وارث علوی

وارث علوی

فکشن کی تنقید۔ چند مسائل

    فکشن کی تنقید۔ چند مسائل

    وارث علوی

    مشرق کی بازیافت کے ساتھ عربی اور سنسکرت شعریات کی باز آفرینی کے نام پر جونیم عالمانہ لن ترانیوں کا غوغا ایوانِ تنقید میں بلند ہوا ہے، اس میں اس برہمنیت اور مولویت کے احیا کی گونج ہے جو دن بدن تنگ نظر بنتے ہوئے ہمارے ماضی پرست معاشرے کے ہر شعبے میں سنائی دیتی ہے۔ لیکن کلاسیکی شعری علوم محجر ہو چکے ہیں۔ اور فکشن کی بات چھوڑیے شاعری تک کے کام کے نہیں رہے۔ ہماری نظمیہ شاعری کی تمام تنقید مغربی شعریات کا عطیہ ہے۔

     آج تو اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ ڈرامے ہی کی مانند ناول اور افسانہ کی ایک الگ دنیا ہے جو شاعری کی دنیا سے مختلف ہے۔ اس دنیا کی اپنی لینڈ اسکیپ ہے ، موسم ہیں اور فضائیں ہیں۔ فکشن کا مطالبہ ہے کہ تنقید اب ایسے پیمانے وضع کرے جو اس کے موسموں اور فضاؤں کی سبک ترین لرزشوں کو محسوس کر سکے۔

     کیا معنی ہیں اس بحث کے کہ جدیدیت نے تنقید کو ہیئت پرستی میں قید کیا اور تاریخیت سے محروم ۔ یہ کوتا ہی جو کچھ تھی نقادوں کی تھی جنہوں نے لسانیات ،صوتیات اور اسلوبیات کی بیٹریوں اور ہتھکڑیوں میں خود کو باندھ رکھا تھا۔ ان شاعروں اور افسانہ نگاروں کی طرف نظر نہیں کی جو سماجی ڈسکورس قائم کرتے تھے ، اور فن کاری کا اعلیٰ نمونہ بھی پیش کرتے تھے۔ ہیئت پرستی اور فارملزم ناول اور افسانہ کے فارم کی پرکھ ہے جو ٹھیک نہ ہوا تو تاریخی مواد بھی پھوہڑ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور مجھے کہنے دیجیے کہ ہم نے ایک نقاد بھی ایسا پیدا نہیں کیا جس کی ذہنی تربیت دنیا کے اعلیٰ ترین ناولوں اور ڈراموں کے جز رس تنقیدی مطالعہ سے ہوتی ہے۔ اردو ناول اور افسانوں کی روایت اتنی طاقتور نہیں کہ ان کے مطالعہ سے آدمی افسانوی تنقید کے آداب سیکھ لے۔ یہ روایت صرف وقار عظیم اور مہدی جعفر پیدا کر سکتی ہے جو افسانہ نگاروں کے یتیم خانوں کے سپرنٹنڈنٹ کی طرح اپنے محدود علم کی جلتی بجھتی لالٹین جلا کر یتاما کے رجسٹر تیار کرتے ہیں ۔ مغربی ادب سے حسن عسکری نے بہت فائدہ اٹھایا تھا لیکن انہوں نے اردواد بیوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ کلیم الدین احمد نے انگریزی شاعری کے ساتھ ساتھ انگریزی ڈرامے یقیناً پڑھے ہوں گے کیوں کہ انگریزی ادب کا کوئی پروفیسر یا طالب علم ڈراموں سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا۔ لیکن ان کی پوری قوت غزل کے خلاف محاذ قائم کرنے، داستانیں پڑھنے، اور آخری عمر میں تذکروں کے پیچھے وقت غارت کرنے میں صرف ہوئی ۔ احتشام حسین نے فکشن کی تنقید چلائی ہی نہیں اور آلِ احمد سرور سے چلتی ہی نہیں ۔ فاروقی اور نارنگ اسلوبیات اور ساختیات کے ہو گئے ۔ یہ سور ماؤں کے کام ہیں اور ناول کا مطالعہ افیمچیوں کا مشغلہ ۔ باقر مہدی نے فکشن کے افیون کے پورے مزے لیے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ افیون کے نشہ کے بجائے ان کی تنقیدوں کا سر ترقی پسندی کے ہینگ اُوَر سے پھٹا جاتا ہے۔ ایک صرف ممتاز شیریں ہیں جو فکشن کی پر شوق قاری اور باشعور نقاد تھیں ۔ چوں کہ اب میں کیڑے ہی نکالنے بیٹھا ہوں تو ممتاز شیریں کو بھی بخشوں گا نہیں ۔ منٹو کے علاوہ انہوں نے کسی اور افسانہ نگار پر خاطر خواہ توجہ نہیں کی ۔ سرسری جائزوں ہی پر وہ انہیں نمٹاتی رہیں ۔ اور منٹو پران کی بہت سی آرأ  اور تعبیرات سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ اختلاف ہو نہیں پا رہا اس لیے کہ اب ممتاز شیریں کو کیا ،منٹو کو پڑھنے والے لوگ نہیں رہے اگر ہمارے یہاں فکشن کی تنقید پروان نہیں چڑھی ہے تو اس کی کچھ وجوہات ہیں۔

