جمالیات اور اخلاقیات کی کشمکش
-
جمالیات اور اخلاقیات کی کشمکش
وارث علوی
مضمون کا عنوان کافی بھاری بھر کم ہے اور ایسے عنوانات پر مضامین لکھنے کے لیے جس فلسفیانہ نظر کی ضرورت ہے وہ تو ظاہر ہے فدوی کے پاس نہیں ۔ لہٰذا جب کہیں یہ پڑھ لیا کہ آج کل جمالیات کی تعمیمات ادبی تنقید کے لیے بہت کارگر ثابت نہیں ہوتیں تو دل کو ڈھارس بندھی کہ مضمون میں عنوان سے انصاف کرنے کا اب کوئی اخلاقی جبر نہیں ۔ یہ دیرینہ آرزو بھی پوری ہوگئی کہ کسی مضمون کا عنوان تو فلسفیانہ ہو۔ ویسے مضمون کا عنوان فنی اقدار اور سماجی مسائل یا ادب اور عصری آگہی وغیرہ وغیرہ بھی ہوسکتا تھا لیکن ان لفظوں کو صحافتی تنقید نے اپنی پوری معنویت سے محروم کر دیا ہے۔ وہ تو کلی شی قلما قنیوں کی طرح معاشرتی تنقید کے دالان میں اکڑوں بیٹھے نظر آتے ہیں اور نقاد کے اشاروں پر ایک سے میکا نکی کام کرتے رہتے ہیں ۔ الفاظ کے ساتھ نوکروں کا سا سلوک ویسے بھی ہمیں کبھی پسند خاطر نہیں رہا۔ ہم نے سوچا جمالیات ہی کا لفظ ٹھیک ہے۔ ہم ہیں تو دیکھ لیں گے کب تک مضمون میں کڑے سے کڑا بجاتی چلتی ہے۔ جمالیات کے سامراج سے اب تو ادبی تنقید بھی آزاد ہونا چاہتی ہے۔ یعنی اس کا بھی اصرار ہے کہ ہر صنفِ سخن کا مطالعہ اس کی تخلیقی ضرورتوں کی روشنی میں کیا جائے اور ان عمومی تصورات سے پہلو بچایا جائے جو تمام فنونِ لطیفہ کا احاطہ کرتے ہیں ۔
تو بات دراصل یہ ہوئی کہ ہم نے منٹو پر دو تین مضامین لکھے تو اعتراض ہوا کہ منٹو کی Cult بنا رہے ہیں۔ اب دیکھیے انگریزی میں سامرسٹ مائم جیسے دوئم درجے کے ناول نگار کم از کم آٹھ دس تنقیدی کتابیں تو میری نظر سے گزری ہیں۔ یہاں دو تین مضامین ہی میں Cult بنانے کا خدشہ جاگ اٹھتا ہے ۔ انیسیوں اور دبیریوں کی گروہ بندی سے ابھی تک ہم نجات نہیں پاسکے۔ منٹو کی تعریف کیجیے تو کرشن کے گوالے سمجھتے ہیں کہ استاد پر در پردہ چوٹ کی گئی ہے۔ اب ہم نے ادب میں قلعی گری کا ہی دھندا شروع کیا ہے تو مضامین کا پیٹ پالنے کے لیے برتنوں کی ضرورت تو پڑے گی۔ منٹو پر لکھا تو کرشن چندر پر بھی لکھا۔ اب بیدی پر لکھیں گے۔ کرشن چندر نے فن کی دیگچی کا استعمال احتیاط سے نہیں کیا تو کچھ ٹھوکنا بجا نا بھی پڑتا ہے۔ ہم پر وہت تو ہیں نہیں کہ برتن کا استعمال عصری آگہی کا پرشاد بانٹنے کے لیے کریں۔
کرشن چندر کے متعلق میرا فیصلہ یہ تھا کہ وہ اردو کے بڑے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ منٹو، بیدی، عصمت ، غلام عباس وغیرہ کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ دوئم درجے کے لکھنے والے نہیں ہیں۔ اول درجے کے لکھنے والے ہیں گوان کی تمام تخلیقات اول درجے کی نہیں ہیں ۔ بس اسی قسم کی دارو گیر اپنا معاملہ ہے ۔ جس فن کار میں رطب و یابس زیادہ ہوتا ہے اس پر مضمون بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ رام لعل پر تھا کہ لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہم بغل گیر ہو رہے ہیں یا گریبان گیر۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ جس دور تشدد میں ہم رہ رہے ہیں اسے نظر انداز کر کے صرف جمالیاتی تنقید لکھنا بھی ہمیں گوارا نہیں تھا۔ خیر سماجیات کو تنقید میں داخل کرنا تو اتنی مشکل بات نہیں تھی لیکن خدشہ یہ تھا کہ مظلوم انسانیت کے زخموں کو چھوتے وقت بھی آدمی اخلاقی اور جذباتی برتری اور دردمندی کے پندار کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنی انسان دوستی اور دردمندی کی نمائش کے ذریعہ ہمدردیاں وصول کرنا نہایت ہی اسفل تنقیدی ہتھ کنڈا ہے جسے ہمارے یہاں کی معاشرتی تنقید ہمیشہ استعمال کرتی آئی ہے۔ اس سے کم از کم ان لوگوں کو بڑی آسانی سے نیچا دکھایا جا سکتا ہے جنہیں اس قسم کی جذباتی لرزشوں کی نمائش کے مواقع حاصل نہیں کیوں کہ ان کے سرو کار آرٹ اور جمالیات کے دوسرے مشاغل سے ہیں ۔ وہ لوگ جو زبان کے بخیے ادھیٹر رہے ہوں اگر انسانیت کے زخموں کی بخیہ گری نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسانیت کا غم انہیں ہم سے کم ہے۔ ان کی مصروفیات دوسری نوعیت کی ہیں۔
لیکن مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ جس قسم کی جمالیاتی یا ہنرمند انہ یا یوں کہیے کہ زبان و بیان کی تنقید ہمارے یہاں لکھی جارہی ہے، وہ بھی ذہن کو مطمئن نہیں کرتی۔ یعنی اکسپرٹائز کی پوری داد دینے کے باوجود ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس نوع کی تنقید آرٹ کے کل پرزوں کا حساب تو رکھتی ہے لیکن زندگی کے ان تجربات کو چھو نہیں پاتی جو شعر و ادب کا موضوع ہیں۔ ایسی تنقید نہ صرف ٹکنیکل کتابوں کی مانند خشک اور میکانکی ہوتی ہے بلکہ اس معنی میں غیر انسانی بھی لگتی ہے کہ وہ انسانی تجربات کی پوری کائنات کو جس کا احاطہ کسی بڑے شاعر کا کلام کرتا ہے اپنے دائرہ عمل سے بارہ پتھر دور رکھتی ہے۔ سوال شاعر کے فلسفہ ٔحیات یا خیالات وغیرہ پر لن ترانیوں کا نہیں ہے کہ اس سے تو ہم خود اس قدر بیزار ہو گئے ہیں کہ عرصے سے اقبالیات کا مطالعہ ترک کیے بیٹھے ہیں۔ بلکہ شاعر کے احساسات و تجربات کی اس رنگا رنگ دنیا کا ہے جس سے ہم اس کی شاعری کے ذریعہ دوچار ہوتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ تنقید درسِ بلاغت کے علاوہ کچھ اور کام بھی کرتی رہی ہے یا نہیں۔ تنقید کا ہمارا تجربہ بتا تا تھا کہ زبان و بیان کی تنقید محض ایک جزو ہے ناقدانہ ذہن کی اس وسیع سرگرمی کا جو فن کے فن کے تمام پہلوؤں کو اپنی دسترس میں لیتی ہے ۔ وہ دس پندرہ کتابیں جو شیکپیئر کی زبان پر لکھی گئی ہیں نہایت اہم اور بصیرت افروز ہیں، لیکن ان اہم کتابوں کے لکھنے والوں کو یہ دعویٰ نہیں کہ شیکسپیئر کا صحیح مطالعہ اس کی زبان ہی کا مطالعہ ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ جو ہزار دو ہزار کتا بیں شیکسپیئر کے فن کے مختلف پہلوؤں پر لکھی گئی ہیں وہ شاید ان کتابوں سے زیادہ اہم ہیں کیوں کہ شیکسپیئر کے ڈراموں کی تفہیم و تفسیر اور ان سے لطف اندوزی کے آداب کی تربیت کا کام وہ بہتر طور پر کرتی ہیں۔ لسانیاتی تنقید کا یہ دعویٰ کہ اسی کا طریقۂ کار شعر کی تحسین کا واحد اور صحیح طریقۂ کا ر ہے غلط ثابت ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹ کی دنیا اتنی پہلو دار اور اتنی گہری اور پیچیدہ ہے کہ کسی ایک پہلو کا خصوصی مطالعہ تنقید کا پورا حق ادا نہیں کرتا ۔
تو ہمار امسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہو گیا ، جس قسم کی جمالیاتی تنقید ہمارے یہاں لکھی جا رہی تھی ذہن اس سے بھی غیر مطمئن تھا اور سماجی تنقید سے بھی خوش نہیں تھا کہ وہ کوری صحافت تھی ۔ فن کاروں پر ایسی تنقید لکھنا کہ اس میں سماجیات آنے ہی نہ پائے ہمیں گوارا نہیں تھا، لیکن پڑھنے والوں کا ذہن سیاہ وسفید کی تقسیم کا عادی تھا۔ قطعی اور حتمی فیصلے چاہتا تھا۔ ہم تو سمجھے تھے کہ نقاد کو رد و قبول کی جدلیات کے تناؤ میں جینا چاہیے۔ ہم تو بتانا چاہتے تھے کہ سماجی ادب بھی جب محض احتجاجی اور میلاناتی بنتا ہے تو اس گہرائی کو کھو بیٹھتا ہے جو فن کارانہ تخیل اسے عطا کر سکتا ہے۔ یعنی جمالیات سے بے پروائی خود اخلاقیات کو اچھی اخلاقیات بننے نہیں دیتی۔ لیکن جمالیات کی بحث کو ہم محض زبان و بیان تک بھی محدود رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اس کشمکش کا کوئی آسان حل ہمیں سجھائی نہیں دیا تو وہی کیا جو ایسے حالات میں ہم کرتے آئے ہیں۔ دو چار انگریزی کی کتابیں اٹھالائے کہ سوچنے کا کام آج بھی ہمارے لیے انگریز ہی کرتے ہیں۔ اب دیکھیے کہ انگریز سماجی اور احتجاجی ادب کی بحث کس طرح کرتے ہیں۔ سفید فام لوگ ہیں ان کی سب سے بڑی آزمائش تو حبشیوں کا ادب ہی ہو گا۔ تو بات وہیں سے شروع کریں۔
رچار ڈ رائٹ ، جیمس بالڈون اور لیروئی جانس ..... یہ ہیں وہ تین حبشی فن کار جن میں برہمی کے ادب ، اور پورے آدمی کے ادب، اور کمٹ منٹ کے ادب کی تمام داستان پھیلی پڑی ہے ۔ بالڈون کا ادب رد عمل ہے رچا ر ڈ رائٹ کے بے پناہ برہمی کے ادب کا، اور لیروئی جانس کا کمٹ منٹ کا ادب رد عمل ہے بالڈون کے پورے آدمی کے ادب کا ۔
یہ بات سچ ہے کہ حبشی ادیب تو پیدائشی کمیٹیڈ ہوتا ہے، چاہے وہ پسند کرے یا نہ کرے ،اس کا رنگ اسے امریکی معاشرہ میں ایک خاص آدمی بناتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جس کے آبا ؤاجداد غلام تھے، جو ظلم وستم کا نشانہ رہا، جسے تہذیب و تمدن کی برکتوں سے محروم رکھا گیا ، اور اب جو جانوروں کی سی زندگی گزارتا ہے، اور جسے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ادب کی جمالیات کی بات جانے دیجیے ، اس کے لیے تو خود لکھنے کا عمل جیسا کہ جیمس بالڈون نے بتایا ہے احساسِ گناہ پیدا کرتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے لکھنے کی میز پر نہیں بلکہ محاذ جنگ پر ہونا چاہیے ۔ یہ احساسِ جرم ہر کمیٹڈ فن کار کا مقدر ہے ۔ سردار جعفری کا وہ مصرع یاد کیجیے ۔’’ ساتھیو! میرے ہاتھ سے اب قلم چھین لو، اور بندوق دے دو۔‘‘
