وارث علوی

وارث علوی

کیا نقاد ادب کا غیر اہم آدمی ہے

    کیا نقاد ادب کا غیر اہم آدمی ہے

    وارث علوی

    ایک نظر سے دیکھیے تو ابھی ا بھی ہمارا معاشرہ فوک کلچر یا لوک سنسکرتی کی منزل سے آگے نہیں بڑھا۔ ادب کا مطلب ہے وہ تخلیق جو تحریر میں آئے۔ لیکن ابھی بھی ہمارے یہاں ان پڑھ لوگوں کی تعداد پچاس کروڑ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اردو زبان ہندوستانی زبانوں میں چوتھے نمبر پر آتی ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد دو یا تین کروڑ افراد پرمشتمل ہے۔ لیکن اردو کتاب ہمارے یہاں پانچ سو سے زیادہ نہیں چھپتی اور سو سے زیادہ نہیں بکتی۔ ہمارا معاشرہ کتابیں پڑھنے والے لوگوں کا معاشرہ نہیں ہے۔مغرب میں تعلیم سو فی صد ہو گئی ہے اور کتابیں پڑھنے والا طبقہ ٧٠ فیصد ہے۔

     ایک معنی میں تو مشاعرے کی روایت Oral Literature کی روایت ہی ہے۔ لفظ جب بو لایا گایا جاتا ہے تو اس میں گر دو پیش کی پوری فضا  کا رس کس شامل ہو جاتا ہے۔ مشاعرے میں شعر اچھے لگتے ہیں کیوں کہ جگمگاتی رات ہوتی ہے، پروائیاں چلتی ہیں، اور شاعر کا دلکش ترنم ہر شعر میں رس گھولتا ہے۔ جن شعروں پر آپ نے رات اچھل اچھل کر داد دی ہے، انہیں دوسرے روز تحریری شکل میں پڑھیے ، بے جان نظر آئیں گے۔

     بھجن کیرتن ، کیرول ، نعت اور حمد کو عموماً اسی لیے شاعری کے پیمانوں پر پر کھا نہیں جاتا کہ ان میں شاعری کے علاوہ سنگیت عبادت خانوں کی مقدس فضا اور سامعین کی عقیدت مندی سبھی شامل ہو جاتی ہے۔

     وعظ، کتھا اور تقریر کا بھی یہی عالم ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جہالت اور ضعیف الاعتقادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمارے یہاں مہاتماؤں اور مولویوں کا چلن بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہمارا معاشرہ کتابوں سے زیادہ کانوں پر بھروسا کرتا ہے۔ ایک اچھے مقرر کی تقریر میں زبان کی روانی ، انداز بیان کی شگفتگی، خطابت کی دل نشینی ، مقرر کی شخصیت کا جادو ، اس کی خوبصورت آواز کی طلسمی کیفیت، اور اگر جلسہ مذہبی ہوا تو لو بان اور اگر بتی کی خوشبو، شلوکوں اور آیتوں کی قرأت، نعرہ ہائے تحسین و آفرین، ہو حق کی صدائیں ، اور عقیدت مندانہ جذبات کی فضا بندی کے لیے بیچ بیچ میں بھجن منڈلیوں کی چھیڑی ہوئی تانیں ..... یہ سب مل کر تقریر کو ایک غیر ارضی اور آسمانی تجربہ میں بدل دیتے ہیں۔ سامعین وجد اور کیف کے عالم میں لفظوں کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ سننے والوں کا پورا تجربہ جذباتی ، وجدانی اور جمالیاتی ہو تا ہے ، لفظ کا جادو لفظ کے معنی پر غالب آتا ہے اور سننے والا فکر و فلسفہ اور عقل و شعور سے کام لینے کی بجائے آواز کے زیر و بم، لفظوں کی نغمگی اور خطابت کی لذت میں گم ہو جاتا ہے۔

    تحریری لفظ تقریری لفظ کے برعکس دعوت فکر و نظر دیتا ہے۔ آدمی لکھے ہوئے لفظوں پر ٹھہر سکتا ہے۔ جو بات کہی گئی ہے اس پر غور و فکر کر سکتا ہے۔ لفظی اور معنوی تعلیقات کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ اپنی فکر ، اپنے شعور ، اپنی عقل کو حرکت میں لا سکتا ہے۔ چناں چہ کتاب کا مطالعہ ایک باشعور ذہن کا فعال، حر کی ، اور جدلیاتی عمل ہے..... ایک ایسا عمل جو ذہن کی تنقیدی صلاحیت کو بروئے کار لاتا ہے۔ اس معنی میں تنقید فی الحقیقت انسانی شخصیت کا اثبات ہے۔ آدمی کہتا ہے تم میرے ذہن کو مغلوب اور مسحور نہیں کر سکتے ، اسے مشتعل نہیں کر سکتے ، اسے رگید نہیں سکتے۔ مختصر یہ کہ تم میرے ذہن کو غلام نہیں بنا سکتے۔

    بڑے ادیبوں سے رابطہ عالمی کانفرنسوں میں قائم نہیں ہو تا بلکہ تنہائی اور تخلیہ میں ان کی کتابوں کے پر سکون مطالعہ کے ذریعہ ان سے شناسائی حاصل کی جاتی ہے۔ سنجیدہ مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ ذہن کھلا ہو ، غیر ابر آلود ہو ، بیدار اور خلاق ہو۔ سفید کاغذ پر تو سیاہ حروف ہی بکھرے ہوتے ہیں، لیکن پڑھنے والے کا ذہن ان حروف سے ایک پوری کائنات تخلیق کرتا ہے۔ یہ کائنات شیکسپیئر کی ہوتی ہے اور ملٹن کی، ٹالسٹائی کی اور فلابیر کی، فردوسی کی اور غالب کی ، پڑھنے والے کا ذہن با شعور نہ ہو ، خلاق نہ ہو ، ناقدانہ نہ ہو تو غالب کے اشعار کاغذ پر بے جان سطروں کی صورت بکھرے رہتے ہیں۔ پڑھنے والے کے ذہن کا لمس پاتے ہی وہ پر لگا کر اڑتے ہیں۔ ذہن جتنا بالانشین ہو گا شعروں کی اڑان بھی اتنی ہی بلندی ہو گی۔