     وجہ یہ نہیں کہ اچھے نقادوں کی کمی ہے بلکہ یہ ہے کہ سوائے ایک دو کےسب کے سب نقاد طبیعت اور تربیت کے اعتبار سے شاعری کے نقاد ر ہے ہیں۔ دانش گاہوں میں جہاں نقد ہی ایک طریقہ ٔتعلیم ہے اونچے درجوں کے طلبا ء جو مستقبل کے اساتذہ اور نقاد بننے والے ہیں، عموماً میر وسودا، میرحسن ، اور نسیم ، انیس و دبیر ، ذوق و غالب، اقبال ، جوش اور فراق ہی کو پڑھتے ہیں ۔ ہماری شاعری کی اس جگرجگر روایت کے سامنے افسانہ نیا نیا نو خیز اور چلبلا نظر آتا ہے۔ تنقید کے نام پر اسے اکثر فہمائش ہی ملی ہے کہ صاحب زادے! اپنے ستر کا خیال رکھو!

     ناول میں نذیر احمد تنقید کے لیے کیا جولانگاہ مہیا کرتے ہیں ؟ بطور تمثیل کے ان کا مطالعہ کیجیے یا شاعری کی طرح ٹکسالی زبان کی داد دیجیے۔ پریم چند کی تمام تنقید سماجیات کی نذر ہوگئی۔ ناول کی ساخت اور بافت کے اسقام پر جو تھوڑی بہت بحث علی عباس حسینی نے کی،  اس میں مزید کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔ پریم چند بطور افسانہ نگار کے بہت عظیم ہیں۔ ان کے فن کی کماحقہ ناقدانہ تحسین سے وہ آج تک محروم ہیں ۔

     امراؤ جان ادا پر البتہ خورشید الاسلام نے بہت اچھی تنقید لکھی لیکن پورا زور ناول کی ثقافتی دبازت پر صرف کر دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں انگریزی فکشن کے معیاروں سے اپنے یہاں کی ناولوں کو جانچتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ناولوں کی جیسی روایت کی داغ بیل امراو جان ادا سے پڑی ہو اور جو کردار نگاری ، پلاٹ کی دروبست، واقعہ نگاری، جزئیات نگاری، ڈرامائی معروضیت اور ایک دردمندانہ  انسان دوست نقطۂ نظر، جو اخلاقی فیصلوں کے کھڑاگ سے دور رہتا ہے، کی خوبیوں کی حامل ہو، اُس کے ہوتے ہوئے آج کی اردو ناول کا فنی بدچلنیوں کا شکار ہو جانا حیرت کی بات ہے۔

