کارگہِ شیشہ گری سے نہ گزرے بلکہ آنکھیں کھول کر نیرنگیِ زمان و مکاں کا مشاہدہ کرے۔ اگر وہ ایسا کر سکے تو اسے پھول کی پتی اور ریت کے ذرے سے لے کر ستارے کی لو اور کہکشاں کے غبار تک ہر نظر آنے والی شے میں نیز نظر نہ آنے والے ہر تصور اور احساس میں ایک جہان معنی نظر آئے گا۔ یوں جب وہ متعین معنی کے بجاے معانی کی فراوانی اور تنوع تک رسائی پانے لگے گا تو قدرتی طور پر اپنی ذات کے زندان سے بھی نجات پائے گا۔ اس کے بعد وہ زندگی کے جس مقام سے بھی گزرے گا اور جس شے یا شخص کو بھی مس کرے گا اس میں اسے اکہرے پن کا احساس نہ ہوگا۔ انشائیہ وہ جادو کی عینک ہے جسے لگا لینے کے بعد دنیا اپنی عمیق ترین سطحوں اور پرتوں کے ساتھ اپنے وجود کی بالائی سطح پر ایک دعوت عام کی طرح چنی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ معرفت ذات کے عمل میں تو حیات و کائنات کے تنوع اور نیرنگی کے پس پشت یکتائی اور یک رنگی کا حامل محض ایک عالم نظر آتا ہے لیکن انشائیہ کی معرفت اس نوع کی ہے کہ اس میں یکتائی اور یک رنگی کے پس پشت ایک جہان معنی اپنے سارے تنوع اور نیرنگی کے ساتھ اُبھرا ہوا نظر آسکتا ہے !

    زیر نظر کتاب میں میرے بارہ انشائیے شامل ہیں۔ اس سے پہلے کے تین مجموعوں کو ملاکر میں نے اب تک کل ٦٧ انشائیے لکھے ہیں۔ آج میری عمر بھی ٦٧ سال ہوگئی ہے۔ گویا قدرت کے خزانے سے مجھے عمر کے حساب ہی سے انشائیے عطا ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے!

    ( ۱۹۸۹ ء)