امتیاز علی تاج

امتیاز علی تاج

انارکلی

    انارکلی (ڈراما)

    کردار

     

    جلال الدین محمد اکبر : شہنشاہ ہند

    سلیم: اکبر کا بیٹا اور ولی عہد

    بختیار: سلیم کا بے تکلف دوست

    رانی: اکبر کی راجپوت بیوی اور سلیم کی ماں

    انارکلی: حرم سرا میں اکبر کی منظور نظر کنیز

    ثریا: انارکلی کی چھوٹی بہن

    انار کلی کی ماں:

    دلا رام: انارکلی سے پہلےاکبر کی منظور نظر کنیز

    زعفران: حرم سرا کی ایک شوخ کنیز

    ستارہ:حرم سرا کی کنیز۔ زعفران کی سہیلی

    مروارید: حرم سرا کی کنیز۔ دلا رام کی رازدار

    عنبر: حرم سرا کی کنیز۔ دلا رام کی رازدار

    خواجہ سرا کافور:کنیزوں کا داروغہ

    داروغہ زنداں۔ خواجہ سرا۔ بیگمیں۔ کنیزیں وغیرہ

    مقام: قلعہ لاہور

    زمانہ: ١٥٩٩ ء کا موسم بہار

    مناظر

    باب اول: عشق

    منظر اول: حرم سرا اور پائیں باغ کے درمیان ایک بارہ دری

    منظر دوم: سلیم کا ایوان

    منظر سوم: حرم سرا میں ایک غلام گردش

    منظر چہارم: حرم سرا کا پائیں باغ

    باب دو: رقص

    منظر اول: سلیم کا ایوان

    منظر دوم: انارکلی کا حجرہ

    منظر سوم: قلعہ لاہور کا ایک ایوان

    منظر چہارم: شیش محل

    باب سوم: موت

    منظر اول: سلیم کا ایوان

    منظر دوم: زنداں

    منظر سوم: اکبر کی خواب گاہ

    منظر چہارم: زنداں کا بیرونی منظر

    منظر پنجم: سلیم کا ایوان

     

    منظر اول

    مغل اعظم جلال الدین محمد اکبر شہنشاہ ہند کی محل سرا میں موسم بہار کی ایک دو پہر ۔ ظہر کی نماز ادا ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب وقت ہو چکا ہے۔ ستونوں اور محرابوں کے سائے طویل ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ بیگمیں دو پہر کی استراحت ختم کرنے والی ہیں ۔ معمر خادمائیں دوسرے وقت کے کاموں میں مصروف ہو چکیں ، لیکن ابھی رونق اور چہل پہل کا وہ ہنگامہ برپا نہیں ہوا جو مشرقی حکمرانوں کی محل سراؤں کو نشاط وطرب کی دنیا بنائے رکھتا ہے۔

     ایک کشادہ اور بلند بارہ دری جو حرم کے صحن اور پرانے پائیں باغ کے درمیان واقع ہے اور پائیں باغ میں ملازمین حرم کے جدید حجرے تعمیر ہو جانے کے باعث اب بیگموں کے استعمال میں نہیں رہی۔ الگ تھلگ اور صحن حرم سے دور ہونے کی وجہ سے نو جوان کنیزوں اور خواصوں کی مرغوب آرام گاہ ہے جہاں وہ اس وقت بھی بڑی بوڑھیوں کی نظروں اور طعنوں سے محفوظ ہو کر اپنی فراغت کا بقیہ وقت اطمینان اور بے فکری سے گزار رہی ہیں ۔

     کچھ بیٹھی چوسر کھیل رہی ہیں۔ کچھ شطرنج کی چالوں میں دنیا و مافیہا سے غافل ہیں ۔ ایک طلب والی نے پان دان کھول رکھا ہے۔ کبھی پان لگا کر کھاتی ہے، کبھی چھالیا کترتے کترتے آرسی میں مسّی کی دھڑی کا معائنہ کر لیتی ہے۔ جنہیں بیگموں سے سلیقے اورسگھڑا پے کی داد ملتی ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی شہرت برقرار رکھنے کی فکر میں سرگندھوا رہی ہے۔ کوئی  پرانے دوپٹہ کو نئے سرے سے رنگوا کر اس پر لچکا ٹانک رہی ہے، جنہیں ملا زمانہ زندگی کے سرد وگرم اور گراں باریوں نے بے حس بنا دیا ہے۔ ان کے نزدیک فراغت کا بہترین مصرف نیند ہے لیکن اس مقام کی خلوت کا پورا فائدہ زعفران اور ستارہ اٹھارہی ہیں ۔ چنچل اور منہ پھٹ لڑکیاں ہیں ۔ گانے بجانے کی شوقین لیکن موسیقی سے زیادہ موسیقی دانوں کے نرت اور چہرے کی کیفیات ادا کرنے سے دلچسپی ہے۔ اس وقت سب بندھنوں سے آزاد ہوکر ستار کے ساتھ گارہی ہیں اور پھیپھڑوں کا زور گیت کی نسبت تحسین با ہمی میں زیادہ صرف کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب دلا رام - مروارید اور عنبر ایک کونے میں بیٹھی راز دارانہ انداز میں سرگوشیاں کر رہی ہیں۔ دلارام پیڑھی پر بیٹھی اپنے پختہ حسن کے اعتبار سے نہ صرف ہم رازوں میں بلکہ تمام محفل میں نمایاں نظر آ رہی ہے۔ لمبی آنکھ، اونچی اور پتلی ناک اور واضح تھوڑی کہہ رہی ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں زندگی کی رواپنی شدت میں ہاتھ پانو ڈ ھیلے چھوڑ دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہزیمت کے آثار و تفکرات نے چہرے کو بے رونق بنا رکھا ہے لیکن آنکھوں میں تصورات کا لوچ ظاہر کر رہا ہے کہ بساط سے بڑھ کر سوچ رہی ہے۔

     دلارام:          ( گفتگو کے دوران دو ایک مرتبہ چیں بہ جبیں ہو کر زعفران اور ستارہ کی طرف یوں دیکھتی ہے ۔ گویا ان کے شور وغل سے پریشان ہے ۔ پر چپ ہو رہتی ہے۔ آخر نہیں رہا جاتا ) اے ہے تو بہ ! کیسا گلا پھاڑ پھاڑ کر گا رہی ہیں ۔ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ۔

    مروارید:       ( دل آرام کی پہل سے حوصلہ پاکر ) دو پہر میں دو گھڑی کا آرام بھی توکمبختوں نے حرام کر دیا ہے۔

    زعفران:       ہم تمہیں کیا کہہ رہے ہیں؟

    مروارید:       صریحاً گھر کا گھر سر پر اٹھا رکھا ہے ۔ بات کرنی دشوار کر دی ہے۔ ابھی بیچاری کچھ کہہ ہی نہیں رہی ہیں ۔

    زعفران:       پھر جسے باتیں کرنی ہیں کہیں اور جا بیٹھے۔

    عنبر:           مگر یہ تان سین کی بچی گائیں گی ضرور۔

    زعفران:       (ستار پھر سے چھیڑنے کو تھی مگر عنبر کی گالی بھلا کیسے سن لے) منہ سنبھال کے بات کر عنبر۔ واہ! بڑی آئی کہیں کی گالیاں دینے والی۔ تو ہی لگتی ہو گی تان سین کی کوی ہوتی سوتی۔

    دلا رام:         نہیں مانے گی زعفران۔ پٹر پٹر بکے چلی جا رہی ہے۔ میں جا کر چھوٹی بیگم سے کہہ دوں گی۔

    زعفران:       اے تو منع کس نے کیا ہے۔ ایک بار نہیں ہزار بار۔

    ستارہ:          (مصالحت کے ناصحانہ انداز میں) چلو زعفران۔ ہمیں جو چلے چلیں۔ باغ میں چل بیٹھتے ہیں۔

    زعفران:       (اتنی مختصر جھڑپ سے دل کا بخار کہاں نکل سکتا ہے) اب وہ دن گئے جب کمان چڑھی ہوئی تھی۔ اب بیگموں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ کوئی منہ بھی نہ لگائے گا۔

                   (دوسری کنیزیں جو اس بحث میں شامل نہیں۔ مگر متوجہ ضرور ہیں۔ زیر لب تبسم اور اشاروں کنایوں سے زعفران کی جرأت کی داد دیتی ہوں)

    ستارہ:          اے ہے۔ زعفران! تم بھی تو پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جایا کرتی ہو۔

                   (ستار زعفران کے ہاتھ سے لے لیتی ہے کہ اسے پھر گانے بجانے کے شغل میں مصروف کر لے)

    زعفران:       میں کیوں دبوں کسی سے۔ بہت دن ان کی ناز برداریاں کیں۔ اب تو انارکلی کی بہار ہے۔ ان سے ڈرے میری جوتی۔

    دلا رام:         (جل کر کھڑی ہو جاتی ہے) اچھا ٹھہرو تو تو مردار۔ جویہ کتر کتر کرتی جیبھ ہی نہ گدی سے کھینچ لوں تو سہی۔

    زعفران:       ذرا منہ تو بنوا کر آؤ۔

                   (ستارہ زعفران کو لے جانے کے لیے کھینچتی ہے)

    عنبر:           (اٹھتے ہوئے) چڑیل مردار!

    زعفران:       یی۔ یی۔یی۔ یی۔یی۔یی۔یی۔یی۔

                   (منہ چڑھا دیتی ہے۔ ستارہ منہ چڑھاتی زعفران کو زبردستی کھینچ لے جاتی ہے۔ دوسری کنیزیں بہ مشکل اپنی ہنسی روکتی ہیں۔ دلارام اور عنبر خون کے سے گھونٹ پی کر اپنی جگہ بیٹھ جاتی ہیں۔ اس دوران میں چوسر کھیلنے والی لڑکیوں میں سے ایک کی آواز آتی ہے۔ ’’کیوں کیسی رہی؟‘‘ شطرنج کھیلنے والیوں میں سے ایک کہتی ہے۔ ’’چلو اب کہاں چلتی ہو۔‘‘ دلارام ، عنبر اور مروارید ذرا دیر خاموش رہتی ہیں اور پھر رازدارانہ انداز میں سرگوشیاں کردیتی ہیں)

    مروارید:       دیکھا۔ میں نہ کہتی تھی کہ نقشا ہی بدل گیا ہے۔

    عنبر:           محل کا محل اسی مردار کا کلمہ پڑھ رہا ہے۔

    مروارید:       پھر اس میں کسی کا کیا قصور؟ دلارام نے آپ ہی تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔

    عنبر:           (کسی قدر توقف سے)میں کہتی ہوں یہ تمہیں چھٹی لینے کی سوجھی کیا تھی؟

    دلا رام:         اب مجھے کیا خبر ذرا سی چھٹی میں رنگ ہی بدل جائے گا۔ (تامل کے بعد) مجھے معلوم ہوتا تو بیمار بہن پڑی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم بھی توڑ دیتی۔ میں پاس نہ پھٹکتی۔

    عنبر:           بہن کے پیچھے مفت میں اپنی بنی بنائی بات کھو دی۔

    دلارام:         (کچھ دیر متفکر انداز میں سر جھکائے بیٹھی رہتی ہے) مگر سان نہ گمان۔ یہ کایاپلٹ ہوئی تو کیوں کر؟

    عنبر:           ہوتی کیوں کر۔ رات کو جشن تھا۔ نادرہ نے میدان جو تم سے خالی دیکھا۔ خوب بن ٹھن کر جا شامل ہوئی۔

    مروارید:       نہیں بھئی ایمان ایمان کی کہو۔ نادرہ تو الگ تھلگ رہتی ہے۔ اس کی ماں اس کا بناؤ سنگھار کرکے لے گی تھی۔

    عنبر:           اے وہ ایک ہی با ت ہے۔ بیٹی گئی یا ماں لے گئی۔ ایک تو کم بخت تھی ہی چاند کا ٹکڑا۔ سونے پر سہاگا ہوا سنگھار۔ قیامت بن گئی۔

    مروارید:       پھر جو گانا وغیرہ سنایا اور جہاں پناہ سے دو ایک چونچلے کیے۔

    عنبر:           تو جہاں پناہ تو ت جانو۔ دل رکھنے کو ہر ایک کی عریف کر ہی دیتے ہیں۔ کہنے لگے نادرہ تم تو عین میں انارکی کلی معلوم ہوتی ہو۔

    مروارید:       اور اس کے گانے اور حاضر جوابی سے خوش ہو کر اپنا موتیوں کا ہار انعام میں بخشا۔ پھر کیا تھا۔ پل بھر میں تمام محل انارکلی کے نام سے گونج اٹھا۔

    کافور:          (پائیں باغ کی ڈیوڑھی میں سے)عنبر! اے مروارید! ای او ماہ پارہ!

    دلارام:         (فکرمندی سے مگر بظاہر بے پروا بن کر) صاحب عالم بھی جشن میں موجود تھے؟

    عنبر:           جھوم جھوم کر انارکلی کو داد دے رہے تھے۔

    کافور:          (وہیں ڈیوڑھی پر کھڑا غل مچا رہا ہے) اے اللہ! کہاں مر گئیں یہ نامراد یں؟

    راحت:        (کھیل سے سر اٹھا کر) سنا نہیں بی کافور پکار رہی ہیں۔

    مروارید:       (سرموڑ کر بے پروای سے) کوئی وقت ہے بھی جب نہ پکارتی ہوں۔

    کافور:          (چل کر بارہ دری میں آنے سے بچنا چاہتا ہے) اری کم بختو! کان چور لے گئے کیا؟

    مروارید:       (دلارام سے) جو ہوا سو ہوا۔ اب آیندہ کی کہو؟

    عنبر:           (دلارام کو متامل دیکھ کر) دم خم باقی ہے کہ دب کے رہو گی؟

    دلارام:         اس کل کی چھوکری سے؟

    عنبر:           پھر آخر کیا کرو گی؟

    دلارام:         (سامنے گھورتے ہوئے) ناگن کی دم پر کوئی پاؤں رکھ دے تو وہ کیا کیا کرتی ہے؟

    مروارید:       آخر؟

                   (کنیزوں کا داروغہ خواجہ سرا کافور داخل ہوتا ہے۔ لحیم شحیم شخص۔ سیاہ رنگت، آنکھوں کے نیچے اور باچھوں پر ایسی جھریاں جن سے عیاری ظاہر ہے۔ دلارام اسے دیکھ کر انگلی ہونٹوں پر رکھ لیتی ہے اور عنبر اور مروارید کو چپ ہونے کا اشارہ کرتی ہے۔)

    کافور:          اری مردارو اللہ ماریو۔ کانوں میں کیا روئی ٹھونس کر بیٹھی ہو۔ چیخ چیخ کر گلا آگیا۔ جو کوئ بھی پھوٹے منہ سے ہنکارا بھرے۔ سائے کہیں کے کہیں پہنچ گئے۔ عصر کی اذان ہو گئی۔ نہ حمام تیار کیے نہ گلاب پاش بھرے۔ نہ پھول چنگیروں میں رکھے گئے نہ بجرے سیر کے لیے سجے۔ جوان نگوڑے مارے کھیلوں کو چولہے میں نہ جھونک ڈالوں۔ نہ دین کی نہ دنیا کی۔ نہ کام کا ہوش نہ سر پیر کی فکر ۔ دن بھر بیٹھی کھیل رہی ہیں اور دل ہی نہیں بھرتا۔ اے غارت ہو کم بختو! جیسا تم نے مجھ بڑھیا کو ستایا ہے۔

                   (کنیزیں سب چیزیں سمیٹ سماٹ کر بھاگ جاتی ہیں)

    دلارام:         (چلتے چلتےآہستہ سے عنبر سے) دیکھنا آج کی بات کی بھنک بھی کسی کے کان میں نہ پڑے۔

    عنبر:           نشاط خاطر رہو۔

    کافور :          ( دلام رام سے ) یہ تم کھڑی کیا مسکوٹ کر رہی ہو ۔ سنا نہیں میں نے کیا کہا؟

    دلارام :         ( چڑ کر ) سن لیا سن لیا۔

    کافور:          سن لیا۔ تو اب کیا کسی اور طرح سمجھانے پر سمجھوگی ؟

    دلارام:         ( دبے ہوئے غصے سے) دیکھو بی کا فور! ہوش میں رہ کر بات کیا کرو مجھ سے۔ میں نہ سہوں گی یہ بد زبانیاں۔

    کافور:          کیوں تم میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہے؟ اے کیا اب تک اسی بات پر پھولی ہو۔ کہ کبھی ظل الہٰی کے حضور میں باریابی حاصل تھی۔ اس دھو کے میں نہ رہنا۔ ہو چکی ڈھائی پہر کی بادشاہت۔ اب تو ایک ہی لاٹھی سے ہانکی جاؤ گی ۔ افوہ رے دماغ ! کہ میں نہ سہوں گی یہ بد زبانیاں۔

     دلارام :         (وقار سے ) بی کا فور میں ظل الہٰی کی نظروں سے اترگئی سہی پر ان کی یاد سے ابھی نہیں اتری۔

     کافور:          (دلارام کی وقار آمیز گفتگو سے کسی قدر مرعوب ہوکر ) اے تو میں نے تمہیں ایسی کیا بری بات کہہ دی کہ بگڑ بیٹھیں۔    اتنا ہی کہا تھا نا کہ بیٹی باتیں پھر کسی وقت کر لینا۔ اب چل کر اپنا کام کرو۔

    (دلارام کے چہرے پر حقارت کا ایک خفیف سا تبسم نمودار ہوتا ہے اور وہ استغنا سے سراٹھائے عنبر اور مروارید کے ساتھ رخصت ہو جاتی ہے)

    کافور:          ( میدان خالی دیکھ کر آپ ہی آپ بول کر دل کی بھڑاس نکالتا رہ جاتا ہے) ذرا ذراسی بات پر ان لوگوں کے ماتھوں پر تو بل پڑ جاتے ہیں۔ وقت پر چیز تیارنہ ملے تو شامت میری آجاتی ہے۔ لو گو یہ تو بڑا غضب ہے کہ زبان ہلاؤ تو گنہ گار بن جاؤ۔ چپ رہو تو عتاب میں آجاؤ۔

    ( انار کلی کی ماں داخل ہوتی ہے۔ سیدھی سادی پریشان ہو جانے والی پختہ عمرعورت۔ جسے محل کی شوخ طبع کنیزیں محض اس وجہ سے نہیں بنا تیں کہ سلیم الطبعی اور تہذیب کے علاوہ اپنے طور طریقوں اور برتاؤ سے خاندانی عورت معلوم ہوتی ہے۔)

    ماں:           کیوں بی کافور کیا ہوا؟ کیوں کھول رہی ہو آپ ہی آپ؟

    کافور:          سنیں تم نے اس قطامہ دلا رام کی دھمکیاں کہ کام کا تقاضا کیا تو جا کر ظل الہٰی سے لگائے بجھائے گی ۔ میں نے کہا ایک دفعہ نہیں ہزار بار ۔ میری انارکلی کا دم سلامت رہے ۔ میں کیا ایسی بھبکیوں سے سہم جاؤں گی ۔ بیٹی کہاں ہے؟ دن بھر کہیں نظر ہی نہیں آئی ۔ آج بیگمیں بھی کئی بار پوچھ بیٹھی ہیں۔

    ماں:           کیا کہوں۔ مجھے تو اس لڑکی نے پریشان کر دیا ہے۔ صبح سے کہہ رہی ہوں کہ بیٹی جا بیگموں کو سلام کر ۔ ہنس  بول ۔ پر گم سم بیٹھی سنتی ہے اور رسید ہی نہیں تمہیں کہومحل سراؤں میں کہیں یوں گزر ہو سکتی ہے؟

    کافور:          اے ابھی انجان ہی ہے۔ رفتہ رفتہ سیکھ جائے گی۔

    ماں:           ( ذرا دیر چپ رہ کر ) کہتی تو تھی ۔ تم چلو میں آتی ہوں۔

    کافور:          (راز دارانہ انداز میں ) بیگموں سے ملنے سے بچی کتراتی ہے تو تمہیں اصرار کرنے کی کیا پڑی ہے ۔ ظل الہٰی کی خوشنودی حاصل ہو تو سمجھو سب کچھ ہے۔

    ماں:           (فکرمندی سے ) پر کَے دن تک ؟ لگانے بجھانے والے بھی تاک میں رہتےہیں۔

    کافور:          کسی کو باریاب ہونے کا موقع ہی کیوں دے۔

    ماں:           ( خدا جانے کچھ سوچ رہی ہے یا یوں ہی اداس ہے ) اتنی ہوتی تو پھر رونا کا ہے کا تھا۔

    کافور:          اے چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ ادائیں سیکھنے کی اسے حاج ہی نہیں۔

    ماں:           (تامل سے) محل سراؤں میں بے ساختہ ادائیں کم نصیبی کا نشان ہوا کرتی ہیں۔

    کافور:          خدا نہ کرے خدا نہ کرے۔ تم میرے سپرد کر دو بیٹی کو۔

    ماں:           میرے کہے میں ہو بھی۔

    کافور:          دنوں میں لگا دوں پر (سرگوشی میں) بیگمیں بھی منہ ہی دیکھتی رہ جائیں۔

    ماں:           (چونک کر کافور کو دیکھتی ہے اور پھر اندیشہ ناک نظروں سے ادھر ادھر تک کر انگلی ہونٹوں پر رکھ لیتی ہے)

    کافور:          ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔

    ماں:           (چلنے کو مڑتے ہوئے) نہ بوا! اللہ عزت و آبرو ہی سے اٹھائے۔

    کافور:          تم جانو سریلا پرندہ اڑنا نہیں سیکھتا تو تیلیوں سے سر ٹپکا کرتا ہے۔

    ماں:           (رک کر کافور کو دیکھتی ہے) کیا مطلب؟

    کافور:          (سامنے دیکھتے ہوئے) انارکلی

                   (انارکلی داخل ہوتی ہے۔ پندرہ سولہ سال کی نازک اندام لڑکی جس کے چمپئی رنگ میں اگر سرخی کی خفیف سی جھلک نہ ہو تو شاید بیمار سمجھی جائے۔ خدوجال شعرا کے معیار حسن سے بہت مختلف۔ اس کا چہرہ دیکھ کر ہر تخیل پسند کو پھولوں کا خیال ضرور آتا ہے لیکن مغل اعظم نے اسے جو خطاب دیا اس کے متعلق کئی لوگ کہہ سکتے تھے کہ معانی سے زیادہ الفاظ کے حسن ترکیب کے باعث موزوں معلوم ہوا۔ نمناک آنکھوں میں جیسے حسرتیں بیٹھی جھانک رہی ہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی کشش ہے۔

    انارکلی ملول اور افسردہ نظر آتی ہے اور باوجود کوشش کے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیر سے سوچ رہی تھی۔ ابھی اسے بھلا نہیں سکی۔)

    ماں:           اے لڑکی کہاں رہ گئی تھی تو؟

    انارکلی:         چلی تو آ رہی ہوں۔

    کافور:          (بلائیں لے کر) اے قربان گئی۔ رات سے تمہیں دیکھنے کو جی ترس رہا ہے بیٹی۔ کہ دیکھوں تو اس چاند سے مکھڑے پر انارکلی کا خطاب پھبتا کیسا ہے۔

                   (انارکلی ایک اداس تبسم سے منہ پھیر لیتی ہے۔)

    ماں:           (انارکلی کے جواب کے انتظار میں کچھ دیر توقف کرکے) کیسا ہے جی؟

    انارکلی:         اچھی ہوں۔

    کافور:          اور بیٹی تم نے سنیں اس حرافہ دلارام کی باتیں۔ تمہیں انارکلی کا خطاب کیا ملا بس جلی مررہی ہے۔ ابھی ابھی مجھ سے الجھ پڑی تھی۔ کہنے لگی تم کس انارکلی پر پھولی پھر رہی ہو۔ میں اب بھی جو چاہوں ظل الہٰی سے کرا سکتی ہوں۔ میں نے کہا لد گئے وہ دن۔ اب تو ہماری انار کلی کا راج ہے۔

                   (انارکلی چپکی کھڑی سر جھکائے انگوٹھے سے انگلیوں کے ناخن ملتی رہتی ہے۔ ماں اس کے جواب کی منظر رہتی ہے)

    ماں:           آج کس سوچ میں پڑی ہوئی ہے تو؟

    انارکلی:         (مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے)کسی سوچ میں بھی نہیں۔

    ماں:           (بگڑ کر) پھر ایسی گم سم کیوں ہے؟

    کافور:          اے یوں ہی رات کی تھکان ہو گی۔ جشن بھی تو بڑی دیر تک رہا رات! لو میں چلوں۔ بڑا کام پڑا ہے۔ جانے وہ اللہ ماریاں کیا کر رہی ہوں گی۔ (انارکلی کی بلائیں لے کر) خطاب بھی کیا سوچا ہے ظل الہٰی نے! انار کلی!واہ واہ!

                   (کافور ہنستا ہوا رخصت ہو جاتا ہے)

    ماں:           (کافور کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی بگڑ کر)نادرہ۔

    انارکلی:         جی اماں!

    ماں:           دنیا کی تو انار کلی انار کلی کہتے زبان خشک ہوئی جا رہی ہے۔ اور تجھے اتنی بھی توفیق نہیں کہ جھوٹے منہ سے دو بول شکریے ہی کے کہہ دے۔ یہ آخر تجھے ہوا کیا ہے؟

    انارکلی:         (سر جھکا کر) کچھ بھی نہیں اماں بی۔ تم کو تو وہم ہو گیا ہے۔

    ماں:           ہاں آج ہی تو ہوا۔

    انارکلی:         کبھی نہیں بھی ہوتا جی ہنسنے بولنے کو۔

    ماں:           بھلا کوئی بات ہے۔ خوشی کے موقع پر نہ ہنسنا نہ بولنا۔ گم سم ہو جانا۔ جو کوئی دیکھے گا۔ سو سو نام دھرے گا۔

    انارکلی:         (کسی قدر بگڑ کر) اب پڑا۔

    ماں:           تو بھئی! میں تو یوں تم کو ساتھ لے کر بیگموں کے پاس جاتی نہیں۔ خود ہی پڑی آتی رہنا اور نہیں تو۔ اتنی دفعے کہا بیٹی جی نہیں ہوتا تو دل پر جبر ہی کرکے ذرا ہنس بول لے۔ دکھانے کو بندہ کیا کچھ نہیں کرتا۔ اب تیری سمجھ میں نہ آئے تو جان اور تیرا کام۔

                   (ماں بگڑ کر چلی جاتی ہے)

    انارکلی:         (ملول نظروں سے اسے رخصت ہوتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے) میری اماں! میں خوش ہونے والا دل کہاں سے لاؤں؟ تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ میں کیوں غمگین ہوں۔ اے کاش میں اپنا دل کسی طرح تمہارے سینے میں رکھ دیتی۔ پھر دیکھتی تم کیسے کہتی ہو۔ تو انارکلی ہے۔ تو خوش کیوں نہیں ہوتی؟میں کیسے بتاؤں میں انارکلی ہوں۔ میں اسی لیے خوش نہیں ہوتی۔ تم نہیں سمجھ سکتیں۔ میری اماں تم نہیں سمجھ سکتیں۔ جو کنیز بننے کو پیدا ہوئی ہو۔ پھر وہ خوش کیوں ہو؟ وہ تو محبت میں جل مرنے سے بھی ڈرتی ہے۔ وہ تو ایک شہزادے کی طرف اس ڈر کے مارے نظر بھی نہیں اٹھاتی کہ کہیں اس کی آنکھوں میں محبت نہ دیکھ لے۔ پھر بتاؤ تو وہ انارکلی ہوئی تو کیا!(انارکلی پیڑھی پر بیٹھ جاتی ہے اور سر جھکا لیتی ہے)

                   (سورج محل کے دوسری طرف ڈھل چکا ہے۔ بارہ دری میں سے باغ کے جو سرو دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی سبزی سیاہ پڑ چکی ہے۔ ثریا داخل ہوتی ہے۔ تیرہ سال کی چلتی ہوئی خوش باش اور چنچل لڑکی۔ نقش انارکلی سے زیادہ اچھے ہیں، مگر وہ دل کشی نہیں ہے۔ محل کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے حالات سن سن کر بہت سیانی بن چکی ہے۔ مگر ناتجربہ کاری اور کم عمری کے باعث سیانے پن کو چھپانے کے انداز ابھی نہیں آئے)

    ثریا:            تم یہاں ہو بہن؟ نادرہ آپا!

    انارکلی:         کیوں ثریا؟

    ثریا:            (پیار سے) چلو نہ سب تم کو بار بار پوچھ رہے ہیں۔

    انارکلی:         (افسردہ تبسم)انارکلی جو ہوئی۔

    ثریا:            کیوں آپا؟

    انارکلی:         سچ مچ بھلا کیوں؟ (چلنے کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے)

    ثریا:            (انارکلی کی کمر میں باہنیں ڈال کر) چپ چپ کیوں ہو باجی؟

    انارکلی:         (مسکرا کر ٹالتے ہوئے) نہیں تو ننھی۔

    ثریا:            (شوخی سے) ننھی تو مان جائے۔ پر شہزادہ سلیم نہیں مانتے باجی۔

    انارکلی:         (چونک کر) صاحب عالم! تجھ سے ملے تھے؟ کب آج؟

    ثریا:            (مزے لے لے کر) آج دوپہر وہ حرم میں آئے تھے۔ میں انہیں راستے میں مل گئی۔ تو لگے کہنے تمہاری انارکلی نظر نہیں آئیں کہاں ہیں وہ آج؟ میں جواب بھی نہ دینے پائی تھی کہ بولے ثریا وہ اتنی چپ چپ اور سب سے الگ الگ کیوں رہتی ہیں؟ یہ عادت ہے ان کی یا ان ہی دنوں ان کی بھی یہ حالت ہو گی ہے۔ پھر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں جوش سے پکڑ کر کہنے لگے ثریا کہہ دو کہ میری طرح ان ہی دنوں ان کی یہ حالت ہو گئی ہے۔

    انارکلی:         پھر تو نے کیا کہا؟

    ثریا:            میں نے کہا آپ کی طرح ان ہی دنوں ان کی یہ حالت ہو گئی ہے۔

                   (انارکلی کھوئی ہوئی چوکی پر بیٹھ جاتی ہے)

                   بس یہ سنتے ہی ان کا چہرہ گلابی ہو گیا۔ اور خوشی کے جوش میں انہوں  نے میری پیشانی کو چوم لیا۔

    انارکلی:         (ثریا کو تکتے ہوئے) چوم لیا۔ تیری پیشانی کو؟

    ثریا:            ہاں اور پھر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ جلدی سے باہر چلے گئے۔

    انارکلی:         میرے اللہ۔ صاحب عالم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے! تو تو جو کچھ کہا کرتی ہے۔ وہ سچ ہے ثریا؟ (سوچتے ہوئے) پھر اس کا کیا انجام ہو گا!

    ثریا:            (انارکلی سے لپٹ کر اور منہ اس کے کان کے قریب لا کر گویا ایک بہت بڑی بات کہنے والی ہے) میری بہن ایک روز ہندستان کی۔

    انارکلی:         (ایک لخت ثریا کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہمہ تن گوش ہو جاتی ہے) چپ۔ ثریا چپ۔ دیکھ سن!

                   (دونوں کوئی آواز سننے کے لیے کان لگا دیتی ہیں۔ توقف غیر محدود معلوم ہوتا ہے)

    ثریا:            کچھ بھی تو نہیں!

    انارکلی:         ہائے کچھ تھا۔ میرا دل ڈوبا جاتا ہے ثریا۔ میرے کانوں میں کوئی کہہ رہا ہے۔ تو سوختہ اختر ہے نادرہ۔ (توقف) ثریا تو نے مجھے یہ کیا بتا دیا! میں نے تو کیوں تجھ سے یہ پوچھ لیا!

    ثریا:            وہ سنو! باہر پیڑ پر کیا بول رہا ہے؟

    انارکلی:         کاگ

    ثریا:            اب اس شگون پر تو خوش ہو جاؤ۔ (بانہیں پھیلا کر) میری اچھی آپا!

    انارکلی:         (ثریا کو گلے لگا کر) میری پیاری ثریا! (ثریا کے رخسار پر چومتے چومتے پیشانی چوم لیتی ہے اور پھر یک لخت شرما کر سر جھکا لیتی ہے)

    ثریا:            (تاڑ چکی ہے) یہ پیشانی چوم کر تم شرما کیوں گئیں آپا؟ اس لیے کہ صاحب عالم نے بھی .....

    انارکلی:         (شرما کر منہ موڑتے ہوئے) میں بھول گئی تھی۔

    ثریا:            (گدگدا کر) کتنے مزے کی بھول ہے۔

                   (انارکلی جدھر منہ موڑتی ہے۔ ثریا مسکراتی ہوئی شوخی سے ادھر ہی جا کھڑی ہوتی ہے۔ آخر ہنستی ہوئی بہن سے لپٹ جاتی ہے۔ انارکلی اور شرما جاتی ہے اور اپنے آپ کو ثریا سے چھڑا کر بھاگ جاتی ہے۔ ثریا بھی قہقہہ لگاتی ہوئی پیچھے بھاگتی ہے۔)

    پردہ

     

    منظر دوم

     

    شہزادہ سلیم کے محل کا شمال مغربی ایوان۔ محل قلعہ لاہور میں حرم سرا کی چار دیواری سے باہر لیکن اس سے بہت کم فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایوان جس کے آگے ایک جھروکے کے دار مثمن برج ہے لیکن منظر اس کی سرسبزی و شادابی کے باعث ایسا دل کشا اور فرحت زار مقام بن گیا ہے کہ کوی بھی مغل اپنے اوقات فرصت گزارنے کے لیے تمام محل میں سے اس ایوان کے سوا دوسرا مقام منتخب نہ کر سکتا۔

    دور جہاں غروب آفتاب نیلے آسمان پر ارغوانی رنگ آمیزی کر رہا ہے۔ گھنے پیڑوں کے طویل سلسلے میں سے کھجوروں کے سربلند اور ساکت درخت کالے کالے نظر آرہے ہیں۔ راوی ان دور کی رنگینیوں کو اپنے دامن میں قلعے کی دیوار تک لانے کی کوشش کررہی ہے۔ برج کے مغربی جھروکے میں سے ایک مسجد کے سفید گنبد اور سرخ میںاروں کا کچھ حصہ نظر آتا ہے۔

    اندر برج کے آگے سنگ مرمر کا ایک چبوترہ ہے جو تمام ایوان کے عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ اس چبوترے کے دونوں پہلوؤں پر مغلیہ انداز کی محرابوں والے دروازے ہین جن سے دایاں حرم سرا کو اور بایاں بیرونی حصوں کو جاتا ہے۔ تین سیڑھیاں جو چبوترے ہی کے برابر عریض ہیں ایوان میں اترتی ہیں۔ ایوان کی دائیں اور بائیں دیوار میں محل کے دوسرے حصوں میں جانے کے دروازے ہیں۔

    ایوان میں بیش قیمت ایرانی قالین بچھے ہیں جن پر زری کے تکیوں والی مسند جڑاؤ تخت پر رکھی ہوئی بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ سامان آرایش کم مگر پر تکلف ہے اور اگرچہ تزئین میں بے حد سادگی سے کام لیا گیا ہے اور بحیثیت مجموعی ایوان کسی قدر خالی خالی معلوم ہوتا ہے، مگر دیواروں کے نقش و نگار۔ برج کے جھروکوں پر جالیوں کی صنعت۔ دروازوں پر گراں قیمت بھاری بھاری اطلسی پردے اور مناسب مقامات پر طلائی چوکیاں۔ ہشت پہلو میزیں اور ان پر جڑاؤ پھولدان دیکھنے سے مغلیہ تجمل کا اثر دل پر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

    سلیم برج کے جھروکے میں بیٹھا راوی پر غروب آفتاب کو دیکھ رہا ہے اندر زعفران اور ستارہ دف بجا بجا کر ناچ رہی ہیں۔ مگر ان کو علم ہے کہ سلیم متوجہ نہیں۔ کچھ دیر ناچنے کے بعد وہ ٹھہر جانے میں کچھ مضائقہ نہیں سمجھتیں۔ مگر کھڑی کھڑی اس خیال سے پاؤں ہلاتی رہتی ہیں کہ سلیم سمجھے کہ ناچ رہی ہیں۔ زعفران ستارہ کو اشارہ سے چلنے کے لیے کہتی ہیں۔ زعفران نفی میں سر ہلا دیتی ہے۔ آخر دونوں قریب آ کر سرگوشیوں میں گفتگو شروع کر دیتی ہیں۔

    ستارہ:          پوچھ لے پہلے۔

    زعفران:       چل بھی دے چپکے سے۔ انہیں دریا کی سیر سے فرصت کہاں؟

    ستارہ:          اور جو مہارنی پوچھ بیٹھیں۔ ایسی جلدی کیوں لوٹ آئیں؟

    زعفران:       کہہ دیں گے وہ تو دیکھ رہے تھے لہروں کا ناچ۔ ہم دیواروں کے آگے ناچتے گاتے۔

    ستارہ:          ہاں کہہ ہی تو دیں گے۔

    زعفران:       اور کیا نہیں بھی؟

    ستارہ:          اے تو تم اجازت ہی جو لے لو۔ تم سے توبہت ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں۔ کیوں؟

    زعفران:       (جیسے شرما گئی۔ ہلکا سا طمانچہ مارتی ہے) چل قطامہ!