    پھر تنقید کو میر، غالب، انیس، اور اقبال کی شاعری میں ہمارے روایاتی علوم کو شعری پر کھ کے پیمانے بنانے کی جو سہولتیں حاصل تھیں اور زبان و بیان ، فصاحت و بلاغت، عروض وقوافی ، معاملہ بندی اور مضمون آفرینی، متصوفانہ مطالب اور فلسفیانہ افکار کی عقدہ کشائی اور غواصی کے جو مواقع میسر تھے وہ ساہوکاروں، کلرکوں ، تانگے والوں ، کسانوں، دلالوں ، طوائفوں ، بیواؤں ، بوڑھی کا کیوں اور نھنی کی نانیوں کے افسانوں میں کہاں ملتے ۔ شرح و تفسیر و تعبیر معنی آفرینی کے لیے بھی میر و غالب ہی کی طرف نظر اٹھتی کہ شعر میں ہر لفظ کنجِ معنی ہوتا ہے۔ ناول اور افسانہ میں زبان کی وہ اہمیت نہیں جو شاعری میں ہے۔

     پھر ترقی پسند تحریک کے زمانے میں تنقید عرصۂ دراز تک عریانی اور فحاشی کی بحث سے ہی باہر نہیں نکل پائی۔ اس بحث سے الگ ہٹ کر افسانوں کو دیکھنے کا کام تو اب جا کر شروع ہوا ہے جب دادا، دادیاں ، پوتے پوتیاں ، سب ساتھ مل کر ٹیلیویژن پر تھر کتے ننگے بدن دیکھنے کے عادی ہو گئے ، ناول اور افسانہ کی ساخت اور بافت پر بحث ترقی پسندوں میں کبھی نہیں ہوئی۔

    جدیدیت ہیئتی تنقید کا ایک نیا اور توانا شعور لے کر آئی ، اور امید پیدا ہو چلی کہ افسانوں کے تجزیاتی مطالوں میں فنی اور نفسیاتی تنقید کے جو ہر کھلیں گے لیکن جدیدیت کے ساتھ تو فکشن کی ہی کا یا پلٹ گئی۔ ناول نے دم توڑ دیا اور ادب کے اس قبرستان میں جہاں بڑی بڑی اصنافِ سخن وفن ہیں، ڈرامے کے پہلو میں مدفون ہوئی۔ افسانہ اسطوری ، علامتی ، تجریدی، داستانوی ، حکایتی بن گیا۔ ہر روپ میں کہانی غائب اور کرداروں کی جگہ الف لام میم آگئے ۔ اب نقاد اس ادھیر بن میں ہیں کہ ان جلالی حروف سے وہ نقش سلیمانی کیسے تیار کرے جو حرف کو جسم میں بدلتا ہے۔