احساس جرم حبشی فن کار سے انتقام کا ادب لکھواتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ سفید فام لوگوں پر اس کے ادب کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اُن کے تعصیات ویسے ہی قائم رہیں گے اور وہ اسے ادب کے طور پر ہی پڑھیں گے، اور وہ ادب لکھنا نہیں چاہتا ، وہ تو اپنی اندر کی آگ کو بیان کرنا چاہتا ہے۔ لیکن کس کے سامنے ، تعصبات کی چٹانوں کے سامنے ؟ رہے اس کی نسل کے لوگ تو وہ تو بر سر پیکار ہیں۔ اسے بھی ان کے ساتھ محاذ پر ہونا چاہیے۔ اس احساس کا لازمی نتیجہ انتقام کا ادب ہے۔ انتقام کے ادب میں بے پناہ برہمی، احتجاج اور کرودھ ہوتا ہے۔ یہ ادب جمالیات کی فکر نہیں کرتا۔ جمالیات اور تہذیب کی بات بھی اسے ایک ستم ظریف مذاق معلوم ہوتی ہے ۔ ذرا حبشی فن کاروں کے سامنے یہ بات کیجیے کہ ادب کے اچھے اور برے ہونے کا معیار جمالیاتی ہوتا ہے اور دیکھیے کیا رد عمل پیدا ہوتا ہے جیمس بالڈون کا یہی ڈائیلما ہے۔ ایک حبشی ہونے کے ناتے وہ کمیٹڈ ہے اور کر ودھ کا ادب ہی پیدا کر سکتا ہے، لیکن ایسا ادب حبشی کو ایک پورے آدمی کے طور پر پیش نہیں کرتا۔جمیس بالڈون کو رچار ڈ رائٹ پر اعتراض یہی ہے کہ اس نے اپنی شہرۂ آفاق ناول Native Son میں حبشی کے کرودھ کو تو دکھایا لیکن حبشی بھی آخر ایک انسان ہے۔ وہ دوسرے حبشیو ں کے ساتھ انسانی تعلقات کی جس سطح پر جیتا ہے وہ سطح اس کے کردار کو ایک انسانی ڈائمنشن بخشتی ہے۔ اس ڈائمنشن کو کھو کر ر چار ڈرائٹ کا کر داربگر تھامس تحت انسانی اور حیوانی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ بالڈون نے بتایا ہے کہ رچارڈ رائٹ کے ناول کا خاکہ خوف فرار اور مقدر کے عناصر سے بنا ہے۔ بگر تھا مس کا مقابلہ جن حالات سے ہے ان پر وہ قابو نہیں پا سکتا۔ اور اس کا فرار گر فتا ری اور موت گو یا تقدیر کے پھیلائے ہوئے جال کے مختلف حلقے ہیں ۔ وہ ایک خوفزدہ جانور کی طرح بھاگتا ہے ، گر فتار ہوتا ہے اور موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ بالڈون کا کہنا ہے کہ حبشی کو بھی اس کی Totality کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ اس کی زندگی کے تمام پہلو سامنے آجائیں۔ اسے محض ایک احتجاج کا ذریعہ نہ سمجھا جائے ۔ بالڈون یہ بھی کہتا ہے کہ ایک فن کار کے طور پر تمہیں جاننا چاہیے کہ جن لوگوں کے متعلق تم لکھ رہے ہو وہ صرف حبشی نہیں بلکہ انسان بھی ہیں۔ ایک سفید فام کی حبشی سے نا انصافی ایک انسان کی انسان سے نا انصافی ہے، اور انسانی دکھ نسلی اور طبقاتی نہیں ہوتا انسانی ہوتا ہے اسی لیے آفاقی ہوتا ہے۔ گویا انسان کو محض سماجی تعلقات کی روشنی میں نہ دیکھا جائے بلکہ انسانی تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے ۔ یہ گویا اس سماجی ادب کی طرف پہلا قدم ہے جو انسان کو اس کے ہنگامی تعلقات میں دیکھنے کی بجائے مابعد الطبیعاتی تناظر میں دیکھتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی نا انصافی انسانی مقدر کا حصہ بن جاتی ہے ۔ وہ فن کار جو انسانی حقیقت کو پانے کی کوشش کرتا ہے وہ حبشی کی سماجی حقیقت کو پوری شدت سے پیش کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس کے ادب میں فلسفیانہ گہرائی تو پیدا ہوتی ہے لیکن احتجاج کی شدت کی قیمت پر۔ خود بالڈون کو بہت جلد اس بات کا احساس ہونے والا تھا کہ حبشی ادیب کی ذات میں ایک فن کار کی ذمہ داریوں اور ایک سماجی آدمی کی ذمہ داریوں میں جو جنگ جاری ہوتی ہے اس کا کوئی آسان حل نہیں ہوتا۔ سماجی مسئلہ کو ما بعد الطبیعاتی بنانے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے اس کی طرف سارتر نے دلچسپ اشارہ کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اگر ایک بچہ مرجائے تو تم اس دنیا کی نا معقولیت کو ملزم قرار دیتے ہو، اور اس اندھے اور بہرے خدا کو جسے تم نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ اس کے منہ پر تھو کو ، لیکن بچہ کا باپ، اگر وہ بیکار مزدور ہے تو انسانوں کو ملزم قرار دے گا ۔‘‘ جیمس بالڈون جب کہتا ہے کہ حبشی کا ماضی نہایت درد ناک اور لہو میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن یہ ماضی صرت حبشی کا نہیں بلکہ انسانی نسل کا ماضی بھی ہے ۔ تو وہ گویا ایک اسٹیریو ٹائپ کو آر کی ٹائپ میں بدلتا ہے اور اس غیر عملی نظر کا شکار ہوتا ہے جس پر سارتر نے طنز کیا ہے لیکن بالڈون فن کی خاطر اس خطرے کو مول لیتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ جیمس بالڈون کا ناول Another Country جو ایک شاہکار ہے دونوں مسائل یعنی حبشی کا نسلی مسئلہ اور اس کا وجودی مسئلہ دونوں کا خوبصورت امتزاج پیش کرتا ہے بالڈون کی دلچسپی حبشی کے کردار میں ایک اسٹیر و ٹائپ کے طور پر ہی نہیں ہے بلکہ ایک فرد کے طور پر بھی ہے ۔ وہ اس کے اندرون میں جھانک کر دیکھتا ہے اور اس کی روح میں اس کی چمڑی سے بھی زیادہ تاریک قوتوں کا طلاطم نظر آتا ہے۔ اس کا تشدد اپنی ذات سے نفرت کا پیدا کردہ ہے اور ذات سے یہ نفرت نتیجہ ہے نسلی امتیاز کا۔ یہ ایک حبشی اور سفید فام لڑکی کی محبت کی کہانی ہے ۔ اور یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جسے صرف نسلی تعصب ہی تباہ نہیں کرتا بلکہ اس کی تباہی میں اس کی اپنی شخصیت کا بھی بڑا حصہ ہے جو محبت کی اہل نہیں رہی ۔ اس ناول میں بالڈون حبشی مسئلہ کو ہی پیش نہیں کرتا بلکہ حبشی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے، اور اس طرح نسلی تعصب کو نظر انداز کیے بغیر وہ فرد کی تنہائی اور اس کی روح کی تلاطم خیزیوں کی آگہی بھی حاصل کرتا ہے۔
جمیس بالڈون کا ڈراما The Blues For MT Charlie اس کی ناولوں جتنا کامیاب نہیں ہو سکا تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی پوری انسانیت برقرار نہیں رکھ سکا۔ ایک طرف تو اس نے سفید فام کرداروں کو غیر انسانی بتایا ہے جوکسی حد تک قابل در گذر ہے (کیوں کہ جب ایک حبشی مصنف حبشی مسئلہ پر لکھتا ہے تو نفرت، غصہ اور انتقام کے جذبہ پر اتنا قابو رکھنا کہ سفید فام کرداروں سے انصاف کیا جا سکے اس کے لیے ذرا مشکل ہی ہوتا ہے) تو دوسری طرف وہ حبشی کرداروں کے متعلق کافی جذباتی بھی بنا ہے۔ اس نے احتجاجی ناول کی جذباتیت پر اعتراضات کیے ہیں۔ اور جذباتیت زبان کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے اس سے وہ بہت ناخوش ہے لیکن اس کا ڈراما ان معائب سے پاک نہیں رہ سکا اور اس کا ہیرو ایک اسٹیر یوٹائپ کردار کی سطح سے بلند نہیں ہو سکا۔ اس کا ہیرو بھی اسی کر ودھ کا مجسمہ بن کر رہ گیا ہے جو بالڈون کو رچار ڈ رائٹ کے ہیرو میں نظر آیا تھا اور جسے اس نے نا پسند کیا تھا۔ پھر ڈرامے کے سفید فام لبرل کردار میں اخلاقی تنا فص پیدا کر کے اس کے ارتباط کو کافی گزند پہنچائی ہے ۔ یہ تناقص بالڈون نے شاید اندرونی تبدیلی سے بچنے کی خاطر پیدا کیا ہے لیکن اس ڈرامے کا اخلاقی مقصدا لجھ گیا ہے ۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں ڈرامے کا تفصیلی تجزیہ کروں حالاں کہ یہ ڈراما اور اس پر لکھی گئی تنقید دونوں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں تو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ فن کار جو سماجی ادب کے نام پر صرف سماجی دستاویز لکھنا نہیں چاہتا اور احتجاجی ادب کی سادگیوں سے گزر کر نسلی اقلیت کے تجربہ کو ایک انسانی تجربہ میں بدلنا چاہتا ہے اس کے سامنے کیا کیا دشواریاں آتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف فن پر دسترس کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اپنی ذات پر قابو رکھنے کا بھی مسئلہ ہے جو ایک حبشی فن کار کے لیے کتنا مشکل ہے اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہاں مسئلہ بغاوت سے پہلو بچانے کا نہیں ہے کیوں کہ حبشی کے لیے بغاوت تو وجود کی علامت ہے کامیو کا جملہ کہ میں بغاوت کرتا ہوں اس لیے میں ہوں حبشی کے لیے حرف بہ حرف صحیح ہے۔ اسی لیے تو وہ اپنے وجود کا اثبات کے لیے تشدد کا سہارا لیتا ہے۔ حبشی ادب میں تشدد علامت ہے ذات کے اثبات کی۔ وہ معاشرہ جو تشدد پر قائم ہے اور جو نسلی اقلیت کے وجود تک سے بے خبر ہو گیا ہے (ملاحظہ ہو رالف ایلسین کا شاہکار The Invisible Man ) اس معاشرہ میں حبشی تشدد کے ذریعہ ہی یہ بات منوا سکتا ہے کہ وہ بھی ہے۔ لیکن تشدد نفرت جذبۂ انتقام خود انسان کے کردار کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہ بھی اچھا نہیں ہوتا ۔ اس لیے کر ودھ کو اگر صحیح راستہ پر نہ لگایا جائے تو وہ کردار کو تباہ کر دیتا ہے ۔ جس کا ثبوت حبشی ادب کے وہ تمام کر دار ہیں جو باہر کے ظلم اور اندر کی برہمی سے بالآخر برباد ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ڈرامے کا اختتام بندوق اور بائیبل کی علامتوں پر ہوتا ہے ۔ جیمس بالڈون ایک موقعہ پر کہتا ہے ۔
’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو ہمیشہ اپنے ذہن میں دو مخالف خیالوں کو جگہ دینی ہوگی پہلا خیال تو قبولیت کا خیال ہے۔ زندگی جیسی کچھ ہے اور لوگ جیسے کچھ ہیں ان کو مکمل طور پر بغیر کسی عناد کے قبول کرنا۔ اس خیال کی روشنی میں یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ نا انصافی ایک عام سی چیز ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی مطمئن ہو کر بیٹھے رہے، کیوں کہ دوسرا خیال ہے مساوی طاقت کا ۔ آدمی کو ا پنی زندگی میں نا انصافیوں کو کبھی معمولی چیز سمجھ کر قبول کرنا نہیں چاہیے بلکہ اپنی پوری طاقت سے ان کے خلاف جنگ کرنی چاہیے۔ لیکن جنگ کا آغازہ بہر حال دل سے ہوتا ہے اور اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ اپنے دل کو نفرت اور مایوسی سے پاک رکھوں۔“
جیمس بالڈون کو گاندھی جی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ، لیکن ان جملوں میں گاندھی جی کی آواز صاف سنی جا سکتی ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ گاندھی جی سے کتنا متاثر تھا اس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں ۔ اس نے تو اپنی پوری تحریک کی بنیاد ہی عدم تشدد پر رکھی تھی ۔ جیمس بالڈون کی تحریروں اور مارٹن لوتھر کنگ کی تقریروں میں جو ایک گہرائی ملتی ہے وہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کا مطلب ہے آپ جو بھی رویہ اپنا ئیں اس کے Implications کو مکمل طور پر قبول کریں ۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ پورا ادب اس ادب سے بہت مختلف ہے جو انسان کو صرف اس کے اقتصادی رشتوں میں دیکھتا ہے ، اور اسے اندر سے بدلنے کی بجائے صرف باہر سے بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دوسرے قسم کا ادب زیادہ احتجاجی ، زیادہ متشدد، زیادہ عسکر یا نہ اور زیادہ انقلابی ہوتا ہے۔ اس میں دانشورانہ گہرائی کم لیکن جذباتی وفور اور شدت زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ ادب پہلے قسم کے ادب کو محض نازک احساس اور دوغلے پن اور عیاری کا ادب کہہ کر اس پر حقارت کی نظر ڈالتا ہے۔ لیروئی جانس کا ادب اسی قسم کا ادب ہے اور جیمس بالڈون کی طرف اس کا رویہ محض حقارت کا رویہ ہے۔