    کہا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں تخلیق پر تنقید کا غلبہ ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے اور غلط بھی ۔ صحیح اس معنی میں کہ تنقید کے نقار خانہ میں تخلیق کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ غلط اس معنی میں کہ ہمارے یہاں جتنے نقادوں کی ضرورت ہے اتنے نظر نہیں آتے۔ انگریزی میں تو ایک شاعر یا ایک ناول نگار پر دس پندرہ کتابیں تو اس کی زندگی میں ہی نکل جاتی ہیں ، ہمارے یہاں بیدی، منٹو، عصمت، کرشن چندر ، راشد، فیض ، سردار جعفری پر ایسی کتنی کتابیں سامنے آئی ہیں جنہیں پڑھ کر محسوس ہو کہ انہیں ان کے مرتبہ کے نقاد ملے ۔ جو کتابیں سامنے آئی ہیں انہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نقادوں نے اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ یعنی شاعر کا حق ادا کیے بغیر اپنی تنقید کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے۔ یہ عموماً و ہ لوگ ہوتے ہیں جو ادب کے پر شوق قاری بنے بغیر پُر مشقت نقاد بن جاتے ہیں۔ ان کی تنقیدوں میں علم اور اکسپر ٹائز بھی ہوتی ہے اور محنت اور مشقت بھی لیکن وہ بصیرت نہیں ہوتی جو نقاد کو ادب کے باشعور اور باذوق مطالعہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مضامین غیر تخیلی اور غیر تخلیقی ہوتے ہیں۔ عظیم تنقیدوں میں تخیل، تخلیق اور بصیرت کا ایک دھارا ہوتا ہے جس کا سر چشمہ شعر و ادب کا پُر کیف مطالعہ رہا ہے۔ تنقید کا یہی تخلیقی اور وجدانی جو ہر خشک عالموں اور بے جان مدرسوں کو اپنی طرف للچاتا ہے، لیکن یہ جو ہر اس وقت تک ہاتھ نہیں آتا جب تک ادبی تجربہ نشہ بن کر حواس پر نہ چھا جائے ، اور اس شیریں دیوانگی کو جنم دے جو قاری کو مدرسہ کی گھٹن آلود فضا سے باہر نکال کر ادب کی دشت نوردی اور آوارگی کی وہ بے پایاں تمنا عطا کرے جس کی تشنگی کبھی بجھنے نہ پائے۔ ڈاکٹریٹ کے مقالوں اور مدرسانہ مضامین میں انہی کھلی فضاؤں کی روشنی اور خوشبو نہیں ہوتی۔ از کار رفتہ علوم اور علم بیان کی بوسیدہ کتابوں کی نم آلو د روہانسی باس ہوتی ہے۔

      ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ نقادوں نے اپنی اوٹ پٹانگ تنقیدوں اور نظریات کے ذریعہ تخلیقی فن کاروں کو یا تو بانجھ کیا ہے یا گمراہ۔ بے شک نظریات کا اثر لکھنے والوں پر پڑتا ہے لیکن عموماً فن کار لکھنے کے گر نقادوں سے نہیں بلکہ دوسرے بڑے فن کاروں کے مطالعہ کے ذریعہ ہی سیکھتا ہے۔ اس لیے لکھنے والے کے لیے بھی ادب کا قاری ہونا بہت ضروری ہے۔ فن کار قاری کی کوکھ سے ہی پیدا ہو تا ہے اور نقاد قاری ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ہمارے یہاں مصیبت یہ ہوئی ہے کہ جیسے ہی لکھنے لکھانے کا کاروبار چل پڑتا ہے تو کیا فن کار اور کیا نقاد دونوں ادب پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ ایسا ادب اورتنقیدیں ہیں جو ناخواندہ لوگوں کے لیے عموماً نیم خواندہ لوگ لکھتے ہیں۔ ایک باشعور نقاد ایسی میڈیو کریٹی کے ساتھ بھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔  وہ ہمیشہ حسن و خوبی پراصرار کرتا ہے۔ نئے  لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے تحت وہ خام کار لکھنے والوں کی تعریف نہیں کرتا۔ ایسا کرنے سے ادب کی پرکھ کے معیار بدل جاتے ہیں اور ادبی تصورات کی مستحکم فصیلوں میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ حوصلہ مند لکھنے والوں کا جثہ  اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ وہ ان پر ایمان داری سے کی گئی تنقید کو برداشت کرسکیں۔ فن کار خود اپنے فن کا ناقد ہوتا ہے اس لیے وہ خود نقاد  کی بات سمجھتا ہے۔ اوسط درجہ کے لکھنے والوں کا تنقیدی شعور بھی اوسط درجہ کا ہوتا ہے۔ اس لیے یا تو وہ نقاد پر جھنجھلاتے ہیں یا اس کے نظریات کی اندھی پیروی کرتے ہیں۔ کمزور ذہن ڈی مے گاگ اور آئیڈیو لوگ کی خطابت کا اثر فوراً قبول کرتا ہے۔ اسی لیے ایلیٹ نے کہا ہے کہ ہر ذہن کو ناقدانہ ہونا چاہیے کہ وہ اشتعال انگیز تصورات کے دھارے میں نہ بہہ جائے۔ عام طور پر نسل پرست، فرقہ پرست جماعتوں، سنگھوں اور سیناؤں کے پیرو وہی لوگ ہوتے ہیں جن میں خود تنقیدی کا مادہ نہیں ہو تا۔ ان کا خمیر ہی پیروی اور مریدی کی مٹی سے بنا ہو تا ہے۔ ترتش بیاں مقرر کی شعلہ افشانی ان کے تخیل کو بھڑکاتی ہے اور ان کا لہو کھول اٹھتا ہے۔ ایک مہذب اور متمدن آدمی کی نشانیاں کچھ اور ہیں۔ وہ بیدار مغز ہوتا ہے ، صوابدید سے کام لیتا ہے۔ مغلوب ہونے کے خوف کے بغیر وہ بڑے تصورات اور نظریات سے آنکھیں چار کرتا ہے۔ فن کار کوئی گو د کھلایا بچہ نہیں ہو تا کہ اسے نقاد کے نظریات سے دور چھوئی موئی کے پودے کی طرح پروان چڑھایا جائے۔ وہ فن کار جسے اپنی تخلیقی ضرورتوں کی آگہی میسر ہے وہ اپنی راہ بناتا ہے۔

    کیا تنقید کا درجہ تخلیق سے کمتر ہے ؟ کیا تنقید تخلیق کی نالین بردار ہے ؟ کیا نقاد ادب کا غیر اہم آدمی ہے ؟