     ایک اور بات یہ ہوئی کہ مشرق کی بازیافت ہوئی۔ جن چیزوں کو فقیہانہ موشگافیوں میں اترے بغیر ہم ناول ڈرامہ افسانہ اور نظم سمجھتے ہیں وہ تو مغرب کا عطیہ ہیں ۔ ناٹیہ شاستر جیسا گرنتھ ہونے کے باوصف چوں کہ صدیوں تک ہمارے پاس ڈرامہ نہیں رہا تو ناٹیہ شاستر کی حیثیت بھی برہم چاری کے ہاتھ میں کوک شاستر کی رہ گئی ۔ بہر حال مغرب میں ایک طاقتور اور زندہ روایت تھی ڈرامائی تنقید کی کیونکہ رینے ساں کے بعد ڈرامہ مغرب میں خوب پھولا پھلا ۔ چناں چہ ٹریجڈی اور کامیڈی پرزبردست فلسفیانہ کتابیں ملتی ہیں۔ یونانی اور شیکسپیرین ٹریجڈی ، الزبتھن اور جیکو بین ڈرامہ، ریسٹوریشن کا میڈی ، ابسن ، شا، براخ کا تھیڑ ایسبر ڈ ڈامہ، یہ سب آپ سے ناقدانہ مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تنقید کے بغیر ان کی تفہیم تک ممکن نہیں ۔ پھر انگریزی میں چاسر سے لے کر براؤننگ اور ٹینی سن تک بیانیہ اور قصہ جاتی شاعری کے بے نظیر نمونے تھے جن پر تنقیدوں میں غزل کی شاعری کی تنقید کے برعکس، علامتی ، اسطوری ، نفسیاتی اور اخلاقی پہنائیوں کا احاطہ کیا جاتا۔ ایک بہت ہی دلچسپ روایت دوستو وفسکی کی ناولوں کی تنقید کی تھی جو سر تا سر فلسفیانہ تھی ، ٹالسٹائی ، بالزاک ، جارج ایلیٹ اور ڈکٹس کے کرداروں کے بے حد خوبصورت تجزیے تھے۔ لارنس کی تنقیدوں میں فطرت انسانی کی تفہیم کے کتنے باب وا ہوتے تھے۔ ایک پورا دبستان جو نارنگ کے ساختیات والے اگر با تک پھیلا ہوا ہے، فلابیر کے اسلوب کے مطالعہ کے لیے وقف ہے۔ اور پھر وجودی ناول ۔ سارتر ، کامیو، بکٹ نیز تجرباتی ناول ، جیمس جائس ، جان بارتھ ، اور پنچون، اور مارسل پروست اور ورجینا  وولف کے مطالعے ، یہ تو ٹھیک کہ میں بے شرم طومار نویس ہوں کہ بکتا چلا جاتا ہوں ، ورنہ مغرب میں فکشن اور اس کی تنقیدوں کا نہ اور ہے نہ چھور، اردو والا معاملہ نہیں کہ بغل میں ایک ناول اور دوسری بغل میں اس پر ایک پھٹیچر مضمون لیے فکشن کی مملکت کے تاجدار بن بیٹھے ۔ میں پوچھتا ہوں محولہ بالا سر چشموں سے الگ فکشن کے نقاد کی ذہنی تربیت کی درسگاہیں اور کون سی ہو سکتی ہیں اور ایمان کی کہیے ہم نے ان تک رسائی حاصل کرنے کی کیا کوششیں کی ہیں۔

     کیسرر نے آدمی کو علامت بنانے والا جانور کہا ہے جو ارسطو کی ’’انسان ایک سماجی جانور ہے“ سے زیادہ معنی خیز تعریف ہے۔ سماجی روابط تو حیوانوں میں بھی مل جاتے ہیں ۔ البتہ علامت تشکیل دینے کا عمل انسان کی تمام تہذیبی سرگرمیوں (جس میں مذہب بھی شامل ہے) کی اساس ہے اور انسان کی تہذیبی سرگرمیاں اسے حیوانوں سے مختلف اور ممتاز بناتی ہیں۔ تہذیب کا زبان سے کیا رشتہ ہے اور زبان کے علامتی استعمال کے ذریعے آدمی نے کون سی ارتقائی منازل طے کی ہیں اس پر کیسر رنے بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ زبان ذہنِ انسانی کے ارتقاکی ایک خاص منزل کی نشاندہی کرتی ہے۔ انسانی ذہن جب زبان کے ذریعہ علامت ، تجریدات، تعمیمات اور کلیات میں سوچنے لگتا ہے تو ان لوگوں سے بھی مختلف ہو جاتا ہے جن کے پاس زبان تو ہوتی ہے لیکن جو تجریدی فکر کے اہل نہیں ہوتے۔ کیسرر نے زبان کی سائیکو پیتھولوجی کے حوالے سے بتایا ہے کہ آدمی اگر کسی بیماری کی وجہ سے اپنی قوتِ گویائی کھو دیتا ہے تو یہ کوئی علیحدہ لاتعلق واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ نقص انسانوں کے پورے کردار کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے لوگ مفکرانہ سرگرمی ، اور نظریاتی سوچ بچار کے اہل نہیں رہتے۔ وہ عمومی تصورات میں سوچ نہیں سکتے کیوں کہ کلی  تصورات پر ان کی گرفت قائم نہیں رہتی ۔ اس لیے وہ سامنے کے حقائق اور ٹھوس واقعات ہی سے چمٹے رہتے ہیں۔ ان سے وہ کام بن نہیں پڑتے جن کے لیے تجریدی فکر لازمی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کے Reflective Thought کااس کے Symbolic Thought پر کتنا دار و مدار ہے۔ علامتی فکر کے بغیر آدمی افلاطون کی گپھا کے ان وحشیوں جیسا بن جائے گا جو سامنے دیوار پر واقعات کی پر چھائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان میں کوئی ربط و ضبط پیدا نہیں کر سکتے ۔ پھر تو آدمی بائیالوجیکل ضرورتوں اور عملی دلچسپیوں تک محدود ہو جائے گا۔ وہ اس عینی دنیا میں جو خیالات ، تصورات اور نظریات سے عبارت ہے اور جو مذہب آرٹ فلسفہ اور سائنس کے ذریعہ اس پر آشکار ہوتی ہے۔ داخل نہیں ہو سکے ۔