لیروئی جانس ان انتہا پسندوں میں سے ہے جو بیچ کا کوئی راستہ نہیں دیکھتے۔ آدمی یا تو ظالم ہے یا مظلوم۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوم کا تشدد صورت حال کو ظاہری طور پر بدلتا ہے بنیادی طور پر نہیں۔ اس کا تشددانتقام میں بدل جاتا ہے اور نسلی امتیاز کا کوئی انسانی حل تلاش کرنے کی بجائے وہ علیحدگی پسندی کی راہ نکل پڑتا ہے۔ اگر سفید فام آدمی نے حبشی کو غلام بنایا ہے تو وہ اپنے ڈرامے، ’’ غلام ‘‘میں حبشی کے ہاتھ میں روا لور دے کر سفید فام آدمی کو اسی حالت میں رکھ دیتا ہے جس میں کبھی حبشی تھا اور بڑی حد تک آج بھی ہے۔ سفید فام نسل پرست کے مقابلہ میں وہ حبشی نسل پرست کو لاتا ہے اور حبشی بھی اب اتنا ہی تنگ نظر اور جارحانہ ہے جتنا کہ سفید فام تھا۔ اس کا سب سے زیادہ عتاب ان لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو لبرل ہیں اور جو Assi Milation اور Integration کی بات کرتے ہیں۔ لیروئی جانس کے ڈرامے کی منطق اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ حبشی مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے سوائے ایسی بغاوت کے جس میں حبشی سفید فام آدمی کی غلامی سے مکمل طور پر نجات حاصل کر لیں The Slave اسی بغاوت کو پیش کرتا ہے ۔ یہ ڈراما گو یا خطرے کی گھنٹی ہے کہ لوگوں نے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو مستقبل ان کے لیے کیا تحفہ لے کر آئے گا ۔نا رمن میلر نے جسے سفید فام اور سیاہ فام آدمی کا ناگزیر تصادم کہا ہے، اس کی بھیانک تصویر اس ڈرامے میں نظر آئے گی۔ اس ڈرامے میں تصادم باغی حبشی اور سفید فام لبرل میں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لبرلزم کی موت کا نتیجہ سیاہ بناوت کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا، اور ڈرامے کے حبشی ہیرو جو باغیوں کا لیڈر ہے کے الفاظ میں لبرل آدمی نے ایک ایسے معاشرہ میں جو طاقت اور تشدد پر قائم ہے، سوائے جمہوری اصولوں کی باتیں کرنے کے اور کچھ نہیں کیا۔ ڈرامے میں لبرل رویہ ہی کی تنقید نہیں بلکہ اس کے خلوص اور ارتباط پر بھی حملہ ہے ۔ گویا لبرلزم کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے وہی نسل پرستی کا بھیڑ یا چھپا ہوا ہے۔ اس زاویۂ نظر کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ تصادم کو اخلاقی سطح سے ہٹا کر تاریخی سطح پر لے جایا جائے۔ یعنی حبشی کے لیے نجات کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ طاقت اور اقتدار کے اس سرچشمہ پر قبضہ کرے جو ابھی تک سفید فام آدمی کے تصرف میں تھا۔ ایک وہ دن تھا جب طاقت سفید فام لوگوں کے پاس تھی ایک یہ دن ہے جب طاقت سیاہ فام لوگوں کے پاس ہے۔ اس طاقت کا استعمال سیاہ فام لوگ کیسے کریں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس سے لیروئی جانس اور اس معنی میں ہر باغی آنکھیں چار نہیں کرتا کیوں کہ دردمندی اور محبت کی قدروں کو تو باغی اُسی وقت خیر باد کہہ چکا تھا جب اس نے لبرلزم کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا دارو مدار افراد پر ہے جس طرح ان افراد پر تھا جو سفید فام لوگوں میں تبدیلی لانا چاہتے تھے ۔ طاقت کی تبدیلی کوئی مسئلہ حل نہیں کرتی جب تک طاقت کو اخلاقی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ آرتھر کوٹلر نے یوگی اور کمیشار میں بتایا ہے کہ یوگی آدمی کے اندر تبدیلی لانا چاہتا ہے ۔ جب کہ کمیشار باہر کی تبدیلی میں یقین رکھتا ہے۔ یوگی اور اس معنی میں آپ دیکھیں گے کہ دنیا کے تمام بڑے فن کار اور خود حبشی فن کاروں کی بھی ایک بڑی تعداد انسانی قدروں کی بنیادی تبدیلی میں یقین رکھتے ہیں،جب کہ کمیشار اور انقلابی فن کار سیاسی عمل اور انقلابی تغیر میں یقین رکھتا ہے یوگی تاریخی جبریت سے بلند ہو کر بات کرتا ہے جب کہ کمیشار تاریخی عمل کا پابند ہو جاتا ہے ایک انسان کے بدلنے کا انتظار کرتا ہے دوسرا وقت کے بدلنے کا۔ لیروئی جانس جس تبدیلی کا خواب دیکھتا ہے اس کا کوئی اخلاقی اور سماجی ڈائمنشن نہیں ہے ۔ یہ تبدیلی محض طاقت کی تبدیلی ہے۔ پہلے ظالم کی چمڑی سفید تھی ، اب وہ سیاہ ہوگئی ہے ۔ غلامی بدستور موجود ہے، صرف آقا اور غلام کا رنگ بدل گیا ہے ۔ تشد دبدستور موجود ہے، صرف اس کی سمت بدل گئی ہے۔ یہ وہ دوراہا ہے جس پر ہر انقلابی کا فن اخلاقی ڈائلیما کا شکار ہوتا ہے، اور وہ اس ڈائلیما کا کیسا حل نکالتا ہے اسی پر اس کے فن کی عظمت کا دارو مدار ہے۔ اس مقام پر زیادہ تر لکھنے والے فکری ابہام اور اخلاقی Ambivalence کا شکا ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ لیروئی جانس کا ہیرو ادب اور شاعری کو مکمل طور پر مسترد کرنا ہے ۔ کسی زمانے میں وہ شعر لکھا کرتا تھا لیکن میدانِ عمل میں سرگرم ہونے کے بعد شاعری بالکل بے کار اور غیر متعلق ہو گئی ہے۔ حق عمل میں ہے اور عملی آدمی کے لیے وہ تمام سرگرمیاں جو براہ راست اس کے عمل سے وابستہ نہیں ہوتیں اور کارآمد نہیں ہوتیں ، محض ذہنی عیاشی ہیں۔ عملی آدمی بننے کے لیے آدمی کو شاعری اور سماجیات دونوں کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ جب مقابلہ طاقت کے حصول ہی کے لیے ہو تو یہ سب باتیں غیر ضروری اور غیر متعلق بن جاتی ہیں۔ لیروئی جانس کے ڈرامے اس طرح بے پناہ کرودھ کے پیدا کردہ انتقامی ڈرامے ہیں۔ یہ ڈرامے اپنے عمل کے پیدا کردہ تضادات کو حل نہیں کرتے ۔ یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
نیگرو ادب کے اس سرسری تجزیہ میں میری دلچسپی صرف یہ تھی کہ ادبی تنقید کو آج کے زمانہ میں جب کہ ادب میں زیادہ سے زیادہ ظالم و مظلوم کے تصادم کا بیان ہورہا ہے، اگر سہل سیا سی رویوں سے بچنا چاہتی ہے تو کئی دستوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا پڑے گا۔ ایک نظر سے دیکھیں تو بر سر اقتدار طبقہ کا نقطۂ نظر زیادہ سے زیادہ لبرل ہی ہو سکتا ہے۔
ادب کی روایت انسان دوستی کی روایت ہے ۔ لیکن لبر لزم اپنی معنویت کھو چکا ہےکیوں کہ مسائل کا حل اس کے پاس نہیں ہے ، چاہے انتہا پسندی مسائل کو حل نہ کرے لیکن وہ ناگز یر رویہ بن گئی ہے۔ انتہا پسند دور کا ادب انتہا پسند ہی ہوتا ہے اور ادبی تنقید کے پاس ایسے ادب کی پرکھ کے کوئی پیمانے نہیں ہیں۔ کیوں کہ ادبی تخلیق جس جمالیاتی نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے وہ انتہا پسند اور پر انتشار دور میں ممکن نہیں ۔ دور انحطاط اور دور انتشار کا ادب اس معنی میں اعلیٰ ادب نہیں ہوتا جس معنی میں ایک استقامت یا فتہ معاشرے کا ادب ہوتا ہے ۔ ادب کی پر کچھ کے کلاسیکی پیمانے ایسے ہی معاشرے کے عطا کردہ ہوتے ہیں۔ یہ پیمانے ہنگامی حالات کے پیدا کردہ ادب کی پرکھ میں کام نہیں لگتے۔ نئے پیمانے اتنی آسانی سے وضع نہیں ہوتے اسی لیے ہنگامی حالات میں تنقید زیادہ سے زیادہ صفات کا بیان کر سکتی ہے اور یہ بھی ممکن نہ ہوا تو حز بی رویہ اختیار کر کے ایک نئی قسم کی جذباتی خطابت کو اپنا کر احتجاجی ادب کا دم میں دم بھرتی ہے۔ تنقید پھر تنقید نہیں رہتی سیاسی پمفلٹ اور صحافت بن جاتی ہے تنقید جب اپنا فرض ادا کرنے بیٹھتی ہے تو وہ احساسِ جرم کا شکار ہوتی ہے کہ جمالیات کے نام پر وہ انسانی تقاضوں کو جھٹلا رہی ہے۔ آدمی ادب سے زیادہ اہم ہے، اور انسانیت جب لہو لہان ہو تو جمالیات کی بات بھی عیاشی لگتی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جس بے محابا تشدد کا ہمیں سامنا ہے اس سے شعر و ادب بھی محفوظ نہیں رہے۔ فکر کا دامن بھی تار تار ہے اور اسی لیے کوئی اطمینان بخش تنقیدی رویہ تشکیل نہیں پا رہا ۔
اب ایک نظر سفید فام لوگوں کے ڈراموں پر ڈال لیں :
ابسن کا سماجی ڈراما برنارڈ شا کے یہاں پر ابلم پلے کی شکل اختیا رکرتا ہے۔ اس کا تھیٹر خیالات کا تھیٹر کہلا تا ہے۔ نقاد کہتے ہیں کہ شاکے یہاں کردار خیالات کی بے ساکھیوں پر چلتے ہیں، اور ان میں وہ نفسیاتی گہرائی اور پیچیدگی نہیں ملتی جوابسن کے کرداروں میں نظر آتی ہے۔ خود شا طنزاً کہا کرتا تھا کہ اس کے ڈرامائی مکالمات ’’مکالمات افلاطون‘‘ کی دوسری قسم ہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ شا اپنے ڈراموں میں سماجیات اور جمالیات کی کشمکش کو شدید سے شدید کرتا رہتا ہے اور کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں کرتا ۔ دراصل شاجانتا تھا اور خوب اچھی طرح جانا تھا کہ جیل خانہ کی اصلاح پر چارلس ریڈ کے سماجی ڈرامے کا آرٹ کبھی بھی ہملٹ ، فاؤسٹ اور پیٹر گنٹ کے آسٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ بھی جانتا تھا کہ ابسن کا گڑیا گھر کبھی وہ جا دو نہیں جگا سکتا جو شیکسپیئر کا’’ موسم گرما کا خوابِ نیم شب‘‘ جگاتا ہے ۔