     سماجیات ہو یا نفسیات، لسانیات ہو یا علم اساطیر، علوم کے مختلف شعبوں میں جو کچھ بہترین سوچا گیا ہے، تنقید اسے اپنے اندر سموتی ہے۔ اس معنی میں تنقید جہانِ افکار ہے جس کی سیاحت ولولہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ تنقید ادب کا تذکرہ ہے اور ذکر یار وصل یار کا لطف رکھتا ہے۔ اسی لیے تنقید شعر و ادب کے شوق کو انگیز کرتی ہے، ذوق کو نکھارتی ہے ، اور جذبہ تجسس کو دھار دار بناتی ہے۔ تنقید ماضی کے ادب میں ہماری دلچسپی بر قرار رکھتی ہے اور شاعروں کو قعرِ فراموش گاری میں گرنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ قدیم شعراء میں فن اور معنی کی نئی جہات دریافت کر کے ان پر جمی ہوئی فرسودگی کی گردد ور کرتی ہے اور انہیں ایک نئی تازگی اور توانائی عطا کرتی ہے۔ ادب خلوت کا مشغلہ ہے لیکن قاری کے ذہن میں محفلیں برہم کرتا ہے۔ تنقید ادب کی بزم آرائی ہے ، ان محفلوں اور ہنگاموں کا بیان جو قاری کے ذہن میں برپا ہوتے رہتے ہیں۔ تنقید وہ سر دلبراں ہے جو منبر پر فاش کیا جاتا ہے ، وہ و عظ ہے جو راز کی صورت راز دانوں کو سنایا جاتا ہے۔ تنقید تخیل کی تخلیق کرده جادو نگری کی سیر ہے ، جہان ِافکار کی سیاحت ہے ، ماضی کے کھنڈروں میں ، زندہ تجربات کی تلاش ہے، شعر کی مئے دو آتشہ کی سرشاری اور سرمستی کا بیان ہے..... لفظ کی کسوٹی زبان کی پرکھ اور معنی کا پیمانہ ہے۔ تنقید سے ادب میں گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا ہے ورنہ ہر قاری اپنی پسند ، اپنے تجربہ اور اپنے مطالعہ کا زندانی بن جائے۔ تنقید رابطہ ہے قاری اور قاری کے بیچ، قاری اور فن کار کے بیچ اور نقاد اور فن کار کے درمیان۔ اپنی آخری شکل میں تنقید گفتگو ہے.... اہل علم کی اہل علم سے ، اہل دل کی اہل دل سے ، خوش طبعی ہے یاروں کے بیچ، بے تکلفی ہے احباب کے درمیان بحث و تکرار ہے ہم مشربوں سے، چھینا جھپٹی ہے مخالفوں سے ، پھکڑ اور ٹھٹھول ہے حریفوں سے ، آپ کچھ بھی کہیے ، ادب میں ہنگامہ آرائی، چہل پہل اور گرما گرمی کی پہچان تنقید کے مزاج ہی پر قائم ہے۔

    حاصلِ کلام یہ کہ تنقید تخلیق کی نالین بردار نہیں بلکہ ہم رکاب ، ہم جلیس اور ہم سخن ہے۔ وہ تخلیق کی روح کی گہرائیوں میں اترتی ہے اور اس کے نہفتہ اسرار بے نقاب کرتی ہے۔ وہ اس کی ہر دھڑکن کو سنتی ہے، لطیف سے لطیف لرزشوں کو محسوس کرتی ہے۔ اور عظیم ترین اڑانوں میں اس کے ساتھ محوِ پرواز ہوتی ہے۔ تنقید تخلیق کے اڑن کھٹولے کا پایہ پکڑ کر عظیم تخیل کے اندر لوک کی سیاحت کرتی ہے۔ اسی لیے بڑے فن کاروں کے نقاد بھی بڑے ہوتے ہیں۔ شیکسپیئر، دستو فسکی ، فلا بیر اور ایلیٹ کے نقادوں کا تفکر، علم، بصیرت اور ژرف نگاہی کا تجربہ شیکسپیئر کے ڈراموں اور ایلیٹ کی شاعری کے تجربہ سے مختلف سہی، لیکن کم ہوش ربا، فکر انگیز اور بصیرت افروز ثابت نہیں ہو تا۔ بے شک تخلیق تجر بہ ٔحسن ہے جو تنقید نہیں ہوتی۔ تخلیق کا تجربہ جمالیاتی ہے، تنقید کا دانشورانہ ۔ لیکن خیال کا بھی اپنا حسن ہو تا ہے اور اظہارِ خیال کا بھی۔ دونوں مل کر تنقید کو وہ حسن اور شگفتگی عطا کرتے ہیں جو عموماً خشک مکتبی اور مدرسانہ کتابوں میں نہیں ہوتی۔ تنقید چوں کہ عظیم فن پاروں اور فن کاروں سے تعلق رکھتی ہے اس لیے ان کے متعلق خیال آرائی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے جو اپنا حسن بیان لے کر آتا ہے۔

    بے شک نقاد کو وہ بلند مقام حاصل نہیں ہو تا جو مثلاً غالب اور اقبال جیسے تخلیقی فن کاروں کو ملتا ہے۔ لیکن غالب اور اقبال کے مقابلہ میں اُن ہزار ہا شاعروں کی بھی کیا اہمیت ہے جن کے دیوان قعر فراموشی میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں تو یہ تسکین بھی حاصل نہیں جو نقاد کو حاصل ہوتی ہے کہ غالب اور اقبال کا مطالعہ کرنے والے لوگ اپنی مشکلات کو دور کرنے کے لیے یا شاعری کی تحسین و تفہیم کی خاطر یا اُن کے خیالات اور تصورات کی گہرائیوں کا شعور حاصل کرنے کے لیے ان تنقیدوں کو بھی ضرور پڑھیں گے جو تعمقِ نگاہ، وسیع مطالعہ اور طویل عرصہ پر پھیلی ہوئی دانشورانہ ریاضت کا ثمر ہے۔ ادب کا مطالعہ نہ تو مشاعرے کی آہ اور واہ ہے کہ ریل گاڑی میں ناول کا پڑھنا۔ مطالعہ ذہن کی اعلیٰ ترین سرگرمی ہونے کے سبب حرکی اور جدلیاتی ہے، فکر انگیز ، بصیرت افروز اور معلومات افزا ہے۔ اس لیے مطالعہ ایک مفکرانہ اور ناقدانہ عمل ہے۔ ایک نہیں ہزار ہا پہلو ہیں غالب کی زندگی ، شخصیت اور شاعری کے جو زندگی بھر غالب کے پرستار کو رشتۂ شوق میں باندھے رکھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ نے دیوان ِغالب کو دو چار بار پڑھ لیا تو چھٹی ہو گئی۔ اسے تو آدمی زندگی بھر پڑھتارہتا ہے اور ان مضامین اور کتابوں کو بھی جو لگا تار اس پر لکھی جاتی ہیں کیوں کہ ہر نسل اور ہر ذہن اپنے میلان ِطبع کے مطابق غالب کی نئی جہات اور نئی پہنائیوں کا انکشاف کرتا ہے۔ دیوانِ غالب وہ سورج ہے جس کے ارد گرد غالبیات کے تاب ناک سیارے محو گردش ہیں اور یہ پورا سورج منڈل غالب کے پرستار کی ذہنی فضاؤں میں مدام محوِ سفر رہتا ہے۔ لگ بھگ یہی عالم تمام بڑے فن کاروں کا ہے۔ فن کار آتا تو ہے تنہاد رویش کی مانند اور دل کے کواڑ پر دستک دیتا ہے۔ لیکن خانۂ دل میں براجمان ہوتے ہی ورودِ درویشانہ جلوسِ شاہانہ میں بدل جاتا ہے۔ تخیلات کے جھاڑ فانوس روشن ہو جاتے ہیں اور جلیسوں کی افکار و آرا سے سقف و بام گونج اُٹھتے ہیں۔ اعلیٰ تنقیدی کارناموں کی چمک تو ہمیشہ قائم رہتی ہے لیکن وہ تنقیدیں جو فرسودہ اور ازکار رفتہ ہو جاتی ہیں وہ بھی بجھے ہوئے ستاروں کی مانند اپنی Orbit میں حرکت کرتی رہتی ہیں اور غالب کی شعری کائنات کا سیاح اس پر بھی ایک نگاہ شوق ڈال لیتا ہے کہ اس بجھے ستارے پر بھی ایک بڑے فن کار کے تخیل کی روشنی کی چھوٹ پڑی تھی۔