    افسانوی کردار میں انفرادیت اور عمومیت، حقیقت اور اسطوریت کا نہایت ہی خوبصورت امتزاج ہوتا ہے۔ اسی لیے ڈراموں اور ناولوں کے بڑے کرداروں پر ہرنسل صدیوں تک اپنے بہترین دماغوں کو سوچنے کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ ہملٹ اور مکبتھ ، مادام بواری اور اینا کارے نینا، کاراموزوف پر کتنا لکھا گیا ہے ، آج بھی کتنا لکھا جا رہا ہے ۔ دراصل ہر اچھا افسانوی کردار علامت ہوتا ہے کسی انسانی رویہ، کسی انسانی صورت حال ، اخلاقی کشمکش، سماجی برتاؤ ، سیاسی سلوک ،المیہ مقدر ، ایروز کی طاقت، جبلتوں کے فشار اور روحانی سربلندی کا ۔ اسی لیے کردار سازی اسطور سازی ہے۔ ایک فرد میں ان کا ئناتی طاقتوں کا مشاہدہ جو ایک معمولی سے معمولی آدمی کو بھی دلچسپ اور حیرت انگیز بناتا ہے۔ ورنہ رانو اور انڈو اور بابو گوپی ناتھ معمولی گرے پڑے لوگوں کے سوا کیا ہیں ۔ لیکن فطرت کی تخلیقی طاقتوں، امروز اور ماوریت اور عشق کی تجسیم ہونے کے سبب کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ ناول تو رزمیہ ہیرو کی بجائے معمولی آدمی کی کہانی کہنے کے لیے ہی وجود میں آئی تھی۔ اور اگر یہ معمولی آدمی اپنا انفرادی اور علامتی بعد پیدا نہیں کرتے تو وہ افلاطون کی گپھا کی پرچھائیاں یا شاہراہ سے گزرتی بے چہرہ بھیڑ ہیں جس میں ہم کوئی ربط کوئی معنی دیکھ نہیں سکتے ۔ کردار تو ناول کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اور کردار کی قیمت پر پلاٹ یا محض واقعات کی ناول آرٹ کے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔

    تاریخ بے معنی ہو جاتی ہے اگر اس کے مقابل کوئی ایسا کردار نہیں جو یا تو تاریخی عمل کا سرغنہ ہو یا اس میں شریک ہو، یا اس کا ہدف ہو ۔ یہ کردار کی شخصیت ہی ہے جو تاریخ کے گھومتے پہیے کا ساکن محور ہے۔ ورنہ ان لوگوں کا حساب رکھنے کی طاقت کس کے پاس ہے جو اس پہیہ کے نیچے کچلے گئے ۔ فسادات، قساوت ، خون ریزیوں اور درندگیوں کے سبب ہمارے ذہن کا حصہ نہیں بن پاتے۔ لیکن گورمکھ سنگھ کی وصیت اور لاجونتی کے سبب ہم ان پر سوچتے ہیں اور اداس ہو جاتے ہیں۔ دراصل ہم ایک سماجی اور متمدن آدمی کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ اس آدمی کو دیکھ ہی نہیں پاتے جو تمدن کا غازہ اترنے کے بعد نمودار ہوتا ہے۔ ساؤل بیلو نے آدمی کو روح اور جبلت کے ایک عجیب طور سے ترتیب دیے ہوئے نراج کی تصویر کہا ہے ساؤل بیلو کے الفاظ ہیں :