    ستارہ:          افوہ شرما بھی تو گئیں۔

    زعفران:       میں کیوں شرماتی۔ پوچھ لیتے ہیں ہم (زعفران اس انداز سے سلیم کی طرف جاتی ہے گویا ایک اہم خدمت کے لیے منتخب کی گئی ہے۔ کہیں پاؤں ٹیڑھا پڑ جاتا ہے او ر گر پڑتی ہے۔)

                   (سلیم چونک کر زعفران کی طرف دیکھتا ہے اور برج میں سے اٹھ کر اندر آجاتا ہے۔ تیکھے نقش کا وارستہ مزاج طبیعت کا بندہ جو شباب کے اولین مراحل میں ہے) (ستارہ ہنسی روکتی ہے۔ زعفران نیچے پڑی پڑی پہلے سلیم کی طرف پھر ستارہ کی طرف دیکھتی ہے۔)

    سلیم:           کیا ہوا زعفران ؟

    ستارہ:          (ہنسی ضبط کرتے ہوئے) حضو ر سے رخصت کی اجازت لینے جا رہی تھیں۔ نگوڑے چیونٹے سے ٹھوکر ..... (کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہے)

    زعفران:       نامراد ہنسے جا رہی ہے کھڑی کھڑی۔

    سلیم:           تم چاہتی ہو۔ تمہیں آ کر اٹھائے۔ (سلیم زعفران کو اٹھانے کے لیے اس کی طرف بڑھتا ہے۔ زعفران خود اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ستارہ شوخی سے اس کے کپڑے جھاڑنے لگتی ہے۔ زعفران اسے ایک تھپڑ رسید کرتی ہے۔)

    سلیم:           تم بہت شوخ ہو زعفران۔

    زعفران:       ہاں حضور بھی جب کہتے ہیں۔ ہمیں ہی شوخ کہتے ہیں (ناز کے مصنوعی کھسیانے پن سے) ایک تو میں لے کے گر پڑی (سلیم اور ستارہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ہیں) حضور کو تو ہنسی کی   سوجھ رہی ہے۔ جاتے ہیں ہم (چلی ہی تو جائیں گی)

    سلیم :           (مسکراتے ہوئے) کہاں چلیں؟ بات تو سنو۔

    زعفران:       (چلتے چلتے رک کر ستارہ کی طرف دیکھتی ہے۔ اس کے چہرے پر پھر ایک پرمعنی تبسم ہے) پھر اس کو بھیج دیجیے یہاں سے۔

    سلیم:           وہ تمہیں کیا کہہ رہی ہے؟

    ستارہ:          اب تو یہ نکلوائیں گی ہی ہمیں۔ ادھر انارکلی نے سر پر چڑھا رکھا ہے دھر آپ نے منہ لگا رکھا ہے جو نہ کریں تھوڑا ہے۔

    سلیم:           (انارکلی کا ذکر ہو اور سلیم دلچسپی نہ لے) افوہ وہ انارکلی بھی تم سے بے تکلف ہیں۔ زعفران؟ ثریا تو کہتی تھی وہ کسی سے بات ہی نہیں کرتی۔

    زعفران:       تو حضور آدمی دیکھ کر ہی بات ہوتی ہے نا۔

    ستارہ:          ہاں ان میں تو بڑے چاند جڑے ہیں۔

    زعفران:       پھر کیا نہیں بھی؟

    سلیم :           (مسند پر بیٹھ کر) تو تم سے کیا باتیں کیا کرتی ہیں وہ؟

    زعفران:       اب کوئی باتیں مقرر تو ہیں نہیں۔ سبھی طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔

    سلیم:           خوب خوب ..... (کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا بات کرکے اس تذکرے کو جاری رکھے) غرضیکہ بہت محبت ہے تم کو انارکلی سے؟

    زعفران:       اے مجھی کو کیا۔ کون سا ہے بھلا آدمی محل سرا میں جو انہیں نہ چاہتا ہو۔ ( بڑی تمکنت سے سر پھیر کر ستارہ پر ایک نظر ڈالتی ہے)

    سلیم:           تو ہم نہیں بھلے آدمی زعفران؟ (گویا دیکھو زعفران سامنے سے کیا کہتی ہے)

    ستارہ:          (زعفران کی پریشانی کو بھانپ کر) گھبرا کیوں گئیں؟

    زعفران:       اب حضور کے۔ حضور کی تو۔ میں نے تو محل سرا۔ توبہ توبہ۔ اے حضور میں تو اس میں کل موہی کے جلانے کو کہہ رہی تھی۔

    ستارہ:          (فاتحانہ انداز میں مسکرا کر) اب کیوں نہ کہوں گی یوں؟

    سلیم:           (لطف لیتے ہوئے) ہم یوں باتوں میں نہیں اڑنے کے۔ اب تو زعفران تمہیں ہم کو بھی بھلے آدمیوں میں شامل کرنا پڑے گا۔

    زعفران:       اےبھول ہو گئی حضور بخش دیجیے۔

    ستارہ:          بھول کپوں۔ اب لاؤ نہ جا کر اپنی انارکلی کو۔

    سلیم:           ہاں ہاں ان کے گانے کی بھی تو بہت تعریف سنی ہے ہم نے۔

    زعفران:       مجھ سے اچھا تھوڑا ہی گاتی ہے۔

    سلیم:           لیکن زعفران۔ ہم بھلے آدمی بھی تو بننا چاہتے ہیں۔ کیوں ستارہ؟

    ستارہ:          حضور اب جان بچانا چاہتی ہے۔

    سلیم:           ناکام رہو گی زعفران۔

    زعفران:       میں پھر جا کر بلا بھی لاؤں گی۔

    ستارہ:          جاؤ نہ پھر انتظار کاہے کا ہے؟

    زعفران:       اچھی بات ہے۔ (تاؤ میں آ کر چل پڑتی ہے)

    سلیم:           (متوقع ملاقات کے اندیشوں سے یک لخت سراسیمہ ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے)ٹھہرو ٹھہرو زعفران!

    ستارہ:          جانے بھی دیجیے حضور۔ جو اس کے کہے سے کبھی آجائے۔

    زعفران:       اور اگر لے آئی تو؟

    سلیم:           (گھبرا کر) نہیں نہیں زعفران نہیں۔

    ستارہ:          تو مضائقہ بھی کیا ہے حضور۔ سبھی تو آتے جاتے ہیں یہاں۔

    سلیم:           تم کو نہیں معلوم اس میں ..... بس نہیں تم جاؤ (ایسے انداز سے دور جا کر کھڑا ہو جاتا ہے جس کے صاف یہ معنی ہیں کہ زعفران اور ستارہ رخصت ہو جائیں)

                   (دونوں حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھتی ہیں او رسرگوشیاں کرتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ سلیم تنہا رہ جاتا ہے)

                   اللہ پھر یہ سہمی ہوئی محبت کب تک راز رہے گی۔ مہجور دل یوں ہی چپ چاپ دکھا کرے گا یا وہ فرخندہ ساعت بھی آئے گی۔ جس کی امید میں زندگی قیامت ہے (آہ بھر کر) کیسے آئے گی۔ وہ کہاں مانیں گے۔ ہائے وہ تو کہہ دیں گے وہ انارکلی ہے۔ حرم سرا کی کنیر۔ تو سلیم ہے۔ مغلیہ ہند کا شہزادہ پھر میں کیسے اپنا سینہ ان کے سامنے کھول کر رکھ دوں گا۔ میرے اللہ میں کیا کروں(بے چین ہو کر مسند پر گر پڑتا ہے اور تکیے پر سر رکھ دیتا ہے)

                   (ذرا دیر خاموشی رہتی ہے۔ پھر دور دریا کی طرف سے گانے کی ہلکی ہلکی آواز آتی ہے۔ سلیم کچھ دیر اسی طرح پڑا سنتا رہتا ہے۔ پھر اٹھتا ہے اور سست قدموں سے برج میں جاتا ہے اور دریا کی طرف جھانکتا ہے۔ آخر جھروکے کے ساتھ سر ٹیک کر کھڑا ہو جاتا ہے اور گیت سننے لگتا ہے۔ آواز مدھم ہوتی ہوتی غائب ہو جاتی ہے)

    راوی کے دل شاد ملاح! تو کیوں نہ گائے۔ لہریں نیند میں بہہ رہی ہوں اور کشتی اپنے آپ چلی جا رہی ہو۔ پھر بھی نہ گائے؟ تو کیا جانے جب وقت کی ندی بہتے بہتے سست پڑ جاتی ہے اور امید ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ (آہ بھر کر) جا شفق زار لہروں پر گاتا ہوا چلا جا اور خوش ہوکہ تو شہزادہ نہیں ورنہ سنگ مرمر کی چھتوں کے نیچے اور بھاری بھاری پردوں کے اندر تیرے گیت بھی دبی ہوئی آہیں ہوتے۔ (سر جھکا کر خاموش ہو جاتا ہے)

    (سورج ڈوب چکا ہے۔ باہرشام کا دھندلکا ہے۔ ایوان کے اندر تاریکی دم بہ دم گہری ہوتی جا رہی ہے)

    (چبوترے کے دائیں دروازے سے وہ خواجہ سرا داخل ہوتے ہیں۔ ایک نے روشن مشعلیں اور دوسرے نے ایک چوکی اٹھا رکھی ہے۔ اندر آ کر وہ تعظیم بجا لاتے ہیں۔ ایک فانوس کے نیچے چوکی رکھ دیتا ہے۔ دوسرا چڑھ کر مشعل سے فانوس روشن کرتا ہےاور پھر چپ چاپ اگلے بائیں دروازے سے رخصت ہو جاتے ہیں۔)

    (بختیار چبوترے کے بائیں دروازے سے داخل ہوتا ہے۔ سلیم کے ساتھ کا کھیلا ہوا اس قدر بے تکلف دوست ہے کہ اسے داخل ہونے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ خوش طبع نوجوان ہے جس کی آنکھوں میں خلوص چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔)

    بختیار:          (سلیم کو برج میں مستغرق دیکھ کر) پھر سوچ میں؟

    سلیم:           بختیار آگئے تم؟ (سیڑھیاں اتر کر ایوان میں آجاتا ہے)

    بختیار:          آپ کس فکر میں غرق ہیں؟

    سلیم:           میں سوچ رہا ہوں بختیار۔ مطمئن ملاح ایک آرزومند شہزادے کی نسبت کس قدر خوش نصیب ہے۔

    بختیار:          میں ان ملاحوں کا ادھر سے آنا جانا ہی بند کرا دوں گا۔

    سلیم:           کیوں؟

    بختیار:          نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

    سلیم:           احمق پھانس نکالنے کی بجائے انگلی کاٹنا چاہتا ہے۔

    بختیار:          پھانس نکالنا بس میں جو نہیں۔

    سلیم:           (مسند پر بیٹھتے ہوئے) جبھی تو کہتا ہوں۔ آرزوئیں پوری کرنے کی قدرت نہ ہو تو حکومت اور ناداری یکساں ہیں۔

    بختیار:          تو پھر سودا کر لیجیے۔ ولی عہدی کا بوجھ میں اٹھائے لیتا ہوں۔

    سلیم:           اور اس کے بدلے مجھے کیا دو گے؟

    بختیار:          انارکلی

    سلیم:           وہ کیسے؟

    بختیار:          یہ رہی (جیب میں سے ایک رومال نکالتا ہے اور اسے مسند پر رکھ کر بڑے اہتمام سے کھولتا ہے۔ رومال میں انار کے پھول اورکلیاں ہیں۔ ایک کلی اٹھا کر بہت تکلف   سے سلیم کو دیتا ہے۔)

    سلیم:           تم کتنے خوش فکر ہو بختیار۔

    بختیار:          قبلہ۔ ڈبیا میں بند کرکے رکھنے کے قابل ہوں۔

    سلیم:           (کلی کو دیکھتا رہتا ہے)کتنا حسن، کتنی رعنائی ہے اس کلی میں۔ رنگ۔ بو اور نزاکت ننھی سی نیند میں سو رہے ہیں، لیکن بختیار انارکلی۔ اس سے ان کا کیا تعلق ؟ وہ تو فردوس کا ایک خواب ہے۔ شباب کی آنکھوں کی قوس قزح اور سچ مچ بختیار کبھی کبھی تنہائی میں مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے ، وہ صرف میرا تصور ہے۔ اسے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسے میں نے ایک خیال کو اپنے دل کے سنگھاسن پر بٹھا لیا ہے اور اسے پوج رہا ہوں۔

    بختیار:          عرفی کی صحبت آپ کو شاعر بنا دے گی۔

    سلیم:           (کلی کو دیکھتا دیکھتا کسی خیال میں غرق ہو چکا ہے۔ بختیار کی طرف توجہ نہیں رہی) کیا؟

    بختیار:          (سلیم کو بے توجہ دیکھ کر ذرا بلند آواز سے ) مغلوں کو مدبر بادشاہوں کی ضرورت ہے۔ وہ شاعر بادشاہ نہیں چاہتے۔

    سلیم:           (اسی بے خبری کی کیفیت میں) درست ہے۔

    بختیار:          قابل عمل تو کیوں ہو گا؟

    سلیم:           (یک لخت کھڑا ہو کر بختیار کو شانوں سے پکڑ لیتا ہے) اور بختیار اگر میں تمام محل ان ہی انارکلی کے پھولوں اور کلیوں سے سجا لوں اور پھر کسی روز انارکلی بھول کر ادھر آجائے۔ آہ وہ دیکھے کہ اسی کے نام کے پھولوں سے میں نے اپنے تمام محل میں اک آگ سی لگا رکھی ہے۔ پھر۔ پھر؟

    بختیار:          اور اگر انارکلی سے پہلے ظل الہٰی ادھر آجائیں۔ پھر؟

    سلیم:           (سوچتے ہوئے) پھر کیا ہو؟

    بختیار:          اکبر اعظم کی نگاہ اپنے فرزند کی نسب بہت زیادہ دور بین اور معاملہ فہم ہے۔ وہ بہت جلد ہر بات کی تہہ تک پہنچ جاتی ہے۔

    سلیم:           (سوچ میں بیٹھ جاتا ہے) وہ اس سے کیا نتیجہ نکالیں؟

    بختیار:          جو نتیجہ آپ نہیں چاہتے کہ وہ نکالیں (سلیم کے سامنے مسند پر بیٹھ جاتا ہے) انارکلی کا خطاب ابھی حرم سرا کی پرانی بات نہیں اور آپ کی یہ تنہا پسندی اور افسردگی اور پھر ان پھولوں کی رنگ و بو سب   سے بڑی جاسوس بن سکتی ہے۔

    سلیم:           سوختہ اختری۔ نحس تھی وہ ساعت جب تیرہ بختی نے مجھے دو مان مغلیہ کا ولی عہد کر دیا اور اس سے زیادہ نجس تھا وہ لمحہ جب انارکلی کی حیران نظروں نے اس دل کو ایک انگارہ بنا دیا۔ (بختیار سلیم کی طرف ہمدردی کی نظروں سے دیکھتا ہے۔)

                   (دلا رام چبوترے کے دائیں دروازے سے داخل ہوتی ہے۔ نہ بختیار نے اسے دیکھا ہے نہ سلیم نے۔ جب وہ قریب پہنچ کر تعظیم بجا لاتی ہے تو بختیار اسے دیکھ کر انار کے پھولوں کو فوراً مسند کے تکیے کے نیچے چھپا دیتا ہے۔ دلا رام دیکھ لیتی ہے مگر تعظیم بجا لا کر خاموش کھڑی ہو جاتی ہے۔)

    سلیم:           کیا ہے دلا رام؟

    دلارام:         ظل الہٰی حرم سرا سے باہر تشریف لارہے ہیں۔ انہوں  نے اطلاع بھیجی ہے کہ وہ آپ کی طرف بھی آئیں گے۔

    سلیم:           ادھر آئیں گے؟ وہ خود؟

    دلارام:         حضور۔

    سلیم:           (بختیار کی طرف متفکر نظروں سے دیکھ کر) کیوں؟ (دلارام سے) تمہیں معلوم ہے کیوں؟

    دلارام:         جی نہیں۔

    سلیم:           کوئی خاص بات تو نہیں سنی تم نے؟

    دلا رام:         جی نہیں۔

    سلیم:           (کچھ تامل کے بعد) میں استقبال کو حاضر ہوتا ہوں (سلیم سوچ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دلا رام چلنا چاہتی ہے۔)

    بختیار:          (جواب تک دلارام کو دلچسپی کی میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھتا رہا ہے) کیا نام تھا تمہارا؟ دلارام نہ؟ ہاں (مسکرا کر) کچھ نہیں۔ دلا رام! خوب نام ہے۔ تم جاؤ۔

                   (دلارام خاموش چلی جاتی ہے۔ بختیار گردن بڑھا بڑھا کر ادھر دیکھ رہا ہے جدھر دلارام گئی ہے کہ شاید پردوں میں سے دلارام ایک مرتبہ ایوان میں جھانکے۔ یک لخت ایک بارعب انداز سے تو بت پٹنی شہنائیاں بجنی شروع ہو جاتی ہیں۔)

    سلیم:           وہ حرم سے برآمد ہو گئے۔ ٹھہر بختیار۔ میں استقبال کو جاتا ہوں۔

                   (سلیم جاتا ہے۔ بختیار مسند کے تکیے درست کرتا ہے۔ ایک تکیے کے نیچے سے انار کے وہ پھول نکلتے ہیں جو اس نے دلارام کو دیکھ کر چھپا دیے تھے۔ انہیں اٹھا لیتا ہے اور ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ کہاں رکھے مگر قدموں کی آہٹ سن کر پھر تکیے کے نیچے چھپا دیتا ہے۔

                   سلیم۔ اکبر۔ حکیم ہمام اور چند خواجہ سرا داخل ہوتے ہیں۔ خواجہ سرا دروازے   کے قریب رک جاتے ہیں۔ سلیم۔ اکبر اور حکیم ہمام آگے بڑھ آتے ہیں۔ بختیار مجرا بجا لاتا   ہے۔

                   اکبر گٹھے ہوئے جسم کا خوش شکل اور میانہ قد شخص ہے۔ پیشانی اور رخساروں کی شکنیں گو دیکھنے والے کے دل میں خوش اخلاقی اور حلم کا اعتماد پیدا کرتی ہیں لیکن غالباً دنیائے خیال میں رہنے کے باعث خواب ناک آنکھوں میں کچھ ایسی   قوت ہے جو قطع نظر اس امر سے کہ وہ شہنشاہ ہند ہے ہر شخص کو محتاط رہنے اور نظریں جھکا لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ گردن کی باوقار حرکت سے ظاہر ہے کہ عالی ہم شخص ہے۔ مضبوط دہانہ کہہ رہا ہے کہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹوں کو خاطر میں نہیں لا سکتا۔ حرکات میں مستعدی ہے۔ رفتار میں ایک ایسا انداز گویا زمین کی تحقیر کر رہا ہے۔ اس وقت وہ سلیم سے ناخوش نظر آتا ہے لیکن سلیم سے اس کی غیر معمولی الفت اس قدر مسلم ہے کہ محرمان حرم بخوبی جانتے ہیں۔ یہ کبیدگی پدرانہ فہمائش کو موثر بنانے کے لیے سوچ سمجھ کر اختیار کی گئی ہے اور اس غیظ و غضب سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں جو کبھی کبھار اکبر کو بے پناہ بنا دیا کرتا ہے۔)

    اکبر:           حکیم صاحب کہے ہیں۔ تم علیل ہو شیخو؟

    سلیم:           (گومگو کے عالم میں) نہیں تو جہاں پناہ۔

    حکیم:           ظل الہٰی! غلام بارگاہ کوئی خاص مرض تو تشخیص نہیں کر سکا، البتہ سست اور مضمحل دیکھ کر .....

    اکبر:           اسے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ بیمار ہے۔

    حکیم:           ظل الہٰی! غلام کی ذمے داری .....

    اکبر:           تم علیل نہیں۔ تو پھر یہ کیا ہے شیخو کہ ہر ایک تمہاری بے توجہی کا شاکی ہے۔ نہ تمہیں اپنی تعلیم کا خیال ہے نہ ضروری مشاغل کا۔ سواری کو تم نے نکلتے۔ شکار کو تم نہیں جانتے۔ تم دسترخوان تک پر نظر نہیں آتے۔ آخر کیوں؟ تم اپنے باپ کے سامنے حاضر ہونے میں اپنی توہین سمجھتے ہو یا دیکھنا چاہتے ہو کہ اگر تم اس کے پاس نہ جاؤ تو وہ کب تک بے صبر نہیں ہوتا۔ تم نے دیکھ لیا؟ تم خوش ہو اب؟

    سلیم:           میں شرمندہ ہوں۔

    اکبر:           نہیں شاید تم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہو کہ مامتا کب تمہاری ماں کو حرم کی چاردیواری سے باہر کھینچ کر لاتی ہے۔ کیوں شیخو؟ ماں کے بلانے پر ہر مرتبہ عذر کر بھیجنا پھر اور کیا معنی رکھتا ہے؟

    سلیم:           میں ابھی ان کی خدم میں حاضر ہوں گا۔

    اکبر:           تم کو اگر ماں باپ کی پروا نہیں تو وہ بھی تم سے بے پروا ہو سکتے ہیں۔

    سلیم:           میں معافی چاہتا ہوں۔

    اکبر:           میں جانتا ہوں۔ یہ معافی اکبر بادشاہ سے ہے۔ اکبر باپ سے نہیں۔ بادشاہ تمہیں معاف کرتا ہے۔ باپ اظہارِ افسوس سے زیادہ چاہتا ہے۔

                   (سلیم کے آنسو نکل آتے ہیں)

    آنسو!بادشاہ بھی تمہیں معاف نہیں کر سکتا۔ معاف نہیں کر سکتا سلیم۔ وہ مغل شہزادوں کو سیاست کی الجھنوں میں مجنوں دیکھ سکتا ہے۔ وہ انہیں ہوس ملک گیری میں گرفتار دیکھ سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے۔ ان کے زخموں سے کیا کرے۔ وہ جانتا ہے ان کی سربریدہ نعشوں کو کیا کرے۔ مگر آنسو۔ آنسو ..... جا اپنی ماں کے پاس جا۔ ان آنسوؤں کو تو اس کے ہاتھ بیچ سکتا ہے .....جاؤ سلیم!

    (سلیم سر جھکائے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا حرم کی طرف جاتا ہے۔ اکبر کھڑا دیکھتا رہتا ہے)

    بے وقوف لڑکا .....چلیے حکیم صاحب (چلتے چلتے ٹھہر کر) بختیار تم شیخو کے آنے تک یہیں ٹھہرو۔ تنہائی میں وہ پھر آنسو بہائے گا۔..... احمق ..... چلیے حکیم صاحب (چلتے چلتے پھر ٹھہر کر) یا تم بھی ہمارے ساتھ آؤ بختیار۔ ہم ایک اور طرح اس کی اشک شوئی کرنا چاہتے ہیں۔

    (سب بائیں دروازے سے بیرونی حصے کو چلے جاتے ہیں)

    جب ایوان خالی ہو چکتا ہے تو حرم کے دروازے کے پردے ہلتے ہیں اور دلارام سر نکال کر جھانکتی ہے۔ جب اطمینان ہو جاتا ہے کہ کوئی موجود نہیں تو دبے پاؤں ادھر ادھر دیکھتی ہوئی اندر آجاتی ہے۔ ہر طرف دیکھ کر اطمینان کرتی ہے کہ کوئی واپس نہ آرہا ہو۔ پھر مسند کی طرف بڑھتی ہے اور تکیے اٹھا اٹھا کر دیکھتی ہے۔ ایک تکیے کے نیچے سے انار کے پھولوں کا رومال مل جاتا ہے۔ دلا رام ادھر ادھر دیکھ کر رومال کھول لیتی ہے)

    دلا رام:         پھول: پھر چھپائے کیوں! انار کے پھول .....کیا تھا؟

                   (پھول ہاتھ میں لیے وہ سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سن کر یک لخت چونکتی ہے اور بیرونی دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔ گھبرا کر واپس آتی ہے اور پھول تکیے کے نیچے رکھ کر حرم کے دروازے کی طرف بھاگتی ہے۔ ادھر سے بھی گھبرا کر واپس آتی ہے۔ پریشانی کے عالم میں کھڑی ہو جاتی ہے اور چھپنے کے لیے جگہ دیکھتی ہے۔ آخر دوڑ کر دائیں ہاتھ کے ورلے دروازے کے پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔)

                   (بختیار داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں جڑاؤ انگشتری ہے)

    بختیار:          بادل گرج چکتا ہے تو میٹھا پانی برستا ہے۔ کتنا بڑا ہیرا۔ کس قدر عمدہ تراش!

                   (سلیم سوچ میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا داخل ہوتا ہے)

                   سلیم! کیا سوچ رہے ہو تم؟ یقیناً ظل الہٰی کی فہمایش سے تم آزردہ نہیں ہوئے؟ آزردہ نہیں نہ؟ وہ تمہارے باپ ہیں۔ اور وہ باپ جو   تمہارے لیے متحد ہندستان کی سلطنت تیار کر رہے ہیں۔ اور اگر اس کے لیے وہ تمہیں بھی ایک خاص رنگ میں دیکھنے کی توقع رکھیں تو قابل الزام نہیں۔ نہیں نہ سلیم؟ اور کیا قصور تمہارا نہ تھا؟ پھر بھی ان کی الفت دیکھو۔ انہوں  نے تمہارے لیے یہ تحفا بھیجا ہے۔ دربار میں جو فرنگی جوہری آئے ہیں انہوں  نے اپنے ملک کے ڈھنگ پر اس انگشتری کا نگینہ تراشا ہے۔ دیکھو تو کتنا بڑا کس قدر خوبصورت لاؤ میں تمہیں پہنا دوں۔ (ہاتھ پکڑ کر انگشتری پہنا دیتا ہے) تم تو ویسے ہی خاموش ہو!

    سلیم:           میں کچھ اور سوچ رہا ہوں بختیا۔

    بختیار:          کیا؟

    سلیم:           واپس آرہا تھا تو مجھے راستے میں ثریا ملی۔

    بختیار:          پھر؟

    سلیم:           اس نے کہا۔ انارکلی آج کل چاندنی راتوں میں باغ میں جاتی ہے۔

    بختیار:          تو؟

    سلیم:           میں آج باغ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔ (مسند پر بیٹھ جاتا ہے)

    بختیار:          محبت نے تم کو بالکل دیوانہ بنا دیا ہے سلیم۔ باپ کی اتنی خفگی اور اتنی ذرا سی دیر میں پھر اتنی بڑی جرأت۔

    سلیم:           ہاں لیکن چاندنی راتیں پھر نہ رہیں گی۔

    بختیار:          (سلیم کےسامنے مسند پر بیٹھ کر) تم کیوں انارکلی سے ملنا چاہے ہو سلیم؟ اگر تمہیں معلوم ہو گیا وہ بھی تمہیں چاہتی ہے تو تمہارے لیے وقت کاٹنا قیامت نہ ہو جائے گا؟

    سلیم:           اور اب یہ معلوم ہو کر کہ تنہائی میں اس سے مل لینے کا موقع بھی ہے میں اگر نہ ملا تو جینا عذاب نہ ہو جائے گا؟ (دونوں اپنے اپنے فکر میں سر جھکا لیتے ہیں)

                   (دلارام پردے میں سے جھانکتی ہے اور دونوں کو غافل دیکھ کر دبے پاؤں باہر نکل جاتی ہے۔ جب وہ گزر چکتی ہے تو)

    بختیار:          (چونک کر) کون؟

    سلیم:           (ادھر ادھر دیکھ کر) کوئی نہیں۔

    بختیار:          (جس دروازے سے دلارام باہر نکلی ہے اس کی طرف اشارہ کرکے) دیکھو۔ وہ پردہ ہل رہا ہے۔

    سلیم:           ہوا ہے۔

    بختیار:          نہیں کوئی باہر گیا ہے۔

                   (دونوں بھاگ کر دروازے کی طرف جاتے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ کوئی نظر نہیں آتا)

    پردہ

     

    منظر سوم

     

    حرم سرا میں ایک غلام گردش جس کے ساتھ صحن کا کچھ حصہ نظر آرہا ہے۔

    نماز مغرب ادا ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہو چکا ہے۔ بیگمیں اور شہزادیاں نشاط و طرب کی محفلوں میں شامل ہونے کے لیے سنگھار کرکے اپنے اپنے حجروں سے رخصت ہو چکیں۔کنیزیں اورخواجہ سرا بعد کے مقررہ   فرائض انجام دے کر ان کی خدمت میں پہنچ چکے۔ اب نہ کوئی آواز ہے نہ حرکت۔ تھوڑی دیر پہلے بیگموں کی صداؤں اور کنیزوں اور   خواجہ سراؤں کے شور و غل سے جو ہنگامہ برپا تھا۔ اس کا خیال آجانے سے یہ مقام اب ویران اور اداس اداس معلوم ہوتا ہے۔

    چاند ابھی نہیں نکلا۔ صحن اور غلام گردش میں تاریکی ہے۔ بیگموں کے حجروں میں البتہ شمعیں روشن ہیں اور ان کی روشنی پردوں میں سے نکل کر صحن میں غلام گردش کے ستونوں پر اجالے کے دھبے ڈال رہی ہے۔ دور سے گانے بجانے کی ہلکی ہلکی آواز آ کر منظر کو افسردہ تر بنا رہی ہے۔

    دلارام اکیلی ایک ستون کا سہارا لیے کسی گہری سوچ میں چپ چاپ کھڑی ہے۔ ایک حجرے کی چق میں سے روشنی چھن چھن کر پتلی پتلی اور بے شمار لکیروں میں اس پر پڑ رہی ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد گہری آہ بھرتی ہے اور پھر خیال میں غرق ہو جاتی ہے۔

    (عنبر اور مروارید ایک طرف سے باتیں کرتی ہوئی داخل ہوتی ہیں)

    مراورید:       تجھے میری جان کی قسم۔

    عنبر:           ان آنکھوں دیکھی تو کہہ نہیں رہی کانوں سنی کہہ رہی ہوں۔

    مروارید:       کہ صاحب عالم کھڑے ثریا سے باتیں کرتے رہے؟

    عنبر:           راحت کہتی ہے ۔ اللہ جانے سچ ہے یا جھوٹ۔

    مروارید:       بڑی بہن انارکلی بنی۔ دیکھیے چھوٹی کیا .....(دلارام کو دیکھ کر رک جاتی ہے) یہ کون ؟

    عنبر:           (غور سے دیکھ کر) دلارام نہیں؟

    مروارید:       وہی تو ہے (قریب جا کر) چپ چپ کیسی کھڑی ہو دلارام؟

    دلارام:         (چونک کر) نہیں تو۔

    عنبر:           چپ چپ کیسے نہ ہوں۔ چوٹی پر سے ایک دم گڑھے میں جا پڑیں۔ یہ کیا تھوڑی وجہ ہے؟

    مروارید:       مگر اب کڑھنے سے کیا ہوا ہے۔ جیسے وہ با نہ رہی۔ ویسے ہی اللہ چاہے تو یہ بھی نہ رہے گی۔

    عنبر:           جس پر گزرے وہی جانتا ہے کچھ۔

    مروارید:       (دلارام کو اسی طرح فکرمند دیکھ کر) اے بہن میں کہتی ہوں۔ چپ شاہ کا روزہ رکھا ہے کیا؟ خدا کے لیے بولو تو دلارام؟

    دلارام:         (خیال سے چونک کر) مجھ سے کہا؟

    مروارید:       (عنبر سے) لے خبر بھی نہیں (دلارام سے) یہ حالت کیا ہے؟ اچھا خاصا سوگ منا بیٹھیں تم تو۔

    عنبر:           معلوم ہوتا ہے کسی نے کوئی چبھتی ہوئی بات کہہ دی ہے۔

    مروارید:       اور تم نے ثریا کا۔

    دلارام:         (یک لخت) میں کہتی ہوں عنبر .....

    عنبر:           کیا؟

    دلارام:         نہیں کچھ نہیں۔

    مروارید:       اے واہ کہتے کہتے ٹلا گئیں۔

    عنبر:           تمہیں ہماری قسم۔ کیا کہنے لگی تھیں بہن؟

    دلارام:         (چلنے کو تیار ہوتے ہوئے) کچھ نہیں۔

    عنبر:           (لجاجت سے) اچھی بتا دو۔

    دلارام:         دیوانی ہوئی ہے۔

    مروارید:       یہ چبا چبا کر باتیں کرنا ہمیں نہیں اچھا معلوم ہوتا۔ ساتھ کی اٹھنے بیٹھنے والیوں سے کیسا پردہ؟

    دلارام:         (کچھ تامل کے بعد پھر ستون کا سہارا لے لیتی ہے) میں پوچھتی تھی۔ انارکلی بہت خوبصورت ہے؟

    عنبر:           بدصورت تو نہیں۔ پر خدا نہ کرے جو کہیں صبح کو صورت دکھائی دے جائے۔ کھانا تو نصیب ہو نہ دن بھر۔

    مروارید:       سچ مچ عنبر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اب روی کہ روئی۔

    دلارام:         (تامل سے) مجھ سے خوبصورت ہے۔

    عنبر:           کیوں پوچھتی ہو؟

    دلارام:         (کچھ توقف کے بعد )کیوں پوچھتی ہوں؟ کیا معلوم کیوں پوچھتی ہوں۔

    مروارید:       شکل و صورت میں تو تمہارے پاسنگ بھی نہیں۔ یہ اور بات ہے۔ اس کی قسمت کا ستارہ خوب چمک رہا ہے۔

    دلارام:         (محویت سے کہیں دور دیکھنے لگتی ہے ) قسمت کا ستارہ ! یہ قسمت کے ستارے ٹوٹا نہیں کرتے مروارید۔

    مروارید:       خوب ٹوٹتے ہیں لیکن جب ٹکر کھاتے ہیں۔

    دلارام:         (اسی محویت کے عالم میں ) تو مروارید آج رات دو تارے ٹکرائیں گے (توقف کے بعد) کی خبر کون سا ٹوٹے۔

    عنبر:           کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو تم آج۔ کیا بات ہے؟

    دلارام:         (پر معنی تبسم سے) کیا بات ہے؟ کہہ دوں تو یہ سارا محل قیامت کا نمونہ بن جائے۔ پر ابھی تو دیکھنا ہے کہ ستارہ کون سا ٹوٹتا ہے۔

    مروارید:       (گھبرا کر) ہائے اللہ کیا ہے۔ مجھ کو پوچھے بغیر چین نہ پڑے گا۔

    دلارام:         بہت بڑی بات ہے۔ اتنی بڑی کہ میرے دل میں نہیں سما سکتی۔ تم جاؤ۔ مجھے ڈر ہے کہیں میں کہہ نہ بیٹھوں۔

    عنبر:           اے ہے بہن۔ کیسی پہیلیوں میں باتیں کر رہی ہو۔ صاف صاف کہو نہ۔ مجھے تو مارے ہول کے نیند نہ آئے گی رات بھر۔

    دلارام:         تمہارے دل مجھے سے بھی چھوٹے ہیں۔ جو بات میرے دل کے لیے بڑی ہے ان میں کیسے سما سکے گی۔

                   (قدموں کی آہٹ سن کر دلارام کان لگا دیتی ہے اور پھر جلدی سے مڑ کر دیکھتی ہے۔ ایک حجرے سے جو روشنی نکل رہی ہے اس میں نظر آتا ہے کہ انارکلی آرہی ہے)

                   ارے دیکھو۔ وہ انارکلی آ رہی ہے۔ جاؤ چلی جاؤ۔ پھر بتاؤں گی اس وقت کچھ نہیں۔

                   (عنبر اور مروارید گھبرائی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ دلارام ایک ستون کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہو جاتی ہے)

                   انارکلی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آتی ہے اور ایک ستون کے ساتھ ماتھا ٹھیک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پھر رخسار ٹھنڈے ٹھنڈے ستون کے ساتھ لگا دیتی ہے اور آہ بھرتی ہے۔

                   ثریا داخل ہوتی ہے۔

    ثریا:            تم کہاں چپکے سے نکل آتی ہو آپا۔ میں تو تمہیں ڈھونڈڈھونڈ کر ہار گئی۔

    انارکلی:         کیوں ڈھونڈ رہی تھیں؟

    ثریا:            ایسے ہی ..... آپا مجھے بیٹھے بیٹھے خیال آتا ہے ۔ تم کہیں رو نہ رہی ہو۔ بس میں گھبرا کر اٹھتی ہوں اور تمہیں ڈھونڈنے لگتی ہوں۔

    انارکلی:         (کچھ دیر ثریا کو تکتی رہتی ہے۔ پھر محبت سے اس کا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیتی ہے) تمہیں مجھ سے بہت محبت ہے ثریا؟

    ثریا:            محبت۔ میری آپا میں تمہارے لیے مر جانا چاہتی ہوں۔

    انارکلی:         (ثریا کو لپٹا کر) میری ننھی۔

    ثریا:            (لپٹے لپٹے سر پیچھے ڈال کر) تم سوچ کیا رہی تھیں آپا؟

    انارکلی:         کیا سوچ رہی تھی؟ (توقف کے بعد) میں سوچ رہی تھی۔ میں نے لیلیٰ کے گلے میں گھنگھرو باندھ رکھے ہیں۔ وہ جب باغ میں چلتی ہے تو باقی سب ہرنیاں چونک کر اسے تکنے لگتی ہیں۔ لیلیٰ خوش ہوتی ہو گی؟

    ثریا:            (الگ ہو کر غور کرتے ہوئے)یہ کیا بات ہوئی؟

    انارکلی:         گھنگھروؤں کی آواز سے وہ خود ٹھٹک کر رہ جاتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ بات نہیں رہی کہ لیٹی ہے اور دور کے چشمے اور کہسار نظر میں ہیں۔ ذرا ہلی اور سہم گئی۔ میں نے سہانی یاد بھی اس سے چھین لی۔

    ثریا:            (شبہ سے) تم لیلیٰ کے لیے اداس ہو رہی ہو؟

    انارکلی:         یوں ہی بیٹھے بیٹھے اس کا خیال آگیا تھا۔

    ثریا:            لیلیٰ کا خیال تو اس وقت آیا اور باقی وقت کیا سوچتی رہیں؟ تم تو ہر وقت ہی گم سم رہتی ہو۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے آج کل؟

    انارکلی:         سچ مچ ثریا۔ مجھے کیا ہو گیا ہے(تامل کے بعد ) پہلے میں کتنی بشاش رہتی تھی۔ پھولوں میں سے آئی تھی اور میرے دائیں بائیں پھول ہی پھول تھے۔ ناچتی  گاتی اور ہنستی کھلکھلاتی چلی جا رہی تھی۔ مجھ میں ہوا کی بے فکری اور گیت کی رونق تھی۔ دنیا اپنی خوشیوں کا ایک ایک قطرہ میرے لیے نچوڑ دیتی تھی۔

    ثریا:            پھر اب تمہیں کیا ہو گیا؟

    انارکلی:         نہ جانے کیا ہو گیا؟ (کچھ دیر بعد) میں چاہتی ہوں ، الگ تھلگ چپ چاپ بیٹھی رہوں۔لیکن ثریا۔ جب میں یوں بیٹھتی ہوں تو سوچنے لگتی ہوں۔ چاہتی ہوں کچھ نہ سوچوں۔ آنکھیں میچتی ہوں۔ دانت بھینچتی ہوں۔ مٹھیاں بند کر لیتی ہوں۔ پھر بھی سوچ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ آہ کی طرح دل سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

    ثریا:            کیسی سوچ؟

    انارکلی:         (غور کرکے) میں اس کا کوئی نام نہیں رکھ سکتی۔ وہ ٹکڑے ہیں۔ چاہتے ہیں جڑ کر ایک بن جائیں۔ میں انہیں نہیں جڑنے دیتی۔ بکھیر بکھیر دیتی ہوں۔ لیکن ان میں میرے ارادے سے بہت زیادہ طاقت ہے۔ وہ بار بار ہلہ کرکے آتے ہیں اور آخر مجھے مغلوب کر لیتے ہیں۔ میں نہیں نہیں کہتی ہوئی بے ہوش سی ہو جاتی ہوں۔ اس وقت مجھے اس کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے اور میرے تمام جسم سے چنگاریاں نکل رہی ہیں۔

    ثریا:            میں نے کی بار دیکھا ہے جیسےتم اپنے آپ کو بھولی ہوئی بیٹھی ہو۔

    انارکلی:         اور پھر جب مجھے کوئی بلاتا ہے تو میں چونک کر کانپ اٹھتی ہوں کہ میری بے خبری میں اس نے میری سوچ کو میرے چہرے پر برہنہ نہ دیکھ لیا ہو۔

    ثریا:            یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو آپا؟

    انارکلی:         عجیب باتیں ہیں نہ ثریا۔ اسی لیے تو میں کسی سے بات نہیں کرتی۔ چور چور جسم اور زخمی دماغ لیے اپنی سوچ سے آپ ہی بچتی پھرتی ہوں۔

    ثریا:            میری آپا! پھر میں کیا کروں۔ بتاؤ تو تم کیا چاہتی ہو؟

    انارکلی:         میں کیا چاہتی ہوں؟ (سوچ کر محویت کے عالم میں) میں اس محل میں گھتی جا رہی ہوں ثریا ..... کاش میں آزاد   ہوتی ..... ایک کشتی میں بیٹھ کر اسے راوی کی چپ چاپ لہروں پر چھوڑ دیتی اور چاندنی رات میں خوشبوؤں اور بانسریوں کی آوازوں کے درمیان میری کشتی چلی جاتی چلی جاتی اور افق سے جا ٹکراتی۔

    ثریا:            (حیرانی سے انارکلی کو تکتے ہوئے) ہئی ہے!