اصلاحی ادب سماجی اصلاح کا کام تو کرتا ہی ہے اور مصلحین کا عرس ہم جتنے دھوم دھڑا کے سے منائیں جائز ہے ۔ اگر ایک ڈراما جیل کی اصلاح کرتا ہے، یا ایک افسانہ جہیز کی قبیح رسم کو نابود کرنے میں مددکرتا ہے تو ہم ان کی جتنی تعریف کریں کم ہے۔ خود ان فن کاروں کے لیے اپنے فن پاروں کی ایسی کامیابی قابل اطمینان ہو سکتی ہے۔ لیکن شاکی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی ایسی خود اطمینانی کا شکار نہیں ہوا ۔ گو وہ اپنے نقادوں کو پریشان کرنے کی خاطر یہ کہتا تھا کہ Widow's House اس نے الیکشن میں ترقی پسند پارٹی کو ووٹ دلانے کی خاطر لکھا ہے لیکن اس کی خواہش یہی تھی کہ لوگ اس ڈرامے کو مولیئر کے ڈراموں کی مانند ایک فن پارے کے طور پر دیکھیں۔ اور سچ بات یہ ہے کہ شا کے بہترین ڈراموں کا مطالعہ ہمیں بتا تا ہے کہ اس کا آرٹ محض سماجی اور مقصد ی سطح پر حرکت کرنے والے فن کار کا آرٹ نہیں ہے۔ شا کے یہاں حقیقی تصادم ، قوتِ حیات اور اخلاقیات کے مصنوعی نظام کے بیچ ہے اور سماجی مسائل ان قوتوں کے عناصر ترکیبی کے طور پر سامنے آتے ہیں، فی نفسہٖ ایک مقصد نہیں ہوتے ۔ یہی فلسفیانہ ڈائمنشن اس کے پرابلم پلے کو گہرائی اور پیچیدگی عطا کرتا ہے اور جیسا کہ ہمارے یہاں ہوا ہے، اصلاحی اور مقصدی ادب کو صحافتی اور دستاویزی بننے نہیں دیتا۔ ایلٹ جو ابتدا میں شاکی سماجیات کی وجہ سے اس سے کافی بدظن تھا ، وقت گزرنے کے ساتھ اس کے فن کی گہرائیوں سے واقف ہوتا گیا اور اس کی تنقید میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ شا بظاہر جتنا نظر آتا ہے اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے ۔ ہم اس گہرائی کو نہ دیکھ سکے اور ہماری سماجی مقصدیت کی ساری تنقید شا میں صرف سماجی مسائل کی گتھیاں دیکھتی رہیں۔ انہیں تو یہ ثابت کرنا تھا کہ شا سماجی مقصدیت تو کیا ڈرامے سے برملا پروپیگنڈے کا کام لینے سے بھی گھبراتا نہیں تھا ۔ ہم یہ کیسے دیکھتے کہ اس کا عمل اس کے نظریہ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ سوال پھر معمولی اور غیر معمولی تخلیقی تخیل کا آتا ہے۔ طاقتور تخیل خود فن کار کے عائد کردہ نظریاتی حصاروں کو توڑ کر، اخلاقی اور سماجی پابندیوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر، فن پارہ کو اس بلندی پر پہنچا تا ہے جہاں وہ آٹ کا مکمل ترین نمونہ بنتا ہے۔ شا کا بہترین ڈراما سینٹ جان اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ڈرامیٹک جینئس کون سی بلندیوں پر پرواز کرنا چاہتی ہے ۔ خیر سینٹ جان تو شا کا ایک ایسا کرشمہ ہے جو اسے شیکسپیئر کے بعد انگریزی زبان کا سب سے بڑا ڈرامہ نگار ثابت کرتا ہے ، لیکن شانے جو سیاسی ایکسٹر اویگنز ا لکھے ہیں ، آ پیرا اور کامیڈی کے جو طنزیہ ملغوبے پیش کیے ہیں، وہ بھی تو اس کا ثبوت ہیں کہ بڑا فن کار محض بڑے فارم کے پیدا ہونے ہی کا انتظار نہیں کرتا بلکہ عامتہ الورد اور اکثر اوقات تو عامیانہ فارم ہی کو ذریعہ اظہار بنا کر بڑے آرٹ کی تخلیق کرتا ہے ۔ المیہ بنیادی طور پر قتل، سنسنی خیزی اور انتقام ہی کا تو عام پسند ڈراما ہے شیکسپیئر نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ مغرب میں جدیدیت کا ایک بڑا کارنامہ تو یہی ہے کہ اس نے پاپ آرٹ کو آرٹ بنا دیا ۔ ہمارے یہاں تو خیر جدیدیت کا پورا زور مختصر نظموں اور مختصر افسانوں پر ختم ہو گیا ۔ مغرب میں اس کا بڑا کارنامہ تو ایسبرڈ ڈرامہ ہے جو شعور کی رو، سرریلیزم ، خوابوں کے ناٹک ، لفظوں کے کھیل، اخبار کے تراشے، اشتہارات فحش ادب، ود ڈویل اور نہ جانے کون کون سے فن کارانہ اور عامیانہ مشاغل کا ملغوبہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب کا رنامے ہیں اس ذہن کے جو اخلاقیات ہی نہیں بلکہ فرسودہ جمالیات کے بندھنوں سے بھی آزاد ہو چکا ہے۔ ایسا ذہن مادر پدر آزاد نہ بنے اس کے لیے اسے خود پر جو تخلیقی ڈسپلن عائد کر نا پڑتا ہے اس کی بحث کی یہاں سردست گنجائش نہیں، ہم مغرب کی جدیدیت کا جواب کیا پیدا کرتے کہ سب سے بڑا خوف تو ہمیں آزادی کا ہی خوف ہے تحفظات چاہے خاندان کے ہوں ناتیوں، جاتیوں اور قبیلوں کے ہوں ،سیاسی اور نیم عسکری جماعتوں کے ہوں، مذہب یا سیاسی آئیڈ یو لوجی کے ہوں ہمارا تکیہ ہیں ۔
اب ایک نظر براخ کے تھیٹر کی طرف ڈالتے چلیں ۔ براخ کے متعلق بھی تو نقاد یہی بات کہتے ہیں کہ مارکسزم سے وابستگی کے باوجود اس نے افادی قدر کو جمالیاتی قدر کا نعم البدل نہیں سمجھا اور اس کے ڈرامے ان پرولتاری ڈراموں سے بہت مختلف ہیں جو سماجی احتجاج کے جذبہ کو آرٹ کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ اس کا ڈرا یا St. Joan Of The Stockyard اگر کمزور ہے تو اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ اس میں سیاہ سفید کی تقسیم بہت سہل اور واضح ہے ۔ اس کے برعکس The Good Women Of Sezuan جو خود براخ کے اس نظریہ کی نفی کرتا ہے کہ ڈرامے کو کوشش کرنا چاہیے کہ وہ آڈینس کو کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے تیار کرے، اس کے کامیاب ترین ڈراموں میں سے ہے کیوں کہ یہاں مسئلہ کو اس کی تمام پیچیدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور باوجود اس کے کہ ڈرامے میں Parabale کی سادگی ہے، ڈرامے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور ڈراما کسی اخلاقی نتیجہ پر ختم ہونے کے بجائے ناظرین کو اخلاقی کشمکش میں مبتلا کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ اس ڈراما میں براخ نے پرولتاری ڈرامے کی افادی اور مقصدی سہل پسندی اور سادگیوں کے بجائے انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو پورے طور پر استعمال کیا ہے۔ براخ کا تھیٹر نہ تو سیاسی تقریر بنتا ہے نہ سماجی دستاویز اور فی الحقیقت سماجی ڈرامے کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہ ہے کہ پرولتاری ڈرامے کے احتجاجی لب ولہجہ اور سیاسی کمٹ منٹ کا شکار ہوئے بغیر وہ آدمی کو اس کے سماجی تناظر میں اس کی پہلو داری اور کلیت کے ساتھ کس طرح پیش کرے۔
براخ بیسویں صدی کا بہت بڑا ڈرامہ نگار ہے۔ اس کے اجتہادات نے تھیٹر کا نقشہ بدل دیا ۔ امریکی ڈرامہ نگار آرتھر ملر براخ کے قدومات کا تو نہیں لیکن وہ بھی صدرنشینوں میں سے ہے۔ آرتھر ملر بھی سماجی ادب کے بہت سے ایسے پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جن پر ہمارے نقاد سماجی ادب کا ذکر کرتے وقت غور کرتے تو ان کے ادب کے معاشرتی تصورات اس قدر گٹھل اور اکہرے نہ رہتے ۔ ملر چاہتا تھا کہ سماجی ڈرامے کو صرف سماجی تعلقات کی عکاسی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان تعلقات کو جب محض معاشی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو وہ طبقاتی کشمکش کا روپ اختیار کر لیتے ہیں، اور فطری طور پرولتاریہ کا احتجاجی ادب وجود میں آتا ہے ۔ آرتھر ملر تو چاہتا تھا کہ سماجی ڈرامے کو انسانی فطرت کے اندر جھانکنا چاہیے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی اندرونی اور جذباتی ضروریات کیا ہیں۔ تاکہ ان ضروریات کو سماجی تصورات کی شکل میں پیش کیا جا سکے ۔ یہ گویا انسان کو اس کےسماجی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی بجائے مابعدالطبیعاتی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی طرف پہلا قدم ہے ۔ لیکن ایسا ڈرامہ اسی وقت ممکن ہے جب آدمی کے پاس آدمی میں دلچسپی لینے کی فرصت ہو ۔ جب پورا معاشرہ زبردست سیاسی بحران سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اور طبقاتی جنگ شدید ہو جاتی ہے تو لوگوں کی دلچسپی آدمی میں بطور فرد کے ختم ہو جاتی ہے۔ کسے فرصت ہے کہ آدمی کی فطرت کا مطالعہ کرے اور اس کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں دلچسپی لے، چناں چہ ایسے حالات میں جمالیات کے علاؤہ جس چیز کو ریڈیکل دانشور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں وہ انسانی فطرت اور نفسیات ہی ہے لیکن ایک نظر سے دیکھیے تو مظلوم کے پاس سوائے اس کی انسانی فطرت کے دوسر ا ر ہا بھی کیا ہے ۔ جس کی بنیاد پر وہ اپنی انسانیت کا اثبات کر سکے۔ جب گوتیمالا میں جابر آمر کے سفاک سپاہی بچوں کو دیواروں سے پٹخ پٹخ کر ان کی کھوپڑیاں پھوڑ رہے تھے تو ممکن ہے مجھ سا صاحبِ نظر وہاں ہوتا تو رواقیت سے کہتا کہ وقت کے تناظر میں تو یہ کچھ بھی نہیں اور تاریخ کی کتاب میں ایک اور خوں چکاں ورق کا اضافہ ہوا۔ لیکن کیا میری رواقیت ان ماؤں کے کام آسکتی تھی جوان ہو لنا کیوں کی شاہد تھیں۔ ان کی مامتا کسی ایک بے پناہ چیخ کی صورت ازلی مشیتوں کے خاموش ایوانوں میں لہو رنگ پیکاربن کر گونج رہی ہوگی۔ اور یہ مامتا کیا ہے۔ انسانی فطرت کا ایک عنصر، فطرت کو بدل دو تو مامتا کا جذبہ بھی نہ رہے۔ پھر تو ایسے مناظر صرف تاریخی حادثات بن کر رہ جائیں۔ محض چند چونکا دینے والی اخباری خبریں ۔ اور کیا جدید تکنولوجیکل سائنسی معاشرے کی پیش قدمی اسی جانب نہیں ہے کہ آدمی کو زیادہ سے زیادہ کار آمد، با عمل، ذہین اور چاق چوبند بنائے کہ کارزارِ حیات میں خواہ مخواہ غیر ضروری جذبات کا اصراف نہ کرتا رہے۔ زود حسی اور رقیق القلبی کردار کی صلابت میں قد غن ہے اور مردِ آہن جذ بات بھی آہنی اور سنگین رکھتا ہے ۔