    وہ جو بزعمِ خود، خود کو تخلیقی فن کار سمجھتے ہیں انہیں جاننا چاہیے کہ معمولی اشعار اور افسانے ان ذرات کی مانند ہیں جو خلا میں روشن ہوئے بغیر ہی معدوم ہو جاتے ہیں۔ مالک رام نے غالب کے کتنے شاگردوں اور ان کے کلام کا کھوج لگایا ہے۔ وہ لوگ تو غالب کے سورج منڈل کا اتنا بھی حصہ نہیں جتنے کہ خود مالک رام ہیں۔ کون ہے جس نے ان شاعروں کے کلام کا سرسری مطالعہ بھی کیا ہو ۔ جب کہ مالک رام نے جو لفظ بھی غالب کے متعلق لکھا وہ غالب کے چاہنے والوں کی آنکھ کا سرمہ بنا۔

    تخلیق معجزہ ہوتی ہے، تنقید نہیں ہوتی۔ لیکن آرٹ کے معجزے جاٹوں کو نہیں دکھائے جاتے کہ انہیں تو شعبدوں سے بھی خیرہ کیا جاسکتا ہے۔ ادب اسی معنی میں فوک لٹریچر سے زیادہ سو فسطائی ہوتا ہے۔ وہ اپنے مقابل ایک ذہین ، دراک نستعلیق اور سوچتا ہوا ذہن چاہتا ہے۔ یہ ذہن اس قاری کا ہوتا ہے جو پیشہ ور نقاد نہ ہونے کے باوصف نقدو نظر کی صلاحیت سے متصف ہوتا ہے۔ دوسروں کے لیے مقبول عام لٹریچر کا نشہ کافی ہے۔ تنقید معجزہ نہیں ہوتی لیکن معجزوں کی شاہد اور رمز شناس ہوتی ہے۔ تخلیق تنقید کی حاجت مند نہیں ہوتی لیکن وہ سخن ناشناسوں کی جنت کی بجائے سخن شناسوں کے عذاب دانش کی فضا میں جینا پسند کرتی ہے۔

    تنقید تخلیق کے حضور منکسر اور حلیم ہوتی ہے کیوں کہ وہ آرٹ کے جادو کو پہچانتی ہے۔ تخلیق فطری طور پر تنقید کی حرف گیری کو پسند نہیں کرتی۔ تخلیقی فن کار کے نزدیک نقاد وہ آدمی ہے جو بطور فن کار کے ناکام ہوا ہے اور اس لیے پیشۂ نقد اختیار کیا ہے۔ نقاد شاہی حرم کا وہ خواجہ سرا ہے جو اختلاط کے سب گر جانتا ہے لیکن خود کچھ کر نہیں سکتا۔ در اصل تنقید اس وقت تک دل آزاری سے بچ نہیں سکتی جب تک وہ مدح و تحسین کو اپنا شعار نہ بنائے لیکن اس صورت میں نقاد نیلام کرنے والا بن جاتا ہے جو ہر چیز کی تعریف کرتا ہے اور فن کاروں کو بھی وہ نقاد پسند نہیں آتا جو سب کے لیے ایک سی باتیں ایک سی زبان میں کرتا ہے اور گھوڑوں اور گدھوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا ہے۔ جو ہر شناسی نہ ہو تو تنقید دو کوڑی کی ہے، اور جو ہر شناسی فطری طور پر مذاقِ سخن کی شائستگی ، بلند جبینی ، انتخابیت، عمدگی اور سوفسطائیت کو جنم دیتی ہے جو نقاد کی شخصیت کو مقبول عام فن کاروں کے مقابلہ میں نسبتاً کم دل پسند بناتی ہے۔ صرف خلوص اور اپنی ذات سے ایمان داری ہی نقاد کو نخوت،دل آزاری، احساس برتری، عالمانہ پندار ، حقارت، چڑ چڑے پن اور اکڑ فوں سے بچا سکتی ہے ..... اور اپنی ذات سے ایمان داری کا مطلب ہے اپنے اندر اس قاری کو زندہ ر کھنا جو آرٹ کی جادو نگری کا تماشہ بچہ کی حیرت زدہ آنکھ سے کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہر نوع کےپوز سے احتراز کرتا ..... پوز چاہے علمیت کا ہو یا اکسپر ٹائز کا۔

    تنقید کے برعکس شعر و ادب کی دنیا میں معمولی تخلیق بھی اعلیٰ تخلیق کے سامنے پرنخوت ہوتی ہے کیوں کہ وہ اپنے شعبدے کو بھی آرٹ کا معجزہ سمجھتی ہے۔ ادب کی سر زمین میں ہر بونا باون گزا ہونے کے فریب میں مبتلا ہے اور مشاعروں اور فلموں کی مقبولیت اس کی خودفریبی میں اضافہ کرتی ہے۔ تنقید جب یہ فریب کھانے سے انکار کرتی ہے تو وہ جھلاتا ہے اور کہتا ہے کہ بہر صورت تخلیق تنقید سے افضل ہے۔ بے شک ہے لیکن اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ایک معمولی نظم، ناول یا افسانہ ایک غیر معمولی تنقیدی تحریر  پر فضیلت رکھتا ہو ۔ ان ہزار ہا شاعروں کے دیوان کہاں ہیں جن کے نام ہم تذکروں میں پڑھتے ہیں۔ اور ایک مقدمۂ شعر و شاعری ہے جس نے ہزاروں ذہنوں کو جلا بخشی۔ تنقید ہو یا تخلیق اس میں دیکھا تو یہی جاتا ہے کہ کون سے ذہن کی کار فرمائی ہے۔ فنی تخلیق غیر معمولی تخیلی قوت کی متقاضی ہوتی ہے جو میسر نہ آئے تو افسانہ ہو یا نظم اس ہوائی جہاز کی مانند ہے جو رن وے پر دوڑتا ہے لیکن اُڑ نہیں پاتا۔ اُڑان نہ بھرے تو ہوائی جہاز اور بیل گاڑی میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ بہت سے ناول اور افسانے ہیں جن میں پلاٹ، کردار، واقعہ نگاری، زبان کی چاشنی اور بہت سا مرچ مصالحہ ہوتا ہے، لیکن ناکام رہتے ہیں کیوں کہ دوڑتے ہیں لیکن ٹیک آف نہیں کرتے۔ اگر       اڑ ان بھرتے بھی ہیں تو ٹوٹ کر پاش پاش ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہوائی جہاز معمولی سا تکنیکی سقم بھی بر داشت نہیں کر پاتا۔

    تنقید اس معاملے میں بیل گاڑی ہی کی مانند سخت جان ہے۔ اول تو اسے ہوائی جہاز ہونے کا دعویٰ نہیں۔ وہ اپنی ہچر مچر چال چلتی رہتی ہے۔ دیکھا کہ فکر کے گڑھے میں پہیا پھنس گیا ہے تو دو چار فلسفیوں کو بلا لیا کہ لگاؤ دھکا۔ نظریہ کی لاش بھاری ہو گئی ہے تو دو چار نقادوں کو کندھا دینے کے لیے آواز دے دی۔ پانچ دس اشعار کو غل غپاڑہ مچانے والے چھوکروں کی طرح جمع کر لیا اور ان کے شور شرابے میں شاعر کا جلوس بیل گاڑانہ آگے بڑھ گیا۔