    انارکلی:         (اسی محویت میں) یا پھر میں ایک رتھ پر سوار ہوتی اور دو گھوڑے شعلوں کی زبان کی طرح بے تاب اسے کھینچ رہے ہوے۔ یوں جیسے میں ہوا پر بجلی کی طرح جا رہی ہوں اور دو مضبوط بازوؤں نے مجھے جکڑ رکھا ہوتا۔

    ثریا:            (جیسے اسی قسم کے اشارے کی منتظر تھی) کس کے بازو۔ اچھی کس کے بازو؟

    انارکلی:         (یک لخت کسی قدر بگڑ کر) چپ ہو جاؤ ثریا۔ میں نہ بولوں گی اب۔

    ثریا:            (شوخی سے) میں سمجھ گئی آپا۔ اتنی ننھی تو نہیں۔

    انارکلی:         (تنگ آ کر) میں کیا جانوں۔

                   (یک لخت رخصت ہو جاتی ہے)

    ثریا:            کیا باغ میں جا رہی ہو آپا؟ میں جانی ہوں کس کے بازو۔ میں خوب جانت ہوں۔ وہی بازو تو وہاں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

    (ہنستی ہوئی جاتی ہے۔ دلارام ستون کے پیچھے سے نکلتی ہے)

    دلارام:         وہی بازو انتطار کر رہے ہیں۔ اور کیا بجلیاں بیتاب نہیں ہو رہی ہیں؟ انارکلی تو میری رقیب نہیں۔ میں تیری حریف نہیں۔ یہ تو ستاروں کے کھیل ہیں۔ کون ان کی پراسرار چال کو سمجھ سکتا ہے اور کون جانے جب وہ ٹکرائیں گے تو پھر کیا ہو گا۔ (انارکلی کے پیچھے پیچھے جاتی ہے)

    پردہ

     

    منظر چہارم

    حرم سرا کے پائیں باغ کا ایک الگ تھلگ حصہ۔

    رات ابھی زیادہ نہیں گزری۔ دس بارہ دن کا چاند باغ کی رعنائیوں میں کیف و مستی کی دلآریزیاں پیدا کر رہا ہے۔

    باغ کے اس حصے میں سنگ مرمر کا ایک نسبتاً چھوٹا سا اور دو تین سیڑھیاں اونچا حوض ہے۔   جس کے ننھے ننھے فواروں کی آب افشانی حوض میں چاند کو گدا گدا گدا گدا کر بے قرار کر رہی ہے۔ حوض کے چاروں کناروں سے چار منقش روشیں جن کے دونوں طرف پھول دار جھاڑیاں ہیں۔ باغ کی چار دیواری تک چار چھوٹی چھوٹی اور سبک سہ دریوں کو جاتی ہیں۔ یوں باغ کا یہ حصہ چار سرسبز قطعوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ جن میں خوش قطع کیاریاں او ر پھلوں کے گھنے درخت ہیں۔ پھیکے آسمان کے مقابل یہ گھنے درخت سیاہی کے بڑے بڑے بے وضع مگر دل کش دھبے معلوم ہوتے ہیں۔ سامنے کی سہ دری اور اس کے آس پاس کے لمبے لمبے اور پتلے سرد فاصلے پر ایک سیاہ تصویر نظر آرہے ہیں۔ باغ کے سکوت میں جھینگروں کی آواز کے سوا اور کچھ مخل نہیں۔

    انارکلی:         (حوض کے کنارے اکیلی گھٹنوں پر سر رکھے ہلکی ہلکی سسکیاں بھر رہی ہے۔ اس کا ستار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر سیڑھی پر گر پڑا ہے۔)

                   (تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتی ہے اور رخسا ر گھٹنوں پر رکھ لیتی ہے۔ سلیم! تمہیں کیا مل گیا! میری نیند کو لوٹ کر۔ میری راحت کو غارت کرکے تمہیں کیا مل گیا سلیم!پھر تم نے کیوں محبت کے پیغام بھیجے۔ کیوں سلگتی ہوئی چنگاری کو دہکا دیا۔ یہ ہنسی تھی؟ یہ سب ہنسی ہی تھی مگر عالی مرتبت شہزادے، کمزور، بے بس کنیز سے ہنسی! اس قیامت کی ہنسی! اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا (پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر سسکیاں بھرنے لگتی ہے۔

                   (سلیم جھاڑیوں کے اوپر سے جھانکتا ہے اور پھر پچھلی روش پر آجاتا ہے۔ کچھ دیر پیچھے ہی کھڑا رہتا ہے۔ گویا متامل ہے کہ آگے آئے یا نہ آئے۔ آخر آہستہ آہستہ چلتا ہوا آگے آتا ہے اور حوض کے کونے کے قریب خاموش کھڑا ہو جاتا ہے۔)

    سلیم:           (کچھ دیر بعد آہستہ سے ) انارکلی!

    انارکلی:         (چونک کر سہم جاتی ہے) کون؟

    سلیم:           (سامنے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے)سلیم۔

                   (انارکلی سلیم کو دیکھ کر خوف اور پریشانی کے عالم میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کی یہ کیفیت ہے گویا اسے سکتہ ہو گیا ہے۔)

    سلیم:           (قریب آ کر) تم کھڑی ہو گئیں انارکلی! یہاں بھی شہنشاہ کا آہنی قانون؟ ہم تو تاروں بھرے آسمان کے نیچے کھڑے ہیں۔ یہاں کا قانون دوسرا ہے۔ بہت مختلف! آؤ میں تم کو سکھاؤں۔

                   (انارکلی کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھا دیتا ہے۔ انارکلی یوں بیٹھ جاتی ہے جیسے کل کی گڑیا ہے کہ بیچ دبا دینے پر بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں۔ سلیم خود کھڑا رہتا ہے)

                   کاش شہنشاہ کا بھی یہی قانون ہوتا۔

                   (انارکلی اس طرح بیٹھی ہے گویا اسے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور اس کے پاس کون ہے۔ سلیم منتظر ہے کہ شاید وہ کچھ بولے۔ آخر خود گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔)

                   ابھی ابھی تم کچھ بول رہی تھیں۔ پھر اب تم چپ کیوں ہو انارکلی؟

                   (انارکلی کے چہرے پر یا آنکھوں میں کوئی ایسی کیفیت پیدا نہیں ہوتی جس سے ظاہر ہو کہ اس نے کچھ سنایا سمجھا ہے سلیم نہیں جانتا کہ کیا کہے)

                   میرا آنا تمہیں ناگوار ہوا

                   (انارکلی اب بھی کھوئی ہوئی بیٹھی ہے اور جمی ہوئی نظروں سے سامنے کہیں دور تک رہی ہے۔

                   ہاں میں مخل ہوا۔ میں تمہاری تنہا خوشیوں میں مخل ہوا۔ مگر پھر میں کیا کرتا انارکلی۔ (توقف کے بعد)

                   کاش تمہیں معلوم ہوتا۔ پوری طرح معلوم ہوتا۔

                   (انارکلی پر وہی نیم بیہوشی کی کیفیت رہتی ہے۔ سلیم کی جھجک دور ہوتی جا رہی ہے۔)

                   تم نہیں جانتیں کہ تم نے کیا کر دیا۔ میں خود بھی نہیں جانا، سب نہیں جانتا انارکلی (تامل کے بعد) تم نے میری تمام آسایشوں ، تمام راحتوں کو اپنی ہستی میں سمیٹ لیا۔ تم نے میری تمام کائنات کا رس چوس لیا۔ اے نازنین تم ایک معجزے کی طرح میرےسامنے آئیں اور میری آرزوؤں کی نیند ٹوٹ گئی۔ تم نے اپنی حیران نظروں سے مجھ کو دیکھا اور میری روح میں لا متناہی محبت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ تم چلی گئیں اور میری تمام دنیا تمہاری آرزو میں دھڑکتی  رہ گئی۔

                   (سلیم محبت کے جوش میں انارکلی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ انارکلی چونک کر سر جھکا لیتی ہے اور خاموش رہتی ہے)

    تم چپ ہوانارکلی (آہ بھرتا ہے) میں جانتا ہوں۔ مجھ کو نہ آنا چاہیے تھا مگر بے بس پروانے کا کیا قصور ..... اور یہ کتنی بڑی ترغیب تھی۔ پھر ایک بار گم شدہ   فردرس کی جھلک۔ اور میں انسان ہوں۔ کمزور انسان۔ میں دنیا سے تھک گیا تھا۔ میں اپنے آپ سے تھک گیا تھا۔

    (انارکلی کے چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ سن رہی ہے۔ اس سے اسے تکلیف پہنچ رہی ہے لیکن اس کی زبان اب بھی بند ہے۔ سلیم مایوس ہو کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔

    تم اب بھی چپ ہو۔ پھر میں جاتا ہوں۔ تم نے ایک جاں باز کے بیٹے کو اس کی زندگی کی قیمت بتا دی ۔ انارکلی ایک جاں باز کے بیٹے کو۔ میں جاتا ہوں۔

    (سلیم سر جھکائے مایوسی کی تصویر بنا رخصت ہونے کے لیے مڑ جاتا ہے۔

     انارکلی سر اٹھا کر ایک محویت کے عالم میں اسے دیکھتی رہتی ہے۔ ذرا دیر بعد الفاظ خود بخود اس کی زبان پر آجاتے ہیں۔

    انارکلی:         شہزادے ! کنیز مذاق کا کیا جواب دے سکتی ہے۔ اس کا کام تو برداشت کرنا ہے۔ خواہ مذاق اس کے دل کے ٹکڑے کر ڈالے۔

    سلیم :           (لپک کر اس کے قریب آجاتا ہے) مذاق! خدایا آہیں اتنی بے اثر! آنسو اتنے بے ثمر! انارکلی یوں بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ تم نے یوں کیوں سمجھا؟

    انارکلی:         (چھنگلی سے گوشہ چشم کا آنسو پونچھتی ہے) پھر میں کیا سمجھتی ؟ ہندستان کا نیا چاند ایک چکور کو چاہتا ہے۔ کیسی ہنسی کی بات! آہ تم شہزادے ہو۔ بڑے بہت بڑے۔ میں ایک کنیز ہوں۔ نا چیز بے حد ناچیز۔ شہزادہ کنیز کو چاہے گا۔ کیسی ہنسی کی بات!

    سلیم:           (ایک لمحہ متامل رہ کر) اب بھی تیرے دل میں شبہ موجود ہے۔ تو اے انار کلی! اے اس دل کی ملکہ۔ لے ہندستان کو اپنے قدموں میں دیکھ۔ (سلیم گھٹنوں کے بل ہو کر انارکلی کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور فرطِ محبت سے اسے چومتا ہے۔)

    انارکلی:         آہ! آہ! (بیتاب ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے)

    سلیم:           (اٹھتے ہوئے) انارکلی۔ میری اپنی انارکلی۔ تو میری ہے۔ صرف میری ہے۔ (ہاتھ پکڑ کر اسے سیڑھی سے اتارتا ہے۔ اور آغوش میں لے لیتا ہے)

    انارکلی:         صاحب عالم! صاحب عالم! (جذبات کی شدت سے ہانپ رہی ہے۔ اپنے آپ کو سلیم کی آغوش میں چھوڑ دیتی ہے سلیم اسے چوم لیتا ہے۔ انارکلی یک لخت آغوش لحد سے علاحدہ ہو کر دور ہٹ جاتی ہے) یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ یہ ہو بھی گیا تو زمین اپنا منہ پھاڑ دے گی۔ آسمان اپنے چنگل بڑھا دے گا۔ یہ خوشی دنیا کی برداشت سے باہر ہے۔ اس کا انجام تباہی ہے۔ شہزادے جاؤ! بھول جاؤ۔

    سلیم:           (اس کے قریب جا کر محبت سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا ہے) ہم دونوں ایک دوسرے کے سینے سے چمٹے ہوئے ہوں۔ تو پھر کوئی خوف نہیں۔ آسمان ہمیں کھینچ لے اور ہم نئی روشنیوں سے اٹھتے چلے جائیں۔زمین ہمارے پیروں کے نیچے سے سرک جائے اور ہم نامعلوم اندھیرے میں گرتے چلے جائیں۔ تمہارے بازو ڈھیلے نہ پڑیں۔ تو یہ سب شیریں ہو گا۔ انارکلی بے انتہا شیریں (سلیم کا آغوش تنگ ہوتا چلا جا رہا ہے)

    انارکلی:         (تقریباً سانس میں) اللہ یہ ممکن ہے! پھر اس کا انجام کیا ہو گا۔ اللہ اس کا انجام کیا ہو گا!

    سلیم:           انجام۔ مجھ سے پوچھو انارکلی۔

    انارکلی:         (یک لخت تڑپ کر الگ ہو جاتی ہے) آہ ٹھہرو۔ سنو! (آواز پر کان لگا دیتی ہے۔ آخر بے تابی سے) کوئی ہے۔ شہزادے کوئی ہے۔ جاؤ تم چلے جاؤ۔

    سلیم:           (آہٹ لینے کے لیے کان لگاتا ہے۔ پھر بے فکری سے) کوئی نہیں۔

    انارکلی:         (سراسیمگی کے عالم میں سر ہلا رہی ہے) اوہ نہیں۔ قدموں کی آواز تھی۔ ( یک لخت کانپ کر آہستہ سے) وہ دیکھو کسی کا سایہ۔ بھاگ جاؤ۔ شہزادے بھاگ جاؤ۔

    سلیم:           (رخصت ہوتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر) تم پھر مجھ سے ملو گی؟

    انارکلی:         (ہاتھ چھڑا کر) ہاں۔ مگر میری خاطر سے۔

                   (سلیم لپک کر حوض کے دوسری طرف جاتا ہے اور روش سے اتر کر کنارے کی جھاڑیوں کے پیچھے غائب ہو جاتا ہے۔ انارکلی سہمی ہوئی دونوں ہاتھوں سے سینہ تھامے کھڑی ہے۔)

                   اللہ میرے اللہ!

                   (دلارام بڑے اطمینان سے داخل ہوتی ہے)

    دلارام:         (طنز کے تبسم سے) تم یہاں ہو انارکلی؟

                   (انارکلی کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل سکتا۔ پھٹی پھٹی نظروں سے دلارام کو تکتی رہتی ہے)

                   اور تم تنہا ہو؟

    انارکلی:         (اس کا سانس کہتا ہے) ہاں!

    دلارام:         (جھاڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے )ابھی یہاں کون باتیں کر رہا تھا؟

    انارکلی:         (اضطراراً جھاڑیوں پر دزدیدہ نظر ڈالتے ہوئے) کوئی نہیں۔

    دلارام:         میں باتوں ہی کی آواز سن کر ادھر آئی تھی۔

    انارکلی:         (سراسیمگی سے) میں گا ..... میں .....میں اپنے ہی سے باتیں کر رہی تھی۔

    دلارام:         (مسکرا کر) تم اتنی سہمی ہوئی کیوں ہو؟

    انارکلی:         (اور سراسیمہ ہو کر) نہیں تو؟

    دلارام:         میں جانتی ہوں انارکلی۔

    انارکلی:         (جیسے بجلی گر پڑی) کیا؟

    دلارام:         یہاں کون موجود تھا؟

    انارکلی:         (سہم کر) کون تھا؟

    دلارام:         اوہ تم مت ڈرو۔ میں اس قدر بے وقوف نہیں کہ اس کا نام لے دوں۔ ابھی اس کا وقت نہیں۔ لیکن یاد رکھو انارکلی۔ میں جانتی ہوں۔ اس راز کی قیمت بھی جانتی ہوں۔ وہ بازار بھی جانتی ہوں جہاں یہ فروخت ہو سکتا ہے۔ ہاں میں اس کی قیمت مقرر بھی کر چکی ہوں۔ میں تم کو کیا بتاؤں۔ میں جاتی ہوں انارکلی بیگم۔ تم پھر اپنے سے باتیں کرو۔

                   (مذاق سے جھک کر تعظیم بجا لاتی ہے اور رخصت ہو جاتی ہے)

    انارکلی:         (مبہوت ہو کر اسے تکتی رہ جاتی ہے۔ پھر سمٹ کر ہر طرف اس طرح پریشان نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ گویا خطروں میں گھری ہوئی ہے) میرے اللہ۔ میرے اللہ یہ کیا ہو گیا! یہ سب خواب تھا۔ یہ رات سلیم۔ دلارام۔ کتنی جلدی! کیا کچھ! کیا ہو گا۔ ہائے اب کیا ہو گا؟ (کھڑی کھڑی لڑکھڑا سی جاتی ہے۔ حوض کے کنارے کا سہارا لیتی ہے اور ایک سیڑھی پر جیسے گر پڑتی ہے۔ ہاتھ پیشانی پر یوں رکھ لیتی ہے گویا دماغ میں خیالات کا جو طوفان برپا ہے اسے روک کر کچھ سمجھنا چاہتی ہے۔)

                   ثریا داخل ہوتی ہے۔ انارکلی اس کے قدموں کی آہٹ سن کر چونک پڑتی ہے اور اسے تکتی ہے۔)

    ثریا:            (ہنس پڑتی ہے) وہ آئے؟

    انارکلی:         کون؟

    ثریا:            صاحب عالم!

    انارکلی:         (حیرت کے عالم میں اسے دیکھتے ہوئے) یہ تو نے کیا کیا ثریا؟

    ثریا:            کیا؟

    انارکلی:         میری رسوائی کا سامان!

    ثریا:            (قریب آ کر محبت اور تعلق خاطر سے انارکلی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی ہے) کیا ہوا آپا؟ انہوں  نے کیا کہا؟

    انارکلی:         وہی جو تو کہا کرتی تھی۔

    ثریا:            پھر؟

    انارکلی:         وہی ہوا جو میں کہا کرتی تھی۔

    ثریا:            کیا؟

    انارکلی:         (منہ موڑ کر) میری تیرہ بختی۔

    ثریا:            (انارکلی کے سامنے ہو کر) کیوں؟

    انارکلی:         دلارام نے ہمیں دیکھ لیا۔

    ثریا:            ہائے دیکھ لیا۔

    انارکلی:         ہاں اسے سب کچھ معلوم ہو گیا اور کچھ دیر بعد تمام دنیا کو معلوم ہو جائے گا۔

                   (انارکلی سر جھکائے آنکھیں بند کیے فکر اور اندیشے کی تصویر نظر آرہی ہے)

    ثریا:            (کھوئی ہوئی نچلی سیڑھی پر بیٹھ جاتی ہے۔ کچھ دیر خاموشی سے اور گھبرا کر) آپا پھر اب کیا ہو گا؟

                   (انارکلی آنکھیں کھول دیتی ہے اور چپ رہتی ہے اور خاموشی خوفناک ہے)

                   (ثریا معلوم کرنے کو بے قرار ہے کہ انار کلی کیا سوچ رہی ہے۔)

                   آپا اب ہم کیا کریں؟

                   (انارکلی اسی طرح گم سم بیٹھی رہتی ہے)

                   (ثریا سے نہیں رہا جاتا ہے۔ جھنجھوڑ کر) آپا!

    انارکلی:         (ثریا کا ہاتھ پکڑ کر وحشت ناک نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی ہے۔) ننھی! تم جاؤ جا کر سو رہو۔

    ثریا:            (پریشانی کے عالم میں بہن کا منہ تکنے لگتی ہے) اور تم؟

    انارکلی:         (بھرائی ہوئی آواز میں) میں جاتی ہوں۔

    ثریا:            کہاں؟

    انارکلی:         جہاں رسوائیوں کا خوف نہیں۔

    ثریا:            (بے قرار ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے) آپا۔

    انارکلی:         (توقف کے بعد) مجھے مر جانا چاہیے ثریا۔

    ثریا:            (چمٹ کر) کیا کہہ رہی ہو؟

    انارکلی:         (کچھ دیر تیز تیز سانس لیتی رہتی ہے) موت کے سوا اب کہیں ٹھکانہ نہیں )کچھ دیر چپ رہ کر) لوگ کیا سمجھیں گے۔ یا کچھ کہیں گے۔ سوچ تو کن نظروں سے مجھ کو دیکھیں گے۔ اس ایک ایک نظر کو برداشت کرنا ایک ایک موت کے برابر ہو گا (ذرا دیر سوچ کر) اور ثریا پھر بیگموں کا غضب۔ ظل الہٰی کا عذاب اور آخر میں ذلت کی موت ( ذرا دیر متامل رہ کر یک لخت کھڑی ہو جاتی ہے) میں ابھی مر جاؤں۔ اسی چپ چاپ میں یہ ملول روح اس دنیا سے اکیلی رخصت ہو جائے۔ (آبدیدہ ہو جاتی ہے) میری موت دلارام کی زبان بند کر دے گی۔ اس امید میں بھی اطمینان ہے۔ (ثریا کو اشکبار دیکھ کر) تو رو رہی ہے ثریا؟ نہ رو ننھی نہ رو اور دیکھ اماں کو   کچھ نہ بتائیو۔

    ثریا:            (انارکلی سے لپٹ کر روتے ہوئے) آپا۔ میری آپا۔یہ نہیں ہو سکتا۔

    انارکلی:         (اسے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے) دیوانی ہو گئی ہے ثریا۔ مجھے چھوڑ دے۔

                   وقت گزرا چلا جا رہا ہے۔ چاند ڈوب جائے گا۔ اندھیرے میں مجھ کو راوی کی لہروں سے ڈر معلوم ہوگا۔ مجھے جانے دے۔

    ثریا:            آپا۔ مری آپا۔ (سسکیاں بھرتی ہوئی بازو کھول دیتی ہے)

    انارکلی:         (ذرا دیر آنکھیں بند کیے خاموش کھڑی رہتی ہے۔ چہرے پر کرب کے آثار ہیں) میری ثریا۔ میری ننھی ثریا ( بڑے جوش سے ثریا کو سینے سے چمٹا لیتی ہے) اب رخصت۔

    ثریا:            آہ نہیں۔ میں تمہارے ساتھ مروں گی۔ میں تمہارے ساتھ مر سکتی ہوں۔ تمہارے بغیر جی نہیں سکتی۔

    انارکلی:         (ثریا کے سر پر ہاتھ پھیر کر) نہیں ننھی۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ تم جاؤ جیو اور دیکھو صاحب عالم سے کہہ دینا۔

                   (سلیم یک لخت جھاڑیوں کے پیچھے سے نکل کر روش پر آجاتا ہے)

    سلیم:           سلیم خود سننے کو موجود ہے۔

    ثریا:            (انارکلی کو چھوڑ دیتی ہے اور بھاگ کر سلیم کا دامن پکڑ لیتی ہے) آہ بچائیے۔ بچائیے۔ میری آپا کو بچایئے۔ دلارام نے دیکھ لیا۔ آپ کو اور ان کو دیکھ لیا۔ وہ کہہ دے گی۔ سب سے کہہ دے گی۔ ہائے پھر کیا ہو گا۔ یہ مرنے کو جا رہی ہیں۔ شہزادے! شہزادے!

    سلیم:           (سامنے آتے ہوئے ) یہی خدشہ مجھے راستے سے واپس کھینچ لایا۔ (انارکلی کے قریب پہنچ کر) لیکن انارکلی دلارام نے ہم کو اکٹھے نہیں دیکھا۔

    انارکلی:         (سر جھکا کر) وہ جانتی ہے۔ سب کچھ جانتی ہے۔ اس کی گفتگو میں ایک کینہ تھا۔ ایک پیاس تھی۔

    ثریا:            ہاں وہ کہہ دے گی۔ میں اسے جانتی ہوں۔ وہ ضرور سب سے کہہ دے گی۔

    سلیم:           وہ جرأت نہیں کر سکتی۔ اس نے دیکھا نہیں۔ وہ کسی کو دکھا نہیں سکتی۔ یہ ناممکن ہے۔

    انارکلی:         آہ تم نہیں جانتے۔ تم نہیں جان سکتے۔ تم شہزادے ہو۔ تم تک شبہ کی نظریں نہیں پہنچ سکتیں۔ انارکلی کنیز ہے۔ صرف وہم اس کو مروا ڈالنے کو کافی ہے۔

    سلیم:           (جوش میں آ کر) نہیں۔انارکلی سلیم کے پہلو سے نوچی نہیں جا سکتی۔ ناممکن ہے۔ ناممکن۔ انارکلی نہ کہو۔ یوں نہ کہو۔ میری زندگی کی اکیلی خوشی اتنی ناچیز نہیں۔ تم نہیں جانتیں۔ تم میرے لیے کیا ہو۔ سلیم تمہارے بغیر نہیں جی سکتا۔ نہیں جی سکتا انارکلی۔ اگر تم پر آنچ آئی اس پر قیامت آئے گی۔ تم نہ رہیں ۔وہ نہ رہے گا۔ میں چھوڑ سکتا ہوں۔ ان محلوں کو۔ اس سلطنت کو۔ سب کو۔ تیرے ساتھ دنیا کے تنگ ترین گوشے پر قانع ہو سکتا ہوں۔ غربت میں۔ مصیبت میں۔ ہر طرح۔ اگر سلیم مغلیہ سلطنت کا بادشاہ بنا تو تو اس کی ملکہ ہو گی۔ اگر تو نہیں وہ بھی نہیں۔ میری انارکلی۔ میری انارکلی۔ میری اپنی انارکلی۔ (انارکلی کو آغوش میں لے لیتا ہے)

    انارکلی:         آہ! آہ! (ایک بے بس چیز کی طرح اپنے آپ کو سلیم کی آغوش میں چھوڑ دیتی ہے)

    ثریا:            اللہ (مخلصی کے احساس سے آنکھیں بند کر لیتی ہے)

                   (دلارام بغیر معلوم ہوئےحوض کے کنارے تک آ پہنچتی ہے)

    دلارام:         ہندستان کے آیندہ بادشاہ کو اپنی ملکہ مبارک!

                   (انارکلی چونک کر دلارام کو دیکھتی ہے او ربے ہوش ہو کر سلیم کے بازوؤں میں گر پڑتی ہے۔ ثریا سہم کر سلیم کا دامن پکڑ لیتی ہے۔ سلیم پریشانی کے عالم میں دلارام کو دیکھتا ہے۔ دلارام کے چہرے پر طنز کا خفیف سا تبسم ہے)

    پردہ

     

    منظر اول

     

    سلیم کا مثمن برج والا ایوان۔

    جھروکے میں سے موسم بہار کی صبح کا آسمان شگفتگی اور تازگی کا نور برساتا نظر آرہا ہے۔

    ایوان میں سلیم ہے اور بختیار ۔ سلیم کے بال پریشان ہیں۔ خط نہیں بنا۔ معلوم ہوتا ہے منہ تک نہیں دھویا۔ چہرے سے بے خوابی اور فکر کے آثار نمایاں ہیں۔ ایک کشمیری فرغل پہنے تکیے کے سہارے مسند پر نیم دراز رات کا واقعہ بختیار کو سنا رہا ہے۔ بختیار کے لباس میں گزشہ شام کی سج دھج نظر نہیں آتی۔ صاف معلوم ہوتا ہے ۔ خلافل معمولی صبح صبح طلب کیے جانے پر اتنی مہلت نہیں ملی کہ لباس کی تزئین و آرایش کی طرف مناسب توجہ کر سکتا۔ مسند پر سلیم کے سامنے ہمہ تن گوش بیٹھا اندیشہ ناک نظروں سے اس کا چہرہ تک رہا ہے۔

    سلیم:           میں ابھی پورے طور پر سمجھنے بھی نہیں پایا تھا کہ کیا ہوا۔ جودلارام وہاں سے جا چکی تھی۔

    بختیار:          (سلیم کے چہرے پر سے نظریں ہٹائے بغیر) اور انارکلی؟

    سلیم:           جب وہ ہوش میں آئی۔ اس کا چہرہ نعش کی طرح پیلا تھا۔ کانپ رہی تھی اور اپنی  ساکت نظروں سے میری طرف تک رہی تھی کہ اور کچھ نہ بھول سکتی تھی بختیار ..... خدایا کس قیامت کی گھڑیاں تھیں۔ (واقعے کی تفصیل یاد آجانے سے کھویا سا جاتا ہے)

    بختیار:          (کچھ دیر منتظر رہ کر) اور پھر؟

    سلیم:           (آہ بھر کر) میری اور ثریا کی تسلیوں اور دروغ گوئیوں نے اس کی زبان کھلوائی اور میں نے طرح طرح سے اطمینان دلا کر اس سے وعدہ لیا کہ وہ پھر خودکشی کی کوشش نہ کرے گی۔(خاموش ہو کر اندیشہ ناک تفکرات میں غرق ہو جاتا ہے)

    بختیار:          (کچھ دیر بعد کھنکار کر) میں نے تم کو منع بھی کیا تھا مگر تم نہ مانے سلیم۔ سب تم جانتے ہو انارکلی اور تم کس قدر خطرے میں ہو۔ اتنا بڑا راز اور ایک کنیز اس سے واقف۔ کسی وقت۔ کسی لمحے اس کی ناخوشی۔ اس کی ناراضی صرف اس کی بے وقوفی اس راز کے انکشاف سے تمام محل میں ایک آگ لگا سکتی ہے۔ اور پھر اس کا انجام ظل الہٰی سا باپ اور سلیم سا فرزند خدا جانے کیا ہو گا۔

    سلیم :           (حرف مطلب چھیڑنا چاہتا ہے) بختیار ہمیں فوراً دلارام کی زبان بند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    بختیار:          (کچھ دیر زیادہ شدت سے غور کرکے) مجھے ڈر ہے کہ یہ کوشش معاملات کو بدسے بدتر نہ بنا دے۔

    سلیم:           میں سمجھتا ہوں۔ دلارام صرف اس لیے وہاں آئی کہ مجھ پر ظاہر کر دے وہ میرے راز سے واقف ہے۔ پھر اور اس کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ اور مجھے یقین ہے اب وہ اس راز کی واقفیت سے فائدہ اٹھانے کی آرزومند ہو گی۔ وہ قیمت چاہے گی۔ بختیار (اس کے چہرے کی طرف یوں دیکھتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ کچھ اور کہے بغیر بختیار کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہے)

    بختیار:          (سلیم کا منہ تکتے ہوئے) اور تم قیمت ادا کر دینا چاہتے ہو لیکن کس قدر؟

    سلیم:           دلارام کی توقع سے زیادہ۔

    بختیار:          ہوں (کچھ دیر سوچتا رہتا ہے) لیکن اگر ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد وہ دوسرے لمحے خاموش رہنے کی اور قیمت چاہے اور اس طرح اپنی زندگی کی ہر ہر لمحہ زرسرخ سے پر گرنے کی آرزومند ہو تو سلیم قارون کا خزانہ بھی وفا نہیں کر سکتا۔

    سلیم:           (سر کی خفیف جنبش اثبات کے ساتھ آنکھیں تنگ ہوتی جا رہی ہیں) ہاں۔ لیکن بختیار پھر تم جانتے ہو زندگی سے یاس شیر کو کس قدر خوفناک بنا دیتی ہے۔

    بختیار:          (کچھ دیر سوچ سے سر اٹھا کر) سلیم تم کچھ بھی کرو۔ تمہاری سیج میں ایک کانٹا ضرور رہے گا۔ جس کی چبھن دلا رام کی چتون پر منحصر ہو گی۔ پھر تم کیوں نہ چھوڑ دو۔اب بھی کچھ نہیں گیا۔ چھوڑ دو۔ انارکلی کو۔ اس شہر کو۔ اس خطرناک فضا کو اور یہاں سے دور فوجوں کی سرداری یا دلفریب مناظر کی خاموشی میں سب کچھ   بھول جاؤ۔

    سلیم:           بختیار یہ مشورہ شہر کا ہر نانبائی مجھے دے سکتا تھا۔ تم سے مجھے زیادہ ہمدردی کی توقع تھی۔

    بختیار:          لیکن شہزادے اس پوشیدہ محبت کا انجام ہر حال میں خطرناک ہے۔ محل سرا میں یہ محبت راز نہیں رہ سکتی۔ تم انارکلی کو اپنی بیگم نہیں بنا سکتے۔ پھر تم .....

    سلیم:           (بے قراری سے بات کاٹ کر) میں کیوں انارکلی کو بیگم نہیں بنا سکتا۔ اس میں کیا نہیں جو میرے لیے   ضروری ہے؟

    بختیار:          اس میں تمہارے لیے سب کچھ ہو۔ لیکن ظل الہٰی کے لیے جن کے تم فرزند ہو اور مغلوں کے لیے جن کی تم امید ہو کچھ بھی نہیں۔

    سلیم:           ظل الہٰی کا فرزند اور مغلوں کا ولی عہد ہونے سے پہلے میں انسان ہوں۔

    بختیار:          (با ت کی اہمیت جتانے کو آہستہ سے) اور وہ بھی انسان ہیں۔

    سلیم:           (پریشان ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے) تم بحث چاہتے ہو۔ دلیلیں چاہتے ہو۔ میں ہمدردی چاہتا ہوں۔ مشکل کا حل چاہتا ہوں۔

    بختیار:          جو حل میں پیش کرتا ہوں۔ تم سننا اور سمجھنا نہیں چاہتے۔

    سلیم:           تم صرف یہ چاہتے ہو میں دنیا کے خوف سے مفلوج ہو کر بیٹھ رہوں؟

    بختیار:          یہ خوف بزدلی نہیں تدبر ہے۔ (اٹھ کر محبت سے سلیم کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے) ایک فلسفی دنیا کی چہ میگوئیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ دنیا کو مایوس کرکے مسکرا سکتا ہے۔ تہمتوں پر ہنس سکتا ہے۔ محض یہ دیکھنے کو کہ کھسیانی دنیا کیا کرتی ہے۔ ہر الزام قبول کر لیتا ہے۔ دنیا کو دعوت مقابلہ دے کر اپنی عزلت تلخ حقیقتوں میں گزار دیتا ہے لیکن ایک شہزادہ جسے دنیا ہی نے سب کچھ بنا رکھا ہو جس کے تخت کے پایے دوسروں کے شانوں پر رکھے ہوں۔ جس سے اطاعت کے معاوضے میں۔ وراثت کے معاوضے کی امیدیں وابستہ ہوں۔ وہ دنیا کی مایوسی اور چہ میگوئی سے بے پروا ہونے کی جرأت کیوں کر کر سکتا ہے؟

    سلیم:           (تلخ حقائق سے گھبرا کر بختیار کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتا ہے) لیکن بختیار۔ رات گزر چکی۔ ضبط اور ایثار کا موقع جاتا رہا۔ میں اپنا دل کھول کر انارکلی کے سامنے رکھ چکا۔ اب تم یہ چاہتے ہو تمہارا سلیم ایک کمزور اور بے بس لڑکی کی نظروں میں دروغ گو اور سنگ دل ثابت ہو؟

    بختیار:          (کچھ دیر چپ رہ کر) اگر تم نے ایک غلطی کا علاج دوسری غلطی سے کیا تو تم غلطیوں کے انبار کے نیچے دب جاؤ گے۔ (توقف کے بعد) تم اپنے الفاظ سے پھرو گے لیکن ایک اہم تر مقصد کے لیے۔ تم دو دمان مغلیہ کے چشم و چراغ ہو۔ ظل الہٰی اور تمام مغلیہ ہند کی نظریں تمہارے مستقبل میں عظمتوں کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ جو کچھ ہو چکا ہو چکا۔ ظل الہٰی کی خاطر۔ مغلوں کی خاطر۔ خود انارکلی کی خاطر اسے بھول جاؤ۔

    سلیم:           (ذرا دیر ٹہل کر) تم بزدل ہو۔ بہت بزدل ہو بختیار۔ ہمیشہ معاملات کا تاریک پہلو دیکھتے ہو۔ ہمیشہ شبہوں میں گرفتار رہتے ہو۔ تم خود یاس اور ناکامی کو دعوت دیتے ہو۔تم..... (قدموں کی آہٹ سن کر رک جاتا ہے)

                   (زعفران اور ستارہ حاضر ہو کر کورنش بجا لاتی ہیں)

                   زعفران اور ستارہ!

    زعفران:       (بختیار کو دیکھ کر ذرا شرماتی ہے لیکن بہت جلد سنبھل جاتی ہے) حضور مہارانی جی نے بھیجا تھا کہ .....