    A Quaintly Organised Chaos Of Instinct And Spirit

    یہ نحیف توازن جب بھی بگڑتا ہے تو آدمی کے سینکڑوں ہزاروں انوکھے دلچسپ اور حیرت ناک روپ سامنے آتے ہیں۔ فن کار کی آنکھ جو ان تصویروں کو دیکھتی ، پر کھتی اور پہچانتی ہے وہ اپنی دنیا ئے افسانہ میں ہزاروں رنگارنگ تصویروں کا نگارخانہ سجاتی ہے۔ ورنہ ایک ہی قسم کے ابا جان ، امی جان اور نانی اماں اور بہنیں اور بھائی جو ہمیں ہر گھر میں دکھائی دیتے ہیں ہر ناول میں نظر آئیں گے۔ اور سچ بات یہ ہے کہ نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح تاریخ کو بھی صحافت بنتے بہت دیر نہیں لگتی ، جو ہر ناول کا دستاویزی مواد فراہم کرتی ہے۔ آخر ہمیں آج کی سیاسی صورت حال پر مبنی ناولیں پڑھتے وقت ایک ہی قسم کے صحافتی اور دستاویزی ناول پڑھنے کا احساس کیوں ہوتا ہے۔ ناول تاریخی دستاویز نہیں ہوتی ، چاہے اپنے وقت کے اہم واقعات کی ترجمانی کی نیک خواہشات کے تحت لکھی جائے ۔ ناول مرجاتی ہے تو ساتھ ہی تاریخ بھی مرجاتی ہے کیوں کہ ناول تاریخی مآخذ کے طور پر معتبر نہیں ہوتی ۔ ناول کو ناول تاریخ نہیں بناتی بلکہ اس کا آرٹ بناتا ہے۔ جین آسٹن کی ناولوں میں تاریخ سرے سے موجود نہیں۔ تاریخ کا ایسا فقدان ہے کہ یہ بھی جین آسٹن کی ایک صفت بن گئی ہے۔ اس سے اس کے ناولوں کے آرٹ میں کیا کمی آئی ہے۔