    تخلیق چوں کہ ایک اکائی ہوتی ہے ، ہیئتی وحدت کی متقاضی اور فن کارانہ تکمیل کی جویا،  اس لیے ایطائے خفی اور ایطائے جلی جیسی چھوٹی موٹی بیماریاں بھی اس کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ تنقید اس معاملہ میں کافی مضبوط کاٹھی کی ہے۔ بڑی بڑی بیماریوں کو جھیل جاتی ہے۔ اس کی طبعی بیماری ضیق النفسی ہے جس میں لکھنے اور پڑھنے والوں کا سانس پھولتا رہتا ہے۔ لیکن ضیق النفسی میں آدمی جیتا بہت ہے۔ نقاد اگر  اپنی کتاب میں مر جاتا ہے تو دوسرے نقادوں کی کتاب میں زندہ رہتا ہے کیوں کہ اس کا ذکر نقادوں کو بہ بدی منظور ہوتا ہے۔ پھر اختلاف رائے نہ ہو تو تنقید ایک ایسا اکھاڑا ہے جس میں ورزش سب کرتے ہیں کشتی کوئی نہیں لڑتا اور کشتی نہ ہو تو طاقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ طاقتور نقاد نقادوں سے لڑتا ہے، کمزور نقاد کمزور شاعروں پر برستا ہے۔ طاقتور نقاد کمزور شاعروں کا ذکر رواداری سے کرتا ہے۔ ان پر اس کی کتاب کتبہ ثابت ہوتی ہے۔ وہ ادب میں مر جاتے ہیں لیکن ان کتابوں میں زندہ  رہتے  ہیں لیکن ان کتابوں میں زندہ رہتے ہیں جو انہیں حیات جاوداں بخشنے کے کام میں خود جاں بحق ہوگئیں۔

    تخلیق کی دنیا میں معمولی صلاحیت کے لوگ معمولی رہتے ہیں۔ فن کاری محض الہام و وجدان نہیں بلکہ جگر کاوی اور عرق ریزی بھی ہے، لیکن تخلیقی صلاحیت نہ ہو تو عرق ریزی رائیگاں ہے۔ تنقید میں الہام و وجدان جیسی کوئی چیز ہے تو وہ بصیرت ہے جو بجلی کے کو ندے کی طرح نقاد پر فن پارے کی معنویت اور فنی رموز منکشف کر دیتی ہے ، لیکن بصیرت کا یہ کو ندا انہیں گھنگھور گھٹاؤں میں لپکتا ہے جو جگر کاوی میں ڈوبے ہوئے نقاد کے خون گرم سے اُٹھتی ہیں۔ بصیرت کے بغیر تنقید بھی رائیگاں ہے لیکن کو ندا لپکے یا نہ لپکے، گھنگھور گھٹاؤں کا اپنا ایک لطف ہے۔ خصوصاًجب بدلیوں سے علم کی پھوار بر سنے لگے تو ذہن سیراب ہوتا ہے۔ فن کار زندگی کے مشاہدے کو تخیل کے ذریعہ ایک فن کارانہ تجر بہ میں بدل دیتا ہے اور اس تجربہ میں زندگی کی حقیقت بھی ہوتی ہے، فن کار کی بصیرت بھی اور آرٹ کا حسن بھی۔ نقاد ادب کے مطالعہ کو اپنے علم و دانش کے ذریعہ ایک ناقدانہ تجربہ میں بدلتا ہے اور اس تجربہ میں نقاد کا علم، بصیرت اور ذہانت فن پارے کی معنویت اور حسن کاری کی کسوٹی بنتی ہے۔ فن کار کے لیے زندگی کا مشاہدہ ضروری ہے اور وہ آنکھ بھی جو ہر رنگ میں وا ہو جاتی ہے لیکن فن کار مشاہدے اور تجربہ کی کمی کو اپنے تخیل کی طاقت سے پورا کر سکتا ہے۔ جتنے تجربات اور مشاہدات شیکسپیئر کے ڈراموں، ٹالسٹائی کے ناولوں اور چیخوف اور موپاساں کے افسانوں میں بیان ہوئے ہیں انہیں حقیقی زندگی میں حاصل کرنے کے لیے فن کار کو سات جنم لینے پڑیں۔ نقاد کے پاس تخلیقی تخیل کی یہ قوت نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو اس کے کام نہیں لگتی کیوں کہ وہ فن پارے کے فریم ورک میں قید ہوتا ہے۔ اسے وہی دیکھنا اور سمجھنا ہو تا ہے جو فن پارے میں موجود ہوتا ہے۔ اگر اسے کرداروں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ دوسرے ڈراموں اور ناولوں کے کرداروں کے ساتھ کرتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ادب کا مطالعہ وسیع اور ژرف بیں  ہو۔

    فن کاری تخلیل کی سحر آفرینی ہے۔ شعر و ادب کی دنیا میں جادو وہی جو سر پر چڑھ کر بولے، ورنہ شعبدہ ہے، کرتب ہے، ہا تھ کی چالا کی ہے۔ تنقید تخیلی کرشمہ سازی کی دعو ے دار نہیں تو تخلیق کے ساتھ اس کا مقابلہ بے معنی ہے ، تخلیق کے ساتھ اس کا رشتہ دیکھنا چاہیے اور یہ رشتہ تحسین، تفہیم ، پر کھ اور دریافت کا ہے۔ تخلیق خام یانا کام ہوتی ہے تو دریا برد ہوتی ہے اور بچنے کے لیے نقادوں کی طرف ہاتھ پاؤں مارتی ہے۔ نقاد..... ادب کا وہ تپنوی جو علم کی لنگوٹی پہنے نظریہ کی ایک ٹانگ پر کھڑا اس تیسری آنکھ کے کھلنے کا منتظر ہے جو خاشاک کے تو دے میں دماوند دیکھتی ہے، ایک تنکا اس کی طرف پھینک دیتا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اسے مزید ڈبوتا ہے۔ تخلیق جب ڈوبتی ہے تو تنقید کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتی ہے ، جو دنیائے ادب کو خس و خاشاک سے پاک رکھنے کا قدرت کا اپناطریقہ ہے۔