میرے وہ دوست جو کرشن مرتی کے سوا کوئی اور چیز نہیں پڑھتے ان کی بھی کوشش فوق البشر کے اس مقام کو پہنچنے کی ہوتی ہے جہاں پر کھڑے وہ ازل اور ابد کی نا پیدا کنار پہنائیوں میں الہیاتی وقت کی موجوں پر کائناتوں کو مثلِ حباب ڈوبتا ابھرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہاں تو ہماری تمہاری دنیا حباب کی صورت بھی نہیں ہے۔ گوتیما لا اور آسام اور بیروت کے خونِ رائیگاں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ تو ہم خود دو چار دن کے بعد بھول جاتے ہیں۔ صاحب نظر اور فوق البشر دونوں رقیق القلب نہیں ہوتے ۔ یہ نسائی مشاغل تو ہم زنانیوں کے لیے رہ گئے ہیں ۔ تو ایک معنی میں فن کارکبھی تو عورت ہی ہے کہ تخلیق کا پورا جھمیلا اپنے ساتھ لگا رکھا ہے ۔ تخلیقی عمل پر آپ کتابیں پڑھیں تو آپ کو حیرت تو ہو گی کہ نظم اور بچہ دونوں کے پیدا ہونے کا طریقہ لگ بھگ ایک سا ہے۔ اسی لیے تخلیق فن کا ذکر لگ بھگ اپنی اصطلاحوں میں ہوتا ہے جو تولید کے بیان کے لیے وضع کی گئی ہیں ۔ فن کار کے لیے احساس کی آگ میں جلنے کے معنی بھی کیا ہیں سوائے اس کے کہ گردو پیش کی دنیا کو اپنے وجود میں جذب کرتا رہے کہ اسے دنیا کو اپنے فن میں ایک نئی معنویت کے ساتھ از سر نو تخلیق کرنا ہے۔ اسی لیے تو کامیو انسانی فطرت کی مطابقت اور پائیداری پر زور دیتا ہے۔ اسی لیے منٹو انسانی فطرت میں رہے ہوئے ان سرچشموں کی تلاش کرتا ہے جہاں سے حسن و محبت اور خیر و برکت کے حیات بخش جھر نے پھوٹتے ہیں۔ آخر برناڈ شاہ کو بھی تو سطحی سماجی تعلقات سے گزر کر قوتِ حیات کی گہرائیوں تک پہنچنا پڑ اتھا۔ آج کے بایو کیمسٹری کے زمانہ میں یہ نا ممکن نہیں رہا کہ ایک ایسا آدمی پیدا کیا جائے جو جذبات کا کھڑاگ مول لیناہی نہ چاہتا ہو۔ جذبات کے بےجا اصراف سے ہلکان ہونے سے تو یہی بہتر ہے کہ آہنی اعصا ب کے ذریعہ حادثات کا مقابلہ کیا جائے ۔ جب بچوں کی کھوپڑیاں تڑاخ سے اڑا دی جائیں اس وقت عورتیں ٹھنڈی سانس لے کر بیٹھ جائیں گویا یہ واقعہ سکول میں بچوں کی پٹائی سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ نروان اور نجات کے متلاشی سادھنا اور سلوک کی راہ پر گامزن فوق البشر کی لا تعلق پذیری بھی شاید اسی نوع کی کوئی چیز ہو..... مجھے پتہ نہیں کیوں کہ عارفوں کے ملفوظات میری نظر سے کم ہی گزرے ہیں۔ میں تو بہت ہی معمولی آدمی ہوں، افسانے اور ناول پڑھا کرتا ہوں جو اس آدمی کی بات کرتے ہیں جو مقامات اور نباتات کے بیچ زندگی کرتا ہے اور جس کے لیے جبلتوں اور جذبات کی توانائی اس کی انسانیت کی ضما نت ہے۔ آرتھر ملر بھی تو اپنے ڈراموں میں آدمی کے اسی المیہ کو پیش کرتا ہے کہ کیسے انسانی رشتے اقتصادی رشتوں میں بدل گئے۔ کیسے عشقِ جنون پیشہ جو سلطنتوں کو بوسوں پر نثار کرتا تھا اب سماجی دکھاؤ اور سماجی منزلت کے چھوٹے چھوٹے حقیر جذبات کا بہی کھاتا لکھنے بیٹھ گیا۔ انسانی فطرت میں ملر کو بھی تلاش تھی انہی سرچشموں کی جہاں سے بھر پور اور حیات بخش انسانی تعلقات کے دھارے نکلتے ہیں۔
لیکن یہ تو میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ انسانی فطرت اور انسانی مقدر وغیرہ وغیرہ میں دلچسپی لینے کے لیے فرصت کے رات دن درکار ہیں۔ یعنی معاشرے میں کم از کم اتنی تو استقامت ہو کہ آدمی معاشرتی مسائل پر سوچ بچار کر سکے اور وہ بھی اس خود اعتمادی کے ساتھ کہ اس کے سوچ بچار کا معاشرتی تبدیلیوں پر اثر پڑے گا۔ لیکن جب پورا معاشرہ بے محاباتشدد،انتشار اور اتھل پتھل کا شکار ہو تو نہ آدمی کے پاس سوچنے کی فرصت ہوتی ہے نہ اپنے خیالات پر اعتماد۔ فکر کی جگہ اندھا عمل لے لیتا ہے اور فرد کی قوتِ ارادی کی جگہ تاریخی قوتیں ایک معنی میں آدمی سب کچھ تاریخ کے حوالے کر دیتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کے یا کسی کے بھی ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر فرد تاریخ یا تمدن کے لیے محض کھا د ہے تو کھا د کی فطرت کیا اور فطرت کے تقاضے کیا، کھاد تو کیمیائی عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے، کل کو اٹھ کر اپنے بھوت میں مل جائے گی۔ آدمی جب میکانکی یا کیمیا وی وحدت بن جا تا ہے تو اس میں آدمی کی انسانی دلچسپی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر دنیا کی باتیں انسانی حوالے سے نہیں، بلکہ تاریخ سیاست اور تمدن کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ آدمی حال سے زیادہ مستقبل میں جتیا ہے اور اس طرح یو ٹو پین فکر جو خواب آفریں ہوتی ہے ، آئیڈیلزم تک کو ختم کر دیتی ہے جو حال کے حقائق سے بلند ہونے کی انسانی کوشش ہے۔ اس طرح فکر حال کے حقائق سے گریز کر کے یوٹوپیا کے خوابوں میں پناہ لیتی ہے ۔
اس انحطاط کی سب سے عبرت ناک مثال ہمارے عہد کی ترقی پسند تنقید ہے جو خود ترقی پسند فن کاروں کی سماجیات تک کے ساتھ انصاف نہیں کر سکی ہے، فن کا تو خیر ذکر ہی نہیں کہ فن کے مسائل ان کے بس کا روگ ہی نہیں ۔ یہ روگ انہوں نے اپنے ساتھ لگایا بھی نہیں اور جمالیات کو ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے۔
ترقی پسند تنقید کے منظر نامہ پر نظر کیجیے ۔ آپ کو دو قسم کے نقاد ملیں گے۔ ایک تو آثار الصنادید دوسرے باقیات الصالحات آثارالصنادید کی دیکھ بھال سرکار کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے حرفِ بغاوت سے کبھی بحرو بر کا نپتے تھے ، اب ان کے پیغام محبت سے ایوان حکومت کے دیوار و در گونجتے ہیں۔ وہ وزیر جس کی زبان میں اردو شاعری کی مٹھاس ہے، وہ رہبر قوم جس کی اُٹھان میں ایشیاء کی جوانی کا بانکپین ہے، ان کے سر پرست ہیں۔ کمیشا ران کے سینہ پر تمغہ لگاتا ہے، سرکار بھوشن کا آبھوشن عطا کرتی ہے، وزیر نان نفقہ کا ’سفیر سفر حضر کا‘ منعم جام وسبو کا، ریڈ یو تقریر کا ، رسالہ خاص نمبر کا اورا کا دمی انعام و اکرام کا انتظام کرتی ہے ۔ ان کے نام نہایت ہی فربہ وظیفے جاری کیے جاتے ہیں اس کتاب کو لکھنے کے لیے جو کبھی نہیں لکھی جاتی لیکن جسے ضبط قلم کرنے کا ارادہ وہ اس وقت تک رکھتے ہیں جب تک وظیفہ کے دم میں دم ہوتا ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے لیے جو زیر تصنیف نہیں ہے وہ لندن اور پیرس کا سفر کرتے ہیں ان مخطوطات کو دیکھنے کے لیے جو وہاں کی لائبریریوں میں نہیں ہیں اور گر ہیں بھی تو اس کتاب کے کام کے نہیں جو ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ آخر وہ وقت آتا ہے کہ وظیفہ دم اور کتاب قلم چھوڑ دیتی ہے ۔ اس وقت کوئی ان سے پوچھے کہ قبلہ! وہ جو نہیں ہے اور نہ ہوگی، جب تھی تو عدم تحریر کی کون سی منزل میں تھی تو شاید جواب ملے کہ، میاں! جسے شروع نہ کر سکا، خدا کے فضل و کرم سے اب اس کا کام تمام ہوا۔‘‘
یہ تو تھے ترقی پسندوں کے آثار الصنادید۔ ان کے باقیات الصالحات گاؤں کے وہ غبی لڑکے ہیں جو سکول میں فیل ہوتے ہیں تو مدرسہ میں بٹھا دیے جاتے ہیں کہ عالم نہ سہی مولوی تو بنیں ۔ یہ لوگ مارکسزم کو ناظرہ پڑھتے ہیں۔ چناں چہ مارکس کی کتاب سرمایہ، ان کے دماغ میں نہیں بغل میں رہتی ہے کیوں کہ دماغی لڑائیوں کا انہیں یا را نہیں ،اور یہ لوگ اپنا کام صرف بغلی گھونسوں سے نکالا کرتے ہیں، ان کی نظر ہمیشہ فطرے کے گہوں پر رہتی ہے جو پیداواری رشتوں کے کھیتوں سے انہیں مل جاتے ہیں اور یہی ان کی علمی غذا ہے جس طرح استنجے کے مسائل کا روحانیات سے کوئی تعلق نہیں، اسی طرح باقیات الصالحات کے مسائل کا جمالیات سے کوئی رشتہ نہیں۔ تنقید کی دیوار سے وہ عصری آگہی کا ڈھیلا گھستے رہیں گے اور قاری سوچتا رہے گا کہ یہ ڈھیلا تخلیقی تخیل کے عقاب کی بلند پروازیوں کی کسوٹی کیسے بنے گا۔لیکن قاری سادہ لوح ہے۔ اتنا نہیں سمجھتا کہ ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شد کے مصداق ان مولویوں کی ہانڈی میں جو بھی گرا پک کر مدراسی کھانوں کی مانند ایک سا مزہ دینے لگا۔ رنگِ سخن کے امتیازات کی بات ہی بے معنی ہے کہ سب ایک رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ اس تنقید میں میر کی آنکھیں ہلدی تو غالب کا چہرہ دھنیا ہے اور یہی دو مسالے ہیں جن کے زور پر مدراسی لوج چلاتے ہیں اور مارکسی موج کرتے ہیں ۔ مارکسزم سے وہ فکر کا نہیں فتوے کا کام لیتے ہیں۔ مارکسزم ان کے لیے شجر طوبیٰ ہے جس کا نام انہوں نے سنا ہے دیکھا نہیں اور نام شاخِ طوبیٰ کی وہ مسواک ہے جو جیبِ تنقید میں ہمیشہ ابھری نظر آتی ہے ۔ مسواک سے زبان میں چھالے پڑ گئے ہیں، اسلوب کے مسوڑھے چھل گئے ہیں، فکر کے تا لومیں ناسور پڑ گیا ہے ، لیکن مولوی کو پاکی کا ایسا خبط ہوتا ہے کہ تنقید کا قصہ پاک کیسے بنا وہ چین نہیں لیتا ۔ ان کی تنقیدیں وہی پڑھ سکتا ہے جو انہیں کے گاؤں کا ہو، اور صرف سکول ہی میں نہیں بلکہ مدرسہ میں بھی فیل ہوتا رہا ہو یعنی ان سے بھی زیادہ غبی ہو۔ اسے کم از کم اتنا تو کو دن ہونا چاہیے کہ باقیات الصالحات کی امامت میں نماز ادا کرتے وقت یہ احساس بھی نہ رہے کہ ادب کے آستانہ پر ان اماموں کا ہر سجدہ سجدۂ سہو ہوتا ہے اور گو ان کے پیچھے وہ دو سو رکعات ادا کرے تو ثواب اسے دو ہی رکعات کا ملے گا۔ آثار الصنادید تو تھوڑی بہت فقیہانہ موشگافیاں بھی کر لیا کرتے تھے، مولویوں کا یہ فرقہ تو مناظرہ بازی تک سے جی چراتا ہے کیوں کہ مناظرہ بازی کے لیے مولوی کو بھی اپنے اور دوسرے مذاہب کے متعلق تھوڑا بہت پڑھنا پڑتا ہے۔ لٹھ رکھ کر کتاب ہاتھ میں لینا مولوی کے لیے گھاٹے کا سودا ہے ۔ چناں چہ یہ لوگ اپنی تنقید میں مناظرے تک بر ہم نہیں کرتے۔ ارے ہمیں غصہ تو اس بات پر ہے کہ برہم تک نہیں ہوتے ۔ ان کے چاروں طرف جو تم پیزار ہو رہی ہے کسی کی پگڑی سلامت نہیں۔ ان پر کچھ اثر ہی نہیں عجیب اطمینانِ قلب سے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے۔
ترقی پسند تنقید کی فکری تہی مائیگی کی دو مثالیں دیکھیے ۔ ڈاکٹر محمد حسن منٹو کا افسانہ ’’ہتک “ کے متعلق ر قم طراز ہیں۔
’’ہتک کی ہیروئن دعوتِ گناہ نہیں، تازیانہ ہے۔ اس میں وہی مصلحانہ جوش اور رمق گوئی (؟) کی شدت پائی جاتی ہے جو ٹالسٹائی کی اینا کریننا میں ملتی ہے ۔ اینا بھی نیک چلن نہ تھی لیکن اس کا المیہ ہمیں بھٹکانے کی بجائے ایک دوسرے راستے پر لگا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ اینا اور مادام بواری کی طرح سلطانہ اور سگندھی نفسیاتی پیاس کی ماری ہوئی نہیں بلکہ ایک ایسے شکنجہ میں کسی ہوئی ہیں جس کے بنانے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔‘‘