    ستارہ:          (بات کاٹ کر شوخی سے)میں نے کہا اور اگر صاحب عالم نے پوچھا۔ کیسے آئیں؟ تو کیا کہیں گے؟ بولیں۔ کہہ دیں گے مہارانی جی نے بھیجا ہے۔

    زعفران:       (ناز سے بگڑ کر) نہیں مانے گی ستارہ؟

    ستارہ:          (شوخی سے بار بار زعفران کی طرف دیکھتے ہوئے ) اور میں نے کہا واپس آنے پر مہارانی جی نے پوچھا کہاں گئی تھیں۔ تو کیا جواب ہو گا۔ بولیں کہہ دیں گے۔ صاحب عالم نے بلوایا تھا۔

    زعفران:       (کھسیانے پن سے) حضور چل کر پوچھ لیجیے مہارانی جی سے۔ چڑیل کہیں کی۔اچھا یاد رکھیو تم۔

    بختیار:          (لڑکیوں کی تیز اور شوخ باتوں نے سب کچھ بھلا دیا ہے مسکرا کر) تم نے کسی جھروکے میں سےہم کو آتے ہوئے نہیں دیکھ لیا تھا؟

    زعفران:       (اداسے) ہم تو ایک نئی غزل سنانے آئے تھے۔

    بختیار:          خوب بھلا سنیں تو؟

    ستارہ:          گائیں گی ٹوٹی ہوئی بین کی طرح۔

    سلیم:           (خیال سے چونک کر) نہیں زعفران اس وقت نہیں۔

    ستارہ:          اور کیا۔ بھلا کوئی وقت ہے غزل سننے کا۔

    بختیار:          سنیے بھی قبلہ۔ کیا مضائقہ ہے۔ (زعفران سے) تو لو تھوڑی سی سنا دو جلدی سے۔

    زعفران:       (ناز سے) یوں تو ہم نہ سنائیں گے۔

    بختیار:          اور؟

    زعفران:       اطمینان سے پوری غزل سنائیں گے ہم تو۔

    بختیار:          (دلچسپی بڑھتی چلی جا رہی ہے) خوب بھئی۔ بڑے مزے کی چیز ہو تم تو۔ آیا کرو نا یہاں۔

    ستارہ:          کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ پہلے ہی ٹھان چکی ہوں گی۔

    زعفران:       اچھا مردار۔ آج دیکھیو تو .....

    بختیار:          ہاں تو وہ غزل کیا تھی زعفران؟

    سلیم:           (تنگ آ کر) سنا دو زعفران۔ (سلیم ٹہل کر پیچھے برج میں چلا جاتا ہے)

    زعفران:       (غزل شروع کرتی ہے۔ بختیار بہت غور سے سنتا ہے اور داد دیتا رہتا ہے)

    غزل

    ایں پیش خیل کج کلہاں از سپاہ کیست دیں قبلہ کہ کج شدہ طرف کلاہ کیست

    پایم بہ پیش از سر ایں کو نمی رود یاراں خبر دہید کہ ایں جلوہ گاہ کیست گرد سر تو گشتن و مردن گناہ من دیدن ہلاک و رحم نہ کردن گناہ کیست کف می کشد بزلف و نمی گویدش کسے کاں زلف درہم از اثر دود آہ کیست جوں بگذرد نظیری خونیں کفن بحشر خلقے فغاں کنند کہ ایں داد خواہ کیست

    سلیم:           (برج سے واپس آ کر ستارہ سے باتیں کر رہا ہے) تو ستارہ۔ دلارام کو فوراً بھیج دو۔ کہہ دینا پان منگواتے ہیں۔

    ستارہ:          (زعفران سے) لے اب چلتی ہو کہ جوتیاں کھا کر نکلو گی۔

    زعفران:       (جو بختیار کی میٹھی میٹھی نظروں کے جواب میں لجا رہی ہے) تو کیوں جلی مرتی ہے۔

    سلیم:           جاؤ زعفران

    بختیار:          (زعفران سے) ہاں تو یاد رکھنا۔ کبھی کبھی جب ہم آئیں معلوم کر لیا کرو۔ ہیں۔ ہاں۔

                   (زعفران مسکراتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ بختیار دیر تک کھڑا مسکرا مسکرا کر اشارے کرتا رہتا ہے)

    سلیم:           بختیا رتم سچ کہتے ہو۔

    بختیار:          واللہ خوب چیز ہے۔ (بات کرکے سلیم کے چہرہ پر نظر ڈالتا ہے۔ اسے فکرمند دیکھ کر شرما سا جاتا ہے۔)

    سلیم:           اس بات نے بڑی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کے خطروں کا پوری طرح اندازہ لگانا مشکل ہے۔

    بختیار:          (اب سنبھل چکا ہے) تم نے دلا رام کو بلوایا ہے؟

    سلیم:           ہاں اس پس و پیش کی اذیت مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔ اور مجھے کچھ معلوم نہیں انارکلی ..... اس غریب کی کیا حالت ہو گی بختیار!

    بختیار:          لیکن تم دلارام سے کہنا کیا چاہتے ہو؟

    سلیم:           مجھے یقین ہے اس کی خاموشی کو خریدا جا سکتا ہے۔

    بختیار:          لیکن کب تک کے لیے۔ آخر اس سے کیا حاصل؟

    سلیم:           (آہ بھر کر) یہ ملاقات کے بعد معلوم ہو گا۔

    بختیار:          (آہٹ پر کان لگا کر) کوئی آ رہا ہے۔

    سلیم:           دلارام

    بختیار:          میں ادھر ڈیوڑھی میں ٹھہرتا ہوں۔

                   (بختیار جلدی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ سلیم مسند پر بے فکری کے انداز میں بیٹھ جاتا ہے)

                   دلارام خاصدان لیے ہوئے داخل ہوتی ہے اور سلیم کے قریب آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ دونوں خاموش رہتے ہیں)

    دلارام:         (کچھ دیر بعد) حضور نے پان طلب فرمائے تھے۔

    سلیم:           رکھ دو دلارام

                   (دلارام خاصدان میز پر رکھ دیتی ہے پھر دونوں خاموش ہیں۔)

    دلارام:         کوئی اور حکم؟ (سلیم خاموش رہتا ہے۔ دلارام ذرا دیر جواب کا انتظار کرتی ہے۔) میں رخصت ہوتی ہوں۔ (دروازے کی طرف جاتی ہے)

    سلیم:           ٹھہرو دلارام!

                   (دلارام جہاں ہے وہیں تھم جاتی ہے۔ سلیم پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ آخر کچھ دیر کےپس و پیش کے بعد )

                   میں تم سے کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔

    دلارام:         (قریب آ کر ) ارشاد:

    سلیم:           (دوسری طرف دیکھتے ہوئے) تم بوجھ سکتی ہو میں کس معاملے کے متعلق گفتگو کروں گا۔

    دلارام:         ضروری تو نہیں۔

    سلیم:           (تامل کے بعد) میں چاہتا ہوں تم جو کچھ جانتی ہو وہ راز رہے۔

    دلارام:         یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ کنیزیں اتنی عالی ظرف ہو سکتی ہیں۔

    سلیم:           (سلیم اس جواب کے لیے تیار نہ تھا سمجھ میں نہیں آتا اب کیا کہے۔ کچھ دیر گومگو کے عالم میں رہتا ہے)مگر دلارام تم بتاؤ گی۔ تم وہاں کیوں آئی تھیں؟

    دلارام:         آپ کے انتخاب پر آپ کو مبارکباد دینے۔

    سلیم:           تم کچھ چھپا رہی ہو دلارام؟

    دلارام:         جس قدر آپ مجھے بلانے کا اصل مقصد چھپا رہے ہیں۔

    سلیم:           میں بتا چکا۔ میں رازداری چاہتا ہوں۔

    دلارام:         (سر جھکا کر) ایسا ہی ہو گا۔

    سلیم:           (پہلی مرتبہ دلارام کی طرف دیکھ کر) اور اب تم؟

    دلارام:         (سر جھکائے کچھ دیر خاموش کھڑی رہتی ہے۔ آخر تامل سے) میں اس کی قیمت چاہتی ہوں۔

    سلیم:           (چہرے پر خفیف سا تبسم ہے) میں جانتا تھا۔ تم کو قیمت مقرر کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن واضح رہے مجھے یکمشت   قیمت ادا کرنا زیادہ پسند ہے۔

    دلارام:         (دیر تک سر جھکائے خاموش کھڑی رہتی ہے۔ آخرمنہ دوسری طرف موڑ لیتی   ہے) صاحب عالم! وہ سونا نہیں۔ جواہرات نہیں۔ ایک بدنصیب کنیز ان چیزوں پر جان دیتی ہے لیکن اس کی زندگی بعض ان سے بھی زیادہ پیاری چیزوں سے خالی ہوتی ہے۔

    سلیم:           (اعتمادانگیز انداز میں) پھر تم کیا چاہتی ہو؟

    دلارام:         (مڑ کر حسرت ناک نظروں سے سلیم کو دیکھتی ہے اور کچھ کہنا چاہتی ہے مگر رک جاتی ہے۔ آخر ہمت کرکے) تم خود نہیں بوجھ سکتے شہزادے؟

    سلیم:           (کسی قدر چوکنا ہو کر) میں صاف لفظوں میں قیمت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

    دلارام:         قیمت ؟(توقف کے بعد) آہ یہ لفظ سب کچھ برباد کیے دیتا ہے۔

    سلیم:           (کسی قدر بگڑ کر) میں پہیلیاں نہیں بوجھنا چاہتا۔

    دلارام:         (حوصلہ کرکے محبت کے واضح انداز میں کہتی ہے) تم نہیں بوجھ سکتے شہزادے۔ جب ایک کنیز تمہارے لیے پان لے کر آتی ہے تو وہ کیا چاہتی ہے؟

    سلیم:           (حیرانی سے) کیا چاہتی ہے؟

    دلارام:         (توقف کے بعد بے بس ہو کر) تم نہیں بوجھ سکتے۔ جب وہ ایک شہزادے کو ایک دوسری کنیز کے ساتھ محبت کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو وہ کیا چاہتی ہے؟

    سلیم:           (حیرت بڑھ رہی ہے الفاظ سن رہا ہے مگر یقین نہیں کرنا چاہتا) کیا چاہتی ہے؟

    دلارام:         تم کتنے ظالم ہو شہزادے۔

    سلیم:           (وقار سے) مت بھولو تم کس سے گفتگو کر رہی ہو؟

    دلارام:         (بے اختیاری سے ) میں عورت ہوں۔

    سلیم:           میں صرف مرد نہیں ہوں۔

    دلارام:         تم نہ سمجھنا چاہو تو میں بے بس ہوں۔

    سلیم:           (شبہ ہے کہ وہ غلط تو نہیں سمجھ رہا) میں سننا چاہتا ہوں۔

    دلارام:         میں لفظوں میں نہیں بیان کر سکتی۔ میں ایک غزل سناتی ہوں۔ میری آواز بیان کرے گی۔ (دلی جوش کے ساتھ غزل گانا شروع کر تی ہے۔ سلیم مبہوت بنا ہوا سنتا رہتا ہے۔)

    غزل

    بملا زماں سلطاں کہ رساند ایں دعا را

    کہ بشکر پادشاہی ز نظر مراں گدارا

    چہ قیامتست جاناں کہ بہ عاشقاں نمودی

    رخ ہمچو ماہ تاباں دل ہمچو سنگ خارا

    دل عالمے بسوزی چوعدار بر فروزی

    تو ازیں چہ سود داری کہ نمی کنی مدارا

    ہمہ شب دریں امیدم کہ نسیم صبح گاہی

    بہ پیام آشنائے بنو ازد آشنا را

    سلیم:           (نہیں رہا جاتا۔ یک لخت اسے روک دیتا ہے) کیا کہہ رہی ہے دلارام!

    دلارام:         (دوزانو ہو کر) شہزادے میں تیری کنیز ہوں۔

    سلیم:           (حیرت کے عالم میں اٹھ کر کھڑا ہو تا ہے)ہا .....خدایا تجھے جرأت کیسے ہوئی؟

    دلارام:         (پھوٹ بہتی ہے) جرأت! انارکلی سے پوچھو۔ میرے آئینے سے پوچھو۔ اپنی آنکھوں سے پوچھو۔ میں تمہیں چاہتی ہوں۔ چاہتی ہوں۔ مدت سے چاہتی ہوں۔ مجھے کبھی جرأت نہ ہوئی تھی تم سے کہوں۔ آج تقدیر نے مجھ کو موقع دیا۔ تمہارے راستے میں لا ڈالا۔ میں محبت کے صرف ایک لفظ کی محتاج ہوں۔ شہزادے! میرے شہزادے۔

    سلیم:           (بے انتہا غصے اور نفرت سے ) بے وقوف.....

    دلارام:         (وقار سے کھڑی ہو جاتی ہے) صاحب عالم! میرا دل بے اختیار سہی لیکن مجھ میں خودداری باقی ہے۔

    سلیم:           کمینی! اس قدر دلیری۔ تو نے کیا سمجھ کر یہ کہا۔ سلیم کنیز کی دھمکیوں سے سہم   جائے گا۔ چڑیل ہماری نرمی کا یہ اثر! پھر اب سن رکھ دلارام۔ اگر تیری زبان سے اس راز کا ایک لفظ بھی نکلا۔ تو دوسرے لمحے تیری سربریدہ نعش راوی کی لہروں پر تیر رہی ہو گی۔

    دلارام:         ہماری گفتگو تمام ہوئی۔ (آداب بجا کر رخصت ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی چبوترے کی سیڑھیوں تک پہنچتی ہے)

    سلیم:           (مسند پر بیٹھ کر سامنے تکتے ہوئے) ٹھہرو دلارام۔ میں ایک بار پھر تمہیں موقع دیتا ہوں۔

    دلارام:         (سیڑھیوں پر سے) مجھے اور کچھ عرض نہیں کرنا۔

    سلیم:           (پھر کھڑا ہو جاتا ہے) دلارام تم پچھتاؤ گی۔ اب سوچ لو۔ یہ وقت تمہیں پھر حاصل نہ ہو گا۔

    دلارام:         (چبوترے پر سے) آپ جب یاد فرمائیں گے۔ میں پھر حاضر ہو ں گی۔ (جانا چاہتی ہے)

    سلیم:           (بے قابو ہو کر) لیکن دلارام تم بھی یہ سمجھ کر غور کرنا۔ جو الزام تم انارکلی پر لگا رہی ہو۔ وہ اب تم پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اگر تم کہہ سکتی ہو کہ سلیم انارکلی کو چاہتا ہے تو سلیم کہہ سکتا ہے کہ دلارام سلیم کو چاہتی ہے۔ ہاں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ناکامی نے دلارام کو انتقام لینے پر تیار کر دیا۔ (ذرا دیر خاموش ہو جاتا ہے کہ دلارام کو اپنی بے چارگی کا احساس ہو) تم نے دیکھا دلارام۔ تم اپنے جال میں خود گرفتار ہو۔

    دلارام:         تم یہ کہنا چاہتے ہو شہزادے کہ اگر ہم ایک دوسرے کے متعلق کسی سے کچھ کہنا چاہیں تو ہمیں ثبوت کی ، گواہوں کی ضرورت ہے؟ (دلارام کے چہرے پر خفیف سا تبسم نمودار ہوتا ہے۔ سلیم آنکھیں کھولے اسے تک رہا ہے کہ اب وہ کیا کہے گی؟)

                   (یک لخت پردے سرکتے ہیں۔ اور بختیار چبوترے پر دوسری طرف سے داخل   ہوتا ہے)

    بختیار:          (مضحکہ خیز تعظیم سے) لیکن سلیم گواہ حاصل کر چکا۔

    دلارام:         (چہرے پر سے تبسم یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو۔ وہ دوڑی ہوئی آتی ہے) صاحب عالم! (سلیم کے قدموں پر گر پڑتی ہے)

    سلیم:           (بختیار کو دیکھتے ہوئے) بختیار! میں بھول چکا تھا تم ادھر موجود ہو۔ (دلارام سے) دلارام جاؤ۔ اور اس واقعے کو یاد رکھو۔

                   (دلارام اٹھتی ہے اور دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے سسکیاں بھرتی ہوئی رخصت ہو جاتی ہے۔

                   (بختیار سیڑھیاں اتر کر سلیم کے قریب آتا ہے۔ سلیم محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے) بختیار! تم نے مجھے ہر خطرے سے محفوظ کر دیا۔

    بختیار:          ایک چال کا جواب دے لینے سے بازی کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

    سلیم:           (بختیار کا چہرہ تکتے ہوئے) کیا مطلب؟

    بختیار:          اناڑی شاطر ہو۔ حریف اور چال سوچ لے گا۔ مہلت سے فائدہ اٹھاؤ اور اسی وقت ہنس کر بساط الٹ ڈالو۔

                   (بختیار یہ کہہ کر یک لخت رخصت ہو جاتا ہے۔ سلیم اسے دیکھتا رہتا ہے۔ اور پھر سوچ میں مسند پر بیٹھ جاتا ہے۔ اطمینان اور فراغت کی ایک انگڑائی لیتا ہے اور تکیے پر سر رکھ دیتا ہے۔

                   پے درپے واقعات کے بعد اب بے فکری حاصل ہونے سے میٹھی نیند اس کی پلکیں بند کر رہی ہے کہ پردہ آہستہ آہستہ گرتا ہے۔)

    پردہ

     

    منظر دوم

    انارکلی کا حجرہ

    ہلکے زرد رنگ کی دیواروں کا مختصر سا حجرہ ہے جس میں سامان آرایش بہت کم ہے۔ دیواریں سادہ ہیں۔ سامنے کی دیوار کے مغلیہ انداز کے تین جالی دار دریچے ہیں جن کے پردے اگر کھلے ہوں تو پرانے پائیں باغ کے جھکے ہوئے معمر درخت اور خشک فوارے نظر آتے ہیں۔ دائیں بائیں تین تین دروازے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے دروازے سہ دری میں کھلتے ہیں اور بائیں ہاتھ کے ثریا کے کمرے کو جاتے ہیں۔

    ایک کونے میں ذرا نیچا چوکور تخت ہے۔ جس پر سبز اطلس کی سوزنی بچھی ہے۔ اوپر آسمانی مخمل کے چھوٹے بڑے تکیے بے ترتیب پڑے ہیں۔ پاندان بند رکھا ہے۔ ستار اور سارنگی کونے میں کھڑی ہیں۔ ستار پر پھولوں کا ایک برا سا مرجھایا ہوا ہار لٹک رہا ہے۔ دوسرے کونے میں ایک پلنگیری پر بستر بچھا ہے اور سبز ریشم کا پلنگ پوش پڑا ہے۔ جس کی سلوٹیں کہہ رہی ہیں کہ پچھلی رات اسے پلنگ پر سے اٹھایا نہیں گیا۔ غف نیلے پردے جن پر سبز ریشم سے مغلیہ محرابوں میں سرو بنے ہیں۔ دروازوں اور دریچوں پر کھنچے ہوئے ہیں۔ باہر صبح روز روشن میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن پردوں کی وجہ سے اس حجرے میں اندھیرا ہے۔

    انارکلی اکیلی تخت کے کنارے پر یوں بیٹھی ہے جیسے کھڑے کھڑے تھک کر چور ہو گئی ہو اور محض سہارے کی خاطر بیٹھ گئی ہو۔ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ باسی ہے۔ آنکھیں بھاری ۔ پریشان نظروں میں بھاری۔پریشان نظروں سے ادھر ادھر تک رہی ہے اور مٹھیاں کبھی کھولتی کبھی بند کرتی ہے۔

    انارکلی:         سب کو معلوم ہو گیا۔ سب کو معلوم ہو گیا۔ پھر کیوں نہیں آتے اور مجھ کو پکڑ لے جاتے..... دلارام سے کیوں سنتے ہو۔ آؤ مجھ سے سنو۔ مجھے محبت ہے کنیز کو ولی عہد سے۔ سلیم سے۔ میں نے جان بوجھ کر یہ زہر پیا۔ اس کا مزہ زندگی سے زیادہ میٹھا تھا۔ اور اب کیا چاہتے ہو۔ سزائیں پھر سوچ لینا۔ پہلے لے جاؤ یہاں سے مجھ کو لے جاؤ۔ یوں نہیں مرا جاتا۔

                   (سہ دری میں سے ایک قہقہے کی آواز آتی ہے۔ کوئی خواجہ سرا کھلکھلاتا ہوا گزر رہا ہے۔ انارکلی قہقہے کی آواز سے سہم جاتی ہے۔)

                   آپہنچے۔ آ پہنچے۔ اللہ۔ میرے اللہ!

                   (بھاگتی ہے اور دوسری طرف کے دروازے کے پردے میں چھپ جاتی ہے۔ کچھ دیر اندر ہی دبکی ہوئی منتظر رہتی ہے۔ آخر پردہ سرکا کر سراسیمہ نظروں سے جھانکتی ہے پھر آہٹ پر کان لگا دیتی ہے۔ اطمینان ہو جاتا ہے تو ڈگمگاتے قدم پھونک پھونک کر رکھتی ہوئی باہر آتی ہے۔ کچھ دیر تخت کے قریب خاموش کھڑی رہتی ہے۔ اس کا نحیف جسم ان شدید جذبات کی تاب سے جواب دے دیتا ہے اور لڑکھڑا کر تخت پر گر پڑتی ہے۔)

                   کب تک۔ اللہ کب تک۔ (منہ ایک ایک نرم تکیے پر رکھ کر بے حس و حرکت پڑ جاتی ہے) (انارکلی کی ماں داخل ہوتی ہے)

                   (انارکلی کو پڑا دیکھ کر فکرمندی سے اس کی طرف بڑھتی ہے) نادرہ! (چونک کر یک لخت اٹھتی اور دور ہٹ جاتی ہے۔) اماں!

    ماں:           کیا ہے بیٹی؟

    انارکلی:         تمہیں معلوم ہو گیا ؟

    ماں:           کیا؟

    انارکلی:         تم کیوں آئی ہو؟

    ماں:           نادرہ!

    انارکلی:         (ماں کا منہ تکتے ہوئے) تو ابھی نہیں معلوم ہوا(سر جھکا کر چپ ہو جاتی ہے)

    ماں:           (پریشانی کے عالم میں قریب جا کر) کیا ہوا نادرہ؟ بیٹی؟ میری جان۔ نادرہ!

    انارکلی:         (آہستہ سے) ماں! (ماں کی طرف دیکھتی ہے اور پھر بچوں کی طرح اس سے لپٹ جاتی ہے۔)

    ماں:           (سراسیمگی سے) کیا ہوا بیٹی؟ نادرہ!

    انارکلی:         (ماں کے سینے پر آنکھیں بند کرکے) کچھ نہیں اماں!

    ماں:           (لپٹائے لپٹائے انارکلی کا منہ اوپر کو تکتی ہے) یہ تو ڈری ہوئی کیسی تھی؟

    انارکلی:         (بے بسی کی نظروں سے ماں کو تکتی ہے) ہاں اماں میں ڈر گئی تھی۔

    ماں:           (بڑی محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہے) اور یہ معلوم ہو گیا کیا پوچھ رہی تھی؟

    انارکلی:         (ٹلانے کو الگ ہو جاتی ہے) نہیں تو اماں!

    ماں:           نادرہ!

    انارکلی:         (مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے) کچھ نہیں بی۔ رات کو دیر میں سوئی۔ پریشان خواب نظر آتے رہے۔ ابھی ابھی آنکھ کھلی تو اسی کا خیال ستا رہا تھا۔

    ماں:           اے ہے تیری پھٹی پھٹی آنکھیں دیکھ کر میرا تو کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ میں آگئی۔ نہیں تو نہ جانے تیری حالت کیا ہوتی (محبت سے پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر) لے اب باہر چل۔ ساری دنیا اٹھ بیٹھی۔ کام کاج میں لگ گئی۔ سورج سر پر آگیا۔ تو ابھی تک حجرے سے باہر نہیں نکلی۔

    انارکلی:         (اور پرے سرک کر) ابھی باہر نہ جاؤں گی۔

    ماں:           وہ کیوں؟

    انارکلی:         یوں ہی اماں (عاجزی سے) ابھی نہیں۔

    ماں:           (حیرانی سے) کوئی وجہ بھی؟

    انارکلی:         کچھ نہیں (توقف کے بعد) میرا جی گھبراتا ہے روشنی سے۔

    ماں:           (تشویش سے) اے عجب جی ہے تیرا۔ تو کیا اب رات کو باہر نکلا کرے گی؟ میں کہتی ہوں تیرا یہ حال کیا ہو اجا رہا ہے۔ اللہ جانے کچھ عجب ہی ہے۔ میری سمجھ میں تو آتا نہیں۔ میں تو مہارانی سے کہہ کر کسی حکیم کو بلواتی ہوں۔

    انارکلی:         (فکرمندی سے) نہیں اماں۔ حکیم کیوں۔ اچھی خاصی تو ہوں میں۔

    ماں:           کیسے نہیں حکیم۔ ایسے ہوا کرتے ہیں اچھے خاصے؟

    انارکلی:         (ذرا دیر چپ کھڑے سوچتی رہتی ہے) مہارانی ہی سے کہتی ہو۔ تو ایک اور بات کہہ دو اماں۔

    ماں:           کیا؟

    انارکلی:         (تامل کے بعد) مجھے یہاں سے کہیں بھجوا دو۔

    ماں:           اے وہ کیوں؟

    انارکلی:         اس محل میں میں زندہ نہ بچوں گی۔ اس کی دیواریں ہر وقت میری طرف بڑھی آ رہی ہیں۔ کسی روز ٹکرائیں گی اور مجھ کو پیس ڈالیں گی۔

    ماں:           (سراسیمہ ہو جاتی ہے) نادرہ! خدا کے لیے کیسی باتیں کرتی ہے بچی۔ میرا تو دل ہول کھاتا ہے۔

    انارکلی:         (مایوسی سے) پھر نہیں بھجوا سکتیں اماں؟

    ماں:           (کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے) کیسے بھجوا دوں بیٹی! بھلا کیوں کر او ر پھر کون ہے میرا جس کے پاس بھجوا دوں۔

    انارکلی:         (لجالت سے) اماں کہیں۔ کسی جگہ جنگل ہی میں چھوڑ دیں۔ یہاں سے لے جائیں۔

    ماں:           (خوف زدہ ہو کر تشویش ناک نظروں سے بیٹی کو دیکھ رہی ہے) نادرہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟

    انارکلی:         کچھ نہیں اماں! (چپ ہو جاتی ہے) مجھے گلے لگا لو (ماں پاگلوں کی طرح اس کا منہ تک رہی ہے) گلے بھی نہ لگاؤ گی اماں؟

    ماں:           بیٹی! میں تو تجھے دل میں بٹھا لوں۔پر مجھے تو ڈر لگتا ہے۔ (انارکلی بچوں کی طرح ہاتھ بڑھا دیتی ہے۔ ماں گلے لگا لیتی ہے۔ انارکلی اس سے چمٹ جاتی ہے)

                   (ثریا بھاگتی ہوئی آتی ہے)

    ثریا:            (ہانپتے ہوئے) آپا!

    انارکلی:         ( یک لخت ماں سے الگ ہو کر) ثریا!

    ثریا:            (ماں کو دیکھ کر) کچھ نہیں آپا!

    ماں :           (ثریا کو ہانپتا دیکھ کر) ثریا کیسے آئی؟

    ثریا:            کیسے؟ (ٹلانے کو) بھاگ کر آئی ہوں۔

    ماں:           پگلی کہیں کی۔

    انارکلی:         (پرمعنی استفسار کے انداز میں) ثریا؟

    ثریا:            (اطمینان بخش انداز میں) جی آپا! آؤ نہ باہر چلیں۔ تمہیں باغ میں لے جانے کو آئی تھی۔

    ماں:           ہاں ننھی اسے لے جا کہیں۔ تو ہی لے جائے گی۔ اور بھئی میں تو آج مہارانی سے مشورہ کرتی ہوں۔ اور نہیں تو کل کلاں کو کچھ ہو گیا تو میں کس کی ماں کو ماں کہہ کر پکاروں گی۔

                   (گھبراکر رخصت ہوتی ہے۔ دروازے کے قریب جا کر رکتی ہے اور سہ دری کے تمام دروازوں کے پردے کھول دیتی ہے۔)

    ثریا:            (بڑی بے تابی سے اس کے جانے کی منتظر ہے۔ نظروں سے اوجھل ہوتے ہی پھٹ پڑتی ہے) آپا آپا صاحب عالم نے کہا۔ کچھ نہیں ہو گا۔ سب ٹھیک ہو گیا۔ اب کچھ ڈر نہیں آپا۔ میری آپا ۔ (انارکلی سے لپٹ جاتی ہے)

    انارکلی:         (اسے الگ کرتے ہوئے) کیسے ثریا؟

    ثریا:            انہیں دلارام کی اتنی بڑی بات معلوم ہو گئی کہ اب وہ کچھ کہنے کی جرأت نہ کرے گی۔

    انارکلی:         کیا بات؟

    ثریا:            دلارام صاحب عالم پر مرتی ہے۔

    انارکلی:         ہا! (سامنے دیکھتی رہ جاتی ہے)

    ثریا:            (انارکلی کو کھینچ کر پاس تخت پر بٹھا لیتی ہے) صاحب عالم نے جو دلارام سے کل رات کی بات چھپانے کو کہا تو اس نے صاحب عالم پر محبت ظاہر کی۔ ڈیوڑھی میں صاحب عالم کے دوست بختیار موجود تھے۔ انہوں  نے سن لیا اور اندر آگئے۔ بس پھر تو دلارام کے کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔

    انارکلی:         (سوچتے ہوئے) دلارام اب کچھ نہیں کہہ سکتی؟

    ثریا:            تو اب صاحب عالم بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ دلارام نے جلن کے مارے الزام گھڑا ہے۔ ہاں جی۔

                   (انارکلی اثبات میں سر ہلا کر چپ ہو جاتی ہے)

                   اب کاہے کا ڈر آپا۔ آہا۔ (اٹھ کر خوشی کے مارے ناچنے لگتی ہے)

    انارکلی:         دلارام صاحب عالم کو چاہتی ہے۔

    ثریا:            (ناچتے   ناچتے رک کر) اور صاحب عالم اس کی صورت سے بیزار ہیں۔ آہ( پھر ناچنے لگتی ہے)

    انارکلی:         (سوچتے ہوئے) دلارام اب کیا کرے گی؟

    ثریا:            صاحب عالم کی زبان بند رکھنے کو انہیں خوش کرے گی۔

    انارکلی:         ہوں۔

    ثریا:            (انارکلی کو گدگدا کر) اب تو وہ خود تمہاری اور صاحب عالم کی ملاقاتیں کرائے گی۔

    انارکلی:         (گھبرا کر) نہیں نہیں۔

    ثریا:            (سہ دری کی طرف دیکھ کر) چپ چپ آپا چپ۔ دلارام (دونوں باہر تکنے لگتی ہیں) ادھر ہی آ رہی ہے۔

    انارکلی:         (گھبرا کر کھڑی ہو جاتی ہے) مجھ سے نہ ملا جائے گا۔ (جانا چاہتی ہے)

    ثریا:            کہاں جاؤ گی۔ اور پھر کب تک۔ اب تو وہ خود دبی ہوئی ہے۔ تم کیوں گھبراتی ہو؟ اور میں جو ہوں۔

                   (انارکلی پریشانی کے عالم میں کھڑی ہے کہ دلارام آجاتی ہے ۔ بہت مغموم اور افسردہ ہے۔ ثریا کو دیکھ کر ٹھٹکتی ہے۔ ذرا دیر تینوں خاموش اور بے چین سی رہتی ہیں)

    دلارام:         (آخر ہمت کرکے ) انارکلی!

                   (انارکلی کو دلارام سے آنکھیں چار کرنے کی جرأت نہیں پڑتی)

                   میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔

    ثریا:            (چمک کر) معافی کیسی؟

    دلارام:         (تامل سے) کہ میں کل رات باغ میں آگئی تھی۔

    ثریا:            (طنز سے) اور کوئی تم سے بھی معافی چاہتا ہے۔ (انارکلی ثریا کو اشارے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے)

    دلارام:         کون؟

    انارکلی:         (تنبیہ کے انداز میں) ثریا!

    ثریا:            (پروانہ کرتے ہوئے) بختیار۔ جو ڈیوڑھی میں سے صاحب عالم کے پاس آگئے تھے۔

    دلارام:         (معلوم نہ تھا کہ ثریا اس دوران میں سلیم سے مل چکی ہے گھبرا سی   جاتی ہے) تو تمہیں معلوم ہو چکا ۔ میں یہی بتانے کو آئی تھی۔   یہی سب۔ (سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے) میں تم کو اپنے متعلق اطمینان دلانے آئی تھی (توقف ) انارکلی تمہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ محبت کیسی بے پناہ چیز ہے۔ مجھے بھی سلیم سے محبت تھی۔ میں.....

    ثریا:            (متانت سے) صاحب عالم کہو جی!

    دلارام:         (قطع کلام سے روانی جاتی رہتی ہے) تو۔ وہ ہاں مجھے محبت تھی اور تم یہ بھی جانتی ہو۔ ایک بے بس ناچیز کنیز کی محبت کتنی دردبھری ہوتی ہے۔

                   (انارکلی بے اختیار ہو کر آہ بھرتی ہے)

                   میں اسی محبت سے بے تاب تھی اور چاہتی تھی۔ (ثریا سے نظر ملتی ہے۔ وہ بھویں چڑھائے مضحکہ خیز متانت سے باتیں سن رہی ہے۔) مگر ثریا یہاں موجود ہے۔

    ثریا:            (کڑک کر) کیوں؟ میں تمہیں کاٹتی ہوں کیا۔ تم کہو مجھے سب معلوم ہے۔

    دلارام:         (تامل کے بعد) میں اتفاقاً رات کو باغ میں پہنچ گئی۔ مجھے بالکل امید نہ تھی۔ تم وہاں ہو۔ میں اس وقت فارغ تھی۔ اپنی دکھ بھری سوچ میں یوں ہی ادھر چلی گئی۔ مجھے اگر شبہ بھی ہوتا کہ صاحب عالم اور تم وہاں موجود ہو تو انارکلی یقین مانو۔ میں کبھی ادھر نہ آتی۔

    ثریا:            (دلارام کے سامنے ہو کر اور کمر پر ہاتھ رکھ کر) اور جناب کو شاید یاد نہیں رہا کہ آپ دو مرتبہ باغ میں تشریف لائی تھیں۔ آپ نے جو کچھ کہا۔ وہ سچ ہوتا تو آپ وہاں دوبارہ آنے کی تکلیف گوارہ نہ فرماتیں۔

    دلارام:         ہاں ہاں۔ میں دوبارہ بھی آئی تھی۔ (تامل کے بعد) اگر تم اسی پر تلی ہو کہ میری معذرت پر یقین نہ کرو۔ ایک کم نصیب کی ناکامیوں کو برہنہ دیکھو تو آؤ پھر سچ ہی سنو۔ اب رہا کیا۔ جو میں چھپاؤں۔ میں سب کچھ صاف صاف کہے دیتی ہوں۔

    ثریا:            یوں۔ ورنہ تمہیں معلوم ہے۔ میں کیا کچھ جانتی ہوں۔

    دلارام:         (کچھ دیر سر جھکائے خاموش رہتی ہے۔ آخر سر اٹھا کر) مجھے سلیم سے .....

    ثریا:            (انگلی اٹھا کر) صاحب عالم۔

    دلارام:         .....عشق تھا۔ وہ جب کبھی حرم میں آتے یا باغ میں جاتے میں سائے کی طرح ان کے پیچھے پیچھے رہتی۔ جب تک نظر آتے۔ ستونوں کے پیچھے سے پیڑوں کی آڑ میں سے انہیں تکا کرتی تھی۔ ایک کنیز جسے محبت نے دیوانہ بنا رکھا ہو۔ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتی ہے ..... رات وہ چھپتے چھپاتے باغ میں جا رہے تھے کہ فوارے کے پاس میں نے ان کی پرچھائیں دیکھ لی اور بے تاب ہو کر ان کے پیچھے چل کھڑی ہوئی۔ وہ درختوں کے سائے میں غائب ہو گئے۔ مگر میرے سینے میں بے چین تمناؤں کا ایک طوفان چھوڑ گئے۔ میں نے انہیں ہر جگہ ڈھونڈا۔ باغ کا گوشہ گوشہ دیکھ ڈالا اور آخر وہاں پہنچ گئی۔ جہاں انارکلی تم بیٹھی تھیں۔

    ثریا:            اور دوسری بار؟

    دلارام:         میں نے تمہیں دیکھا انارکلی تو نہ جانے کیوں آپ سے آپ مجھے یقین ہو گیا کہ جسے تو چاہتی ہے وہ اسے چاہنے باغ میں آیا ہے۔ صاحب عالم وہاں نہ تھے۔ پر مجھ کو یقین تھا۔ وہ تم سے ملنے وہاں آئے تھے۔ میں سچ کہوں گی میں بیتاب ہو گئی۔ شعلے میرے دل سے اٹھ اٹھ کر دماغ تک پہنچنے لگی۔ میں وہاں سے ٹل گئی۔ اور دیوانوں کی طرح روشوں پر پھرتی رہی۔ میں پھر رہی تھی اور کوئی آواز میرے کانوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی کہ وہیں جا جہاں انار کلی بیٹھی ہے۔ مجھ سے اس   آواز کا مقابلہ نہ کیا گیا۔ میں گئی اور میں نے ان کو جنہیں میں چاہتی تھی۔ اور تم کو جسے وہ چاہتے ہیں۔ اکٹھے دیکھ لیا۔ (غم سے سر جھکا لیتی ہے)

    انارکلی:         (متاثر ہو کر) دلارام!

    دلارام:         انارکلی تمہاری محبت کامیاب ہے۔ تمہیں کیا معلوم جس سے آپ کو محبت ہو اسے اپنے سے بے پروا اور دوسرے سے   محبت کرے دیکھ کر کیسا کچھ دکھ ہوتا ہے اور میں کمزور عورت ہوں۔   میں تمام رات کھلی آنکھیں لیے بستر پر پڑی رہی اور رات کے طویل گھنٹوں میں نامرادی میرے کانوں میں شائیں شائیں کیا کی۔ اور آج صبح جب صاحب عالم نے مجھے طلب کیا تو میری مرتی ہوئی امید نے آخری سنبھالا لیا۔ میرے دل نے کہا اگر ایک شہزادہ ایک کنیز سے محبت کر سکتا ہے تو ایک دوسری بد نصیب کنیز بھی ایک مرتبہ اپنا دل کھول کر سامنے رکھ سکتی ہے جو محبت اندر ہی اندر مجھے پھونک رہی تھی میری زبان پر آگئی۔

    انارکلی:         آہ!