    تنقید پر بڑی ذمہ داری آپڑتی ہے جب اسے باصلاحیت، کم صلاحیت اور بے صلاحیت لکھنے والوں کے درمیان تمیز کرنی پڑتی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی کیوں کہ مذاق سلیم کا معاملہ بھینس اور بھاگوت کے بیچ فرق کرنے کا نہیں بلکہ نفیس ترین انگوری شراب کو نوک زبان سے چکھ کر اس کی کشید اور کیفیت متعین کرنے اور اسے دوسری دو آتشہ اور سہ آتشہ سے ممیز کرنے کا ہے۔ تنقید ٹھرّ انوشی سے پر ہیز کرتی ہے کیوں کہ اس سے زبان کا احساس کند ہوتا ہے۔ لیکن اب کے انگور کی کاشت ہی میں خرابی آگنی ہے، پتہ نہیں شاید اس کھاد کے سبب جو علامات اور اساطیر کے ملغوبوں سے تیار ہوئی ہے۔ وہ جرعات ادب جو سامنے آرہے ہیں اور جنہیں نوکِ زبان سے چھوئے بغیر ناک بند کیسے بر اہ ر است گلے میں انڈیلنا پڑتا ہے وہ سرور کم اور درد سر زیاد ہ دیتے ہیں۔ ان پرنقاد کی تنقیدیں پڑھ کر دردسر تو دور ہو جاتا ہے لیکن دنیا سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ کیا فائدہ اس دنیا میں رہنے کا جس میں آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے زبان اسے جھٹلاتی ہے۔

    کیا تنقید مسیحا نفسی کی دعویدار ہے ؟ کیا اس کی شرح و تعبیر، معنی آفرینی، تحسین و تعریف سے مرد ہ شعر جی اٹھتے ہیں ؟ اگر تنقید کے پاس یہ طاقت ہے تو کلیات میر جو ادھر ادھر نخلستانوں کے ساتھ لق ودق صحرا کا منظر پیش کرتا ہے، پھولوں سے مہکتی سرسبز و شاداب وادی بن جائے۔ پھر تو وہ ہزاروں اردو شعر اجو تذکروں کے چھوٹے بڑے قبرستانوں میں خواب ابد کی نیند سو رہے ہیں، جاگ اٹھیں اور ان کے ہاتھ میں ان کا کتبہ ایسی کتاب بن جائے جس کی ہر غزل کا ہر شعر کر شمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجاست کا منظر پیش کرے۔ آج کل جس دھڑ ادھڑ  انداز میں افسانوں کے تجزیے ہو رہے ہیں وہ بھی نقاد کی مسیحانفسی کے بھرم کی شہادت دیتے ہیں۔ نقاد افسانہ کے منہ سے منہ بھڑائے ہانپتے ہوئے اس میں سانس بھر رہا ہے ، اس کے سینہ پر گھونسے مار رہا ہے تاکہ افسانہ کا قلب جو پیدا ہوتے ہی بند ہو گیا تھا نقاد کی نفسا نفسی سے پھر سے حرکت میں آجائے۔ مسیحائی کے روپ میں بھی نقاد کو احتیاط لازم ہے کہ اکثر جان نا تواں دم عیسیٰ بھی برداشت نہیں کر پاتی۔

    لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ نقاد صرف مقتدر لوگوں پر لکھا کرے۔ مقتدر لوگوں کو اس کی تنقید کی ضرورت نہیں کہ وہ تو اپنا لوہا منوا چکے۔ وہ ابھرتے ہوئے فن کار جن کا صیقل آئینۂ فن یک الف بیش نہیں اس کی توجہ کے زیادہ مستحق ہیں کہ عام بے تو جہی کا شکار ہونے سے انہیں ہمدردانہ تنقید بچا سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی تنقید کو تنقید ہی رہنا چاہیے جو بے جا تعریف اور بونے کو باون گزا ثابت کرنے سے مختلف مزاج کی حامل ہوتی ہے۔ نا اہلوں پر لکھنا تنقید نہیں کیوں کہ تنقید کا پہلا کام تو اہلیت اور صلاحیت کی شناخت ہی ہے۔ شناخت کے بعد اس کی نگہداشت اور پرورش ہے جو پھر ایک ناقدانہ عمل ہے جس میں سر پرستی اور سرزنش باہم پیوست ہوتے ہیں۔

    سرزنش کا مطلب معائب بیان کرنا نہیں ہے۔ دراصل ہماری شاعری نے زبان و بیان کی اغلاط اور معائب کی گرفت کرنے والی تنقید کی جو روایت قائم کی ہے اس نے سرزنش کو عیب جوئی کے مترادف بنادیا ہے ،   سرزنش کا مطلب ہے فن کار کو وسیع تر معنی میں آداب فن کی طرف متوجہ کرنا۔ اس کے تخلیقی تخیل کے لیے لا محد ود جولانگاہوں کی نشاندہی کرنا، اسے یہ جتلانا کہ اندر و نِ حالات اس کے فن کو موضوع اور ہیئت کی تنگ دامنی، سہل انگاری اور گھٹن کے کون سے خدشات در پیش ہیں اور کیوں ؟

    ہمدردانہ طور پر کوتاہیوں اور کمزوریوں کا بیان حو صلہ شکنی نہیں ہے۔ حوصلہ افزائی کے اعتذار کے تحت کمزریوں اور کو تاہیوں سے چشم پوشی تنقید کے فرائض منصبی کی ادائیگی سے گریز کے ہم معنی ہے۔ زبان کی اغلاط کے بیان میں نقاد کی زبان دانی کی نمائش فن کار کی قیمت پر ہوتی ہے۔ یہ تنقیدان نقادوں کا من بھاتا کھا جا ہے جو فن کار کی قیمت پر اپنی قدر منوانا چاہتے ہیں ۔ وہ بتانا یہ نہیں چاہتے کہ بڑے سے بڑے شاعر کے یہاں بھی زبان و بیان کی غلطیاں ہوتی ہیں بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کا زبان کا علم ان شعر أسے زیادہ مستحکم ہے۔ اور جب یہ شاعر انہیں طبعاً پسند نہ ہوں مثلاً جوش ان کے نزدیک الفاظ ،فراق روایت سے بیگانہ اور فیض سیاسی دائرے کا اسیر ہو تو انہیں  خاک بسر کر کے خود کو سرافراز کرنے کا تنقید ایک ناگوار ہتھ کنڈا بن جاتی ہے۔ اسی لیے بت پرستی اور بت شکنی تنقید کو راس نہیں آتے۔ دونوں میں نقاد اپنی ہی شخصیت کا زندانی ہے ، آرتی اتارتے وقت اور گر ز چلاتے وقت توجہ اپنی ہی طرف کھینچتا ہے جب کہ تنقید میں نقاد اپنی شخصیت کو فن کار میں فنا کرتا ہے کیوں کہ نقاد اس خس کی مانند ہے جوگلخن میں فنا ہو کر ہی اپنی روشنی پاتاہے۔