اب آپ ہی کیسے میں کیا کہوں ۔ کوئی بھی کیا کہہ سکتا ہے۔ یعنی ان جملوں پر آدمی کیا کیا خیال آرائی کرے۔ کیل کو اٹھ کر وہ موذیل اور سینٹ جان کا مقابلہ کریں گے ۔ میکبتھ اور ’’ممد بھائی‘‘ کو ٹکرائیں گے، تو آدمی کہاں کہاں ان کا ہاتھ پکڑتا رہے گا ۔سوگندھی اور سلطانہ دوٹکھیائی رنڈیاں ہیں۔ اینا کیر نینا اور مادام بواری دنیا کے دو عظیم ناولوں کی ہیروئن ہیں ۔ ایک کا تعلق روس کے اشرافیہ طبقہ سے، دوسری کا تعلق فرانس کے متوسط طبقے سے، ایک جذبۂ عشق اور دوسری رومانی جذباتیت کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہے۔ بھلا سوچیے تو ان دو عورتوں اور منٹو کی رنڈیوں میں قدر مشترک کیا ہے۔ ایسی ہی انمل بے جوڑ باتوں سے ہماری معاشرتی تنقید بھری پڑی ہے ۔منٹو کے فن کی جمالیات کا ذکر یہ نقاد کیا کرتے ان سے تو افسانوں کی رنڈیوں کا ہاتھ بھی ٹھیک سے پکڑ ا نہیں جاتا۔
باقیات الصالحات میں ایک جوان صالح حضرت قمر رئیس ہیں۔ زندگی بھر چار جملے ایسے نہیں لکھ سکے جن میں ڈھائی انچ کی گہرائی ہو۔ چاروں طرف علامتی تنقید کا شورسن کر انہیں بھی چاؤ ہوا کہ اس پر بھی ہاتھ آزمایا جائے۔ ہم تو بھونچکے رہ گئے کہ علامتی تنقید تو فاروقی سے بھی مشکل ہی سے سنبھلتی ہے۔ ان کے چکنے فرش پر اگر صحافتی تنقید کا ہاتھی جس کے ہودج میں قمر صاحب رئیس زادوں کی طرح زندگی بھر لیٹے رہے ، اگر پھسلا تو کیا عالم ہوگا۔ لیکن قمر رئیس نے کامیو کے ناول، پلیگ کی باتیں سن رکھی تھیں ۔ اب دیکھا کہ راجندر سنگھ بیدی کے افسانہ کوارنٹین ، ہمیں بھی پلیگ پھیلتا ہے۔ بس کیا تھا مضمون گھسیٹ ڈالا، ’’کوارنٹین کی علامتی معنویت‘‘ ، پلیگ اب غیرملکی غلامی کی علامت ٹھہرا۔ انگریز سفید چوہے اور کوارنٹین پتہ نہیں کیا۔ تنقید جب مجذوب کی بڑ بن جائے تو معنی کی تلاش بے کار ہے۔ قمر رئیس کے پاس شوقِ فضول کی بھی کمی نہیں اور جرأت رندانہ کی بھی ۔ آپ یقین مانیے ان سے یہ بعید نہیں کہ آئندہ فرصت میں عصمت کے ’’لحاف‘‘ کا بھی ایسا ہی علامتی مطالعہ پیش کریں۔ وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ نواب صاحب انگریز کی علامت ہیں ، ان کے نرم و نازک لونڈے دیسی رجواڑے ہیں ۔ نواب کی بیگم مادرِ وطن ہے جو غلام ہے۔ ملازمہ جس کے ساتھ بیگم کا جنسی رشتہ ہے بغاوت کی علامت ہے۔ اور رات کے اندھیرے میں لحاف کا ہاتھی کی طرح اُچھلنا غلامی کی تاریک رات میں پروان چڑھتی ہوئی آزادی اور بغاوت کی تحریکوں کی علامت ہے۔
ترقی پسندوں کی مغرب سے نفرت بھی دیکھنے کے قابل ہے ۔ اس نفرت کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی دانشوروں کی روایت سے ہم اتنا بھی فائدہ نہ اٹھا سکے جتنا کہ حالی اور سرسید نے اٹھایا تھا ۔ حالی نے تو تنقید کو ایک اخلاقی ذہن عطا کیا تھا ۔ وہ بہر صورت ڈاکٹر جانسن اور آرنلڈ کی تہذیبی تنقید کے نمائندہ تھے۔ ترقی پسندوں تک آتے آتے حالی کی یہ اخلاقی روایت نعرہ زنی، پروپیگنڈہ ، صحافت پمفلٹ بازی ، کٹھ ملائیت، تنگ نظری اور سیاسی ڈپلومیسی کا شکار ہوگئی۔ فن کار اور دانشور کی ذہنی آزادی، حق گوئی ، اور بے باکی کو ریاست، حکومت، پارٹی اور آئیڈیالوجی کی بلی پر قربان چڑھا دیا گیا۔ وہ اتنی سی بات نہ جان سکے کہ ادب آدمی کو ایک سوچتا ہو ا تنقیدی ذہن عطا کرتا ہے۔ ادب جو اب نہیں سوال ہے ۔ تجسس و بصیرت، تنویر اور انکشاف ہے۔ ذہن تنقیدی ہو تو قریب نہیں کھا تا تعصبات کا شکار نہیں ہوتا۔ اندھا یقین نہیں کرتا اور وہی بات کہتا ہے جس کی سچائی کا اسے علم ہوتا ہے ہماری تو روایت ہی رہی ہے کہ دو کتا بیں پڑھتے ہی رہبر قوم بن جاتے ہیں ۔ لیڈروں کو بھلا اس بات میں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی کہ مغرب میں فن کار نے اپنے لیے لیڈر اور معلم اخلاق کا نہیں بلکہ بقول جائس ایک جلا وطن ہیرو اور شہید کا رول پسند کیا ہے ۔ کیوں وہ ہر لحظہ مادہ پرست اور متشدد بنتے ہوئے سماج میں خود کو اجنبی اور جلا وطن محسوس کرتا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ سماج سے آخری تصادم سے اس کی ذات پاش پاش ہونے والی ہے، وہ سماج سے ٹکراتا ہے اور یہی اس کا ہیرو ئک عمل ہے ۔ وہ پاش پاش ہوتا ہے اور یہی اس کی شہادت ہے ۔ وہ بیک وقت سماج کا باغی اور اس کا صید زبوں ہے۔ ہاتھ باگ پر نہیں اور پار کاپ میں نہیں لیکن وہ رخش وقت کا عناں گیر ہے اور بالآخر اس کے فتراک کا نخچیر۔ روح کی بھٹی میں اپنی نسل کا ضمیر پیدا کرنا اس کا منصب ہے اور اندر کی آگ کے تیز و تند شعلوں میں خاک ہو جانا اس کا مقدر۔
ظاہر ہے ایسے خانہ خرابوں سے چوبداری، رکاب داری اور ڈھنڈورچی کے کام بن نہیں پاتے ۔ ہندوستان میں تو دانشور کوڑیوں کے مول بک چکا تھا۔ در بارداری ،خوشامد، موقعہ پرستی اور حلقہ پروری اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی ۔ مغرب میں دانشور اپنا رول نباہ رہا تھا۔ نہ وہ سیاسی شاطروں کا حلیف بنا، نہ نان و نفقہ کے لیے اپنے ذہن کو رہن رکھا۔ اس نے ہر جھوٹ کو بے نقاب کیا ، ہر غلط تصور کو چیلنج کیا اور ہر فلسفہ کی تنقید کی ۔ اوہام پرست اور روایت پسند مشرقی ذہن کو تنقید کبھی راس نہ آئی۔ تنقیدی روایت اسی لیے ہمیشہ ہمارے یہاں اُبھر بھر کر اندھیروں میں ڈوبتی رہی ہے۔
جدیدیت کے رجحان کے ساتھ تنقید پھر سے ایک بار اُبھری۔ رچرڈز اور ایلیٹ کے ناموں کا چلن ہوا۔ سارتر اور کا میو کے تصورات سے ذہن متعارف ہوا۔ لسانیاتی ، اسلوبیاتی ،علامتی اور اسطوری طریقۂ کار اپنائے گئے۔ نیا احساس نئی زبان میں ڈھل رہا تھا۔ تجربات کا دور دورہ تھا۔ ذہن کی کھڑکیاں کھل گئی تھیں اور مغربی افکار و خیالات نئے فن کاروں کے ذہنوں کو منور کر رہے تھے۔ سماج ، سیاست، آئیڈ یو لوجی اور کمٹ منٹ پر حریفانہ داروگیر ہو رہی تھی ۔ پابستگی کو توڑا جارہا تھا ، وابستگی کے معنی سمجھنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ترقی پسندی کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہے کہ فن کی جمالیات پر زیادہ زور دیا جارہا تھا ، لیکن جدیدیت میں نئے ریڈ یکلزم کی بھی ایک لہر تھی جس کے علمبردار تنقید میں باقر مہدی تھے۔ سائنس ٹکنولوجی ،ماس میڈیا اور مادہ پرست تمدن کے لائے ہوئے نفسیاتی اور سماجی مسائل پر بھی مباحث ہور ہے تھے جو تنقید کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے تھے اور اسے صرف اظہار کے مسائل تک محدود ہونے سے بچائے ہوئے تھے۔ لیکن محض رجحانات کے زور پر اچھی تعقید وجود میں نہیں آتی۔ اس کے لیے اعلیٰ درجے کے ناقدانہ ذہن کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور ایسا ذہن ہمیشہ ہمارے یہاں کمیاب رہا ہے۔ اس کا سبب ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی ہے ۔ یونیورسٹیوں سے جو طالب علم فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں، وہ ادب کے مبادیات سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔ ذہن کی تنقیدی تربیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کلاس روم میں سے لڑ کا باہر نکالتا ہے تو ایک ہاتھ سوگندھی کی کمر میں ہوتا ہے ۔ اور دوسرا اینا کرنینا کی۔ یہ صاحبزادے اگر پروفیسر بن گئے تو کیا گل کھلائیں گے۔ آپ دیکھ تو رہے ہیں کہ پورے ملک کا تعلیمی نظام کیسے ٹھپ ہو گیا ہے ۔ ہمارے یونیورسٹی پروفیسروں کا مقابلہ سوریون، ہارورڈ اور آکسفورڈ کےپروفیسروں سے کیجیے، وہی فرق نظر آئے گا جو سوگندھی اور اینا کیر نینا میں ہے۔
بہر حال جدید تنقید کا بھی وہی حشر ہوا جو ترقی پسند تنقید کا ہوا تھا۔ شاید نردچودھری کی بات صحیح ہو کہ ہندوستان کی زمین ہی ایسی ہے کہ نہ تو کسی چیز کو پنپنے دیتی ہے نہ پروان چڑھاتی ہے۔ نشاۃ ثانیہ کی روشنی پچاس سال بھی تو ٹک نہیں پائی ۔ یہی تو دیکھو، مارکسنرم کی کیا گت بنائی ہمارے دانشوروں نے یہ ساری تحریکیں کیسے ٹکڑے ٹکڑے ہوئیں۔ جو لین ہکسلے نے تو صاف کہا تھا کہ مغربی تمدن کے اثرات ہندوستان کی صرف اوپری سطح پر ہیں اور وہ بھی صرف ایک ہی محدود طبقہ پر۔ گویا مغربی تمدن کا رنگ پورے بدن پر ناخن کی پالش سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ رنگ ماند پڑتے ہی پراسرار مشرق چنگھاڑتا ہوا بیدار ہو گیا۔ اس انتشار میں سب سے دگرگوں حالت پڑھے لکھے طبقے کی ہوئی جو تہذیبی اقدار کا امین تھا۔ علم وادب اور تعلیمی ادارے بھی دانشورانہ تنویر کے نہیں بلکہ دولت و شہرت و اقتدار کے ذریعے بنے ۔ بیوروکریسی کرپٹ ہو گئی ۔ ہر شعبۂ حیات میں میڈیو کریٹی ایک خاموش سازش کے تحت قابلیت اور اہلیت کا گلا گھونٹتی رہی۔ آدمی کے پاس کھرے کھوٹے کی پرکھ تک نہ رہی۔ اس کی عبرتناک مثال ہمارا تنقیدی لینڈ سکیپ ہے۔ ہر ایک کے چہرے پر نقاب ہے کیوں کہ لوگوں نے جان لیا ہے کہ بے نقاب کرنے والی انگلیاں اینٹھ گئی ہیں۔ اصلی چہرے کی شناخت نا ممکن ہوگئی ہے۔ گوپی چند نارنگ ہمارے اچھے نقاد ہیں ۔ لیکن خراب مضامین لکھنے میں کبھی ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جوش پر انہوں نے شاید وہی مضمون چھپوا دیا جو انہوں نے ہائی اسکول کے زمانہ میں لکھا تھا۔سردار جعفری اس مضمون کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ وحید اختر بھی ہمارے اچھے نقاد ہیں۔ بھولے چوکے اچھے مضامین بھی لکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے بھی جوش پر مضمون لکھا ۔ مضمون میں خلیل الرحمٰن اعظمی کے مضمون کا بھی ذکر آیا، لیکن اعظمی کا مضمون کیسی کمزور بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے اسے ان کی نظر دیکھ نہ پائی ۔ اس امر کی طرف ایک خفیف سا اشارہ بھی نہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی بھی ہمارے اچھے نقاد ہیں۔ خراب مضامین لکھنے کے لیے انہیں شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے اور ہر کوشش کی مانند اپنی اس کوشش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ آج کل ان کی تنقید کی کار جوش اور فراق پر بیک فائر کیے بغیر سٹارٹ نہیں ہوتی۔ چونکہ فدوی فاروقی کو مرشد سمجھتا ہے اس لیے آج کل فراق کا مطالعہ بند ہے ۔ اس کی جگہ محمدعثمان عارف نقش بندی کا کلامِ بلاغت نظام سرچشمۂ فیض بنا ہوا ہے کہ مرشد نے اس کی تائید غیبی کی ہے ۔ غیبی اس معنی میں کہ تبصرہ شبخون میں نہیں آج کل میں چھپا ہے ۔ ادھر فاروقی کی کتاب افسانہ کی حمایت میں بھی شائع ہوتی ہے۔ کتاب پڑھ کر قیاس گزرا کہ افسانہ کو جوتیاں مارنا بھی جلالی بزرگوں کا ایک اندازِ پذیرائی ہو۔ مرشد کے جبروت کا یہ عالم ہے کہ افسانہ نگار جوتیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوئے ۔ اُلٹے ایک افسانہ نگار موسومہ بلراج کو مل جن کے افسانوی مجموعہ پر مرشد نے دیباچہ لکھنے کی زحمت گوارا فرمائی تھی ۔ اپنا حق ارادت اس طرح ظاہر کیا کہ مرشد کی انگریزی کتاب پر ایک نہایت ہی مدحیہ تبصرہ لکھا جو آج کل میں نہیں رسالہ شبخون میں شائع ہوا۔ مرشد کی انگریزی کتاب اردو میں بہت مقبول ہو رہی ہے کہ اس پر دھڑا دھڑ تبصرے نکل رہے ہیں ۔ فدوی نے بھی کتاب کا مطالعہ کیا ہے اور گو نفسِ امارہ فرنگی زبان کے ہندوستانی روپ سے اکراہ کرتا رہا، لیکن ملفوظات مرشد کے تھے اس لیے جبر کر کے اتمام تک پہنچایا کہ یہ بھی ایک طریقہ تزکیۂ نفس کا ہے ۔