    دلارام:         (غمناک انداز سے سر ہلا کر) لیکن میرے لیے کوئی امید نہیں۔ مجھے معلوم ہو گیا میری تقدیر میں محرومی کے سوا کچھ نہیں ۔ تم اگر صاحب عالم کو نہ بھی چاہو جب بھی کوئی امید نہیں۔ وہ تمہیں دیوانہ وار چاہتے ہیں۔ تم خوش قسمت ہو انارکلی وہ تمہیں چاہتے ہیں اور مجھے نہیں چاہ سکتے۔ میں اب شاکر ہوں۔ میں نے اپنی تمناؤں کا گلا گھونٹ دیا۔ میرے دل میں حسد کا نام بھی نہیں رہا۔ اب میری واحد خوشی ہے۔ میں اپنے محبوب کی محبوب کو چاہوں۔ اسی میں اطمینان ہے۔ اسی میں راحت ہے۔ انارکلی بہن میرے قصور بخش دو۔ کم نصیب سمجھ کر بخش دو۔ ہاری ہوئی رقیب سمجھ کر بخش دو۔ (گھٹنوں کے بل ہو کر انارکلی کا دامن پکڑ لیتی ہے۔)

    انارکلی:         آہ بہن! میں کیا کروں؟

    دلارام:         میرا اطمینان کر دو۔ تم نے مجھے بخش دیا۔

                   (انارکلی دلارام کو اٹھاتی ہے اور گلے لگا لیتی ہے)

                   میرا شرمندہ چہرہ اور مجرم دل تمہاری نظریں برداشت نہیں کر سکتا۔ میں جاتی ہوں۔ (چلتی ہے)

    ثریا:            (جو انارکلی کو متاثرہوتے دیکھ کر اس دوران بڑی بے قرار رہی ہے۔ یک لخت دلارام کا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے) ٹھہرو دلارام۔ میں انارکلی سے چھوٹی ہوں مگر اتنی سیدھی نہیں۔ میں تمہیں خوب جانتی ہوں۔ مدت سے جانتی ہوں دلارام۔ تم آپا کو باتوں میں لے آؤ لیکن یاد رکھنا۔ انارکلی کے ساتھ تمہیں مجھ سے بھی نپٹنا ہو گا اور اگر تم شعلہ ہو تو میں بجلی ہوں۔ اگر مجھے شبہ بھی ہوا تم کوئی چال چل رہی ہو۔ کسی ادھیڑ بن میں لگی ہو۔ تو تم جانتی ہو مجھے کیا کچھ معلوم ہے۔ یہ بجلی تمہیں پھونک کر راکھ کر دے گی۔

    دلارام:         (مظلومی کے انداز میں) انارکلی بہن!

    انارکلی:         (بگڑ کر) ثریا!

    ثریا:            آپا ......

                   (دلارام رخصت ہوتی ہے۔ ثریا غصے سے اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ انارکلی اسے تکتے رہ جاتی ہے۔)

    پردہ

     

    منظر سوم

    قلعہ لاہور میں سفید پتھر سے بنا ہوا ایک بلند مگر نہایت سادہ اور دل کشا ایوان جسے دیکھنے سے دماغ پر ایک فرحت افزا خاموشی اور خنکی کا سا اثر ہوتا ہے۔

    اکبر ایک مسند پر آنکھیں بند کیے اور پیشانی پر ہاتھ الٹا رکھے چپ چاپ لیٹا ہے۔ معلوم ہوتا ہے سخت ذہنی محنت کے بعد اس کا دماغ تھک گا ہے اور وہ اب بالکل خالی الذہن ہو کر اپنے مضمحل اعصاب کو آرام پہنچانا چاہتا ہے۔

    مہارانی پاس بیٹھی ہے۔ سامنے کنیزیں رقص کر رہی ہیں۔ مہارانی ٹھوڑی ہاتھ پر رکھے کچھ سوچ رہی ہے۔

    اکبر ایک دو مرتبہ آنکھیں کھول کر یوں کنیزوں کی طرف دیکھتا ہے گویا ان کا رقص انہیں تکلیف پہنچا رہا ہے۔ آخر ہاتھ اٹھا تا ہے اور کنیزیں جہاں ہیں وہیں ساکت ہو جاتی ہیں۔

    مہارانی:        (خاموشی سے چونک کر اکبر کو دیکھتی ہے ) ..... مہاراج؟

    اکبر:           (منہ موڑتے ہوئے کنیزوں سے) جاؤ۔

                   (کنیزیں رخصت ہو جاتی ہیں)

    مہارانی:        کیوں مہابلی؟

    اکبر:           (آنکھیں بند کیے ہوئے) راحت نہیں۔ ان کے رقص کے قدم میرے تھکے ہوئے دماغ کو صدمہ پہنچاتے ہیں۔

    مہارانی:        پھر اتنی محبت کیوں کیا کرتے ہیں مہاراج؟

    اکبر:           (آنکھیں کھول کر چپ چاپ پڑا کچھ دیر سامنے تکتا رہتا ہے اور پھر سکون سے) شہنشاہ ہوں رانی۔

    مہارانی:        ..... اور پھر بھی؟

    اکبر:           (پر معنی انداز میں) کس کا قیاس جرأت کر سکتا ہے کیا چاہتا ہوں۔

    مہارانی:        سیوک موجود ہیں۔

    اکبر:           (طنز کے خفیف تبسم سے)سیوکوں نے کتنے بادشاہوں کو اکبر اعظم بنادیا۔

    مہارانی:        نورتن اتنے بے   حقیقت ہیں؟

    اکبر:           (سکون سے) اگر ان کو اکبر کے خواب ہدایت نہ دیں۔

    مہارانی:        خواب!

    اکبر:           (خواب ناک نظروں سے سامنے کہیں دور تکتے ہوئے) میری فوجیں! میری سیاست، میرے نورتن سب میرے خوابوں کے پیچھے آوارہ ہیں۔ کون میری طرح ناممکن کے خواب دیکھ سکتا ہے؟ کون میری طرح اپنے خوابوں کو حقیق سمجھ سکتا ہے۔ میری عظم میرے خواب ہیں رانی۔

    مہارانی:        آپ کی عظمت؟

    اکبر:           اور ابھی تک ہندستان ایک مسکین کتے کی طرح میرے تلوے چاٹ رہا ہے ..... مگر ابھی تک میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ان دیکھا پڑا ہے اور میں اسے جنم دینے کا عزم اپنے میں نہیں پاتا۔

    مہارانی:        خواب کا جنم؟ کیا کہہ رہے ہیں مہابلی؟

    اکبر:           انسان کے جنم سے بہت زیادہ عزم چاہتا ہے رانی ...... اور میں بہت تھک گیا ہوں اور اکیلا ہوں۔ شیخو۔ کاش۔ شیخو۔

    مہارانی:        (اکبر کا منہ تکتے ہوئے) شیخو؟

    اکبر:           اپنے اجداد سے مختلف نہ ہو۔ تورانی ..... مغل .....

    مہارانی:        مغل کیا؟

    اکبر:           (آہستہ سے) لیکن ابھی کون جانتا ہے۔کون کہہ سکتا ہے (کسی قدر بیتاب ہو کر) مغلوں میں کوئی خواب دیکھنے والا نہ تھا۔ انہیں اکبر مل گیا۔ اگر اکبر کے جانشینوں تیمور کی طوفانی روح، بابر کی حیرت انگیز معلومات اور ہمایوں کا آہنی استقلال ہوا ..... (آہستہ سے) لیکن ابھی کون جانتا ہے۔ شیخو..... (کڑک کر) ہا! زمین سر پٹخ پٹخ کر رہ جائے اور قرن اور صدیاں اس کے سینے سے مغل علم کو نہ اکھاڑ سکیں۔

    مہارانی:        (مناسب جواب کی کوشش کی) شیخو آپ کا موزوں جانشیں ہو گا۔

    اکبر:           (گرم ہو کر) اگر اس کا یقین ہو جاتا تو میں اپنے دماغ کا آخری ذرہ تک خواب میں تبدیل کر دیتا لیکن میری تمام امیدوں سے وہ اتنا بے اعتنا ہے اتنا بے نیاز ہے کہ میں ..... لیکن میرا سب کچھ وہی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا مجھے کتنا عزیز ہے۔ کاش وہ میرے خوابوں کو سمجھے۔ ان پر ایمان لے آئے۔ اسے معلوم ہو جائے۔ اس کے فکرمند باپ نے اس کی ذات سے کیا کیا ارمان وابستہ کر رکھے ہیں۔ وہ اپنی موت کے بعد اس میں زندہ رہنے کا کتنا مشتاق ہے ..... (سوچتے ہوئے) لیکن ابھی کیا معلوم ......

    مہارانی:        ابھی بچہ ہی تو ہے۔

    اکبر:           (فہمایش آمیز متانت سے) ہماری محبت دیوانی نہیں کہ اس کا سن و سال بھول جائے۔ اور ہم چاہتے ہیں تم بھی اسے یقین دلاؤ کہ فی الحال وہ ایک بے پروا نوجوان کے سوا اور کچھ نہیں۔

    مہارانی:        مگر وہ اپنے ہم عمروں سے کچھ بہت مختلف تو نہیں ہے۔

    اکبر:           (کسی قدر بر افروختہ ہو کر) یہ تم مجھ سے کہہ رہی ہو؟ اکبر سے؟ جو اس عمر میں ایک سلطنت کا بوجھ اپنے کم سن کاندھوں پر اٹھ اچکا تھا۔ جس نے دنیا کی بے باک نظروں کو جھکنا سکھا دیا تھا۔جو اس عمر میں مفتوح ہند کو متحد کرنے کے دشوار مسائل میں منہمک تھا۔ ہاں جو اس عمر میں خواب تک دیکھتا تھا۔ (اٹھ کھڑا ہوتا ہے) تم ماں ہو۔ صرف ماں۔ (جانا چاہتا ہے)

    مہارانی:        آپ بہت تھک چکے ہیں۔ ابھی آرام فرمائیے۔

    اکبر:           کوئی رقص لاؤ۔ کوئی موسیقی۔ نرم، نازک، خوش آیند۔ (بیٹھ جاتا ہے) انارکلی کہاں ہے؟ اس کو بلاؤ۔ وہ تھکے دماغ کو ٹھنڈک پہنچانا جانتی ہے۔

    مہارانی:        انارکلی بیمار ہے مہاراج۔ اور اس کی ماں چاہتی ہے ۔ آپ کی اجازت ہو تو تھوڑے عرصے کو تبدیل آب وہوا کے لیے کسی دوسرے شہر بھیج دیا جائے۔

    اکبر:           (نیم دراز ہوتے ہوئے) حکیم نے اسے دیکھا؟

    مہارانی:        کچھ تشخیص نہ کر سکا۔ لیکن خود انارکلی سمجھتی ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی اس کے لیے مفید ہو گی۔

    اکبر:           (بے پروائی سے) تم کو اعتراض نہیں تو اس کی اجازت ہے۔

    مہارانی:        لیکن حرم سرا کے جشن میں تھوڑے سے دن رہ گئے ہیں او رانارکلی کے بنا جشن سونا رہ جائے گا۔

    اکبر:           (کروٹ لیتے ہوئے) پھر مت جانے دو۔

    مہارانی:        دباؤ ڈالنا اچھا نہیں معلوم ہوتا۔

    اکبر:           زبردستی کیوں ظاہر ہو۔ جشن تک اس کو علاج کے بہانے سے ٹھہر ا لیا جائے اور جشن میں شامل کرنے کے بعد رخصت دے دی جائے۔

    مہارانی:        لیکن وہ جشن کا اہتمام کیسے کر سکے گی؟

    اکبر:           صرف رقص و سرود ..... انتظام کسی دوسرے کے سپرد ہو۔

    مہارانی:        دلارام

    اکبر:           ہاں کہاں ہے وہ۔ اس کو بلاؤ۔ اس کا گیت میرے دماغ کو تازگی بخشے گا۔

                   (رانی تالی بجاتی ہے)

                   (ایک خواجہ سرا حاضر ہو کر دست بستہ کھڑا ہو جاتا ہے)

    مہارانی:        دلارام!

                   (خواجہ سرا رخصت ہو جاتا ہے)

                   جشن کے متعلق کوئی ہدایت؟

    اکبر:           (کسی قدر چڑ کر) میرا نورتن کو ہدایت دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

    مہارانی:        جشن میں شطرنج کھیلیں گے آپ؟

    اکبر:           کون کھیلے گا ہم سے؟

    مہارانی:        میں سلیم سے کہوں گی؟

    اکبر:           اور اگر وہ جیت گیا تو ہم کو خوشی ہو گی۔

                   (دلارام حاضر ہو کر مجرا بجا لاتی ہے)

    مہارانی:        دلارام حرم سرا کے جشن کے اہتمام انارکلی کے بجائے تجھے کرنا ہو گا۔

    دلارام:         بہ سروچشم

    مہارانی:        اور انارکلی صرف رقص و سرود ہی کے لیے شریک ہو گی۔

    دلارام:         بہت بہتر۔

    مہارانی:        تو جانتی ہے جشن کے لیے کیا کچھ کرنا ہو گا۔

    دلارام:         حضور میں پہلے کئی جشنوں کو اہتمام کر چکی ہوں۔

    مہارانی:        اور دیکھ مہابلی سلیم سے شطرنج کھیلیں گے۔

    دلارام:         (کسی قدر چونک کر) صاحب عالم سے!

    مہارانی:        ہاں!

                   (دلارام کے دماغ میں سلیم اور انارکلی کے خیالات اس قدر گھومتے رہے ہیں کہ وہ سن کو سوچ میں کھوئی سی جاتی ہے)

                   جشن شیش محل میں ہو گا اور روشنی ..... تو سن رہی ہے؟

    دلارام:         (چونک کر) صاحب عالم!

    مہارانی:        پگلی۔ کیا صاحب عالم!

                   (اکبر آنکھ کھول کر دلارام کی طرف دیکھتا ہے)

    دلارام:         صاحب عالم علیل تھے مہارانی۔

    اکبر:           نہیں وہ شریک ہو گا۔

    مہارانی:        سنا۔ جشن شیش محل میں ہو گا اور روشنی .....

    اکبر:           اب بس۔ پہلے کوئی گیت۔ سیدھا سادا اور میٹھا۔ مگر آواز دھیمی اور نرم۔ گرم اور زخمی دماغ کو ایک ٹھنڈا مرہم چاہیے۔ رقص ہلکا پھلکا۔ گھنگھروؤں کا شور نہ ہو۔ بہت چکر نہ ہو۔ پاؤں آہستہ آہستہ زمین پر پڑیں جیسے پھول برس رہے ہیں۔ برف کے گالے زمین پر اتر رہے ہیں لیکن خمار نہ ہو۔ نیند نہ آئے۔ ہمیں پھر مصروف ہونا ہے۔

                   (دلارام رقص شروع کتی ہے۔ مگر رقص کے دوران میں بھی وہ سوچ میں ہے۔ اور ذہنی مصروفیت کے باعث اس کے رقص میں نقص نظر آرہے ہیں)

    اکبر:           (اٹھ کھڑا ہوتا ہے) کچھ نہیں۔ کسی کو نہیں آتا۔ کوئی نہیں جانتا۔ اور انارکلی علیل ہے۔

                   (اکبر اور پیچھے پیچھے مہارانی جاتی ہے)

    دلارام:         (جیسے سوچ میں سن کھڑی رہ جاتی ہے) انارکلی ہو گی .....سلیم ہو گا    ..... اور اکبر بھی ..... کاش اگر اکبر دیکھ سکتا..... کاش اگر میں اکبر کو اس کی آنکھوں سے دکھا سکتی ..... آہ! پر یہ ضرور ہو گا۔ اور جشن ہی کے روز ..... دو تارے ..... وہی دو تارے ..... مگر ایک دہکتا اور جگمگاتا ہوا ..... اور دوسرا ٹوٹ کر بجھا ہوا ..... اور کون جانے.....

                   (آہستہ سے زمین پر بیٹھ جاتی ہے او رسر جھکا کر ایک گہری سوچ میں کھو جاتی ہے)

    پردہ

     

    منظر چہارم

    قلعہ لاہور کے شیش محل میں جشن نوروز۔

    جشن نوروز کی تقریب میں یوں تو تمام شہر اور قلعہ جاہ و جلال مغلیہ کا آئینہ بردار بنا ہوا ہے اور جس طرف بھی نظر اٹھتی ہے بہار کے خود فراموش عیش و تنعم کے آغوش میں متوالے نظر آتے ہیں لیکن حرم سرائے شاہی میں تجمل و شوکت کے ساتھ رونق اور چہل پہل کا ایسا دلآویز ہنگامہ ہے جس کی تابانی اور درخشانی آنکھیں خیرہ کیے دیتی ہے۔

    زربفت و کم خواب نے درودیوار میں ایک آگ سی لگا رکھی ہے۔ ایران و ترکستان کے رنگا رنگ قالینوں نے زمین کو گلزار بنا دیا ہے۔ دروازوں پر چین و ما چین کے خوش نگار پردے کسی طلسم کی رازداری کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ جھاڑ، فانوس، قمقموں اور قندیلوں سے وسیع ایوانوں کی چھیں دنیائے شعر کا آسمان نظر آ رہی ہیں۔

    حرم سرا کے وسیع   صحن میں دن کا وہ ہنگامہ تو نہیں رہا جو تلادان اور دوسری ریتوں رسموں کے وقت برپا تھا۔ تاہم گہما گہمی کا اب بھی عجب عالم ہے۔ نادرہ کار آتش بازوں کی ہنر مندی کے نئے نئے نمونے جمع ہیں۔ شتابہ دکھانے میں صرف ظل الٰہی کے باہر آنے کا انتظار ہے۔ مقربین باری باری ظل الٰہی کے برآمد ہونے کی خبریں لا رہے ہیں جو کوئی اندر سے آتا ہے۔ اس کے گرد ایک ہجوم جمع ہو جاتا ہے زہرہ جمال بیگمیں، اور شہزادیاں ہلکے ہلکے رنگوں کی خوش   وضع شلواروں پر جھلمل جھلمل کرتی پشوازیں پہنے، بیش قیمت جواہرات سجائے ۔ کوئی شبنم کا دو پٹہ اوڑھے، کوئی سر پر کلغی دار بانگی پگڑی رکھے باغ ارم کی تیتر یاں معلوم ہورہی ہیں۔ بہت سی انتظار میں بے قرار کھڑی ہیں ۔ جو تھک چکی ہیں وہ بیٹھ گئی ہیں۔ کوئی ٹولی آپس میں ہاتھ پکڑے ٹھمک ٹھمک چلی آرہی ہے۔ کوئی بے فکری کسی ہجوم میں بیٹھی قہقہے چہچہے اڑا رہی ہے۔ کہیں پہیلیاں مکرنیاں کہی جارہی ہیں۔ کوئی بیٹھی اڑتی اڑاتی خبریں اور لطیفے سنا رہی ہے۔ کہیں سوانگ بھرا جا رہا ہے۔ دیکھنے والیوں کا ٹھٹھ لگ رہا ہے۔ کسی جگہ ناچ رنگ کی محفل بر پا ہے۔ ڈھولک ،ستار، طنبورہ اور طبلہ کھڑک رہا ہے۔ کسی جگہ شام کی ریتیں اور رسمیں ادا ہورہی ہیں۔ نیاز دی جارہی ہے۔ حصے تقسیم کیے جارہے ہیں ۔ آؤ لے جاؤ کا غل مچ رہا ہے۔ حبشنیاں۔ ترکنیاں اور قلما قنیاں اپنے اپنے شوخ رنگ لباسوں کی وجہ سے امتیاز کی جاسکتی ہیں۔ کنیزیں ترت ترت آجارہی ہیں۔ خواجہ سرا ادھر سے ادھر بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ کوئی اسے بلا رہا ہے۔ کوئی اسے پکار رہا ہے۔ کوئی خوان اٹھائے لیے جا رہا ہے۔ کوئی پان الائچی بانٹ رہا ہے۔ کوئی مہمان بیگموں کو شربت پلا رہا ہے ۔ اندر بچوں اوربچے والیوں نے غل مچارکھا ہے۔ باہر شاد یانوں نے تمام قلعہ سر پر اٹھا رکھا ہے۔

     لیکن اس ہنگامے کی آوازیں اندر شیش محل کے ایوان خاص تک نہیں پہنچتیں۔ وہاں اگر کوئی آواز ہے تو سر نائیوں اور شہنائیوں کی جو اتنے محتاط فاصلے پر بچائی جارہی ہیں کہ ان کے نشاط بخش نغمے خوش آیند لوری کی طرح ایوان میں پہنچ رہے ہیں۔ جگہ جگہ نئی وضع کے یک شاخوں ، دوشاخوں اور فانوسوں میں لمبی لمبی ، کوئی سیدھی، کوئی بل کھاتی ہوئی سفید اور رنگین کا فوری شمعیں روشن ہیں۔ زریں وسیمیں مجمروں میں سے عود وعنبر اور روح افزا کے نکہت بیز بادل اٹھ رہے ہیں اور آئینوں میں روشنیاں منعکس ہونے سے جو چکا چوند پیدا ہورہی ہے اس میں مل جل کر تمام ایوان پر عالم خواب کی سی کیفیت طاری کر رہے ہیں ۔

     یہاں اکبر ایوان کے پرلے کونے میں ایک مرصع تخت پر جو تین سیٹرھیاں اونچا ہے زریں تکیوں کے سہارے نیم دراز ہے۔ ماتھے پر تلک ہے۔لباس سادہ مگر جواہرات انمول، ور لی طرف سلیم پر تکلف لباس پہنے سج دھج نکالے گلزار شباب کا نو شگفتہ پھول ایک نسبتاً نیچے تخت پر دوزانوں بیٹھا ہے۔ اکبر کے دائیں ہاتھ ایک تخت پر رانی بیٹھی ہے۔ بائیں ہاتھ ایک لمبے سے تخت پر مالا ئیں۔ دوشالے، دوپٹے اور دوسرے بیش قیمت تحفے سلیقے سے چنے ہوئے ہوئے ہیں۔ ادھر ادھر بیگمیں اور شہزادیاں چوکیوں اور فرش پر مودب بیٹھی ہیں ۔ ان کے پیچھے تر کنیاں اور قلما قنیاں سونے اور روپے کے عصا ہاتھ میں لے کر بت بنی کھڑی ہیں۔

    یہاں اکبر اعظم سلیم سے شطرنج کھیل رہا ہے۔ ایوان کے فرش پر بساط بچھی ہے جس پر نو جوان اور حسین کنیزیں مہرے بن کر کھڑی ہوئی ہیں اور اپنے سر کے لباس سے شناخت کی جاسکتی ہیں۔ جو کنیز جس کا مہرہ بنی ہوئی ہے اس پر نظر جمائے اس کے اشارے کی منتظر ہے۔ جو پٹ چکی ہیں وہ بساط کے کنارے خاموش بیٹھی ہیں۔ اکبر کے پیچھے دلارام مہتمم کی حیثیت سے کھڑی ہے لیکن نظریں کہہ رہی ہیں کہ اس کا دماغ اس کھیل سے کسی زیادہ اہم کھیل کی چالیں سوچنے میں منہمک ہے۔

     اکبر:           تم نے ہمارا فرزین لے لیا .....فرزین لے لیا ہمارا .....بہت خوب! .....پھر اب تمہیں مات بھی لینی ہوگی..... سنا شیخو ! اب تمہیں مات بھی لینی ہوگی۔ہے! پیدل کی کشت.....

    (جو کنیز پیدل بنی ہوئی ہے اشارہ پاتے ہی چھن چھن کرتی چلتی ہے اور اگلےخانے میں جا کھڑی ہوتی ہے)

    سلیم:           (مسکرا کر) ظل الہٰی۔ اب بازی ہو گئی آپ کو ۔ میں شاہ کو آگے ہی بڑھ کر بچا۔ (جو کنیز شاہ بنی ہوئی ہے۔ حکم کی تعمیل میں حرکت کرتی ہے )

    اکبر:           ہوں ! تو اب تم ہمارے چنگل سے نہیں نکل سکتے ۔ اسپ شاہ کے سامنے۔

                   (اسپ اس خانے میں جاتا ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے)

                   دیکھا شیخو۔ پیدال پر زور پہنچا اور تمہارے وزیر کو بھی ہلنا پڑا۔

    سلیم:           ظل الہٰی۔ میرا مات کا نقشا اور صاف ہو گیا۔ فرزین پیچھے تیسرا خانہ۔

                   (فرزین پچھلے تیسرے خانے میں جاتا ہے)

    اکبر:           (مسکراتے ہوئے) ہم سمجھتے ہیں تم کس فکر میں ہو..... فیل کنارے کا تیسرا خانہ۔

    سلیم:           رخ پر! یہ رخ مرنے کو نہ بیٹھے گا۔ یہ مات دینے جا رہا ہے۔ کونے کا خانہ۔

                   (سلیم یہ سمجھ کر کہ اکبر کے لیے مات بچانا ناممکن ہے اٹھ کھڑا ہوتا ہے) ظل الہٰی بازی ہو گئی۔

                   جب شیخو خود چال چلو تو اس کے ساتھ دوسرے کی چال کا بھی خیال رکھا کرو۔ ادھر دیکھو! فیل۔ کشت۔ مات (سلیم اس غیر متوقع چال پر حیرت کے عالم میں تخت پر بیٹھ جاتا ہے) اب اچنبھے میں نہ پڑو۔ افسوس نہ کرو۔ ہم خوش ہیں کہ تمہارا کھیل ہماری توقع سے بہت بہتر تھا۔ (سلیم جھک کر تسلیم بجا لاتا ہے)

                   (کافور داخل ہوتا ہے)

                   مہابلی۔ آتش بازی میں شتابہ دکھانے کو صرف ارشاد کا انتظار ہے۔ شیخو آؤ۔ ہمارے ساتھ آتش بازی کا نظارہ کرو۔

                   (اکبر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی تمام بیگمات اور شہزادیاں مودب کھڑی ہو جاتی ہیں۔ باہر بلند آواز سے تاشے باجے بجنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اکبر تخت پر سے اترتا ہے۔ عصا بردار بڑھ کر پردے کھول دیتے ہیں۔ آگے آگے عصا بردار ان کے پیچھے اکبر اور بعد میں رانی، سلیم اور دوسری بیگمات اور شہزادیاں باہر جاتی ہیں۔ سب سے آخر میں وہ کنزیں جاتی ہیں جو مہرے بنی ہوئی تھیں۔ اندر دیوان میں دلا رام تنہا تخت کی سیڑھیوں پر کھڑی رہ جاتی ہے۔ باہر سے شور و غل اور نعروں کی آوازیں آتی ہیں۔ کچھ دیر خاموشی رہتی ہے پھر چونک کر چار مرتبہ تالی بجاتی ہے۔ چار خواجہ سرا داخل ہوتے ہیں)

                   بازی ہو چکی۔ بساط بڑھاؤ۔

                   (خواجہ سرا بساط کو تکلف سے تہ کرتے اور لے جاتے ہیں۔ ان کے رخصت ہو جانے کے بعد دلارام آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی اس جگہ آ کھڑی ہوتی ہے۔ جہاں بسا ط بچھی ہوئی تھی)

                   اور اب نیا کھیل اور نئے کھلاڑی۔ نئے مہرے اور نئی بازی!

                   (باہر آتش بازی چلنی شروع ہو گئی ہے اور شور و غل بڑھ رہا ہے)

                   مہرے فرش پر اور کھلاڑی عرش پر! (چپ ہو جاتی ہے اور سامنے تکنے لگتی ہے)

                   (کھلے دروازے میں سے آتش بازی کی سبز روشنی آ آ کر اس کے چہرے پر کانپ رہی ہے۔)

                   یا کو جانے مہرے عرش پر اور کھلاڑی فرش پر۔ (تصورات منہمک کر لیتے ہیں)

                   (یک لخت لال۔ ہری اور پیلی روشنیاں اس پر پڑتی ہیں۔ رنگا رنگ کی آتش بازی چھوٹنے پر باہر داد و تحسین کا شور زیادہ ہو رہا ہے۔)

                   لیکن بازی بازی! آج ہی۔ یہیں۔ ابھی ۔ اور پھر جو ہو! (چہرہ اونچا کرکے آنکھیں بند کر لیتی ہے)

                   (باہر تاشے ڈھول اور جھانجھیں بج رہی ہیں)

                   (عنبر اور مروارید داخل ہوتی ہیں)

    عنبر:           دلارام!

    مروارید:       یہاں کیا کر رہی ہو۔ چلو آتش بازی کا تماشا دیکھو۔

    دلارام:         (سکون سے) اس سے بہتر آتش بازی کچھ دیر بعد یہاں ہو گی۔

    عنبر:           (حیران ہو کر) آتش بازی! یہاں ایوان خاص میں؟

    مروارید:       وہ کیسی؟

    دلارام:         وقت مشعل لیے ہوئے آ رہا ہے۔ کچھ دیر بعد خود دیکھ لو گی۔

    عنبر:           کچھ بتاؤ تو سہی۔

    دلارام:         خاموش رہو اور انتطار کرو۔

    مروارید:       آخر ہے کیا؟

    دلارام:         (دروازوں کی طرف دیکھ کر) چپ۔ پہلے ادھر آؤ۔ منہ سے کچھ نہ بولو۔ جو کچھ میں کہتی ہوں کرتی جاؤ۔ (سلیم کا تخت اٹھا کر دوسری طرف رکھواتی ہے) مروارید تم یہاں بیٹھو۔ (دروازے پر ایک نظر ڈال کر مروارید کو تخت پر بٹھا دیتی ہے)۔ عنبر۔ تم یہاں کھڑی ہو۔ (اسے ایوان کی بیچوں بیچ کھڑا کر دیتی ہے اور خود جا کر اکبر کے تخت کی سیڑھیوں پر کھڑی ہو جاتی ہے اور سر آگے پیچھے کرکے آئینوں کو دیکھتی ہے۔ بے اطمینانی سے سر ہلاتی ہے۔ سیڑھیوں پر سے اتر آتی ہے) ٹھیک نہیں ٹھیک نہیں۔ یقینی نہیں۔ عنبر یہاں آنا۔ (پچھلی دیوار کے ساتھ ایک بڑا جلی آئینہ کھڑا ہے۔ عنبر کی مدد سے اسے سرکاتی ہے) مروارید اس تخت کو ادھر سرکاؤ۔ عنبر تم پھر اپنی پہلی جگہ کھڑی ہو جاؤ۔ (پھر تخت کی سیڑھیوں پھر چڑھتی اور غور سے کبھی آئینے اور کبھی سلیم کے تخت کو دیکھتی ہے۔ چہرے پر اطمینان کے آثار نمودار ہوے ہیں) بہت خوب! بہت خوب! آجاؤ۔ (تینوں پھر ایوان کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہیں۔ دلارام مسرور نظر آتی ہے۔ عنبر اور مروارید حیران ہیں)

                   (آتش بازی کی روشنیاں تمام ایوان میں ناچ رہی ہیں)

    عنبر:           یہ کیا بات ہوئی۔ ہماری سمجھ میں تو خاک بھی نہیں آیا۔

    دلارام:         یہاں کچھ بھی نہیں جو دیکھو اور سمجھو۔ سب کچھ فضا میں ہے۔ تاروں میں ہے لیکن اتر رہا ہے۔ نیچے آرہا ہے۔ میں دیکھ رہی ہوں۔ صاف صاف دیکھ رہی ہوں۔ اترے گا۔ اور یہیں۔ ٹھیک اسی جگہ۔ اور آج ہی کی رات میں۔ اور پھر تم ہی کو نہیں۔ ہر ایک کو نظر آئے گا۔

    مروارید:       یہ تم کبھی کبھی کیسی پگلوں کی سی باتیں کرنے لگتی ہو۔

    دلارام:         (یک لخت) عنبر مروارید سنو۔ میرے حجرے میں جاؤ۔یہ رہی کنجی (چابی مروارید کو دیتی ہے) وہاں طاق میں ایک عرق کا شیشہ رکھا ہے۔ جا کر لے آؤ۔

    عنبر:           (دلارام کا منہ تکتے ہوئے) کیسا عرق؟

    دلارام:         اور دیکھنا کوئی دیکھ نہ لے۔ کسی کو معلوم نہ ہونے پائے۔ (عنبر مروارید گومگو کے عالم میں دلارام کا منہ تک رہی ہیں)

                   (باہر تاشوں باجوں کے غل میں گولے چھوٹ رہے ہیں اور ہر گولے کے بعد تماشائیوں کا نعرہ تحسین دنائی دیتا ہے)

                   (سلیم جلدی جلدی قدم اٹھاتا ہوا دخل ہوتا ہے)

    سلیم:           دلارام!

    دلارام:         صاحب عالم!

    سلیم:           تم مصروف ہو؟

    دلارام:         کوئی مصروفیت بھی صاحب عالم کی خدمت سے زیادہ نہیں (عنبر مروارید سے) جاؤ جو کچھ میں نے منگایا ہے۔ بہت احتیاط سے لے کر آؤ۔

                   (عنبر اور مروارید چلی جاتی ہیں)

    (سلیم سے) میں تعمیل ارشاد کو حاضر ہوں۔

    سلیم:           (شرما کر) کچھ نہیں میں انارکلی کو پوچھتا تھا۔

    دلارام:         رقص و سرود کے لیے آیا چاہتی ہے۔

    سلیم:           (کسی قدر تامل سے) اور رقص و سرود کے بعد؟

    دلارام:         جو آپ کا فرمان ہو۔

    سلیم:           (ذرا دیر دلارام کو دیکھ کر جو تسلیم و رضا کی تصویر نظر آرہی ہے) دلارام میں نہیں جانتا تمہارے احسانوں کا شکریہ کیوں کر ادا کروں۔ انعام تم قبول نہیں کرتیں۔ شکریے کے موزوں الفاظ مجھے ملتے نہیں۔ مجھے گمان تک نہ تھا کہ تم۔ جس سے مجھے طرح طرح کے اندیشے تھے ایک روز یون میرے اور انارکلی کے درمیان واسطہ بن جاؤ گی۔ خود میری اور اس کی ملاقاتوں کے موقعے نکالو گی۔ حرم سرا میں میری سب سے بڑی راز دار ہو گی۔

    دلارام:         صاحب عالم بھولتے ہیں کہ ان کے پاس میری ایک بہت بڑی حماقت کا راز ہے۔

    سلیم:           تم کیوں اپنے احسانوں کو معاوضہ کا رنگ دیتی ہو۔

    دلارام:         صاحب عام کی خوشنودی میرا ایمان ہے۔

    سلیم:           لیکن دلارام اب تک مجھے حجاب معلوم ہوتا ہے جب میں تم سے .....

    دلارام:         (مطلب سمجھ چکی ہے) آپ کے کہنے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ ظل الہٰی کے حضور میں رقص و سرود ہو چکنے کے بعد جب انارکلی فراغت پا جائے گی تو ..... (رک جاتی ہے)

    سلیم:           دلارام! (کسی قدر حجاب سے) تم کتنی عالی ظرف ہو۔

    دلارام:         میں صرف کنیز ہوں۔ (سر جھکا لیتی ہے۔ دونوں خاموش ہیں۔ سلیم شرمایا ہوا سا ہے)

                   (باہر شہنائیاں بج رہی ہیں اور غبارے چھوڑے جا رہے ہیں۔ شور و غل کسی قدر کم ہو گیا ہے)

    سلیم:           (کچھ دیر بعد) تم نے انارکلی کو آج دیکھا ہے؟

    دلارام:         (اس کا سنگار آج توبہ شکن ہے سونے میں پیلی موتیوں میں سفید ہو رہی ہے۔

    سلیم:           (اشتیاق سے) کب تک آئے گی؟

    دلارام:         ظل الہٰی کے تشریف لاتے ہی۔ لیکن صاحب عالم مجھے اندیشہ ہے آج آپ ظل الہٰی کے سامنے بھی ضبط سے کام نہ لے سکیں گے۔

    سلیم:           تم مجھے ابھی سے بے قابو کیے دے رہی ہو۔

    دلارام:         لیکن آپ بے فکر رہیں۔ میں خود مناسب انتظار کر لوں گی۔ کنیزیں .....

                   (ثریا داخل ہوتی ہے)

    ثریا:            صاحب عالم تسلیم!

                   (سلیم جواب میں مسکرا کر سر ہلاتا ہے۔ ثریا دلارام کو دیکھ کر کبیدہ سی ہو جاتی ہے)

    سلیم:           (محض بات کرنے کی خاطر) ثریا انارکلی کہاں ہے؟

    ثریا:            ابھی آتی ہیں۔

    دلارام:         (ثریا کے آجانے سے بے چین سی ہے۔ ذرا توقف کے بعد) میں جاؤں اسے جلد پہنچنے کی تاکید کروں۔ (جلدی سے چلی جاتی ہے)

    ثریا:            (دلارام کے اوجھل ہوتے ہی) صاحب عالم دلارام آپ سے کیا کہہ رہی تھی؟

    سلیم:           (مسکرا کر ) کچھ نہیں۔

    ثریا:            (فکرمندی سے) صاحب عالم کو اس پر بہت زیادہ بھروسا ہو گیا ہے۔

    سلیم:           تم بہت بدگمان ہو ثریا۔

    ثریا:            میں اس سے بہت زیادہ واقف ہوں۔

    سلیم:           اس لیے تم اس کی قدر نہیں کر سکتیں۔

    ثریا:            اور کیا اسی لیے وہ مجھ سے کتراتی ہے۔

    سلیم:           ایسی حالت میں وہ اس کے سوا اور کر بھی کیا .....

                   (زعفران اور ستارہ اندر آ کر کورنش بجا لاتی ہیں۔ دونوں نے اس تکلف سے سنگار کر رکھا ہے کہ شرمائی جاتی ہیں)

                   اخاہ ! آج تو بڑے ٹھاتھ ہیں زعفران۔

    ستارہ:          زعفرانی جوڑا پہن کر نکلی ہیں کہ کسی کو نام بھول جائے تو یاد پر زور نہ دینا پڑے۔

    زعفران:       (شوخی سے) خیر مانگے تانگے کا دوپٹہ تو نہیں اوڑھ رکھا۔

    سلیم:           ستارہ گھرکا بھیدی لنکا ڈھانے لگا۔

    ستارہ:          اے حضور بکتی ہے۔ دوپٹہ دیکھ دیکھ کر جلی جا رہی ہے۔

    زعفران:       لو اب میری زبان نہ کھلواؤ۔ (ستارہ کی تھوڑی پکڑ کر اس کا منہ ثریا کی طرف کر دیتی ہے)

    ثریا:            (اپنے خیال میں تھی۔ یک لخت دیکھتی ہے کہ سب اس کی طرف متوجہ ہیں۔ جلدی سے)

                   نہ بوا مجھے بیچ میں نہ گھسیٹو۔

    ستارہ:          (زعفران سے)بس!

    زعفران:       بس کیا! تو انہوں  نے کون سا انکار کر دیا ہے۔

    سلیم:           ثریا یہ معما تو تمہیں ہی حل کرنا ہو گا۔ بتانا پڑے گا۔ یہ دوپٹہ کس کا ہے؟

    زعفران:       (ثریا کو آنکھ مار کر) ہاں ثریا بی!