    تنقید چاہتی ہے کہ اسے فن پارے کے حسن کار از معلوم ہو جائے لیکن حسن چوں کہ اپنی فطرت ہی میں پر اسرار ہے اس لیے راز راز ہی رہتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں فن شعر کے اصول اور قوائد پرمشتمل علوم کی ایک تاریخ ہوتی ہے، لیکن ان علوم کے ماہرین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ شعر کے حسن کار از آہنگ میں ہے یا معنی میں ، یار دیف و قافیہ یا صنائع لفظی یا معنوی میں ہے۔ ان اجزا کا حسین استعمال محاسن شعری کا سبب ہو سکتا ہے اور کوئی ایک خوبی حسن شعر کا سبب بھی ہو سکتی ہے لیکن کلی حیثیت سے شعر کا حسن اس کے تمام اوصاف کا مجموعہ بھی ہو گا اور ہمیشہ ان اوصاف سے کچھ نہ کچھ زیادہ ہو گا۔ یہ کچھ نہ کچھ زیادہ ہی وہ طلسمی کیفیت ہے جو ماورائے سخن رہتی ہے۔ جو کچھ سخن میں ہے وہ بیان کیا جا سکتا ہے لیکن جو ماورائے سخن ہے اسے محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ عجز ہے جو تنقید کو فن پارے کے حسن کے حضور شوخ چشمی اور گستاخانہ دارو گیر کی بجائے نظارگی کے آداب سکھاتا ہے۔ جدید تنقید کا یہ دعویٰ کہ اسے حسن شعر کا ر از لفظ کے آہنگ یا اس کے جدلیاتی استعمال میں مل گیا ہے نقاد کو دانائے راز کا امیج دینے کی ایسی دلیرانہ کوشش ہے جس کی تنقید کبھی دعویدار نہیں رہی۔

    سمجھ دار نقاد وہ ہے کہ اگر اسے کسی علم میں مہارت ہے تو وہ اس مہارت کا استعمال تنقید کو وسعت اور گہرائی عطا کرنے میں کرے گا، نہ کہ اپنی اس مہارت کو واحد، یا حتمی یا مطلق طریقۂ کار کے طور پر پیش کرے گا۔ لسانیاتی اور صوتیاتی تنقید کے خلاف جو ہمارے یہاں بعض حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہواوہ اسی سبب سے تھا کہ اس تنقید نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ دور جدید میں شعریات کی بوطیقا اسی کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق متعین ہو گی اور اس کے طریقۂ کار کے ذریعہ شاعری کے جو ہر تک رسائی ممکن ہو گی اور صرف اسی کا نظام تنقید صائب ہے باقی جو کچھ ہے نری صحافت اور لفاظی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید تنقید نے معنی ، موضوع ، خیال ، اور شعری مظروف کو پایۂ اعتبار سے خارج کیا اور الفاظ اور اصوات اور لفظی انسلاکات کا ایسا جھمیلا کھڑا کیا گویا لفظ کی نباضی روح شاعری کا پہلا اور آخری زینہ ہے۔ ناول اور افسانہ کی تنقید میں بھی زبان اور اسلوب، استعار وں  اور اسطور پر اتنازور دیا گیا کہ کہانی کردار، پلاٹ، واقعہ نگاری، نفسیات، سماجیات، اخلاقیات اور نقطۂ نظر کو موضوع بحث بنانے والا نقاد خود کو دقیانوس کے زمانہ کا سمجھنے لگا۔ ان لوگوں کا طنطنہ ایسا تھا کہ ہزاروں سال سے تنقید شاعری کے جس راز کو پانے میں کو شاں تھی ، گویا وہ اب ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ چناں چہ ان کے بعد کوئی یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ شاعری اپنا جادو کیسے پیدا کرتی ہے۔ اس کا جواب ہے الفاظ کے ذریعہ ، اصوات کے ذریعہ ، لفظوں کے انسلاکات کے ذریعہ ۔ کاش ایسا ہو تا، لیکن جیسا کہ گیان چند نے اپنے نہایت ہی بصیرت افروز مضامین میں مسعود حسین خان سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شاعری میں جن حروف سے سخت اور کھردرا آہنگ پیدا کیا جاتا ہے۔ انہی سے نرم اور سبک آہنگ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اصوات کی بنا پر ایسے کوئی اٹل اصول نہیں بنائے جا سکتے جن کی بنا پر حسن شعر کا حتمی حکم لگایا جاسکے۔ اگر صوتیاتی تنقید اپنا دائرہ آہنگ شعر کے مطالعہ تک محدود رکھتی تو کوئی مضائقہ نہیں تھا، لیکن جب وہ اپنے طریقۂ کار کے متعلق یہ دعوے کرنے لگی کہ اس کے ذریعہ اور صرف اسی کے ذریعہ حسن شعر کے سربستہ راز کو کھولا جا سکتا ہے تو اس سے رنجش اس سبب سے پیدا ہوئی کہ بے شک آہنگ شعر کی سحر آفرینی کے ہم قائل تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی محسوس کرتے تھے کہ فن پارہ آوازوں کا التزام نہیں ہے بلکہ معنوی حسن بھی رکھتا ہے ،کسی پہلو دار خیال کا اظہار بھی ہے، کسی پیچیدہ تجربہ کا بیان بھی ہے ، استعاروں کی نقش گری، علامتوں کی ذرائن اور تصویروں کا نگار خانہ بھی ہے۔ چناں چہ صوتیاتی تنقید کے چارٹ وہ اسم اعظم نہ بن سکے جو شعری طلسمات کار از پاسکیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ فن شاعری میں جو چیز سائنس کے قریب تھی وہ اس کا عروضی نظام تھا۔ لفظ چوں کہ محض آواز نہیں بلکہ معنیاتی تعلیقات کا حامل بھی ہے اس لیے الفاظ کی صوتیات کی بنا پر شعر کے آہنگ کا مطالعہ سائنسی قطعیت کے ساتھ ممکن نہیں۔ معنی کی غیرقطعیت نے جو ساختیات میں دال اور مدلول کے تصورات کی صورت میں سامنے آئے، تنقید میں سائنسی قطعیت کے امکانات پر پانی پھیر دیا۔ آرٹ سائنس اسی لیے نہیں کہ اس میں کسی چیز کا ثابت کرنا ممکن نہیں۔ تحسین و تفہیم کا پورا تعلق ذوق لطیف سے ہے۔ تنقید کے پاس ایسی کوئی کسوٹی نہیں جس پر کھرے کھوٹے کی پرکھ ہو جائے۔ اسی لیے تنقید رائے دے سکتی ہے ، اس پر اصرار نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسے حتمی فیصلہ میں بدل سکتی ہے۔ تنقید کی سائنسی قطعیت پانے کی تمام کوششیں لاحاصل ثابت ہوئی ہیں۔ آرٹ اگر اعجاز ہے تو معجزے کا میکنیزم نہیں ہو تا۔ آرٹ کی صنعت گرمی کے تجزیہ کے ذریعہ اس کا حسن پانے کی کوشش بالآخر تھکادینے والی ثابت ہوتی ہے کیوں کہ کاریگری کے ٹیکنکل بیان میں دلچسپی کا وہ عنصر نہیں ہوتا جو ادب میں منعکس زندگی، انسان اور کائنات کی بصیرت اُجاگر کرنے والی فلسفیانہ ، نفسیاتی ، اور تہذیبی تنقید میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے افسانہ ، ناول اور ڈراما کی تنقید شاعری کی طرح زبان و بیان کی نزاکتوں تک محدود نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے دائرے میں بے شمار ایسے مسائل آتے ہیں جن کی تفہیم کے لیے تاریخ، فلسفہ، نفسیات اور سماجیات کا علم بھی ضروری ہے۔ مشرقی تنقید کی پوری روایت زبان و بیان کی غلطیوں اور نزاکتوں تک محدود رہی جب کہ مغربی تنقید میں زبان کی گرفت یا اس کی تحسین کبھی تنقید کا غالب رجحان نہیں رہی۔ مغرب کے اثرات کے سبب ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں تنقید کا دامن زبان و بیان تک محدود نہیں رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تنقید نے جو وسعت حالی اور حالی کے بعد ترقی پسند تحریک، احتشام حسین، آل احمد سرور، عسکری اور سلیم احمد کے ذریعے پائی تھی وہ جدیدیت کے عَلم بردار نقادوں کے ہاتھوں سمٹ سمٹا کر زبان کے دائرے تک محدود ہوگئی۔جدیدیت کا پورا میلان ہیئتی تنقید کی طرف تھا، جو نظم اور افسانہ کے فارم کے جزرس مطالعہ کے ذریعہ معنی تک پہنچنے کا تھا۔ ظاہر ہے فارم اپنے دامن میں زبان، اسلوب اور آہنگ کو بھی لیے ہوتا ہے۔ متن کا مطالعہ اس مواد کا مطالعہ بھی ہے جو نظم اور افسانہ کے پیچیدہ  اسٹرکچر کے ذریعہ ایک صورت اختیار کرتا ہے۔ تکنیک کا مطالعہ اس طریقۂ کار کامطالعہ ہے جس کے ذریعہ مواد نظم یا افسانہ کے فارم میں ڈھلتا ہے۔