     آزادی کے بعد برصغیر میں جو ناول لکھے گئے وہ بلا استثنا سب کے سب ملک کی تقسیم، فسادات، ہجرت ،عسکری آمریت ، لوٹ کھسوٹ، غربت ، بیکاری ، ہوس پرستی ، رشوت ستانی ، سیاسی انحطاط اور نراج کے موضوعات پر تھے ۔ یہاں تو خیر وشر کی کشمکش بھی نہیں بلکہ شر ہی کی حکمرانی ہے، اور دنیا طاغوتی قوتوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے ۔ آگ کا دریا ، اداس نسلیں ، چھٹا دریا ( فکر تونسوی) يا خدا (قدرت اللہ شہاب ) ، بستی، لہو کے پھول (حیات اللہ انصاری) ، خدا کی بستی ، آتشی چنار ( شام بارک پوری ) ، اللہ میگھ دے (طارق محمود )، فرار ( ظفر پیامی )، دوگز زمین ، خوابوں کا سویرا ( عبد الصمد ) ، ایک مرے ہوئے شخص کی کہانی ، بے وطن (فخر زماں) کے علاوہ اور بہت سے نام لیے جاسکتے ہیں۔ ان ناولوں میں صحافت کے دباؤ کو تو سمجھا جاسکتا ہے لیکن اکثر میں خطابت اور جذباتیت کا وفور اور ڈرامائی صورت حال اور معنی خیز واقعات کا فقدان تخیلی ضعف اور فن کارانہ عجز کی چغلی کھاتے ہیں۔ نارنگ سے میرا پہلا سوال ہے ہیئت پسند جدیدیت کے دور میں تاریخیت سے لبریز یہ ناول کیسے لکھے گئے ۔ دوسرا سوال ہے تاریخیت نے ان ناولوں کو فن کا عمدہ نمونہ کیوں نہ بنایا۔ تیسرا سوال ہے کیا تنقید ان کے فن سے اغماض برت کر اور صرف تاریخیت کو حساب میں رکھ کر عمدہ تنقید بن سکتی ہے۔ پھر ایسی تنقید اور ترقی پسند تنقید میں فرقِ امتیاز کیا ہوگا ؟ اگر ان میں سے اکثر ناول مقبول نہیں ہو سکے، قارئین کا وسیع حلقہ پیدا نہیں کر سکے، تنقید کو بھی اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکے ، تو اس کا سبب ان فنی حربوں کا اسقام تو نہیں جو تاریخی مواد کو فن کارانہ شکل دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ ’آگ کا دریا‘ جیسی حوصلہ مند ناول سے بھی غیر اطمینانی کی وجوہ میں کمزور کردار نگاری کا ذکر نمایاں طور پر ہوتا ہے۔ بات پھر وہی آتی ہے، آپ تاریخ لکھ رہے ہیں یا ناول ، اور ناول کا ہے سے بنتی ہے، تاریخ سے یا کردار سے...؟

     کردار اگر پر چھائیں ہے تو تاریخ بھی دستاویزیت اور صحافت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جو باتیں ہم روزانہ اخباروں کے ذریعے جانتے ہیں وہ اگر فرد کا تجربہ نہیں بنتیں تو ناول کا زندہ تجربہ اور معنی خیز واقعہ نہیں، محض خبر ہے۔ آج جب کہ صحافت تک واقعہ نگاری میں افسانوی طرز اور اسلوب اپنا رہی ہے تو ناول پر تو اور بڑی ذمہ داری آجاتی ہے کہ وہ اپنی فن کارانہ شناخت کو محفوظ رکھے۔ فلم، صحافت اور ٹیلی ویژن کے زمانے میں ناول کو وہی کام کرنا چاہیے جو یہ تینوں نہیں کر سکتے یعنی یہ دیکھنا کہ آدمی اندر سے کیا ہے، تاریخ کے طوفانوں میں اس کے اوپر کیا بیتی ہے اور وہ اندر سے کیسا ٹوٹتا بکھرتا رہتا ہے۔ الیاس احمد گدی کے ناول ’فائر ایریا‘ میں غنڈہ گردی اور قتل سب فلمی انداز کا ہے۔ الیاس احمد کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کوئلے کی کانوں میں مافیا فلمی انداز ہی کا قتل کرتا ہے تو وہ بھی کیا کریں ، ان کی بات ٹھیک ہے۔ لیکن خود فلم کو کمرشل فلم سے بچانے کے لیے آرٹ فلم وجود میں آئی تھی جس نے کیمرے کی آنکھ کو ناول نگار کی آنکھ میں بدل دیا تھا، جو زندگی جیسی ہے ویسی ہی دیکھتی ہے اور اس لیے ادا کاروں کی پسند میں بھی حسن کی بجائے عام زندگی سے مشابہت کو ترجیح دیتی ہے۔