    ثریا:            (شوخی سے) یہ اتنا شرماتی ہیں۔ تو پھر ان ہی کا سہی۔

    زعفران:       (چٹکیاں بجا بجا کر) آہاہاہاہا۔ بھانڈا پھوٹ گیا۔

    ستارہ:          (ثریا سے) اچھا ٹھہرو تو قطامہ! (ثریا کی طرف بڑھتی ہے)

                   (ثریا ہنسی ہوئی بھاگ جاتی ہے۔ ستارہ منہ پھلا کر کھڑی ہو جاتی ہے)

    سلیم:           چلو۔ ہم کسی سے کہنے کے نہیں۔ غصہ تھوک دو۔

    زعفران:       (نیچے جھک کر ستارہ سے آنکھیں چار کرتی ہے) سو دن سنار کے ایک دن لوہار کا۔

                   (کافور داخل ہوتا ہے)

    کافور:          صاحب عالم آتش بازی ہو چکی۔ ظل الہٰی آپ کو یاد فرما رہے ہیں۔

    سلیم:           میں حاضر ہوا۔

                   (جلدی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ کافور چلنا چاہتا ہے)

    زعفران:       بی کافور ذرا بات تو سنو۔

    ستارہ:          (زعفران کی نظروں میں شوخی دیکھ کر مدعا سمجھ جاتی ہے) بی کافور آج تو بڑا جو بن نکالا ہے۔ (کافور مسکرا کر تھم جاتا ہے)

    زعفران:       پھر کیوں نہ ہو۔ کپڑا لتا آخر ہوتا کس دن کے لیے۔ کیوں بی کافور؟

    کافور:          بیٹی میرا نیا جوڑا تو موئی مبارک قدم نے سی کر ہی نہ دیا۔ مجبوری کو یہ پانا جوڑا پہننا پڑا۔

    ستارہ:          کیوں نہیں۔ دارم چرا نہ پوشم۔

    زعفران:       مگر بی کافور یہ گنگا جل پر گوش پیچ کی گوٹ تو ٹاٹ کی انگیا مونچھ کا بخیہ ہو گئی۔ تم اپنا نیا جوڑا مبارک قدم سے لے کر مجھے جو دے دو۔ کل پہننے کے لیے راتوں رات سی دوں گی۔

    کافور:          اے بیٹی تم جگ جگ جیو جو مجھ بڑھیا کا خیال رکھتی ہو۔

    زعفران:       پر ایک شرط ہے(کافور اشتیاق سے زعفران کا منہ تکتا ہے) رات کو چہرے پر تھوڑی سی قلعی کروا رکھنا ۔(زعفران اور ستارہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑتی ہیں)

    کافور:          نامراد چڑیل کہیں کی۔

                   (زعفران ستارہ کافور کا چڑا کر بھاگ جاتی ہیں)

                   ٹھہر تو تو سرمونڈی ناک کاٹی۔

                   (دلارام جلد جلد قدم اٹھاتی ہوئی آتی ہے)

                   (کافور اسے دیکھ کر گھبرا جاتا اور لجاجت سے مسکرا کر رخصت ہونا چاہتا ہے)

    دلارام:         بی کافور تم یہاں کیا کر رہی ہو؟

    کافور:          کچھ نہیں بیٹی۔ سجاوٹ دیکھنے کو کھڑی ہو گئی تھی۔ واہ واہ کیسے سلیقے سے آرایش کی ہے۔ یہ با ت بھلا کسی اور میں کہاں سے آئی۔

    دلارام:         خاموش۔ ظل الہٰی

                   (کافور گھبرا کر رخصت ہو جاتا ہے۔ دلارام سارے ایوان پر ایک نظر ڈال کر اپنا اطمینان کر لیتی ہے۔ پھر ظل الہٰی کے استقبال کو مڑنا چاہتی ہے کہ عنبر اور مروارید داخل ہوتی ہیں)

    عنبر:           دلارام۔ یہ رہا عرق

    دلارام:         ساتھ کے حجرے میں چھپا کر رکھ دو اور میرے اشارے کی منتظر رہو۔

                   (عنبر اور مروارید جلدی سے دوسری طرف جاتی ہیں۔ دلارام دروازے کی طرف بڑھی ہے۔ نفیر یون کی آواز تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ عصا بردار داخل ہو کر اپنے اپنے مقام پر مودب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے دو دروازے کے دائیں بائیں ٹھہرتے ہیں، اکبر، رانی، سلیم، شہزادیاں اور بیگمات داخل ہوتی ہیں۔ سب کے داخل ہو چکنے کے بعد ایوان کے پردے کھینچ   دیے جاے ہیں۔ اکبر تخت کی سیڑھیوں پر چڑھ کر ایک لمحے کو ایوان پر نظر ڈالتا ہے اور پھر بیٹھ جاتا ہے۔ باجے زور زور سے آخری مرتبہ بج کر بند ہوجاتے ہیں اور دور فاصلے کی شہنائیاں اور سرنائیاں بجنی شروع ہو جاتی ہیں۔ بیگمات اور شہزادیاں کورنش بجا لا کر چوکیوں اور فرش پر بیٹھ جاتی ہیں۔ کنیزیں دست بستہ کھڑی رہتی ہیں۔ ایک خواجہ سرا تحائف کے تخت کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔)

                   (سلیم رانی کے تخت کے قریب ایک چوکی پر بیٹھنا چاہتا ہے)

    دلارام:         (آہستہ سے) صاحب عالم!

    سلیم:           (دلارام کے قریب آجاتا اور سرگوشی میں باتیں کرتا ہے) کیوں؟

    دلارام:         (تخت کی طرف اشارہ کرکے) یہاں ظل الہٰی سے اوٹ ہے۔

    سلیم:           پھر؟

    دلارام:         یہاں آنکھیں اور اشارے آزادی سے کام کر سکتے ہیں۔

    سلیم:           (مسکرا کر اس تخت پر بیٹھ جاتا ہے جو دلارام نے اس کے لیے مخصوص کر رکھا ہے) انارکلی ابھی تک نہیں آئی؟

    دلارام:         آیا ہی چاہتی ہے۔

    سلیم:           کہاں بیٹھے گی؟

    دلارام:         (آنکھ سے اشارہ کرکے) اس طرح۔

    سلیم:           عین مقابل ؟

    دلارام:         صاحب عالم کی خوشنودی میرا ایمان ہے۔

    اکبر:           (اس دوران میں رانی سے گفتگو کر رہا تھا۔ بات ختم کرنے کے بعد ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ سلیم کہاں ہے۔ شیخو!

    سلیم:           (کھڑے ہو کر) ظل الہٰی؟

    اکبر:           اتنی دور کیوں؟

    سلیم:           ظل الہٰی وہ .....

    دلارام:         صاحب عالم علیل تھے۔ اس لیے کنیز نے علیحدہ جگہ رکھی ہے کہ جب چاہیں باہر آ سکیں۔ ہاں اب رقص! (سلیم آنکھوں آنکھوں میں دلارام کا شکریہ ادا کرکے بیٹھ جاتا ہے)

                   (رقاصہ لڑکی داخل ہوتی اور رقص شروع کرتی ہے۔ رقص میں رادھا کا جذبات فراق اور شیام کے انتظار میں اس کی بیتابیوں کا نہایت موثر اظہار ہے۔ رقص کے دوران میں عنبر اور مروارید واپس آتی ہیں۔ دلارام سرگوشیوں میں ان سے گفتگو کرتی ہے۔

    رقاصہ جب ناچتی ناچتی اکبر کے قریب پہنچتی تو وہ اس خواجہ سرا کو اشارہ کرتا ہے جو تحائف کے تخت کے قریب کھڑا ہے۔ وہ تخت پر سے اک دوشالہ لے کر اکبر کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اکبر دوشالہ رقاصہ کی طرف پھینکتا ہے۔ رقاصہ اسے اٹھا کر دو زانو ہو جاتی ہے۔ اور سر جھکا کر دائیں ہاتھ کی پشت زمین سے لگاتی اور پھر آہستہ آہستہ پیشانی تک اٹھاتی ہے)

    دلارام:         (اس دوران میں عنبر سے) تم اور کنیزوں کو ساتھ لے کر صاحب عالم کی نشست کو ظل الہٰی سے اوٹ میں کر لو اور میرے اشارے کی منتطر رہو۔ (عنبر دلارام کے کہے کی تعمیل کرتی ہے)

                   (انارکلی اس کی ماں، ثریا، زعفران اور ستارہ داخل ہو کر کورنش بجا لاتی ہیں۔ انارکلی دلارام کے بیان کے مطابق نک سے سک بناؤ سنگار کیے شعلہ جوالہ معلوم ہو رہی ہے۔ دلارام اسے دیکھتے ہی دوسری طرف اس کے قریب جاتی ہے)

    اکبر:           ہاں تم انارکلی! ماہ کامل کو ننھے ستاروں پر فتح کرنے کے لیے ہالے کی ضرورت نہیں۔ تو پھر اے نازنین یہ زرق برق پوشاک کس لیے؟

                   (انارکلی شرما جاتی ہے اور اٹھ کر مجرا بجا لاتی ہے)

    زعفران:       (آہستہ سے دلارام سے) اری کم بخت اب کہہ بھی۔

    دلارام:         کیا بکتی ہے چڑیل۔اب انارکلی گائے گی۔

    ستارہ:          انارکلی کے بعد ہمارا رقص کیا خاک جمے گا۔

    دلارام:         پھر جانے دو۔

    زعفران:       واہ۔ بڑی آئیں منتظم بن کر کہیں کی۔ ابھی کچھ کہتی ہوں۔

                   (دلارام زعفران کو غصہ کی نظروں سے دیکھ کر خاموش کرنا چاہتی ہے)

    اکبر:           کیا ہے زعفران؟

    زعفران:       مہابلی! ایک رقص کی لونڈیاں بھی امیدوار ہیں۔

    اکبر:           کیسا رقص؟

    زعفران:       بہن انارکلی نے اس کا نام رقص ما کیاں رکھا ہے۔

    اکبر:           (مسکرا کر) رقص ماکیاں ؟ تم نے انارکلی۔

                   (انارکلی شرمائی ہوئی کھڑی ہو کر مسکرا پڑتی اور مجرا بجا لاتی ہے)

                   تم کو اجازت ہے زعفران

                   (زعفران اور ستارہ رقص کی تیاری کرتی ہیں۔ سلیم ثریا کو اشارے سے بلاتا ہے۔ ثریا ادھر ادھر دیکھتی ہے۔ ایک خواجہ سرا خاصدان لیے کھڑا ہے۔ خاصدان اس کے ہاتھ سے لے لیتی ہے اور پان پیش کرنے کے بہانے سلیم کے پاس جاتی ہے۔ سلیم سرگوشیو ں میں گفتگو کرتا ہے۔)

    سلیم:           انارکلی مجھ سے ناراض ہیں؟ (خاصدان میں سے پان کا بیڑا لیتاہے)

    ثریا:            وہ کیو ں ناراض ہوتیں؟

    سلیم:           آنکھ اٹھا کر بھی ادھر نہیں دیکھا؟

    ثریا:            دیکھتے نہیں ظل الہٰی موجود ہیں۔

    سلیم:           مگر ہ بھی تو دیکھو۔ میں کس جگہ بیٹھا ہوں۔

    ثریا:            وہ تو ٹھیک ہے سامنے ہیں۔

    سلیم:           جاؤ میرا سلام کہہ دو۔

                   (ثریا واپس جا کر خاصدان خواجہ سرا کو دے دیتی ہے اور انارکلی سے کان میں بات کرتی ہے۔ انارکلی سلیم کی طرف دیکھ کر نظریں جھکا لیتی ہے۔ زعفران ستارہ رقص شروع کرتی ہیں۔ رقص میں دو لڑاکا بہنوں کے تعلقات کا اظہار ہے۔ جن کی کبھی بنتی کبھی بگڑ جاتی ہے۔ بنتی تھوڑی اور بگڑتی زیادہ ہے۔ ذرا کمر میں ہاتھ ڈالا اور گلے ملیں۔ رخسار سےرخسار ملایا اور بگاڑ کی کوئی وجہ پیدا ہو گئی۔ ایک نے دوسری کا زیور دیکھ کر منہ برا سا بنا لیا۔ اس نے جواب میں منہ چڑ دیا۔ بس مرغیوں کی طرح ایک دوسرے سے گتھ گئیں۔ اس نے اس کے چٹکی بھری۔ اس نے اس کی چٹیا کھینچی۔ خوب لڑائی ہوی۔ ایک ہار گئی۔ دوسری جیت کر ہنس پڑی۔ ذرا دیر میں ہنسنے والی کو رحم آیا۔ روتی بہن کو جا منایا۔ آنسو پونچھے گلے لگایا۔ صلح صفائی ہو گئی۔ اب رونے والے نے آرسی دیکھی۔ ناز سے بھویں چڑھائیں۔ پھر بہن کے سامنے آرسی یوں کر دی گویا کہہ رہی ہے اپنی صورت تو دیکھو ۔ اس پر دوسری جل گئی۔ پھر لڑئی کی ٹھن گئی۔ اس نے چپٹ جڑی اس نے کاٹ کھایا۔ خوب جوتی پیزار ہوئی۔ غرض بار بار یوں ہی بنتی بگڑتی رہی۔ یہاں تک کہ دونوں بے دم ہو کر گر پڑیں)

                   (تمام محفل نے ہنس ہنس کر اس رقص کی داد دی)

    اکبر:           یہ رقص انعام کا مستحق ہے۔

                   زعفران اور ستار ہ تخت کے قریب جاتی ہیں۔ اکبر انہیں بیش قیمت دوشالے انعام میں دیتا ہے۔ دونوں دوزانو ہو کر شکریہ ادا کرتی ہیں)

    دلارام:         (سلیم سے) صاحب عالم اس رقص کا نام بھی انعام کا مستحق تھا۔

    سلیم:           (کھڑے ہو کر) ظل الہٰی اس رقص کا نام بھی انعام کا مستحق ہے۔

    اکبر:           تم نے درست کہا شیخو! انارکلی یہ داد تمہارے لیے ہے۔

                   (انارکلی اکبر کے قریب جاتی ہے۔ اکبر اسے بھاری کام کا دوپٹہ انعام میں دیتا ہے۔ انارکلی دوزانو ہو کر شکریہ ادا کرتی ہے)

                   اور اے فردوس کی بلبل تیرا نغمہ ہمیں کب تک منتظر رکھے گا؟

                   (انارکلی الٹے قدموں واپس آتی اور گانے کی تیاری شروع کرتی ہے)

    دلارام:         (مروارید سے آہستہ آواز میں) مروارید! جاؤ وہ عرق لے آؤ۔

    انارکلی:         (گیت شروع کرنے سے پہلے پھر آداب بجا لاتی ہے)

    کاہنڑا کا درباری

    شبھ دن شبھ گھڑی لگن مہورت

    بیٹھے تخت آج دلی نرپت رے

    نوکھنڈ بارہ منڈ گاوت کنین

    اندر جیوں برکھا موتی دان کر رے

    اٹل کر سی بنی بیٹھے چھتر دھاری

    ہیرا مونگا چونی پنا موتی لعل زر رے

    چاروں جگ جیو ہمایوں کے نندن

    شاہوں کے پت شاہ اکبر رے

    (گیت ختم کرکے پھر آداب بجا لاتی ہے)

    اکبر:           بے مثل۔ بے نظیر۔ گیت کے لفظوں کے لیے تیری آواز ایک شراب ہے۔ مگر اے جنت ارضی کی حور اب کوئی رقص۔ ہم اس شعلے کو بے قرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

    دلارام:         (آہستہ سے مروارید سے جو انارکلی کے گیت کے دوران میں عرق کا شیشہ لے کر واپس آگئی ہے) ادھر انارکلی کی طرف جاؤ اور رقص کے بعد جب وہ تھک کر پانی مانگے تو یہ عرق اسے پینے کے یہ دو۔

    (انارکلی رقص کی تیاری کر رہی ہے کہ مراورید عرق کا شیشہ رومال میں چھپائے اس کی ٹولی میں جا کھڑی ہوتی ہے)

    سلیم:           (دلارام کو اشارے سے قریب بلا کر) دلارام فاصلہ بہت ہے۔

    دلارام:         اس وقت غنیمت سمجھیے۔

    سلیم:           لیکن رقص و سرود کے بعد تو .....

    دلارام:         مجھے خیال ہے۔

    سلیم:           آہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی (آہ بھر کر) خدایا!

                   (انارکلی ناچتی ہے)

                   جنگل کی مورنی کا رقص جسے شکاریوں نے گھیر لیا ہے اور جس کا نر افراتفری میں اس سے بچھڑ گیا ہے۔ جان کے خوف سے بھاگنا چاہتی ہے۔ مگر نر کی محبت کھینچ لاتی ہے۔ سہمی ہوئی اپنے مور کو ڈھونڈ رہی ہے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گردن بڑھا بڑھا کر ہر طرف تکتی ہے مگر کہیں کھوج نہیں پاتی۔ پکارنا چاہتی ہے مگر خوف کے مارے آواز حلق سے باہر نہیں آتی۔ کھڑی کھڑی ہانپ رہی ہے اور کانپ رہی ہے۔ شکاری دم بہ دم قریب آرہے ہیں۔ عرصہ حیات تنگ ہو رہا ہے۔ وحشت بڑھتی جا رہ ہے۔ بے قابو ہو کر دوڑتی اور بے تاب ہو کر لوٹتی ہے۔ کشمکش نے ایک جنون کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ذرا دیر میں محبت بے بس کر ڈالتی ہے۔ نر کے بغیر زندگی اندھیرا نظر آتی ہے۔ سینہ پھلا کر شکاریوں کی طرف بڑھتی ہے سینے میں تیر لگتا ہے اور محبت کی ماری مورنی ڈھیر ہو جاتی ہے۔

                   سب مسحور ہو کر رقص دیکھ رہے ہیں ۔ انارکلی کے گرتے ہی کئی شہزادیاں اپنی جگہ سے اچھل پڑیں۔ سلیم گھبرا کر کھڑا ہو گیا لیکن ذرا دیر بعد جب انارکلی سر اٹھا کر کورنس بجا لائی تو اس رقص کے سحر نے داد تحسین کی صورت اختیار کر لی)

    اکبر:           یہ سحر تو نے کہاں سے سیکھا؟ اس حقیقت کا انکشاف تھا۔ فن کا کمال تھا۔ تیری بے قرار ساق بلوریں جب زمین سے مس کرتی تھی تو فاتح ہند کا قوی دل ایک ستار کے تار کی طرح جھنجھنا اٹھتا تھا۔ ہاں اور اس کمال پر اس کی عنایت خسروانہ تیرے دل کو ساکت کیے بغیر نہ رہے گی۔

                   (ہیروں کی ایک بیش قیمت مالا لے کر ہاتھ بڑھاتا ہے۔ انارکلی قریب جاتی ہے۔ اکبر وہ مالا خود اس کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ انارکلی بڑھ کر دامن کو بوسہ دیتی ہے)

    دلارام:         (سلیم سے سرگوشی میں) صاحب عالم کیا آپ اس رقص کی داد نہ دیں گے؟

    سلیم:           (یک لخت کھڑے ہو کر) ظل الہٰی! اجازت ہو تو اس رقص کی داد میں بھی دینا چاہتا ہوں۔

    اکبر:           تم کو اجازت ہے شیخو!

                   (انارکلی سلیم کی طرف آتی ہے۔ سلیم موتیوں کا ایک بیش قیمت کنٹھا اتار کر اسے دیتا ہے۔ انارکلی نظریں نیچی رکھ کر لے لیتی ہے)

    سلیم:           یہ تمہارے کمال کا انعام نہیں۔ اعتراف ہے۔

                   (انارکلی تسلیم بجا لاتی ہے)

    اکبر:           او ر اب ایک .....

    سلیم:           غزل ظل الہٰی

                   (انارکلی تعمیل ارشاد کی آمادگی میں سر جھکا دیتی ہے)

    اکبر:           شیخو تم نے ہمارے منہ سے بات چھین لی۔

    انارکلی:         پانی ثریا!

    مروارید:       (فوراً شیشہ میں سے عرق نکال کر) یہ لو۔

                   (انارکلی عرق پی لیتی ہے۔ دلارام غور سے اسے تک رہی ہے)

    دلارام:         (عنبر سے) عنبر وقت آگیا۔ صاحب عالم اوٹ کے خیال سے بے فکر ہیں۔ مگر ان کا عکس آئینے میں صاف صاف پڑ سکے۔ تم سب کچھ سمجھ چکی ہو؟

    عنبر:           کچھ فکر نہ کرو۔

    انارکلی:         (دوسری طرف مروارید سے) مروارید اس میں شراب کی سی بو تھی۔ یہ عرق کیسا تھا؟

    مروارید:       مفرح

    سلیم:           (ادھر دلارام سے) دلا رام غزل کے بعد ہم اٹھ جائیں گے۔ اور اس وقت اگر تم .....

    دلارام:         (انارکلی کو تکتے تکتے) انارکلی کو باغ میں .....

    سلیم:           آج تو حرم سرا کے سوا ہر جگہ تنہائی ہے۔

    دلارام:         میں خوف فکر میں ہوں۔ (دلارام انارکلی کی طرف جاتی ہے)

    انارکلی:         (ادھر ثریا سے) میرا سر تپ رہا ہے۔ میری رگوں میں کیا دوڑ رہا ہے۔

    دلارام:         (انارکلی کے قریب پہنچ کر آہستہ سے) صاحب عالم تم سے باغ کی تنہائی میں ملاقات کرنے کو بے تاب ہیں۔

                   (انارکلی نشہ کے ہلکے ہلکے اثر میں سلیم کی طرف دیکھ کر مسکرا پڑتی ہے)

    ثریا:            آپا اب جا بھی چکو۔

    دلارام:         انارکلی کون سی غزل گاؤ گی؟ (آہستہ سے) اس وقت تو فیضی کی غزل ’اے ترک غمزہ زن کہ مقابل نشستہ، بہار دے گی۔ ترک غمزہ زن موجود بھی ہے اور مقابل بھی ہے۔

    اکبر:           ہاں انارکلی!

                   (انارکلی نشہ میں کھوئی کھوئی سی کھڑی ہے۔ اس کی ماں اور ٹولی کی سب لڑکیاں اس تامل اور بے پروائی پر حیران ہیں)

    ثریا:            آپا سنا نہیں ظل الہٰی یاد فرما رہے ہیں۔

    دلارام:         (پھر آہستہ سے) اے ترک غمزہ زن کہ مقابل نشستہ

    ماں:           بیٹی اب غزل شروع کیوں نہیں کرتی۔ کیا انتظار ہے(توقف کے بعد) نادرہ!

    انارکلی:         (چونک کر آہستہ سے) جی اماں!

    دلارام:         (پھر آہستہ سے) اے ترک غمزہ زن کہ مقابل نشستہ (دلارام انارکلی کا ہاتھ تھام کر اسے میدان میں لے آتی ہے۔ چلتے وقت کان میں کہتی ہے) ترک غمزہ زن ہر روز یوں مقابل بیٹھا نہیں ملتا۔

    انارکلی:         (غزل شروع کرتی ہے۔ گانے کے دوران میں شراب کا نشہ تیز تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کی توجہ صرف سلیم کی طرف ہے۔ بہت جلد وہ بھول جاتی ہے کہ میرے اور سلیم کے سوا کوئی اور بھی محفل موجود ہے۔ اکبر آنکھیں بند کیے نیم دراز ہے۔ انارکلی کا رخ سلیم کی طرف ہے۔ اس لیے اس کا چہرہ اکبر،  رانی اور بیگموں سے اوجھل ہے لیکن جو شہزادیاں اور کنیزیں اسے دیکھ سکتی ہیں وہ اس کی نرت پر حیران ہیں اور ان کی نظریں بار بار بے اختیار اکبر کی طرف اٹھتی ہیں)

     

    غزل

    اے ترک غمزہ کہ مقابل نشستہ

    در دیدہ ام خلیدہ و در دل نشستہ

    (انارکلی ترک غمزہ کا اشارہ واضح طور پر سلیم کی طرف کرتی ہے۔ سلیم اتنے میں واضح اشارے سے گھبرا سا جاتا ہے)

    سلیم:           (کچھ دیر بے چین رہ کر آخر پیچھے دلارام کی طرف دیکھتا ہے) دلارام!

    دلارام:         (انارکلی کو تکتے تکتے) صاحب عالم!

    سلیم:           انارکلی یہ کیا کر رہی ہے؟

    دلارام:         میں خود حیرت میں ہوں۔

    انارکلی:         آرام کردۂ بنہاں خانہ و لم

                   خلقے دریں گماں کہ بہ محفل نشستہ

                   (انارکلی نہاں خانہ دلم میں اپنی طرف اشارہ کرکے نشستہ کا مخاطب پھر سلیم کو بناتی ہے۔ سلیم کی گھبراہٹ بڑھ رہی ہے اور وہ تخت پر باربار پہلو بدل رہا ہے)

    سلیم:           (نہیں رہا جاتا) دلارام اسے روکو (پریشان نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ کوئی اور تو نہیں دیکھ رہا)

    دلارام:         (انارکلی کو تکے تکتے) روک رہی ہوں۔ مگر وہ دیکھتی نہیں۔ اس کی نظریں آپ پر گڑی ہوئی ہیں۔

                   (سلیم آنکھ کے خفیف اشاروں سے ناخوشی ظاہر کرکے اسے روکنا چاہتا ہے)

    انارکلی:         من خوں گرفتہ نیستم امروز ورنہ تو

                   خنجر بدست و تیغ حمائل نشستہ

                   (انارکلی من کا اشارہ اپنی طرف اور نشستہ کا پھر سلیم کی طرف کرتی ہے)

    دلارام:         صاحب عالم آپ خود رو کیے۔ ظل الہٰی دیکھ لیں گے۔  

    سلیم:           میں اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں روک رہا ہوں۔ لیکن نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتی۔

    دلارام:         آپ واضح اشارے سے منع کیجیے۔ میں ظل الہٰی کے پاس جا کر ان کی توجہ کسی  دوسری طرف کیے دیتی ہیں۔ (دلارام عنبر سے سرگوشی کرکے اکبر کی طرف جاتی ہے)

    انارکلی:         خوباں شکستہ رنگ خجل ایستادہ اند

                   ہر جا تو آفتاب شمائل نشستہ

                   (انارکلی بے باک ہوتی جا رہی ہے۔ سلیم سراسیمگی کے عالم میں آنکھوں سے۔ سر کی حرکت سے۔ آنکھ کے اشارے سے اسے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

                   دلارام تخت پر اکبر کے پیچھے پہنچ کر اسے انارکلی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اکبر سنبھل کر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک نظر دلارام کا چہرہ دیکھتا ہے اور سب سمجھ کر انارکلی کی جرأت پر حیران رہ جاتا ہے۔ دلارام آئینے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس میں سلیم اشاروں سے انارکلی کو روکتا ہوا نظر آتا ہے۔ سازباز کے انکشاف پر اکبر سے نہیں رہا جاتا۔ غیظ و غضب کے عالم میں کھڑا ہو جاتا ہے)

    اکبر:           ہو

                   (اکبر کے کھڑے ہوتے ہی ساری محفل کھڑی ہو گئی۔ اور جشن پر سکوت مزار چھا گیا۔ انارکلی چونک کر اکبر کو دیکھتی ہے)

                   کافور!

    کافور:          ظل الہٰی

    اکبر:           اس بےباک عورت کو لے جاؤ اور زنداں میں ڈال دو۔

                   (کافور اشارہ کرتا ہے۔ خواجہ سرا بڑھ کر انارکلی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں)

    انارکلی:         مہابلی! مہابلی! (و ہ جیسے اضطراراً اکبر کی طرف دوڑتی ہے اور تخت کی سیڑھیوں پر سجدہ کرنے کی کوشش میں بے ہوش ہو کر گر پڑتی ہے۔ ثریا دوڑ کر بہن سے چمٹ جاتی ہے)

    انارکلی کی ماں:(سینہ تھامے ہوئے آگے آتی ہے) ظل الہٰی! خدا کا واسطہ!

    اکبر:           (دبے ہوئے غصے سے) خاموش بڑھیا!

    سلیم:           (اٹھ کر بیتابانہ اکبر کی طرف جاتا ہے) ظل الہٰی! ابا جان!

    اکبر:           (سلیم کو ہاتھ سے ایک طرف دھکیل دیتا ہے) ننگ خاندان!

    رانی:           (سلیم کی طرف بڑھنا چاہتی ہے) مہاراج!

    اکبر:           (ہاتھ اٹھا کر) خبردار!

                   (رانی اپنی جگہ سہم کر رہ جاتی ہے۔

                   دلارام اکبر کے پیچھے کھڑی ساکت نظروں سے جیسے افق کو تک رہی ہے۔)

    پردہ

     

    منظر اول

    اگلے روز سہ پہر کو سلیم کا مثمن برج والا ایوان

     سلیم کے عشق کا راز طشت از بام ہو چکا ہے۔ تمام قلعے میں اس کے اور انارکلی کے خفیہ تعلقات پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس نے خود صاف الفاظ میں اعتراف عشق کر لیا ہے۔ صبح سے اب تک انار کلی کی رہائی کے لیے اکبر کے حضور میں ہر ممکن ذریعے سے منتیں، خوشامدیں، التجائیں اور سفارشیں بھیجتا رہا لیکن بارگاہ اکبری میں رانی کے سوا کسی کو باریابی حاصل نہیں ہو سکی اور حسب امید وہ بھی مایوس چہرہ اور ملول نگا ہیں لے کر واپس آگئی ۔ ناامید ہوکر بختیار کو زبردستی داروغہ زنداں کے پاس بھیجا ہے کہ کسی قیمت یا وعدے پر رات میں انار کلی سے ملاقات کی صورت نکال کر آئے ۔

    تفکرات اور اندیشوں کے باعث صبح سے اب تک جنون کی سی کیفیت میں گزرا ہے۔ نہ منہ ہاتھ دھویا ہے نہ خط بنوایا ہے نہ لباس تبدیل کیا ہے ۔ نہ صبح سے اب تک کچھ کھایا ہے۔ مجبور ہوکر متفکر ماں سمجھانے بجھانے کی غرض سے خود اس کے ایوان میں آئی ہے۔ سلیم اپنی مجبوری اور بے بسی کے احساس سے بپھرا ہوا مسند پر بیٹھا ہے ۔ رانی پاس بیٹھی اسے منارہی ہے۔

    رانی:           سلیم اپنے باپ سے خفگی ! یوں بھی کہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی کہیں اولا دکو زیب دیتا ہے۔

    سلیم:           اولا د پر ظلم ماں باپ کو بھی زیب نہیں دیتا۔

     رانی:           اولاد پر ظلم ! اور پھر تجھ سی اولاد پر ۔ کیا کہتا ہے بیٹے۔ تو کیا جانے تیری آرزو میں ماں باپ نے زندگی کے کتنے دن آہیں بنا کر اڑا ڈالے۔ زندگی کی کتنی راتیں آنسو بنا کر بہا ڈالیں ۔ تو نہ تھا تو یہ زندگی شمشان کی طرح سنسان اور اجاڑ تھی۔ یہ محل خزاں کی رات کی طرح ویران کھڑے تھے ۔ اس ہندستان کا سہاگ بگڑا جار ہا تھا اور میرے دولہا ۔ پھر تو آیا اور زندگی آئی اور بہار آئی۔ میرے چاند ہم ہنس پڑے، دنیا ہنس پڑی۔ خود تقدیر ہنس پڑی۔ پھر ماں باپ تجھ پر ظلم کریں گے ۔ کس دل سے سلیم؟

    سلیم:           آپ کے نزدیک مجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوا۔ تو میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ (غصے سے منہ موڑ لیتا ہے)

    رانی:           کیا ظلم؟ کہ انار کلی قید کر لی گئی۔ سلیم کیوں دیوانہ ہوا ہے؟ وہ تیرے قابل ہے؟ اگر تو باپ ہوتا اور بادشاہ ۔ اپنی اولاد کے لیے نہ جانے کیا کیا امیدیں اور امنگیں تیرے دل میں ہوتیں۔ اور پھر تیرا بیٹا ایک کنیز کی محبت میں گرفتار ہو جاتا تو تو یہی کچھ نہ کرتا اور جسے ظلم کہہ رہا ہے اسے اولاد کے حق میں محبت نہ سمجھتا ؟

    سلیم:           ( سامنے تکتے ہوئے ) میں اولاد کی خوشی کو اپنی مصلحتوں پر ترجیح دیتا۔

    رانی:           نوجوان ہے۔ نا تجربہ کار ہے ۔ باپ بن کر سوچنا نہیں جانتا۔

    سلیم:           باپ بننا انصاف کی آنکھیں بند نہیں کر سکتا ۔( کھڑا ہو کر منہ دوسری طرف کر لیتاہے)

    رانی :           سلیم ! ماں باپ کو اپنی زندگی بھر کی آرزو ئیں اپنی اولاد کی طرح عزیز رہتی ہیں۔ انہیں نامکمل چھوڑ دینا یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اولا د کو بے آسرے چھوڑ کر گزر جانا۔ پھر تیرا اپنے ماں باپ کی آرزوؤں کو پامال کرنا انہیں کیسے خوش کرے؟انہیں کیسے نہ معلوم ہو کہ ان کی اولاد ہی آپس میں کشت و خون کر رہی ہے۔

    سلیم:           ( جل کر ) اگر ماں باپ اپنی اولاد کے لیے اپنی قربانیوں کو بھولنا نہیں جانتے تو ان کا اپنی اولاد کی آرزوؤں پر اپنی آرزوؤں کو مقدم سمجھنا بے معنی ہے (غصے میں ٹہل کر کمرے کے پچھلے حصے میں چلا جاتا اور منہ دوسری طرف کر کے کھڑا ہو جاتا ہے)

    رانی:           آج تو کیا کیا کچھ کہہ رہا ہے بچے ۔ اس ننھے سے دل میں ماں باپ کے خلاف اتنا زہر بھر گیا۔ صرف اس لیے کہ وہ نہیں چاہتے تو ایک حرم کی کنیز سے شادی کرے اور دنیا کی نظروں میں اپنے آپ کو سبک بنالے؟

    سلیم:           میں جانتا ہوں یہ دنیا کس طرح دیکھنے کی عادی ہے۔ (غصے سے مڑکر ) جائیے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کی لخت جگر کو میرے پہلو کی زینت بناد یجیے اور میں پھر بھی دنیا کی یہ سرگوشیاں آپ کے کانوں تک پہنچا دوں گا۔ اس احمق کو دیکھو جس نے سیاست کے پیچھے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ۔ جائیے فردوس سے میرے لیے ایک حور مانگ لائیے۔ پھر بھی میں دنیا کی نظروں میں یہ طعنے لکھے ہوئے دکھا دوں گا ۔ یہ بد نصیب عورت کی دلفریبیوں کو کیا جانے (نفرت سے ) دنیا اور اس کی نظریں! پھر اگر انار کلی کو اپنا بنا لینے پر یہ دنیا کہے کہ محبت اندھی ہے تو میں دل کھول کر ہنس سکتا ہوں ۔

     رانی:           (سلیم کے قریب جا کر محبت سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیتی ہے ) لیکن سلیم ہم اسی دنیا کے خادم ہیں۔ ہمیں جو کچھ بنایا اسی دنیا نے بنایا ہے۔ ہندستان کی باگ ہمارے ہاتھ میں دے کر یہ دنیا ہمارے ایک ایک فعل کو تاڑ رہی ہے ۔ ہم اس دنیا سے بے پروا کیسے ہو سکتے ہیں ۔

    سلیم:           اکبر اعظم اور دنیا کے تعلقات پر کوئی دوسرا فرزند قربان کر دیجیے ۔ سلیم کے ہاتھ ہندستان کی باگ سنبھالنے کے لیے آزاد نہیں ۔

    رانی:           سلیم تو جو کچھ کہہ رہا ہے سمجھ نہیں رہا۔

     سلیم:           میں سمجھ رہا ہوں۔ خوب سمجھ رہا ہوں۔ لے لیجیے۔ مجھ سے سب کچھ لے لیجیے۔ ان محلوں کی عشرت ۔ ہندستان کی سلطنت۔ دنیا کی حکومت۔ خزانوں کی دولت سب کچھ لے لیجیے اور مجھ کو اور انار کلی کو ایک ویرانے میں تنہا چھوڑ دیجیے۔ جہاں میں صرف اس کو دیکھوں ۔ اس کوسنوں۔ میں اپنی فردوس میں پہنچ جاؤں گا۔ اور ماں باپ کے احسان کی یاد میں میری آنکھیں ہمیشہ پر نم رہیں گی۔ ( مڑ کر مسندکے قریب آجاتا ہے )

    رانی:           (وہیں پیچھے کھڑے کھڑے ) اور اگر تیرا باپ یوں نہ مانے؟

    سلیم:           ( توقف کے بعد ) تو ان سے کہہ دیجیے۔ اگر وہ بادشاہ ہیں تو میں بادشاہ کا بیٹا ہوں ۔ اگر ان کی رگوں میں مغلیہ خون دوڑ رہا ہے تو میری رگوں میں راجپوتوں کا لہو بھی بیتاب ہے اور میں جانتا ہوں تلوار سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے۔

    (چیں بجبیں سامنے تکتا ہوا مسند پر بیٹھ جاتا ہے)

    رانی:           (قریب آکر ) بچے !سلیم ! تجھے کیا ہو گیا۔ تو سلیم ہے نہ؟ میرے بیٹا اور یہ تو بول رہا ہے؟

    سلیم:           (بھرائی ہوئی آواز میں ) سلیم، آپ کا بیٹا ، آپ کا اور اکبر اعظم کا بیٹا، نامراد اور رسوا بیٹا ،بد بخت شہزادہ ، (سلیم کے آنسو نکل آتے ہیں )

    رانی:           (سلیم کور و تا دیکھ کر بے قرار ہو جاتی ہے۔ قریب بیٹھ کر اسے لپٹا لیتی ہے ) میری جان! میرا لال ،میرا چاند ، یہ آنسو یہ ماں کا لہو ، میں تجھے انار کلی دوں گی ۔تیرے باپ سے لے کر دوں گی۔

    سلیم:           اماں (اماں سے آنکھیں چار کر کے اس سے لپٹ جاتا ہے)

    رانی:           میرا بچہ ! (اسے سینے سے لگا لیتی ہے)

    سلیم:           ( توقف کے بعد اشک آلود آنکھوں سے ماں کو تکتے ہوئے ) وہ مان جائیں گے؟