    ہیئتی تنقید اس معنی میں فن کے تمام لوازمات کو دسترس میں لے کر موضوع، مواد اور خیال کی فلسفیانہ نفسیاتی اور سماجی معنویت تک پہنچتی ہے۔ اگر افسانہ ، ناول یاڈرامے کا فارم ہی ٹھیک نہیں ، اگر فن کار ان اصناف کے وضعی رشتوں کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اگر وہ کردار کے نقوش ابھار نہیں سکتا، واقعہ نگاری میں ممکنات کا خیال نہیں رکھتا، پلاٹ میں حادثات کو ضرورت سے زیاد ہ ر اہ دیتا ہے ، اظہار بیان میں جذباتیت ، رقت انگیزی اور رومانیت کا شکار ہو جاتا ہے، تو ظاہر ہے موضوع کی سماجی افادیت اور معنویت دونوں کو گزند پہنچے گی۔ لہٰذا ہیئتی تنقید کے متعلق پھیلائی گئی یہ غلط فہمی کہ اس کا سرو کار صرف ہیئت سے ہوتا ہے لا علمی پر مبنی ہے۔ ہاں اس تنقید کا سماجی ڈسکورس قائم نہیں ہو تا جو زبان و بیان کی غلطیوں، یا محض اسلوبیات یا صوتیات سے تعلق رکھتی ہیں اور ہم جانتے ہیں   کہ ان اسالیب نقد کے دلدادہ وہی لوگ رہے ہیں جو ہیئتی تنقید کو آج ہدف ملامت بنائے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ خود اپنی ہی اکسپر ٹائز کی حدود سے واقف ہو چکے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ زبان اور بیان اور اسلوب کا مطالعہ اور عروض و اصوات کے مطالعہ ہی کی مانند اپنی حدود، اپنی تھکن اور اپنی اکتاہٹ رکھتا ہے۔ یہ تنقید ماہرانہ اور کار آمد ہونے کے باوصف اس تنقید کی بصیرت اور عظمت اور کشاہ گی کو نہیں پہنچ سکتی جو فن پارے کا کلی حیثیت سے مطالعہ کرتی ہے، آپ کسی بھی کتب خانہ میں چلے جائیے ، جین آسٹن کے اسلوب پر پانچ دس کتا ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی کیوں کہ وہ بڑی صاحب اسلوب ناول نگار ہے، لیکن ان کتابوں کا پڑھنا ایک عذاب مول لینا ہے۔ وہی اسلوب جو ناول میں جادو جگاتا ہے یہاں اقتباسات کے قتلوں میں قصاب کے بغدے تلے لہو لہان پڑا ہے۔ اس کے برعکس ایک معمولی سا مضمون جو یہ بتاتا ہے کہ جین آسٹن کے کردار جو بظاہر سیدھی سادی گھریلو لڑکیاں ہیں کس قدر پیچیدہ اور منفرد شخصیت کی حامل ہیں، ہمارے لیے بصیرت کا ایک کو ندا ثابت ہو تا ہے۔ خاطر نشان رہے کہ ایسے مضامین کردار نگاری میں جین آسٹن کی زبان، لفظوں کے انتخاب اور اسلوب کی چوکسائی کو حساب میں رکھتے ہیں۔ تنقید میں اسلوبیاتی طریقۂ کار ثمر آور اسی وقت بنتا ہے جب وہ معنی، موضوع اور مواد کے حوالے سے بات کرتا ہے کیوں کہ اسلوب معنی سے جڑا ہوتا ہے اور خیال، احساس اور صورتِ حال اپنا اسلوب پیدا کرتی ہے۔

    لیکن اکسپر ٹائز جہاں تنقید کو ایک علمی و قار بخشتی ہے وہیں ٹکنو کریسی کی آمریت اور جبروت بھی قائم کرتی ہے۔ وہی چندلوگ ادب کے پارکھ بنتے ہیں اور انہی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہوتی ہے جو شعر کے ہجے کرنا جانتے ہیں۔ شعر پھر مدرسہ میں داخل ہوتا ہے اور تنقید مدرسانہ بنتی ہے۔ ایسی گھٹن آلود فضا سے گھبرا کر آدمی پھر آرٹ کی جادو نگری میں پہنچنا چاہتا ہے جہاں وہ چشم حیرت سے ایک بچہ کی مانند تخیل کی نیرنگیوں کا مشاہدہ کر سکے۔ اسلوبیات کا اگلا قدم جو ساختیات میں پڑتا ہے وہاں تو عام قاری، عقل عائمہ اور معصوم قاری کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہاں تو ادب کا قاری وہی ٹکنو کریٹ ہے جس نے تعبیر و تفسیر معانی کے جملہ حقوق اپنے نام لکھوا لیے ہیں۔

    چناں چہ آج تنقید اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے کہ وہ ادب کا ایک طاقت ور ادارہ بن جائے۔ آج کے نقاد کے کروفر کے سامنے تو شاعر اور افسانہ نگار بے غسلوں کا ٹولا لگتے ہیں۔ غیر اہم کی کیا بات نقاد تو آج ادب کا سب سے اہم آدمی ہے۔ یہ پھر اکادمی کی آرٹ پر، علم کی تخیل پر ، آئیڈیولوجی کی تخلیق پر اور اسٹیبلشمنٹ کی کلچر پر فتح ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فتح کا سہرا ان نقادوں کے سر ہے جنہوں نے آئیڈیولوجی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی بنیاد رکھنے والی جدیدیت کی تحریک کی عَلمبرداری کی تھی۔ یہ بالکل عید قرباں والا معاملہ ہے کہ وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا۔