بہر حال جدیدیت کا ایک بڑا کارنامہ تو اس کی بت شکنی تھی۔ ترقی پسندوں کی تنقید تو کلمہ گویوں کی نمازِ با جماعت تھی۔ سبھی راسخ العقیدہ تھے اور ذیلی ارکان کی بھی سختی سے پابندی کرتے تھے ۔ جدیدیت کا تو دوسرا نام ہی بدعت ہے ۔ غیر فریب خوردگی تو اس کی سرشت کا جزو ہے۔ اگر آج کے دور میں زندگی بیمار کی رات بن گئی ہے تو ظاہر ہے زندگی کا ترجمان ادب بھی کرب کا ادب ہو گا ۔ اور تنقید اسی کرب کی تفہیم ۔ کرب کی قیمت پر شہرت کے جھنڈے گاڑنابھی کچھ عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔ ادب میں عظمت اور عظیم شخصیت کے تصور کو باقر مہدی نے توڑا۔ چاروں طرف نراج کو دیکھ کر ہم نے بھی سوچا کہ نراج کو توصرف Irony ہی سہار سکتی ہے۔ نراجی حالات میں غنائیت چیں بول جاتی ہے اور اخلاقیات چیں بہ چیں پھرتی ہے ۔ اب تو سوانگ رچائے ہی بنے بھیا۔ شخصیت کا جنازہ اٹھا ئے کب تک پھرتے رہیں گے کہ فضا اتنی مسموم اور گرد آلود ہے کہ پائپ اور پروفیسری دونوں مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی وہ صاحب عجیب معلوم ہوتے ہیں جو اس فضا میں بھی دو لاکھ کی نہرو سکالر شپ پر چوتڑ ٹکائے جمالیات اور اخلاقیات کی بات کرتے ہیں۔ ان کے سامنے ہم سفید پوش بن کر جائیں بھی تو چائے پلا کر رخصت کر دیں کہ باغی فقیہہ کو بھی فقہا ہمیشہ اپنی روایت میں شامل کر لیتے ہیں۔ ان کا توڑ فقیہہ نہیں بلکہ وہ آوارہ گرد درویش ہے جو فقہا کے اسٹبلشمنٹ میں کبھی سما ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے سولی پر چڑھایا جاتا ہے یا سنگسار کیا جاتا ہے ۔ اب ہم کہاں اور ایسی صاحب نظری کہاں ۔ لہٰذا کان پر بیٹری رکھ قلعی گری کو نکل کھڑے ہوئے۔ ادب کے پروہت ایک دوسرے کے سامنے زانو تہہ کئے ’’ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ کی گرداں کرتے نظر آئے۔ ہم ہر ایک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتے ہیں ۔ غنچہ حاضر ہے! کہو تو قلم دان کھو لوں۔ تم میری ہجو کہو، میں تمہاری ہجو کہتا ہوں۔ میرا خیال ہے آج کل ایسی سودائیت ، ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔
ترقی پسندی کے برعکس جدیدیت کا پورا زور جمالیات پر ہے اور جدید تنقید نے اظہار کے سانچوں کے میکینزم کا ایسا جزرس مطالعہ کیا کہ مصوتوں اور مصمتوں کی آوازوں میں شاعر کی آواز گم ہوگئی۔ اقبال کی وہ بات سچ پڑی کہ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت، دراصل رچرڈز کے تنقیدی اصول تو خود مغرب کے اداں گارد جدیدیت کے لیے کام نہیں لگ رہے تھے۔ لہٰذا اردو میں ان کی بازآفرینی اجتہاد نہیں بلکہ رجعت تھی ۔ یہ رجعت جدید تنقید کو زبان وبیان کی تنقید کی اس روایت سے جوڑنے والی تھی جسے خود احتشام حسین اور آل احمد سرور کی تنقیدوں نے از کار رفتہ کر دیا تھا۔ یہ کتنی المناک بات ہے کہ جدید نقادوں کی تنقیدیں زبان کے استادوں کے درسِ بلاغت سے مختلف معلوم نہیں ہوتیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جدید نقاد اساتذہ کے برعکس انگریزی جانتے ہیں اور مغربی لسانیات اور صوتیات سے حوالے پیش کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ بھی مکبتی اور کلاس روم تنقید تھی جو شیروانی کی بجائے کوٹ پتلون اور پائپ کا لباس پہن کر آئی تھی۔ نقادوں کا اکسپرٹائز ان کا سب سے طاقتور حربہ تھا اور اس کی ہم جتنی داد دیں اتنی کم ہے۔ لیکن یہی اکسپرٹا ئزان کے دائرے کو عروض دانوں کے عروضی تجزیوں کی مانند محدود کرنے والا تھا ایسا نہیں ہے کہ نقادان دائروں سے بلند ہو کر زیادہ کھلی اور انسانی فضاؤں میں سانس نہیں لے سکتا۔ میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ اچھی تنقید وہی ہوتی ہے جو متن کے جز رس ہنرمندانہ مطالعہ سے یعنی شاعری کے ورک شاپ اور کلاس روم لکچر سے شروع ہو کر زیادہ کھلی ہوئی ادبی، تہذی ، اور انسانی فضاؤں میں رنگ بکھیرتی ہے اس کی بہترین مثال ہمارے یہاں را شد پر شمس الرحمٰن فاروقی کا مضمون اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں پر گوپی چند نارنگ کے مضامین ہیں۔ لیکن نہ جانے کیوں بالیدگی کا یہ عنصر تنقید سے کم ہوتا گیا، اور زبان و بیان کی تنقید زیادہ سے زیادہ میکانکی دستا نہ پوش اور غیر انسانی بنتی گئی ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے جیسا کہ میں نے فاروقی پر اپنے مضمون میں اشارہ بھی کیا تھا کہ مغرب میں لسانیاتی طریقۂ کار وسیع ترہیئتی تنقید کا محض ایک جزو ہے جسے ہم نے کل بنا دیا۔ ہیئتی تنقید نظم کی زبان و بیان اور عروضی نظام ہی کو نہیں بلکہ استعارہ علامت امیجری او را رسطو سازی غرض کہ نظم کی پوری ساخت اور بافت پر نظر رکھتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ نظم میں یہ تمام عناصر موجود ہوں ۔ یعنی نظم فی نفسہ ایک پیچیدہ، تہہ دار، اور نہایت ہی ہنر مندانہ اور ضاعا نہ لفظی پیکر اور تخیلی کارنامہ ہو۔ مغربی شاعری ہمیشہ بڑے فارم یا تراشیدہ اور گتھی ہوئی ہستیوں کی شاعری رہی ہے ۔ مغرب کی بہترین نظمیں اول تا آخر ایک مکمل اکائی ہیں ۔ ہماری طرح دو ہوں ، پد و ں، چوپائیوں، رباعیوں یا غزل کے مفردا شعار کی شاعری نہیں۔ ہیئتی تنقید بہترین شعری کارناموں ہی کو اپنا موضوع بناتی ہے ۔ وہ نظم جس میں پیچیدہ استعاراتی، علامتی اسطوری بافت نہیں ہوتی ، جس کی امیجری اور آہنگ معنی خیز نہیں ہوتا ، مختصراً یہ کہ جو نظم پر کار کی بجائے سادہ کار اور یک سطحی ہوتی ہے، ہیئتی تنقید کو اپنے جو ہر اور اپنی طاقت بروئے کار لانے کا موقعہ عطا نہیں کرتی۔ لہٰذا ہیئتی نقاد ایسی نظموں پر ہی اپنی طاقت آزماتا ہے جو قدر ہے طویل تہہ دار عضوی وحدت کی حامل ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی میں نے فاروقی پر اپنے مضمون میں کہی تھی کہ فاروقی ایسی نظموں کی بجائے غزل کے مفردا شعا پر ہیئتی تنقید کے اوزار آزماتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب اوزار بیکار جاتے ہیں اور صرف زبان کا ناخن تراش ان کے ہاتھ میں دھرا رہ جاتا ہے اور اسی لیے نہ تو وہ رچرڈز اسکول کے نقاد معلوم ہوتے ہیں نہ امریکہ کی نئی تنقید جو اب پرانی ہو چکی ہے کی روایت کے۔ شاید انہیں احساس نہ ہو لیکن نہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کا طریقہ کا ر زبان و بیان کے اساتذہ ہی کا فرسودہ طریقۂ کار بن رہا ہے جو جدید ذہن کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا ۔ خود مغرب میں ویٹ نام کی جنگ کے بعد لسانیاتی تنقید کے قدم اکھڑ چکے ہیں اور وہاں کا ذہین قاری زیادہ مفکرانہ، زیادہ تہذیبی اور زیادہ انسان دوست تنقید کا تقاضا کر رہا ہے۔ ٹکنیکل تنقید کی اہمیت اب کلاس روم کےبا ہر زیادہ نہیں رہی۔
ایک سوال یہ ہے کہ نئے ریڈ کلزم، نئے مارکسزم یانے یساریوں کی آواز ہمارے یہاں ابھر کیوں نہ سکی۔ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانوں میں آواز کی لرزشوں کی کیا نوعیت ہے۔ مجھے دوسری زبانوں کا علم نہیں۔ صرف گجراتی کے بارے میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اردو کی مانند جدیدیت یہاں بھی تھکن کا شکار ہو چکی ہے ۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اسے نیا Break Through کیسے ملتا ہے۔ مارکسی یا یساری روایت ویسے بھی گجراتی میں زیادہ طاقتور نہیں تھی ۔ ہم تو یساریت کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں ترقی پسند تحریک ایک طاقتور تحریک تھی۔ اس تحریک کے زوال کے بعد اسے نئے دانشور نہیں ملے۔ خود باقر مہدی عمر کی اس منزل میں داخل ہو گئے تھے جب ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ چاروں کھونٹ اکیلے آئیڈ یو لوجیکل جنگ لڑتے۔ پھرنئے یساری مغرب کے حوالے سے بات کر رہے تھے اور پورا مشرق ایک نئے انقلاب سے گزر رہا تھا جو ایک ایسے ابہام کا شکار تھا جو مشرقی فکر کی ازلی خصوصیت رہی ہے۔ باقر مہدی نے مجھے ایک دلچسپ بات بتائی کہ مارکسزم جو مغرب کا فلسفہ تھا ماؤزے تنگ کے ذریعہ مشرق میں آیا لیکن اس کے مرنے کے بعد ماؤزے تنگ اور مارکسزم دونوں کے خلاف چین میں رد عمل پیدا ہو گیا۔ ایران میں اسلامی انقلاب اور پاکستان میں مذہبی احیاء پرستی خالص مشرقی چیز ہے ۔ حالی اور سرسید کے زمانہ میں مغرب کے زیر اثر ہندوستان میں جو نشاۃ الثانیہ کی تحریک پیدا ہوئی تھی وہ عدم تعاون اور خلافت کی تحریک کے ساتھ زوال پذیر ہونے لگی ۔ اور لبرلزم فرقہ پرستوں اور مذہبی احیاء پرستوں کے ہاتھوں دم توڑنے لگا ۔ترقی پسند تحریک نے لبرل فکر کو انقلابی فکر میں بدل دیا۔ لیکن خود تحریک بہت جلد تنگ نظری او ر انتہا پرستی کا شکار ہوگئی ۔ جو لبرل اور جمہوری فکر کے منافی تھا۔ پنڈت نہرو کی موت کے ساتھ مغربی روشن خیالی اور جمہوری اور اشتراکی آئیڈیلزم بھی ختم ہو گیا اور پورا ملک اس انحطاط اور انار کی کا شکا ر ہوگیا جو شاید مشرق کا مقدر ہے ۔ مشرق کی بازیافت، مذہبی احیاء پرستی، فنڈامنٹالزم، تنگ نظری ، انتہا پسندی اور ابہام پسندی کا نتیجہ وہ بے محابا تشدد ہے جس نے ہمارے دور کو ایک بھیانک خواب بنا دیا ہے۔ حالی سے لے کر احتشام حسین اور آلِ سرور تک کی تنقیدی روایت مغرب کی عطا کردہ لبرل ہیومنزم کی روایت تھی۔ آج اس روایت کے حوالے سے ہم بات بھی نہیں کر سکتے۔ خیر لبرلزم تو مغرب میں دم توڑ چکا ہے اس لیے اس کا رونا بے کار ہے۔ اب تو ٹکر اؤ با قاعدہ انتہا پسند جماعتوں میں ہے، چاہے وہ مذہبی ہوں یا انقلابی، قبائلی اور نسلی ہوں یا فرقہ پرست اور علاقائی ۔ آدمی پھر کھاد بن گیا ہے اور بات اب انسان کے حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی تقاضوں اور مصلحتوں کی تجریدات کے حوالے سے کی جاتی ہے ریڈ یکل فکر خود ہولناکی کو دیکھ کر سوچ بچار کی قوت گنوا بیٹھی ہے۔ تشدد کے اس بے محابا نظارے میں آدمی انقلابی تشدد کے بارے میں کیا سوچے۔ لہٰذا سوچ بچار پھر ماؤف ہے ۔ وہ رجائیت جو اپنے عقائد پر اندھا یقین رکھنے سے پیدا ہوتی ہے آدمی کا آخری سہارا ہے لیکن ایسی رجائیت یوٹو پین فکر ہی کی مانند آدمی کو تحریمات اور کلی شی تصورات کا اسیر بناتی ہے یہ سب رویے مخالف دانشورانہ ہیں حالات نے فکر کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے اور ہر خیال ڈائلمیا کا شکار ہے جب چاروں طرف انتشار ہوتا ہے تو ادب اور آرٹ میں ہیئت پرستی کا میلان بڑھتا ہے کہ فارم نظم وضبط کی علامت ہے فارم میں جذبات کا وفور نہیں جو مثلاً رومانیوں میں نظر آتا ہے اور اسی لیے رومانی فن کاروں میں فارم کے ڈسپلن کا وہ شعور نہیں ہوتا جو کلاسیکی فن کاروں میں نظر آتا ہے۔ فارم میں چوکسائی اور صفائی ہے۔ کفایت شعاری ہے۔ زاہدانہ خشکی اور تپسوی کا تپ ہے۔ اسی لیے مغرب میں جائیس اور ایلیٹ کی جدیدیت کا آہنگ نو کلاسیکی کا تھا اور پوسٹ ماڈرنزم کا رومانی و فور اسی نو کلاسیکیت کے ساتھ دست و گریباں تھا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایلیٹ کے دور کی تنقید آرنلڈ کی ہیومنسٹ اور تہذیبی تنقید کی روایت ہی کی ایک کڑی تھی اور خو دابلیٹ خالص ہیئتی اور لسانی تنقید کو طنز اًنیبو نچوڑ تنقید کہتا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ نو کلاسیکی اور مذہبی ہونے کے سبب ایلیٹ کا آدمی کا تصور روحانی اور اخلاقی تھا اور اسی لیے وہ تنقید میں روحانی اور اخلاقی قدروں کے حوالے سے آدمی کی بحث کر سکتا تھا۔ اواں گارد کی جدیدیت میں آدمی اپنا روحانی اور اخلاقی ڈائمنشن کھو دتیا ہے ۔ اب آدمی کے حوالے سے آرٹ تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ صرف فن کار کی ذات کے حوالے سے آرٹ کی تخلیق ممکن ہے ۔ لہٰذا پوسٹ ماڈرنزم پھر فارم کی شکست و ریخت لے کر آتا ہے کہ فارم فرد سے آزاد خارج میں کوئی بنی بنائی چیز نہیں جیسا کہ کلاسیکی ذہن سمجھتا تھا بلکہ فن کار کے جذباتی وفور کے ساتھ ڈھلتا اور بدلتا رہتا ہے جیسا کہ رومانی ذہن کا خیال ہے ۔ اب دوسری حیرت کی بات یہ ہے کہ فارم کی شکست کے اس دور میں پوسٹ ماڈرنسٹ تنقید زیادہ فارملسٹ یعنی ہئیت پرست بنتی ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ ادب کے مرکز میں وہ آدمی تو رہا نہیں تھا جس کا ایک اخلاقی اور روحانی ڈائمنشن ہو، لہٰذا ہیومنسٹ تنقید کے کوئی معنی نہیں تھے، چناں چہ جو بھی شاعرانہ احساس یا فن کارانہ شعور فن پارے میں نظر آتا ہے اس کی تفہیم کے لیے صرف اس میڈیم کا تجزیہ کافی ہے جو فن کار کا ذریعۂ اظہار ہے۔ نارتھ روپ فرائی کو ہم اس اسکول کا نمائندہ نقاد کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اس نے تنقید کو ہر قسم کے غیر تنقیدی عناصر سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش بھی ایسی ہی تھی جیسی کہ والیری نے شاعری کو ہر قسم کے غیر شاعرانہ عناصر سے پاک کرنے کی کی تھی۔ وہ خالص شاعری لکھنا چاہتا تھا اور فرائی خالص تنقید۔ دالیری شاعری کو لٹریچر کے ہر عنصر سے پاک کرنا چاہتا تھا تا کہ وہ موسیقی کی سطح کو چھو سکے۔ فرائی بھی ایک معنی میں تنقید کو ہرقسم کے لٹریچر مثلاً معاشرتی، اخلاقی، نفسیاتی، سوانحی، وغیرہ سے پاک کر کے اسے محض میڈیم کے مطالعہ تک محدود کرنا چاہتا تھا۔ بقول مارشل مک لو ہان چونکہ میڈیم ہی message ہے، لہٰذا زبان و بیان کا مطالعہ ہی صحیح معنوں میں شعری معنویت کا مطالعہ ہے ۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ایسی تنقید جو مصوتوں او رمصمتوں کے چارٹ بناتی ہے پڑھنے میں و ہی مزا دیتی ہے جو Musical Notes کے پڑھنے میں آتا ہے۔ لیکن ایسے طنز سے کیا حاصل جب کہ حالات نے ہیومنسٹ تنقید کو اگر ناممکن نہیں تو لگ بھگ بے حد دشوار بنا دیا ہے۔ زبان کے نقادوں کے پاس کچھ نہیں تو زبان تو ہے۔ ایک مضبوط سہارا تو ہے۔ ہمارے پاس تو وہ انسان بھی نہیں رہا جو شعرو ادب کا موضوع ہوا و رشعری زبان کے حوالے سے جس پر سوچ بچار کیا جاسکے۔ اسی لیے تو لسانیاتی تنقید شعری زبان کے سماجی اور انسانی حوالہ جات سے گریز کرتی ہے۔ جب سماج اور انسان کے متعلق کہنے کے لیے انسانی اور عمرانی علوم کے پاس بھی کوئی قابل قدر بات نہیں رہی تو ادبی تنقید کیوں خواہ مخواہ غیر ضروری مباحث میں سرکھپاتی رہے۔ زبان اگر ادب کی ضمانت ہے تو اسی پر کیوں نہ توجہ مرکوز کی جائے۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا جدیدت کے اس زمانہ میں جب آرٹ کے تمام بنے ہوئے فارم پگھلاؤ کا شکار تھے۔ گڑھا ہوا افسانہ تجریدی افسانہ بن رہا تھا اور غزل ہی کو لیجیے اس کی روایتی شناخت تک دشوار ہوگئی تھی ۔ بے ہیئتی کے اس دور میں ہیئتی تنقید بھی کیا کرتی ۔ جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ہیئتی تنقید ہیئت کے اچھے نمونوں پر ہی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ چناں چہ جدید یا تجریدی افسانہ کو اچھی تنقید میسر نہیں آئی۔ اگر غور سے دیکھیں تو نئے نقادوں کے وہی مضامین اچھے ہیں جو انہوں نے منٹو، بید کی اور کرشن چند پر لکھے ہیں۔ گوپی چند نارنگ اور باقر مہدی کے تنقیدی جو ہر بیدی پر ان کے مضامین میں کھلتے ہیں۔ جدید افسانہ پر تو یہ لوگ بھی اظہار کے مسائل پر اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔ فاروقی نے جدید شاعری پر بہت باریک کاتنے کی کوشش کی۔ جوش اور فراق پر دو لتیاں بھی جھاڑیں۔ تھک ہار کر زبان کے تمام اوزار لے کر کلیاتِ میر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے ۔ افسانہ نے تو انہیں ناکوں چنے چبوائے۔ سجاد حیدر یلدرم کے افسانوں میں سے تو لڑکیوں کی چوما چاٹی کے دوران دوچار بو سے بھی تنقید کی جھولی میں آگئے ، لیکن پریم چند اور بلراج کومل پر جو مضامین انہوں نے لکھے ان میں تو واحد متکلم غائب اور جمع متکلم حاضر کی ٹرا ہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دیا۔ کتنا مشکل ہو گیا ہے جدید افسانہ پر ہیئتی تنقید لکھنا ۔ زبان کی تنقید کیا لکھیں جب کہ جدید افسانہ میں زبان نہ شاعری بنتی ہے نہ نثر رہتی ہے۔ تنقید نے خود کو جس کام کے لیے تیار کیا تھا یعنی ادب کی صرف ہیئتی پر کھ کے لیے وہ کام بھی اس سے نہ ہو سکا کہ جدیدیت کی بے ہیئتی نے اس کے ہیئتی اوزاروں کو بھی بے کا ر ثابت کر دیا۔ اب ان اوزاروں کا استعمال کلاسیک پر ہی ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ہیئت ہے۔ اس طرح جدیدیت اپنے تنقیدی او رانشورانہ سہاروں ہی سے محروم ہوگئی یہ اس کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ اور جدید تنقید کا المیہ یہ ہے کہ ہیئتی طریقہ کار کے لیے اس نے تنقید کے دائرے سے سماجیات اور نفسیات ، فکر و فلسفہ ،انسانی اور تہذیبی عناصر کو جس بے دردی سے نکال باہر کیا، اب کلاسک کی تنقید میں انہی عناصر کی ضرورت پڑ رہی ہے کیوں کہ میر سے لے کر منٹو تک کے یہاں انسان کا تصور ایک روحانی اخلاقی اور سماجی آدمی کا تصور ہے اور ان کے فن کو محض زبان کے سانچوں تک محدود کر دینا ان کے ساتھ پورا تنقیدی انصاف نہیں ہے۔ اس میں خود تنقید کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ عروضی تجزیوں کی مانند وہ بھی خصوصی مطالعہ بن جائے جس میں سوائے ماہرین فن کے کسی اور کو دلچسپی نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ تنقید کا منصب ایسے خصوصی مطالعوں سے بہت بلند ہے۔ نقاد، عروض داں اور زبان داں سے بہت بلند اور بہت پہلو دار شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ ہمارے لیے جو اہمیت آرنلڈ ایلیٹ اور حالی کے ناموں کی ہے وہ ان کے زمانہ کے عروض دانوں اور زبان دانوں کی نہیں ۔ ادب میں آدمی کلاس روم لکچر کی فضا میں زیادہ دیر تک محبوس رہنا پسند نہیں کرتا۔ ادب انسان کے ان شوریدہ سر تجربات کا بیان ہے جن کی تیز و تند ہواؤں میں اساتذہ کے تدریسی نوٹ اوراق پریشاں کی طرح اڑنے لگے ہیں ۔ فکر و نظر کے سفینہ کو اب تو نا خدا کے مضبوط ہاتھ ہی سنبھال سکتے ہیں۔ اردو تنقید کو ایسے ہی نقاد کا انتظار ہے جو کلاس روم کی محفوظ و مامون فضا سے نکل کر مسموم اور طوفانی فضاؤں میں اپنا سفینہ پھینکے۔ جب تک ایسا نقاد سامنے نہیں آتا میں اپنے قلمدان پر بیٹھا کہتا رہوں گا۔ ’’غنچہ حاضر ہے۔‘‘