    رانی:           (سلیم کے آنسو پونچھتے ہوئے ) انہیں ماننا ہوگا۔

    سلیم:           وہ آپ سے انکار کر چکے ہیں ۔

    رانی:           میں نے انہیں صرف انار کلی کو چھوڑ دینے کے لیے کہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے وہ چھوٹ گئی تو ، تو پھر اس سے ملے گا۔ اب میں ان سے کہوں گی وہ انار کلی کو تیرے لیےچھوڑ دیں۔

    سلیم:           (کچھ دیر سوچ میں چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے ) اگر وہ نہ مانے ۔انہوں  نے انکارکردیا؟

    رانی:           تو انہیں پچھتانا ہوگا۔

    ( رانی کھڑی ہو جاتی ہے۔ ٹھوڑی سے پکڑ کر سلیم کا منہ اوپر کرتی ہے اور اس کی پیشانی چوم لیتی ہے۔ پھر اعتماد انگیز انداز میں اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔ کچھ اور کہنا چاہتی ہے مگر نہیں کہتی اور رخصت ہو جاتی ہے۔ سلیم اپنی سوچ میں بیٹھا رہ جاتا ہے )

    سلیم:           (سوچتے ہوئے ) انہیں پچھتانا ہوگا۔ وہ پچھتائے بھی تو پھر کیا ہے اور انکار کر دیا تو کیا نہیں (جیسے درد کے احساس سے آنکھیں بند کر لیتا ہے) آہ انکار! خداوندا ۔ یہ کس آگ کی سوزش۔ کس شعلے کی جلن ہے! (اٹھ کھڑا ہوتا ہے) انکار نہیں۔ انکار نہیں ۔ کچھ مہیب ہو جائے گا۔ کچھ بھیا نک ( دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر فکر میں غرق ہو جاتا ہے)

    ( کچھ دیر بعد ثریا داخل ہوتی ہے )

    ثریا:            (بھرائی ہوئی آواز میں ) صاحب عالم! میری آپا ( رو پڑتی ہے)

    سلیم:           ( مڑکر اس کی طرف دیکھتا ہے تو ثریا ! (.....) رورہی ہے؟

    ثریا:            میری آپا کہاں ہیں، میرے شہزادے، میرے بادشاہ، میری باجی،کن دیواروں میں بند ہیں؟

    سلیم:           ( ثریا کو غور سے تکتے ہوئے ) تو بھی ان دیواروں سے ٹکرائے گی ؟

    ثریا:            میں ان سے اپنا سر پھوڑ لوں گی ۔ صاحب عالم مجھے صرف راستہ بتادیجیے۔

    سلیم:           ( ثریا کو تکے جا رہا ہے ) میں خود نہیں جانتا لیکن ایک مدھم آواز میرے کانوں سے دماغ تک شعلوں میں لرزلر ز کر مجھے بتارہی ہے۔ راستہ کون سا ہے۔

    ثریا:            (سلیم کا منہ تکتے ہوئے ) کون سا راستہ؟

     سلیم:           ( سوچ میں سر کی خفیف جنبش نفی سے ) نہیں بتا سکتا۔

    ثریا:            ( توقف کے بعد سہم کر ) وہ مار ڈالی جائیں گی؟

    سلیم:           ( سامنے کہیں دور گھورتے ہوئے ) خدا ہی جانتا ہے۔

    ثریا:            ( بے تاب ہو کر سلیم کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے ) آپ انہیں نہ بچا ئیں گے؟

    سلیم:           ( اسی محویت میں ) کون کہہ سکتا ہے۔

    ثریا:            میرے شہزادے۔ میرے صاحب عالم للہ انہیں بچائیے۔ میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں انہیں بچائیے ۔ ( دوزانو ہوکر سلیم کے قدموں کو چھوتی ہے۔اور دوزانو بیٹھی بیٹھی کہتی ہے ) آپ نے ان سے کہا تھا۔ انار کلی سلیم کے پہلو سے نو چی نہیں جاسکتی ۔ ناممکن ہے نا ممکن ۔ آپ نے نہیں کہا تھا تیرے لیے میں چھوڑ سکتا ہوں اس محل کو ۔ اس سلطنت کو ۔ سب کو ۔ آپ نے کیا کہا تھا اگر تو نہ رہی۔ وہ نہ رہے گا۔ آپ نے تاروں کے سامنے کہا تھا۔ آسمان کے سامنے کہا تھا۔ خدا کے سامنے کہا تھا۔ آپ اپنے لفظوں سے پھر جائیں گے؟ ایک بزدل کی طرح ان وعدوں سے پھر جائیں گے۔ جو آپ نے ایک کمزور ۔ بے بس غریب لڑکی سے کیے تھے ۔ اس لڑکی سے جسے آپ کی زبان اپنی اور صرف اپنی کہہ چکی ہے؟

    سلیم:           ( مضطرب ہو کر ) ثریا چپ ہوجا۔ تیری باتیں جہنم کا گرم سانس ہیں ۔ ( یک لخت مڑتا ہے اور دور پیچھے جا کھڑا ہوتا ہے)

    ثریا:            (اٹھ کر پیچھے پیچھے جاتی ہے ) نہیں ۔ آپ اسے بچائیں گے۔ آپ مرد ہیں ۔ بات کے دھنی ہیں۔ آپ اپنا قول پورا کر کے دکھائیں گے۔ اسے قید خانہ کے اندھیرے میں پتے کی طرح کانپ کانپ کر دم تو ڑ دینے کو نہ چھوڑ دیں گے۔

    سلیم:           (بے قراری سے مڑ کر ثریا سے پیچھا چھڑانے کو پھر سامنے آجاتا ہے) چلی جا چلی جا۔ نہیں تو میں کچھ ایسا کر بیٹھوں گا کہ فطرت خود ششدر رہ جائے گی۔

    ثریا:            (وہیں پیچھے کھڑے کھڑے) کہہ دیجیے کہ وہ چھوٹ جائیں گی اور پھر مجھے نکال دیجیے یہاں سے۔ اپنے محل سے۔اس دنیا سے۔صاحب عالم میں ہنستی ہوئی رخصت ہو جاؤں گی ۔

    سلیم:           ( بغیر ثریا کی طرف دیکھے ) صرف وقت جانتا ہے ۔ کیا ہونے والا ہے۔ جا اورانتظار کر۔

    ثریا:            (سر جھکائے رخصت ہوتی ہے۔ سیڑھیوں پر جا کر رک جاتی ہے ) میں اپنی باجی کو دیکھ پاؤں گی۔

    سلیم:           (چیں بہ جبیں اور سامنے گھورتے ہوئے ) اور یا سلیم کو بھی نہ دیکھنے پائے گی ۔

    ثریا:            خدا آپ کو دنیا کی بادشاہت نصیب کرے۔

    (رخصت ہو جاتی ہے)

    سلیم:           (اسی محویت میں ) کیسی گہری اور اندھیری کہر جس میں خون کے جلتے ہوئے دھبے ناچ رہے ہیں۔ اور اس پار زرد چہرہ ۔ پھٹی ہوئی آنکھیں اور سلیم سلیم کی فریاد ( آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ چہرے پر اذیت کے آثار ہیں ) یارب یہ کیا ہو گیا۔ کیوں ہو گیا۔ میری انار کلی ۔ میری جان ۔ میری روح۔ تم کہاں ہو؟ ( مڑتا ہے۔ کنپٹیوں کو ہاتھوں سے دبائے مسند تک جاتا ہے۔ کچھ دیر وہاں کھڑا رہتاہے۔ آخرمسند پر گر پڑتا ہے)

    ( بختیار داخل ہوتا ہے)

    بختیار:          سلیم!

    سلیم:           (چونک کر اٹھتا اور بختیار کی طرف بڑھتا ہے ) بختیار کہو۔ کیا خبر لائے؟ میرے لیے ہر طرف مایوسی ہے ۔ ہر طرف نامرادی ہے۔ وہ نہیں مانتے ۔ نہ مانیں گے۔ اپنے بد بخت شہزادے کی تنہا امید تم ہو ۔ بتاؤ۔ تم داروغہ زنداں سے مل لیے؟ وہ مان گیا ؟ ( بے تابی سے سر ہلا کر ) نہیں مانا تو بھی کہہ دو وہ مان گیا۔ نہیں تو میرا دماغ پھٹ جائے گا ،ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔

    بختیار:          (رحم آلود نظروں سے سلیم کو دیکھتے ہوئے ) وہ تمہیں انارکلی سے ایک مرتبہ ملا دینے پر آمادہ ہے۔

    سلیم:           آماده؟ سچ ہے یا صرف میرے لیے تسلی؟ پوچھتے ہوئے دل ڈرتا ہے لیکن بختیارتم نے سچ کہا۔ وہ آمادہ ہے؟

    بختیار:          ہاں وہ آمادہ ہے لیکن بہت بڑے معاوضے پر ۔

     سلیم:           انار کلی کو چھوڑ کر وہ میرا سب کچھ لے سکتا ہے۔

    بختیار:          لیکن سلیم ۔ میرے دوست ۔ میرے شہزادے۔ میں پھر کہوں گا۔ انارکلی کی گرفتاری معمولی بات ہے۔ وہ چند روز بعد رہا ہو جائے گی ۔ تم اسے بھولنے کی کوشش کرو ۔ کیوں.....

    سلیم:           (بے چینی سے منہ موڑ کر ) کچھ نہ کہو بختیار۔ اس وقت کچھ نہ کہو ۔ میں جنون سے بہت قریب ہوں۔ (پھر اس کی طرف رخ کر کے ) مجھے صرف بتاؤ ۔ کب،کس وقت؟

    بختیار:          ( کسی قدرملول ہو کر ) آدھی رات کے بعد ۔

    سلیم:           تنہائی میں

    بختیار:          ( سر کی جنبش اثبات کے ساتھ ) اگر تم سمجھ سے کام لینے کا وعدہ کرو ۔

     سلیم:           ( سوچتے ہوئے مسند کے قریب آتا ہے ) سمجھ سے ۔ میں سمجھ سے کام لوں گا۔ خوب سمجھ سے ( بیٹھ کر توقف کے بعد) اپنی سمجھ سے۔

    بختیار:          ( آخری الفاظ پر معنی انداز سے کہے جانے سے چونکتا اور سلیم کو دیکھتا ہے ) اپنی سمجھ سے کیا ؟

    سلیم:           (آنکھیں تنگ ہوتی جارہی ہیں) وہ ایک قاہر بادشاہ کے انصاف کی محتاج نہ رہے گی۔

    بختیار:          (اندیشہ ناک نظروں سے ) تمہارا کیا ارادہ ہے؟

    سلیم:           اسی رات میں صبا رفتار گھوڑے اسے کسی ایسے محفوظ مقام میں پہنچادیں گےجہاں ظل الہٰی کا آہنیں قانون نہ پہنچ سکے گا۔

    بختیار:          ( کچھ دیر حیرت سے سلیم کا منہ تکتا رہتا ہے اور پھر جلدی سے اس کے قریب آکر ) سلیم تم دیوانے ہو گئے ہو؟

    سلیم:           اگر میں نے اسے ظل الہٰی کے رحم پر چھوڑ دیا تو ضرور دیوانہ ہو جاؤں گا۔

     بختیار:          (پریشانی کے عالم میں سلیم کے سامنے بیٹھ کر ) لیکن زندان کے سپاہی ؟

     سلیم:           ( آنکھوں میں چنگاریاں نکلنے لگتی ہیں ) اور مغل ولی عہد کی تلوار ۔

     بختیار:          (سراسیمہ ہوکر ) سلیم یہ بغاوت ہے۔

    سلیم:           (کھڑا ہو جاتا ہے ) میں اسی پر آمادہ ہوں۔

    بختیار:          (کھڑے ہوکر حیرانی سے ) تم اپنے باپ سے، ہندستان کے شہنشاہ سے باغی ہو جاؤ گے؟

    سلیم:           تمام دنیا باغی ہے۔ بادشاہ خدا سے ۔تمول افلاس سے مصلحتیں انصاف سے۔ اور اب جو کچھ باقی ہے وہ بھی باغی ہو گا۔ سب کو باغی ہو جانے دو اور دیکھتے رہو کہ آگ اور خون ، موت اور جنون کے اس یوانے ہنگامے میں سے دہکتا ہوا کیا نکلتا ہے۔

    بختیار:          تم جانتے نہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟

    سلیم:           (خاموش کرنے کو ہاتھ اٹھا کر ) میں جاننا نہیں چاہتا۔

    بختیار:          (ذرا دیر بے حد اندیشہ ناک تفکرات میں غرق رہ کر ) کاش مجھے پہلے معلوم ہوتا ۔میری اس کوشش کا نتیجہ یہ ہو گا ۔

    سلیم:           اور معاملات اور بدتر ہو جاتے ۔

    بختیار:          ( ملامت کے انداز میں ) تم نے مجھ سے کہا تھا۔ تم انار کلی سے ایک مرتبہ ملناصرف اس کو دیکھنا چاہتے ہو۔

    سلیم:           تب امید ٹمٹما رہی تھی۔ اب بجھ چکی ۔

     بختیار:          ( نہیں جانتا کیا کہے۔ بے قراری سے مڑ کر ذرا فاصلے پر جاتا اور گم سم کھڑا رہتا ہے) داروغہ زنداں کو شبہ تھا۔ بہت تامل تھا۔ وہ کسی طرح رضامند نہ ہوتا تھا۔ میرے اصرار اور وعدوں نے معاوضے کے لالچ نے بمشکل اسے آمادہ کیا لیکن سلیم وہ ہوشیار رہے گا ۔ اکبر اعظم کے عذاب کا خوف اسے چوکنار کھے گا۔

    سلیم:           میرے جیتے جی وہ انارکلی کور کھنے نہ پائے گا۔

    بختیار:          (بے بسی کی متوحش نظروں سے ادھر ادھر تکتا ہے۔ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر بے سود۔سمجھ کر نہیں کہتا ۔ دوسری طرف ٹہل جاتا ہے۔ کچھ دیر فاصلے پر خاموش کھڑا رہتا ہے۔ آخر نہیں رہا جاتا ۔ بے قرار ہو کر مڑتا اور سلیم کے قریب آتا اور بڑے درد اور خلوص سے کہتا ہے ) سلیم ۔ تم تباہ ہو جاؤ گے ۔گرفتار ہوئے تو ذلیل ورسوا۔ اور فرار ہو گئے تو آوارۂ وطن اور بے نوا۔

    سلیم:           (ساکت کھڑا جیسے افق پر اپنا مستقبل دیکھ رہا تھا۔ بختیار کا خلوص آخر اسے اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ سلیم کے چہرے پر ایک مردہ سا تبسم آ جاتا ہے ) جو آ رہا ہے آنے دو۔ بختیارا سے نہ تم روک سکتے ہو ۔ اور نہ اکبر اعظم ۔ایک طرف موت کے خون آلود دانت ہیں اور دوسری طرف غریب الوطنی کے زہر آلود کاٹنے اور دونوں کے درمیان تقدیر۔ پراسرار ۔ ششدر اور چپ چاپ ۔ کون جانے اس کے ہونٹ پر تبسم آجائے یا آنکھ میں آنسو لیکن موت بھی انار کلی کے لیے اور اس کے پہلو میں شیریں ہوگی۔ بختیار وصال کی طرح شیریں ( آنکھیں بند کر لیتا ہے) مگر میرے دوست آ۔ کچھ مت بول۔ چپ چاپ میرے سینے سے لگ جا۔ مجھے ڈر ہے میرا دل اتنا نہ دھڑک اٹھے کہ تھم جائے میں تسکین چاہتا ہوں۔

    (سلیم ہاتھ پھیلاتا ہے۔ بختیار کچھ دیر گم سم کھڑا اسے تکتا رہتا ہے۔ آخر سلیم کی محبت بے قابو کر دیتی ہے۔ آنکھ اشک آلود ہو جاتی ہیں ۔ بڑھ کر دوزانو ہوتا اور سلیم کی ٹانگوں سے لپٹ جاتا ہے۔ سلیم اسے اٹھا کر سینے سے لگالیتا ہے۔)

     

    منظر دوم

    زنداں ۔ اسی روز آدھی رات کو۔

    ایک تہہ خانہ جس کی اونچی اونچی دیواریں سیل کی وجہ سے شور آلود ہیں۔چھت کے قریب ایک سلاخ وار روزن ہے جو باہر زمین کی سطح سے اونچا ہونے کے باعث اس تہہ خانے میں ہوا اور روشنی آنے کا اکیلا راستہ ہے۔ سامنے ایک دروازہ ہے جس کے باہر تہہ خانے سے دو سیٹرھیاں اونچی ایک مختصرسی ڈیوڑھی ہے۔ تہہ خانہ کی سیڑھیاں اسی ڈیوڑھی میں آکر ختم ہوتی ہیں۔ در اوزے میں سلاخیں لگی ہیں اور باہر کی طرف ایک بھاری قفل پڑا ہے۔ تہہ خانے میں سیاہی مائل پتھر کا فرش ہے۔ کونے میں پرال کا ایک ڈھیر ہے جو قیدی کے لیے بستر کا کام دیتا ہے۔

    روشنی کے لیے طاق میں چراغ رکھا تھا، بجھ چکا ہے۔ تہہ خانے میں اندھیرا ہے۔ صرف روزن میں سے باہر کا آسمان اور اس کے تارے نظر آ رہے ہیں۔ یہی روشنی ہے جس کی امداد سے اگر آواز کی رہنمائی میں غور سے دیکھا جائے تو تہہ خانے کے درمیان انارکلی کھڑی ہوئی ایک نسبتاً کم تاریک دھبے کی طرح نظر آتی ہے۔

    حرم کے جشن کی جگمگاہٹ کے بعد آج جب اس کے دماغ پر سے تیز و تند شراب کا اثر رفتہ رفتہ زائل ہوا تو اس نے اپنے آپ کو اس تیرہ و تار یک محبس میں پایا۔ وہ روتی رہی، چیختی رہی ، چلاتی رہی، لیکن اس کی فریاد کی کچھ شنوائی نہ ہوئی ۔اسے کچھ یاد نہیں۔ وہ یہاں کب اور کیوں کر لائی گئی۔ اس کے دماغ پر اب تک ایک غبار سا چھایا ہوا ہے اور اس کے سہمے ہوئے حواس اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ نیند میں گزر رہاہے۔

    انار کلی:         ٹوٹ جا، نیند ٹوٹ جا۔ میں تھک گئی۔ سانس ختم ہو جائیں گے۔ مر جاؤں گی۔ یہیں۔ نیند میں۔ پھر کیا ہوگا؟ ( دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر بے قراری سے سر ہلاتی ہے )۔ صاحب عالم مجھے جگا دو ۔ جہاں سورہی ہوں اس جگہ میرے سینے پر سر رکھ دو۔ میری بھنجی ہوئی مٹھیاں کھول دو۔ مجھے آواز دو ۔ آہستہ سے دل کی دھڑکن میں۔ سانس کی گرمی میں۔ کوئی سن نہ لے۔صرف میں سنوں۔ میری انار کلی۔ میری اپنی انار کلی ! میں کہوں سلیم ! سلیم !سلیم ! خواب کی دنیا میں آواز یں مل جائیں۔ تمہاری گود میں آنکھیں کھول دوں۔ میں بولوں صاحب عالم! میرے بادشاہ ، تم کہو، انار کلی میری نادرہ اور پھر دونوں مسکرا پڑیں۔ میں تمہیں یہ بھیا نک خواب سناؤں۔ تم مجھے اپنے آغوش میں لے لو اور قہقہہ لگاؤ تم سے لپٹ جاؤں اور میں بھی قہقہہ لگاؤں اور پھر اکٹھے کوئی سہانا خواب دیکھنے لگیں۔ محبت کا۔ روشنی کا ۔ مہکتا ہوا ۔ جگمگاتا ہوا۔

    (چونک کر سہم جاتی ہے۔ تہہ خانے کا اوپر کا دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے )

     کون ! .....اماں میری اماں! اماں میری اماں! ( دوڑ کر دروازے کی طرف جاتی ہے اور اسے دھکیلتی ہے ) راستہ نہیں۔  اماں میری اماں ۔ راستہ نہیں ۔

     (سہم کر سکڑی ہوئی کھڑی ہے۔ کسی کے سیڑھیوں پر سے اترنے کی آواز آتی ہے۔ خطرے کے احساس سے سراسیمہ ہو کر کبھی چھپنے کے لیے کونوں کی طرف بڑھنا چاہتی ہے کبھی بھاگ جانے کو پھر دروازے کی طرف رخ کرتی ہے۔ ایسی متوحش ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ کیا کرے۔ منہ سے ایک مدھم سا کانپتا ہوا شور نکل رہا ہے۔ آخر چکر کھا کر گر پڑتی اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔

     ڈیوڑھی میں روشنی اور سائے نظر آتے ہیں۔ ذراسی دیر بعد سلیم اور اس کے پیچھے پیچھے داروغہ زنداں داخل ہوتا ہے۔ سلیم نے فرغل پہن رکھی ہے۔ داروغہ زنداں نے روشنی کے لیے ایک دو شاخہ اٹھا رکھا ہے۔ اس کی مدھم روشنی میں اس دبلے پتلے سیاہ فام شخص کی کھچڑی داڑھی ، عقاب نما ناک اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں خوفناک معلوم ہوتی ہیں۔ داروغہ زنداں دوشاخہ کو ایک طاق میں رکھ دیتا ہے۔

    سلیم:           (مڑکر ) تم باہر ٹھہرو۔

    داروغہ:        ( تامل سے ) میں نے اس کا وعدہ نہ کیا تھا۔

    سلیم:           میں نے تنہا ملاقات کرنے کی قیمت ادا کی  ہے۔

    داروغہ:        تنہائی میں ملاقات انمول ہے۔

     سلیم:           ملاقات یوں ہی ہوگی۔ تمہیں قیمت سوچنے کی پھر اجازت ہے۔

     داروغہ:        یہ میری موت اور زندگی اور میرے خاندان کی راحت اور رسوائی کا سوال ہے۔

    سلیم:           (رکھائی سے ) میں سمجھ سے کام لوں گا۔

    داروغہ:        ( تامل سے ) مجھے بہت شبہ ہے۔

     سلیم:           ( کڑک کر ) کمینے ۔ تو سمجھتا ہے۔ مجھے پیا سالوٹادے گا۔ ترستا پھیر دے گا۔

    داروغہ:        میں بے بس ہوں۔

    سلیم :           میں ولی عہد ہوں اور تمہاری اس بد معالگی کی داستان شہنشاہ کے کانوں تک پہنچانے کے بہت سے ذریعے ابھی تک رکھتا ہوں۔

    داروغہ:        ( مرعوب ہوکر ) صاحب عالم !

    سلیم:           (حقارت سے ) باہر جا!

    داروغہ:        ( جاتے جاتے) لیکن صاحب مجھے معلوم ہے۔ انار کلی کے متعلق اپنے فرائض کی کوتا ہی سے زیادہ کسی داستان کاظل الہٰی کے کانوں تک پہنچنا خطر ناک نہیں۔

    سلیم:           ( ان سنی کر کے ) اس وقت لوٹ جب میں پکاروں۔

    داروغہ:        ( ڈیوڑھی میں سے ) میں اس وقت لوٹوں گا جب فرض مجھے پکارے گا۔

    ( داروغہ تہہ خانہ کی سیڑھیوں کی طرف مڑ جاتا ہے)

    سلیم:           (غصے سے) کمینہ! بدمعاش ( مڑ کر ادھر ادھر انار کلی کو دیکھتا ہے ) انار کلی ! انار کلی ! تم کہاں ہو؟ ( آگے بڑھتا ہے ۔ انارکلی سے ٹھوکر لگتی ہے ) خداوندا! زمین پر ! ( جلدی سے بیٹھ جاتا ہے ) زندہ ہو نہ ( ہلا کر ) انار کلی ! انار کلی! (اس کا سراپنی گود میں رکھ لیتا ہے ) انار کلی بولو ! آنکھیں کھولو ! ہوش میں آؤ ۔ انار کلی ۔

     انار کلی:         ( بولتی ہے مگر آنکھیں بند ہیں ) صاحب عالم .....صاحب عالم .....یہ تمہیں  ہو..... میں نے پہچان لیا .....تمہاری آواز سن رہی ہوں .....پکارو.....اور زور سے ..... جھنجھوڑو!

    سلیم:           انار کلی ! میری جان جاگو ۔ دیکھو تمہیں سلیم جگا رہا ہے تمہارا سلیم ۔

     انار کلی:         ( نیم آنکھوں سے ) میں جانتی تھی..... تم مجھے جگاؤ گے..... اس گرم نیند سے ..... اپنی ٹھنڈی گود  میں..... اپنے شاہی محل میں جگاؤ گے .....کیسی پیاری بات ! .....پر اب تک تم کہاں تھے؟ میں اس تپتی اور جھلستی ہوئی نیند میں .....روتی رہی..... چیختی رہی .....تمہیں پکارتی رہی۔

    سلیم :           ( ہلا کر ) انار کلی اب تک بیہوش ہو ۔ جاگو ۔ میر روح جاگو۔

    انار کلی:         جاگ گئی ۔ تم سے بول نہیں رہی۔ تمہاری آواز سن نہیں رہی۔ میرے ہوش حواس تو تم ہو ۔ تمہارے ہوتے میں کیوں بے ہوش ہونے لگی۔

    سلیم:           ( پریشانی سے اسے تکتے ہوئے ) انار کلی تم دیوانی ہوگئی ہو؟

    انار کلی:         ( بیٹھ جاتی ہے ) تم سے کس نے کہا ؟ ظلم کی ان کلوں نے جو میرے رونے پر ہنستے  تھے۔ کھلکھلاتے تھے۔ قہقہے مارتے تھے ۔ درندے! (انگلی ہونٹوں پر رکھ کر ) چپ چپ ۔ دیکھو سنو ۔ ویران نیند میں سے ان کے قہقہوں کی گونج آرہی ہے۔ (سہم کر سلیم سے چمٹ جاتی ہے ) میرے پاس سے نہ جانا۔ صاحب عالم نہ جانا۔ وہ مجھے جیتا نہ چھوڑیں گے۔ مارڈالیں گے۔ مارڈالیں گے ۔ چھری بھونک کر ۔ گلا گھونٹ کر ۔گھور کر صرف کھلکھلا کر ۔

    سلیم:           (سراسیمگی سے ) انار کلی خدا کے لیے ہوش میں آؤ ۔ محبت کا واسطہ ہوش میں آؤ ۔میرے دماغ کے تار بہت تن چکے ہیں۔

    انار کلی:         (سلیم کا منہ تکتے ہوئے ) میں کیا کروں ۔ کچھ کہو تو ۔ تم صرف حکم دو کنیزمانے گی۔

    سلیم :           ( مضطرب ہو کر ادھر ادھر دیکھتا ہے کیا کرے۔ پھر بے بسی کے عالم میں انارکلی کا منہ تکنے لگتا ہے ) انار کلی یاد کرو ۔ کیا ہوا تھا۔ میرے ساتھ مل کر یاد کرو ۔ کیا ہواتھا۔ جہاں مجھ کو چھوڑ ا تھا۔ وہیں سے مجھ کو ساتھ لو۔

    انار کلی:         کہاں سے؟

    سلیم:           (ہاتھ اس کے گرد ڈال کر ) تمہیں جشن کی رات یاد ہے؟

    انارکلی:         ( سوچتے ہوئے) جشن کی رات ؟..... ہاں ہاں ۔ وہاں تم تھے ۔ میری عمر بھر کی آرز و روشنیوں اور خوشبوؤں میں سلیم بن کر بیٹھی ہوئی تھی .....اور میں تھی..... بس تم تھے اور میں تھی..... میں تھی اور تم تھے .....میں گارہی تھی تم مسکرار ہے تھے..... میں ناچ رہی تھی تم جھوم رہے تھے اور جنت زمین پر اتر آئی تھی.....کاش میں اسی جنت میں گیت اور ناچ بن کر رہ جاتی ؟

    سلیم :           ہاں ہاں اور پھر ؟

     انار کلی:         اور پھر ؟ .....ہاں جیسے جہنم کا سب سے گہرا اور اندھیر اغار پھٹ پڑا۔کالےاور اندھیرے دھوئیں نے ہمیں ایک دوسرے سے کھود یا اور شعلوں کی پتلی پتلی لمبی لمبی اور بے قرار زبانیں لپک پڑیں۔ میرا دم گھٹ کر رہ گیا اور .....

    سلیم :           اور تمہیں نہیں معلوم یہ کیا ہوا تھا ؟

    انار کلی:         (سلیم کو تکتے ہوئے ) تم بتاؤ ؟

    سلیم:           ظل الہٰی نے ہم دونوں کو محبت کے اشارے کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ یاد نہیں ان کی وہ گرج۔ ہو!

    انار کلی:         ( سوچتے ہوئے ) یاد آ گیا۔ آگیا۔ آسمان پھٹ پڑا تھا۔ پناہ ! پناہ !

     سلیم:           اور پھر وہ حبشی غلام ۔ ان کا تم کو گرفتار کرنا۔

    ( انار کلی سکڑ کر سلیم کے ساتھ لگ جاتی ہے )

    اور پھر وہ تمہیں یہاں قید خانہ میں ڈال گئے ۔

     انار کلی:         قید خانے میں؟ ( ادھر ادھر دیکھ کر ) ہم کہاں ہیں؟ قید خانے میں .....مجھے یاد آگیا۔ ( پیشانی پر ہاتھ رکھ لیتی ہے ) میرے دماغ پر کیا آ گیا تھا۔ یوں ہی ہے .....یوں ہی ہے۔ سب کو معلوم ہو چکا۔ یوں ہی ہونا تھا۔ میں قید ہوں ۔ میری اماں! میری ثریا ! میں قید ہوں۔ ( سر جھکا لیتی ہے ) تم بھی قید ہو صاحب عالم ۔

    سلیم:            (دروازے پر ایک نظر ڈال کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنے ساتھ انار کلی کو بھی کھڑا کر لیتا ہے ) میں تمہیں لے جانے کو آیا ہوں۔

    انار کلی:         ظل الہٰی مان گئے ۔ مجھے تم کو دے ڈالا ؟

    سلیم :           نہیں۔ میں ان کی چوری سے تمہیں بھگالے جانے کو آیا ہوں۔

    انار کلی:         بھگالے جانے کو ؟

    سلیم:           وہ تمہیں مار ڈالیں گے۔

    انار کلی:         مارڈالیں گے (سوچتے ہوئے) اور پھر نعش رہ جائے گی۔ (لجاجت سے ) نہیں۔ نہیں۔ میری جان کیوں لیتے ہیں۔ میں نے کیا کیا ہے۔ میں تمہیں چاہتی ہوں اس لیے؟ اور تو کچھ نہیں چاہتی۔ مجھے چاہنے دیں۔ میں چاہتی رہوں گی ۔ صرف چاہتی رہوں گی اور چاہتی چاہتی آپ ہی مر جاؤں گی۔

    سلیم:           (جوش سے ) یہ ناممکن ہے۔ تم میرے ساتھ بھاگ کر جاؤ گی۔

    انارکلی:         کہاں؟

    سلیم :           جہاں ظل الہٰی کی شعلہ بار نظریں نہیں پہنچ سکتیں ۔ جہاں ان کی پیشانی کی شکنوں کا سایہ نہیں پڑ سکتا۔ جہاں محبت آزادی کے سانس لیتی ہے۔ محبت ہنستی ہے۔محبت کھیلتی ہے۔

    انارکلی:         (سوچتے ہوئے ) ایسی جگہ! ایسی جگہ!

    سلیم:           ( جذبات سے بیتاب ہو کر انار کلی کو بازو میں لے لیتا ہے ) تو میرے دل کے سنگھاسن پر بیٹھ کر حکومت کرے گی ۔ تو میری دنیا کی ملکہ ہوگی اور میں تیری دنیا کا غلام ! اور وہاں رنگین جھاڑیوں کی معطر ٹھنڈک میں جہاں کلیاں لجا کر رہی جارہی ہوں گی اور چاند محبت کی سوچ میں چپ چاپ تھم گیا ہوگا۔ مفرور عاشق تھکے ہوئے چاہنے والے آرام کریں گے ۔ تو میرے زانو پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر کے لیٹے گی اور صرف میرے سانس میں محبت کو سنے گی ۔ اور جب تو مسکرا کر آنکھیں کھول دے گی تو چاند ہنستا ہوا چل دے گا۔ کلیاں کھلکھلا کر ہم پر گر نے لگیں گی اور پھولوں کے نرم اور معطر ڈھیر کے نیچے دو دھڑکتے ہوئے دل دب جائیں گے۔

    انار کلی:         ( بیتابی سے ) چلو ۔ ادھر کو چلو ۔ وہاں کا کونسا راستہ ہے؟

     سلیم :           ( فرغل سے تلوار نکال کر ) وہ یہاں ہے۔

    انارکلی:         ( ڈر جاتی ہے ) تلوار! خودکشی؟ دوسری دنیا میں ۔ یہاں نہیں؟

    سلیم:           یہاں یا وہاں

    انار کلی:         ( گھبرا کر ) وہ تمہیں پکڑ لیں گے ۔ مجھے تم سے چھین لیں گے ۔ محبت بچھڑ جائےگی ۔ پھر کیا ہوگا؟

    سلیم:           تقدیر ہی جانتی ہے۔

    انار کلی:         (سلیم کے ساتھ لگ کر یوں نہ کر) یوں نہ کرو۔ تم کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ میں کیا کروں گی؟ یوں نہیں ۔ یوں نہیں۔اس میں خطرہ ہے۔ نہ جانےکیا ہے۔

    سلیم :           ہم اکٹھے مرنے کو بھی تیار ہیں..... تیار ہیں انار کلی؟

    انار کلی:         (کچھ دیر سلیم کا منہ تکتی رہتی ہے ) ہاں تیار ہیں۔

    سلیم:           تو آؤ میرے بازوؤں میں آؤ۔ میں تمہیں اس زنداں اور قلعے سے خون کی کیچڑ میں سے گزار لے جاؤں گا۔ باہر برق رفتار گھوڑے ہمارے منتظر ہیں اور باقی تقدیر جانتی ہے۔

    (سلیم باز و کھول دیتا ہے۔ انار کلی اس سے لپٹ جاتی ہے۔ وہ دائیں ہاتھ میں تلوار لیے اور بایاں ہاتھ انار کلی کے گرد ڈالے۔ درانہ ڈیوڑھی کی طرف بڑھتا ہے۔ یک لخت سیڑھیوں پر سے کسی کے اترنے کی آواز آتی ہے )

    داروغہ:        (ہانپتا کانپتا ڈیوڑھی میں داخل ہوتا ہے۔ اس قدر خوفزدہ اور سراسیمہ معلوم ہوتا ہے کہ بات نہیں کر سکتا ) صاحب عالم!  صاحب عالم !

    سلیم :           تو آگیا کمینے ۔ انار کلی کو مجھ سے چھیننے۔

    داروغہ:        ( بے انتہا پریشانی کے عالم میں ) نہیں نہیں اور بات ہے۔

    سلیم :           کیا ہے؟

    داروغہ:        میں اور آپ دونوں خطرے میں ہیں۔

    سلیم :           کیسے؟

    داروغہ:        ظل الہٰی ادھر آ رہے ہیں؟

    ( انارکلی آنکھیں پھاڑے داروغہ کو تک رہی تھی ۔ ظل الہٰی کا نام سنتے ہی ایک آہ بھر کر بیہوش ہو جاتی ہے۔ سلیم کے ایک ہاتھ میں تلوار ہے۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے بیہوش انار کلی کو سنبھال رکھا ہے؟

    سلیم:           ( گھبرا کر ) ظل الہٰی ! کون کہتا ہے؟

    داروغہ:        چوکی دار خبر لایا ہے۔

    سلیم :           کیوں آئے؟ ( سوچ میں پڑ جاتا ہے ) انارکلی کی جان لینے کو؟

     داروغہ:        نہیں ۔ قیدیوں کے معائنے کے لیے۔

    سلیم:           جھوٹ ! رات کو معائنہ؟ وہ جان لینے کو آئے ہیں ۔ مار ڈالنے کو ۔

    داروغہ:        اس وقت سزا نہیں ہو سکتی۔

    سلیم :           ( تن کر کھڑا ہو جاتا ہے ) نہیں آنے دو ۔ جو ہو سو ہو۔

    داروغہ:        ( دوزانو ہوکر اور ہاتھ جوڑ کر ) مجھے بچا لیجیے۔ صاحب عالم!للہ چلے جائیے۔ انہوں  نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو میں سزا پاؤں گا۔ مار ڈالا جاؤں گا۔ میرے بچے دنیا میں لاوارث رہ جائیں گے۔ ہم سب برباد ہو جائیں گے۔ ( پیروں کوہاتھ لگا کر ) چلے جائیے۔ للہ چلے جائیے۔

    سلیم :           اور انار کلی کو تم خونیں بھیڑیوں کے رحم پر چھوڑ جاؤں۔

    داروغہ:        اس کا بال بھی بیکا نہ ہونے پائے گا۔

    سلیم:           مجھے اعتبار نہیں۔

     داروغہ:        (سلیم کے قدموں پر سر رکھ کر ) رات کو سزا نہیں ہوسکتی ۔

     سلیم:           ( متفکر نظروں سے ) مجھے اطمینان نہیں ہو سکتا۔

    داروغہ:        میں خدا اور اس کے رسول کے سامنے کہتا ہوں۔ رات کو سز انہیں ہوسکتی۔

     سلیم:           ( تذبذب کی پریشانی میں اس کا منہ تکتے ہوئے ) آج رات کے بعد مجھے یہاں آنے کا موقع نہیں مل سکتا۔

    داروغہ:        (سینے پر ہاتھ رکھ کر ) میں موقع دوں گا۔

    سلیم:           ( اسے شبہ کی نظروں سے تکتے ہوئے ) کب؟

    داروغہ :        (کھڑے ہو کر ) آج ہی رات میں۔

     سلیم :           ( سر کی جنبش نفی سے ) تیری زبان بدل سکتی ہے۔

     داروغہ:        میری بد معالگی کی داستان ظل الہٰی تک پہنچ سکتی ہے۔

    سلیم :           (پس و پیش کے عالم میں ) میری نظروں میں برے برے شکون پھرتے ہیں۔

     داروغہ:        ( مضطرب ہو کر ڈیوڑھی میں جاتا اور لوٹ کر آتا ہے ) صاحب عالم ۔ جلدی کیجیے۔ آپ کو یہاں رہنا ہے۔ تو مجھے جان بچا کر بھاگ جانے دیجیے ۔ ظل الہٰی یہاں آئیں تو صرف آپ کو اور انار کلی کو پائیں ( مایوسی سے سر ہلا کر ) لیکن پھر بھی میں پھر بھی برباد ہو جاؤں گا۔ میں کیسے اپنے بے خبر بال بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ سکوں گا۔ (سر پیٹ کر ) میری غریب بیوی۔ معصوم بچو ۔ تمہیں کیا معلوم تم صبح کو آنکھ کھولو گے تو کیا خبر سنو گے۔ میں لٹ گیا۔ میرے اللہ ۔ میرے شہزادے میں لٹ گیا۔ (زمین پر بیٹھ کر رونے لگتا ہے)

    سلیم :           تو سچ کہتا ہے۔ مجھے پچھتانا نہ ہوگا۔

     داروغہ:        ( کھڑے ہو کر آنسو پونچھتے ہوئے) مجھے اس وقت بچا لیجیے۔ آپ کی مدد کروں گا۔

    سلیم:           کیسے؟

    داروغہ:        آپ اوپر میرے حجرے میں ٹھہریے۔ ظل الہٰی کے رخصت ہو جانے کے بعدمیں دروازہ کھلا چھوڑ کر ان کے ساتھ چلا جاؤں گا۔ آپ نیچے آئے گا اور انار کلی کو اٹھالے جائیے گا۔ ظل الہٰی اسے میری بھول کا نتیجہ سمجھیں گے۔ آپ انارکلی کو بچالیں گے۔ میرا قصور بھی تھوڑی ہی سزا پر ٹل جائے گا۔

    سلیم:           (توقف کے بعد ) تو جو کہہ رہا ہے۔ یہی کرے گا ؟

    داروغہ:        ( سر جھکا کر ) مگر میں غریب اہل و عیال والا ہوں ۔ تنخواہ.....