     فن کاری کا ایک بڑا مرحلہ تو آرٹ کی صنعت گری سے بچنے کا بھی ہے عبد اللہ حسین کا ناولٹ ” قید“ لیجیے جو ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے۔ پاکستان کے ایک گانو میں کسی بدنصیب نے اپنا نا جائز نوزائیدہ بچہ مسجد کی سیڑھیوں پر رکھ دیا۔ نمازی جب باہر نکلے تو انہوں نے بچہ کو ناجائز ہونے کے گناہ میں سنگسار کر دیا ۔ لیکن اس واقعہ پر عبداللہ حسین کی ناول سے وہ دھچکا بھی نہیں پہنچتا جو اس واقعہ کی اخباری رپورٹ سے پہنچتا ہے۔ کرداروں کو پیچیدہ بنانے اور پلاٹ میں گرہیں لگانے کی صنعت گری میں پورا واقعہ اپنا تاثر گنوا دیتا ہے۔ پلاٹ میں گرہ دینے کی یہ کوشش دیکھیے کہ وہ مولوی جس نے بچہ کو سنگسار کرنے کا حکم جاری کیا تھا، بچہ اسی کے مرحوم بیٹے کا نطفہ حرام تھا۔ گویا لاعلمی میں اس نے اپنے ہی پوتے کا قتل کیا ہے جو اس کے مجرمانہ اقدام کی اس کی سزا ہے۔ اس ناول پر تنقیدوں میں اب نقائص کا ذکر نہیں ہوتا ۔ گویا اس واقعہ پر قلم اٹھانا ہی ایک بڑی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے۔ میں پوچھتا ہوں اگر ایک دل ہلا دینے والے واقعہ پر بھی عبداللہ حسین پر تاثیر ناولٹ نہیں لکھ پاتے تو ایک ناول نگار کی کون سی ذمہ داری انہوں نے پوری کی۔ اگر منٹو اس واقعہ پر افسانہ لکھتا تو ممکن ہے ’کھول‘ دو جیسا دوسرا افسانہ وجود میں آتا جو ہماری سائیکی میں اتر جاتا ۔ جس کی تحت الشعوری لرزشیں زیرزمین آتشیں مادے کی رستاخیز کی صورت نسل در نسل محسوس کی جا تیں ۔ منٹو کہانی کے حسن سادہ کو آرٹ کی مشاطگی اور صنعت گری سے پاکیزہ رکھنے کے گر سےواقف تھا۔

    تاریخیت ، ثقافت، کلچر ،سماجیات ، فلسفے اور آئیڈیولوجی افسانہ کے ڈرائنگ روم کا قیمتی خوبصورت فرنیچر ہیں جو کمرے کی آسیبی خاموشی میں بے جان پڑے رہتے ہیں ۔ ڈرائنگ روم جاگتا ہے انسانی آوازوں اور ہمہموں سے ۔ آدمی کے قدم رکھتے ہی افکار کے جھاڑ فانوس روشن ہوتے ہیں ۔ سماجیات کا آتش داں دہک اٹھتا ہے ، اور ثقافت کی منقش کرسی اپنی آغوش وا کرتی ہے۔ زندہ متحرک کرداروں کے بغیر ناول تاریخ کی دستاویز اور ثقافت کا میوزیم ہے۔ کرداروں کی چہل پہل سے ایک چادر میلی سی کا مفلوک الحال گھر ، سوگندھی کی کوٹھری ، بھولا کی جھونپڑی ، سوکھے ساون کا دیہاتی مکان ، وہ حسن اور معنویت پاتے ہیں جو آرٹ کا بخشا ہوا ہے ۔ اور کردار اپنے ماحول میں لوگوں کے بیچ ، گھر اور چوپال میں ، آفس اور کلب میں شکل پذیر ہوتا ہے۔ ان چیزوں کو گرفت میں لینے کا طریقۂ کار حقیقت نگاری ہے جس کی اپنی ایک تاریخ ہے اور حقیقت نگاری کی تاریخ ناول کی تاریخ ہے اور یہ تاریخ اس معاشرے کے لیے پانی کا جھرنا ہے جو خود ناول کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ اس جھر نے پر بیٹھ کر آدمی زندگی کا دکھ سکھ ، تاریخ کے جبر ، وقت کی دست برد، روایتوں کی پائمالی ، قدروں کی شکست ، آدرشوں کے انہدام، زندگی کی بے معنویت، دکھ کی طویل راتوں اور ستم کے پتتے دنوں کی باتیں کر سکتا ہے۔ یہ باتیں ناول کی تنقید کے تارو پود ہیں۔