     سلیم:           ( بات کاٹ کر ) تو کسی چیز کا محتاج نہ رہے گا۔

    (پھر کسی کے سیٹرھیوں سے اترنے کی آواز آتی ہے۔ داروغہ لپک کر ڈیوڑھی میں جاتا ہے)

    سپاہی:          (سیٹرھیوں ہی میں سے ) داروغہ صاحب ظل الہٰی آپہنچے ۔ (واپس جاتا ہے)

    سلیم:           (گھبرا کر ) تو اپنے لفظوں پر قائم رہے گا۔

    داروغہ:        ( جلدی سے اندر آ کر ) خدا اور اس کا رسول شاہد ہیں ۔

    سلیم:           میں کہاں جاؤں؟

    داروغہ:        ( ڈیوڑھی میں جاتے ہوئے ) میرے ساتھ آئیے۔

    سلیم :           (انار کلی کو فرش پر لٹا کر ) میری راحت۔ میری ٹھنڈک ۔ یہاں آرام کر ۔ خدا اوراس کے فرشتے تیرے محافظ ہوں۔

    (آگے آگے داروغہ اور پیچھے پیچھے سلیم جاتا ہے۔ سیڑھیوں پر سے ان کے قدموں کی آواز غائب ہونے کے تھوڑی دیر بعد انارکلی ہوش میں آتی ہے۔ )

    انار کلی:         (لیٹے لیٹے ) صاحب عالم ہم پہنچ گئے؟ .....کہاں ہیں؟..... اندھیرا کیوں ہے؟ .....چاند کہاں گیا ؟ .....یہاں تو نہ کوئلوں کی کوک ہے، نہ پھولوں کی خوشبو .....تمہارا دل کہاں دھڑک رہا ہے؟..... کہو تو .....بولو نہ .....چپ کیوں ہو؟ ( بیٹھ کر ) ہائے زنداں ہے۔ وہی جہنم اور تم نہیں اور میرے سلیم تم نہیں ۔ آ جاؤ ۔ یہیں جنت بن جائے گی۔ بس تم آجاؤ اور کہیں نہ جائیں گے۔ یہیں گلے میں باہیں ڈال کر ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دم توڑ دیں گے۔ آجاؤ تمہاری انار کلی تمہیں دیکھے بغیر نہ گزرجائے۔

    (سیٹرھیوں پر سے پھر کسی کے اترنے کی آواز آتی ہے۔ انار کلی خوف کے مارے کھڑی ہو کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دروازے کی طرف تکتی ہے )

    داروغہ زنداں آتا ہے اور کواڑ بند کر کے ایک قہقہہ لگاتا ہے )

     انار کلی:         (ڈرتے ڈرتے ) صاحب عالم کہاں ہیں؟

    (داروغہ کچھ جواب نہیں دیتا۔ ایک اور قہقہہ لگاتا ہے اور سیٹرھیوں پر چڑھ جاتاہے)

    انارکلی:         ( دوڑتی ہوئی دروازے پر جا کر دیوانہ وار اسے دھکیلنے کی کوشش کرتی ہے۔ روتے ہوئے ) صاحب عالم ! صاحب عالم! ( چلا کر ) شہزادے! شہزادے! (ہانپتے ہوئے) سلیم ! سلیم ! ( بے دم ہو کر ) میری اماں! میری اماں ! ( بے ہوش ہو کر دروازے کے سامنے اوندھی گر پڑتی ہے )

    پرده

     

    منظر سوم

     

    اکبر کی خواب گاہ ۔ اسی رات میں اور تقریباً اسی وقت ۔

    ایک مختصر مگر تکلف سے آراستہ حجرہ جس کی چھت ماہی پشت انداز کی ہے۔ دیواروں کا بیشتر حصہ قرمزی مخمل کے بھاری بھاری پردوں سے جن پر سیاہ ریشم سے بڑے بڑے نقش بنے ہیں ۔ چھپا ہوا ہے۔ صرف سامنے کی دیوار کے درمیانی حصے پر سے پردے سر کے ہوئے ہیں جہاں ایک خوش وضع جالی دار محراب ہے۔ محراب کے جھروکے میں سے نیلے آسمان پرچند تارے ٹمٹماتے نظر آ رہے ہیں۔

     ایرانی قالینوں کے فرش پر دائیں کونے میں سونے کے بھاری بھاری جڑاؤ پایوں کا ایک پلنگ بچھا ہے جس پر تانبے کے رنگ کا پلنگ پوش پڑا ہے۔ سرہانے ایک ہشت پہلو میز پر تلوار اور دو شاخہ رکھا ہے۔ بائیں طرف ایک بیش قیمت تخت پر زری کے کام کی مسند بچھی ہے اور اس پر تکیے رکھے ہیں۔ دائیں بائیں دیوار کے ساتھ نیچی چوکیوں پر زریں پھول دانوں میں رتن مالا اور کرن پھول کی رنگینیوں میں سے پاڈل۔ نواری اور نرگس کے پھول  ابھرا بھر کر عطر بیز ہیں ۔

    کمرے کے درمیان میں اکبر ایک کشمیری فرغل پہنے ہاتھ ایک ہشت پہلو میز پر ٹکائے کھڑا سامنے گھور رہا ہے۔ پیچھے تخت پر رانی بیٹھی ہے۔

    رانی:           مہاراج رحم کیجیے۔ پہلے میری التجا تھی اس کو چھوڑ دیجیے۔ اب میری فرمایش ہےانار کلی کو سلیم کے لیے چھوڑ دیجیے۔

    اکبر:           انار کلی کو سلیم کے لیے ۔ یہ تم کہہ رہی ہو رانی؟

    رانی:           سب کچھ سوچ کر ۔ سب کچھ سمجھ کر ۔ سب پہلوؤں پر غور کر کے.....

     اکبر:           تمہارا مشورہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے تمام خواب چکنا چور کر ڈالوں۔ وہ خواب جو میرے دنوں کا پسینا۔ میری راتوں کی نیند۔ میری رگوں کا لہو۔ میری ہڈیوں کا مغز ہیں ۔ تمہارا مشورہ ہے کہ میں ان سب کو چکنا چور کر ڈالوں ۔

    رانی:           ( کچھ کہنا چاہتی ہے۔ مگر نہیں کہتی۔ سر جھکا لیتی ہے ) اولاد کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔

    اکبر :           ( دبے ہوئے جوش سے ) کیا کچھ نہ کیا گیا؟

    رانی:           ( سر جھکائے ہوئے ) پھر اب بھی ہم کیوں نہ صرف ماں اور باپ کا حق ادا کریں؟

    اکبر:           اور اس سے کب تک اولاد کے فرض کی امید نہ رکھیں؟

     رانی:           (سراٹھا کر) کیوں امید رکھیں ۔ ہمیں تو تھے جو اولاد کی آرزو میں سائے کی طرح اداس پھرتے تھے۔ ہمیں تو تھے جو اولا د پا کر دونوں جہان حاصل کر بیٹھے تھے اور ہمارے ہی لیے تو اس کا ایک تبسم زندگی کے تمام زخموں پر مرہم تھا۔ ہم تو صرف اس لیے اس کی تمنا کرتے تھے کہ اس سے ہمارا ویران دل آباد ہو۔ اور ہم اپنی موت کے بعد بھی اس میں زندہ رہ سکیں۔ پھر اس سے توقع کیسی؟

    اکبر :           تم ماں ہو ۔ صرف ماں ۔

     رانی:           (جل کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ضبط کی کوشش کرتی ہے مگر نہیں رہا جاتا۔ پھٹ پڑتی ہے ) میں خوش ہوں کہ میں صرف ماں ہوں۔ اور مجھ کو رنج ہے کہ آپ شہنشاہ ہیں۔ صرف شہنشاہ۔

    اکبر:           (منہ موڑتے ہوئے) ہم اسے محبت کی غیر ضروری نرمی سے بگاڑ نا نہیں چاہتے۔

    رانی:           ( چڑ کر ) سختی، ایک نوجوان اور جوشیلی طبیعت کو سنوار نہیں سکتی۔

    اکبر:           ( سر ہلاتا ہوا میز کے دوسری طرف چلا جاتا ہے ) لیکن اسے سنورنا ہی ہوگا۔سنورے بغیر اس کا قدم ہندستان کے تخت کو نہیں چھوسکتا۔

     رانی:           وہ آپ کے ہندستان کے تخت کو جہنم سمجھتا ہے ۔ جہاں انار کلی ہو وہ جگہ اس کی جنت ہے۔

    اکبر:           ( مڑکر رانی کو دیکھتا ہے ) یہاں تک ؟

    رانی:           اس کی رگوں میں خون جوانی کے گیت گا رہا ہے اور جوانی کی نظروں میں ہندستان ایک عورت سے زیادہ قیمت نہیں رکھتا۔

    اکبر:           ( رانی کو تکتے ہوئے ) ہندستان ایک عورت سے سستا ہے؟

    رانی:           وہ یہی کہتا ہے۔

    اکبر:           خود سلیم؟

    رانی:           خود سلیم

    اکبر :           ( سامنے مڑ کر ہاتھ پیشانی پر رکھ لیتا ہے ) آہ میرے خواب !وہ ایک عورت کے عشوؤں سے بھی ارزاں تھے ..... فاتح ہند کی قسمت میں ایک کنیز سے شکست کھانا لکھا تھا۔

    رانی:           (سر جھکا کر خاموش ہو جاتی ہے۔ ذرا دیر بعد سر اٹھا کر ) جو ہو چکا بدل نہیں سکتا۔جو آنے والا ہے اسے سدھارئیے ۔

    اکبر:           ( مایوسی کے قلق اور غصے سے ) اور کیا آئے گا؟ میرے دل کو اجاڑ دینے کے بعدوہ میرے جسم کو بھی ویران کر ڈالنے کا آرزومند ہے؟

    رانی:           کیا کہتے ہیں مہاراج۔ یہ سوچنے سے پہلے وہ اپنی جان گنوا ڈالے گا۔

     اکبر:           (غم سے سر جھکا کر ) اس کے وہی معنی ہیں ۔ ہم ، ہماری آرزوئیں، ہماری راحت ، ہماری زیست ، سب اس کے لیے بے معنی لفظ ہیں۔ اس کا سب کچھ انار کلی ہے۔ اس کے دل میں ماں باپ کی یہ قدر ہے۔

    رانی:           اس کے دل میں اپنی محبت کا اندازہ اس کی موجودہ حالت سے نہ لگائیے۔ یہ جنون آرام سے گزر جانے دیجیے۔ اور پھر دیکھیے سلیم کیا بن جاتا ہے۔

     اکبر:           ( رانی کو تکتے ہوئے ) اور یہ جنون کس طرح گزرے گا ؟

    رانی :           چڑھا ہوا دریا بند لگانے سے نہ رکے گا۔ اسے انار کلی کو لے لینے دیجیے۔ وہ اسے اپنی بیگم بنالے۔ انار کلی کا ہو کر وہ ہمارا سلیم بن جائے گا۔

    اکبر:           (کچھ دیر سامنے دیکھتا رہتا ہے) اسے اپنا بنانے کے لیے میں ایک کنیز کا ممنون احسان نہیں بننا چاہتا۔ ( توقف کے بعد ) جو کچھ وہ چاہتا ہے اسے کرنے دو۔اور جو کچھ میں چاہوں گا میں کروں گا۔

    رانی :           مایوس ہو کر چلتی اور پلنگ کے قریب پہنچ کر رک جاتی ہے ) میں پھر کہوں گی ۔ آپ شہنشاہ ہیں۔ صرف شہنشاہ۔

    اکبر:           (خاموش کرنے کو ہاتھ اٹھا کر ) ہم اور کچھ نہیں سننا چاہتے ۔ ہم سوچیں گے ۔ اورکل صبح انار کلی کا فیصلہ.....

    (انار کلی کی ماں دیوانہ وار اندر گھس آتی ہے)

    ماں:           انارکلی کا فیصلہ! میری غریب بچی کا فیصلہ! اسے بخش دے ظل الہٰی ۔اے شہنشاہ ! اے غریبوں کی قسمت کے والی!

    اکبر:           (حیرت اور غصے سے ) بغیر اجازت یہاں آنے کی جرأت!

    ماں:           (دو زانو ہوکر ) بندے خدا کے حضور میں بغیر اجازت جاسکتے ہیں اور تو خدا کا سایہ ہے۔ مہربان شہنشاہ ہے اور وہ میری بچی ہے۔ میری زندگی کی آس ہے۔ خطاوار ہے ۔ مگر تو کریم ہے۔ وہ گنہ گار ہے مگر تو رحیم ہے بخش دے۔ للہ اس کو بخش دے۔

    اکبر:           جاؤ اور فیصلے کا انتظار کرو۔

    ماں:           میں کہاں جاؤں۔ شہنشاہ مجھے کہیں قرار نہیں۔ رانی تم عورت ہو ( اٹھ کر رانی کے پاؤں پکڑ لیتی ہے) بچے کی ماں ہو۔ ان ٹیسوں کو جانتی ہو ۔ میں تمہارے پیروں کو چومتی ہوں۔ کہہ دو مجھے مار ڈالیں۔ میں دنیا سے سیر ہو چکی۔ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں ۔ مگر اس ناشاد نے دنیا کا کچھ نہیں دیکھا۔ اسے بخش دیں۔

    اکبر:           (دروازے کی طرف رخ کر کے) اسے لے جاؤ۔

    (خواجہ سرا داخل ہو کر اسے اٹھاتے ہیں)

    ماں:           میں یہیں جم کر رہ جاؤں گی۔ یہیں ہوش حواس کھو بیٹھوں گی۔ مجھے ہاتھ پھیلا لینے دو۔ خون کو خون کے لیے التجا کر لینے دو۔ شاید وہ بچ جائے ۔ میری جان ۔ میرے جگر کا ٹکڑا ۔ میری نادرہ ! ( خواجہ سرا لے جانے کو کھینچتے ہیں ) رانی تم بولو۔ شہنشاہ ایک رحم کی نظر ڈالو۔ یہ بڑھیا جی اٹھے گی۔

    (اکبر سر جھکائے خاموش کھڑا رہتا ہے)

     ظالمونہ کھینچو۔ رحم ! رحم ! الہٰی تو ہی سن - ظل الہٰی نہیں سنتا۔ اے آسمان پھر تو ہی مدد دے۔ رانی مدد نہیں کرتی ان کے دلوں کو نرم بنا کہ انہیں میرا دکھ معلوم ہو سکے۔

    (اکبر بے قراری سے سر ہلاتا ہے خواجہ سرا انار کلی کی ماں کو زور سے کھینچتے ہیں )

    ہائے مجھے یوں نامراد نہ لے جاؤ۔ میں یہاں سے نکلتے ہی دم تو ڑ دوں گی۔ یہ منصف آسمان گر پڑے گا۔ اس ظلم کا اس قہر کا انتقام لے گا۔

    (خواجہ سرا چیختی چلاتی کو زبردستی لے جاتے ہیں۔ پیچھے پیچھے رانی آنسو پونچھتی ہوئی خاموشی چلی جاتی ہے)

    اکبر:           (توقف کے بعد سر آسمان کی طرف اٹھا کر ) نامراد باپ اور مایوس شہنشاہ۔ یوں تیرے خواب تمام ہوئے ۔ ( آنکھیں بند کر کے سر جھکا لیتا ہے ) دنیا سے ۔ واقعات سے اور تقدیر تک سے لڑنے کے بعد کون جانتا تھا۔ تجھ کو یہ دردانگیز مرحلہ طے کرنا پڑے گا ( گہری آہ بھر کر ) جس کے لیے خود سب کچھ کیا تھا اس سے اپنی اولاد سے۔ اپنے شیخو سے الجھنا ہوگا ۔ ( توقف کے بعد بے قراری سے ) یاس یاس! ہندستان کیوں اور جہاں بانی کی آرزو کیوں (سوچتے ہوئے ملول نظروں سے ) اس کے لیے جس نے ایک حسینہ کی آنکھوں پر باپ کو فروخت کر ڈالا ۔ اس کو باپ نہیں چاہیے۔ باپ کی محبت نہیں چاہیے۔ باپ کا ہندستان نہیں چاہیے۔ وہ صرف انارکلی کو لے گا۔ ایک کنیز کو جو اسے انداز دکھائے ۔ اس کے سامنے ناچے اور اس سے اشارے کنا یے کرے۔ (ہاتھ پیشانی پر رکھ لیتا ہے ) آہ میرے خواب ! میرے خواب (انتہائی مایوسی کے عالم میں مڑکر تخت تک پہنچتا ہے اور اس کے قریب خاموش کھڑا ہو جاتا ہے ) کل رات وہ اپنی جنت میں تھا۔ اگر دلا رام نہ دکھاتی .....کہاں ہے وہ؟ وہ ضرور کچھ زیادہ جانتی ہوگی۔( مڑکر تالی بجاتا ہے )

     (خواجہ سرا داخل ہوتا ہے)

    دلارام!

    (خواجہ سرا الٹے پاؤں واپس جاتا ہے)

    ( تخت پر بیٹھ کر ) میرے ہی بیٹے کی محبت اگر ایک کنیز چاہے تو مجھ کو بخش سکتی ہے۔ آہ شیخو! تم اکبر کی کنیز کو اکبر ہی کے سینے پر نچانا چاہتے ہو۔ (انتہائی صدمہ کے مارے سر جھکا لیتا ہے)

    ( دلارام داخل ہو کر مجرا بجالاتی ہے )

    اکبر:           ( کچھ دیر چپکا اسے دیکھتا رہتا ہے) لڑکی! تجھے شیخو اور انارکلی کے کیا تعلقات معلوم ہیں؟

    ولارام :         (سراسیمگی سے ) ظل الہٰی کچھ نہیں ۔

    اکبر:           جواب دینے سے پہلے سوچ۔

    دلارام :         میں نے سچ کہہ دیا۔

    اکبر:           ( پر معنی انداز میں ) تو نے سچ نہ کہا تو تجھ سے سچ کہلوایا جائے گا۔

    دلارام:         (سہم کر ) ظل الہٰی۔ ظل الہٰی !

     اکبر:           ایک لفظ نہیں ۔ جو کچھ ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں اس کے سوا ایک لفظ نہیں۔

     دلارام:         (بڑھ کر دوزانو ہو جاتی ہے۔ لجاجت سے ) میں کچھ نہیں جانتی۔

     اکبر:           ( دلا رام کی گردن دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ) کمینی جھوٹ ! تو نے دکھایا۔صرف تو دیکھ سکی ۔ تمام جشن میں سے صرف تو ۔ جو اس وقت ہمارے حضور میں موجود تھی جو سب سے زیادہ مصروف تھی ۔ تو جانتی تھی ۔ تجھے اس کی توقع تھی۔ کہنا ہوگا دلا رام سب کچھ جو تو جانتی ہے۔ ورنہ کہلوایا جائے گا۔

    دلارام :         مجھے بخش دیجیے۔ مجھے بخش دیجیے۔

    اکبر :           تیرا دوسرا غیر ضروری لفظ پوچھنے کے ذرائع تبدیل کر دے گا۔

    دلارام:         ( سہمی ہوئی آواز میں) وہ مجھے برباد کر ڈالیں گے۔ ظل الہٰی کے عتاب میں لے آئیں گے۔

    اکبر:           کون؟

    دلارام :         ( ادھر ادھر دیکھ کر ) صاحب عالم !

    اکبر:           شیخو؟ وہ جرأت نہیں کر سکتا ۔ ( دلارام کی گردن چھوڑ دیتا ہے )

     دلارام :         (اکبر کے پیروں کو ہاتھ لگا کر ) ان کی دھمکی خوفناک تھی ۔ افشائے راز کی سزا موت سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔

    اکبر:           کیا؟

    دلارام:         مجھ پر وہ جھوٹا الزام لگایا جائے گا جو واقعات نے انار کلی پر لگایا۔

    اکبر:           کہ تو سلیم کو چاہتی ہے۔

    دلارام :         اور محبت کی مایوسی نے مجھے یوں انتقام لینے پر آمادہ کیا۔

    اکبر:           تو ہمارے سایہ عاطفت میں ہے۔ بول!

     دلارام:         (کھڑی ہو کر ادھر ادھر دیکھتی ہے ) وہ رات کو باغ میں ملتے تھے اور ان کی ملاقاتیں خطرناک ارادوں سے بھری ہوتی تھیں۔

    اکبر:           (دلا رام کو تکتے ہوئے ) وہ ارادے؟

    دلارام:         ( لجاجت سے ) مجھے جرأت نہیں پڑتی۔

    اکبر:           ( کڑک کر ) کہے جا!

    دلا رام:         ( تامل کے بعد وہ ظل الہٰی کے دشمنوں پر آنچ لانے اور ہندستان کے تخت پرقبضہ پانے کی تجویزیں کرتے تھے۔

    اکبر:           ( دلا رام پر یوں نظریں گاڑ کر گویا سب کچھ اس کے جواب پر منحصر ہے ) شیخوبھی؟

    دلارام:         انار کلی صاحب عالم کو اس پر آمادہ کرتی تھی۔

    اکبر:           (گرج کر ) تو جھوٹ بول رہی ہے۔ جھوٹ ۔

    دلارام:         (پیروں میں گر کر ) ظل الہٰی کے حضور میں زبان سے جھوٹ نہیں نکل سکتا۔

    اکبر:           اس سے انار کلی نے کہا.....؟

    دلارام:         ایک طرف باپ ہے اور دوسری طرف محبوب ۔ دونوں میں سے جو پسند ہوچن لو۔

    اکبر:           (بالوں سے پکڑ کر دلا رام کا منہ اوپر کرتا ہے ) اور شیخو نے دونوں میں سے محبوب کو پسند کیا ؟

    دلا رام:         وہ کھوئے سے گئے ۔ مگر انارکلی رو پڑی۔ وہ اٹھے اور ان کا ہاتھ تلوار پر گیا۔ انہوں  نے انار کلی کے کان میں کچھ کہا۔ اور وہ مسکرانے لگی ۔

    (اکبر دلارام کو چھوڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایذا کے احساس سے آنکھیں بند کر لیتا ہے اس کا بدن آگے پیچھے یوں جھوم رہا ہے گویا پیروں میں جسم کو سنبھالنے کی تاب نہیں رہی۔ آخرلڑ کھڑا کر تخت پر بیٹھ جاتا ہے)

     دلارام:         میں چھپ کر سن رہی تھی تو صاحب عالم کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ یہ سمجھ کر کہ میں یہ گفتگو بارگاہ عالی تک پہنچا دوں گی۔ انہوں  نے مجھ کو دھمکی دی کہ انار کلی کا نام زبان سے نکالنے پر تجھ کو پچھتانا ہوگا۔ مہابلی کے سامنے جھوٹی شہادت پیش کی جائے گی کہ تو خود ہم کو چاہتی ہے اور جب ہم نے تجھ کو مایوس کر دیا تو تو نے اپنی ناکامی کا انتقام لینے کو یہ ڈھنگ نکالا۔ میں سہم گئی۔ میری زبان بند ہو گئی۔ مجھے جہاں پناہ کے حضور میں ایک لفظ زبان سے نکالنے کی جرأت نہ ہوئی لیکن میں اس فکر میں گھلتی رہی۔ ایسے موقع کی تاک میں رہی جہاں میری زبان بندر ہےاور شہنشاہ کی نظریں دیکھ سکیں۔

    اکبر:           (صدمے کے مارے سن سایوں بیٹھا ہوا ہے گویا اس بھری دنیا میں اکیلا اور تہی دست رہ گیا ہے۔ آہستہ سے ) بس کر ۔ بس کر ۔

    دلارام:         ( ملال سے ) صاحب عالم بے قصور ہیں۔ معصوم ہیں۔ وہ پھسلا لیے گئے ۔بہکا لیے گئے۔

    (خواجہ سرا آتا ہے)

    خواجہ سرا:      مبابلی داروغہ زنداں شرف باریابی چاہتا ہے۔

    اکبر:           کون؟

    خواجہ سرا:      داروغہ جو زنداں میں انار کلی کا محافظ ہے۔

    اکبر:           (منہ دوسری طرف کر کے ) ہر زبان پر یہی نام میری تضحیک کر رہا ہے۔ ( توقف کے بعد خواجہ سرا سے ) اس وقت کیا چاہتا ہے؟

    خوجہ سرا:       اسے کچھ بے حد ضروری کام ہے۔

    اکبر:           ( ذرا دیر خاموش رہ کر ) بلاؤ۔

    (خواجہ سرا الٹے پاؤں واپس جاتا ہے)

    (توقف)

    دلارام:         ( لجاجت سے ) مہابلی ۔ لونڈی کو معاف کرنا۔ میرے الفاظ نے سماعت عالی کو صدمہ پہنچایا۔ مگر پھر میں کیا کرتی ۔ کس طرح ظل الہٰی کی جان کو خطرے میں دیکھتی اور چپ رہتی ۔

    اکبر:           ( یکا یک بیتاب ہوکر ) کمینی دور ہو جا!

    (دلارام مجرا بجالا کر چلی جاتی ہے۔) اکبر خاموش اور ساکت بیٹھا رہتا ہے۔مگر اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی ہیں )

                     میرے دماغ میں شعلے بھڑک رہے ہیں۔ میں نہیں جانتامیں کیا کر بیٹھوں گا مگر وہ اس صدمے کی طرح مہیب ہوگا۔

    ( داروغہ زنداں داخل ہو کر مجرا بجالاتا ہے۔ اس کا سانس پھول رہا ہے اور وہ منتظر ہے کہ اکبر اس سے سوال کرے )

    رات کو کیوں آیا؟

    داروغہ:        (ہاتھ جوڑ کر ) ایک المناک داستان سنانے کو ۔

     اکبر:           (اسے سرسے پاؤں تک دیکھ کر ) بیان کر !

    داروغہ:        ( ہانپتے ہوئے ) صاحب عالم نے اس وقت بزور شمشیر انارکلی کو زنداں سے نکال لے جانا چاہا۔

     اکبر:           ( پاگلوں کی طرح داروغہ کا منہ تکتے ہوئے ) کیا؟

    داروغہ:        وہ تلوار سونت کر میرے سرہانے پہنچے ۔ شمشیر کی نوک پر میرے سینے پر رکھ کر مجھ سے کنجیاں چھین لیں اور زنداں میں داخل ہو گئے ۔

    اکبر:           (کھڑا ہو جاتا ہے) شیخو ۔ بزور شمشیر؟ ( تحیر کے عالم میں ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں ) باپ کو برباد کر چکنے کے بعد اب وہ شہنشاہ سے بھی باغی ہے۔ ( توقف کے بعد کوشش کر کے سکون سے ) اور کیا ہوا؟

    داروغہ:        میں صاحب عالم سے مقابلہ کی جرأت نہ کرسکتا تھا۔ دروازے کے پاس کھڑا ہو کر ان کی گفتگو سننے لگا۔

    اکبر :           ( دوسری طرف منہ کر کے ) وہ کیا باتیں کر رہے تھے؟

    داروغہ:        (تھوڑے سے توقف کے بعد ڈرتے ہوئے ) انہیں سن کر شہنشاہ کی سماعت کو صدمہ پہنچے گا۔

    اکبر:           ( گرج کر ) بول!

    داروغہ:        شہزادہ چاہتا تھا انار کلی کو لے کر بھاگ جائے لیکن انار کلی ہندستان چاہتی تھی۔ وہ بولی یہ زنجیریں نہ کاٹو اور زنجیریں پڑ جائیں گی۔ میرے اور تمہارے درمیان جو دیوار کھڑی ہے اس کو ڈھاؤ ۔

    اکبر:           (سامنے گھورتے ہوئے ) دیوار ! ( ذرا دیر بعد اس کا سر یوں جھک جاتا ہے گویا گردن پر ڈھیلا ڈھیلا ہے )

    داروغہ:        ( اکبر کو متاثر دیکھ کر ) صاحب عالم نے انکار کر دیا۔ اور بھاگ چلنے پر زور دیا۔

     اکبر:           ( یک لخت داروغہ کا گریبان پکڑ کر ) تو جھوٹ بولتا ہے ۔ اس نے انارکلی کی آرزو پوری کر نے کا وعدہ کیا۔

    داروغہ:        (ذرا دیر سمجھ نہیں سکتا کہ کیا کہے۔ آخر سراسیمگی سے ) نہیں ۔ ہاں وہ مجبور کر دیےگئے تھے۔

    اکبر :           ( داروغہ کا گریبان چھوڑ کر قہر آلود نگا ہیں اس پر گاڑ دیتا ہے ) اور پھر ؟

    داروغہ:        دونوں نے وہاں سے نکلنا چاہا۔

    اکبر:           اور تو ؟

    داروغہ:        میں نے مقابلہ کر کے صاحب عالم کو روکنا محال جانا۔ میں نہ تلوار نکال سکتا تھا نہ انہیں زنداں میں بند کر دینے کی جرأت کر سکتا تھا۔ میں دوڑا ہوا اندر گیا اور میں نے کہا ظل الہٰی ادھر تشریف لا رہے ہیں ۔

    اکبر:           اور وہ کیا بولے؟

    داروغہ:         انار کلی بولی صاحب عالم تلوار کھینچو اور صاحب عالم نے کہا۔ شہنشاہ کو آنے دو۔

    (اکبر اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر نہیں سنبھل سکتا ۔ اوندھا گرنے لگتا ہے۔ داروغہ بڑھ کر اسے تھام لیتا اور تخت پر بیٹھا دیتا ہے۔ اکبر ذرا دیر بعد نظر اس کی طرف اٹھاتا ہے)

    داروغہ:        ( توقف کے بعد ) میں نے انہیں اس کوشش کے انجام سے ڈرایا اور وعدہ کیا کہ مہابلی کے چلے جانے کے بعد میں خود انار کلی کے فرار میں امداد دوں گا۔ شہزادے کو یقین نہ آتا تھا لیکن جب میں نے اس کام کے لیے رشوت طلب کی تو انہوں  نے مان لیا مگر ساتھ ہی دھمکی دی کہ وعدہ خلافی کی صورت میں ظل الہٰی کے حضور میں جھوٹی شہادت پہنچائی جائے گی کہ تو نے رشوت لی ہے۔

    اکبر :           (کمزور آواز میں ) وہی دھمکی جو دلا رام کو دی گئی تھی ۔

    داروغہ:        اس کے بعد میں انہیں اپنے حجرے میں لے گیا اور وہاں بند کر کے اطلاع دینے کے لیے بارگاہ عالی میں حاضر ہوا۔

    اکبر :           (منہ ہی منہ میں ) یوں ہی ہونا تھا۔

    داروغہ:        ( لجاجت سے ) صاحب عالم معصوم ہیں ۔ ترغیب خوفناک تھی۔

    اکبر:           ( سوچتے ہوئے پر معنی انداز میں ) ہاں ترغیب خوفناک ہے۔

     داروغہ:        مجھے اندیشہ ہے۔ صاحب عالم کل کوئی اور فتنہ نہ کھڑا کریں۔

     (اکبر کچھ جواب نہیں دیتا۔ ساکت و جامد بیٹھا ہوا ہے۔ توقف غیر محدود معلوم ہوتا ہے۔)

    میں ظل الہٰی کے فرمان کا منتظر ہوں ۔

    اکبر:           ( کچھ دیر بعد سکون سے ) موت!

    داروغہ:        (آہستہ سے ) کس کی؟

    اکبر:           ( جوش سے بیتاب ہو کر ) جس کے رقص نے ہندستان کے تخت سلطنت کولرزادیا۔ جس کے نغمے نے ایوان شاہی میں شعلے بھڑ کا دیے۔ جس کے حسن نے جگر گوشہ مغلیہ کے حواس چھین لیے ۔ جس کی نظروں نے ہندستان کے شہنشاہ کو۔ شیخو کے باپ کو ۔ جلال الدین کو لوٹ لیا۔ جس کی ترغیب نے خون میں خون کے خلاف زہر ملایا۔ جس کی سرگوشیوں نے قوانین فطرت کو توڑنا چاہا۔ لٹا ہوا باپ۔ تھکا ہوا شہنشاہ۔ ہارا ہوا فاتح۔ اسے فنا کرے گا۔ مارے گا۔ مٹائے گا جس طرح اس نے میری اولاد کو مجھ سے جدا کیا۔ یوں ہی وہ اپنی ماں سے جدا ہوگی ۔ جس طرح اس نے مجھے عذاب میں ڈالا یوں ہی وہ عذاب میں مبتلا کی جائے گی۔ جس طرح اس نے میرے ارمانوں اور خوابوں کو کچلا ۔ یوں ہی اس کا جسم کچلا جائے گا۔ لے جاؤ۔ اکبر کا حکم ہے۔ سلیم کے باپ کا۔ ہندستان کے شہنشاہ کا لے جاؤ۔ اس حسین فتنے کو ۔ اس دلفریب قیامت کو ۔ لے جاؤ ۔ گاڑدو۔ زندہ دیوار میں گاڑ دو ۔ زندہ دیوار میں گاڑ دو۔

    داروغہ رخصت ہو جاتا ہے۔ اکبر بولتا بولتا کھڑا ہو گیا تھا اور اس کا جوش جیسے اس کے قابو سے نکل گیا تھا۔ تھک کر نیم بیہوشی کی حالت میں مسند پر گر پڑتاہے)

    پرده

     

    منظر چہارم

    زنداں کا بیرونی منظر

    صبح پھیکے آسمان پر دو تین بھٹکے ہوئے تارے حسرت آلود ہیں۔ فضا میں جیسے کسل اور اضمحلال ہے۔ فطرت کا باسی منہ اترا اترا اور بے رونق ہے۔ زندگی سو کر اٹھے ہوئے مزدور کی طرح ملول اور غمناک ہے۔

     زنداں کے دروازے کے دونوں طرف حبشی خواجہ سراننگی تلوار میں لیے بت بنےکھڑے ہیں۔

    داروغہ زنداں اور دو اور خوفناک صورت حبشی خواجہ سرا داخل ہوتے ہیں ۔ زنداں کے دروازے کا قفل کھولتے ہیں اور خاموشی سے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔

     انار کلی :         (اندر سے) سلیم!

    اور پھر انار کلی کی ایک چیخ کی آواز آتی ہے اور سکوت طاری ہو جاتا ہے ۔ زنجیروں کے ہلنے کی آواز آتی ہے اور تھوڑی دیر میں داروغہ اور خواجہ سرا انار کلی کولے کر نکلتے ہیں۔

    انار کلی کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں۔ ان میں زندگی بجھ چکی۔ رنگت زرد ہے۔ وہ منہ ہی منہ میں کچھ بول رہی ہے اور سامنے آسمان کی طرف بے معنی نظروں سےتک رہی ہے۔

    دونوں خواجہ سرا تلوار نکالتے ہیں۔ داروغہ ہتھکڑی کی زنجیر کھینچتا ہے۔ انار کلی چلتی ہے۔ یوں جیسے نیند میں چلی جارہی ہو ۔ سب اس کو لے کر خاموشی سے چلے جاتے ہیں ان کے جانے کے بعد محافظ خواجہ سرا تلواریں نیام کرتے اور رخصت ہو جاتے ہیں۔

    مندر سے گھنٹوں کی ملول ٹن ٹن آنی شروع ہوگئی ہے۔ مسجد سے اذان ضعیف ونحیف کائنات کی دکھ بھری فریاد معلوم ہوتی ہے۔)

    پرده

     

    منظر پنجم

    سلیم کا مثمن برج والا ایوان

     باہر نیلے آسمان اور مسجد کے گنبد اور میناروں پر دھوپ کہہ رہی ہے کہ دن چڑھ چکا۔ اندر سلیم تخت پر بیہوشی کی حالت میں یوں پڑا ہے گویا کہیں سے لا کر لٹا یا گیا ہے۔ ذراسی دیر بعد حرم کی طرف کے دروازے کے پردے ہلتے ہیں اور دلارام سر نکال کر اندر جھانکتی ہے۔ جب اطمینان ہو جاتا ہے کہ سلیم غافل ہے تو وہ دبے پاؤں اندر آتی اور آہستہ آہستہ پنجوں کےبل چلتی ہوئی سلیم کے قریب پہنچ کر تھم جاتی ہے۔

     دلارام:         (کچھ دیر خاموشی سے سلیم کو تکتی رہتی ہے ) تو غافل سو رہا ہے اور موت کا منہ تیری انار کلی پر بند ہو چکا ہے .....تیری زندہ انار کلی کے گردا ینٹیں اور پتھر چنے گئے اور اس کا حسن خاک میں غروب ہو گیا .....اس کی نزع کی چیخیں ۔ تیری نیند میں نہ پہنچیں ۔ میری ہڈیوں میں کیوں گونج رہی ہیں۔ ( سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتی اور سامنے تکنے لگتی ہے ) لیکن میرا کیا قصور ! یہ تو ستاروں کے کھیل ہیں۔ کون ان کی پر اسرار چال کو سمجھ سکتا ہے اور کون جانتا ہے جب وہ ٹکراتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ (سلیم کراہ کر کروٹ لیتا ہے۔ دلارام حرم کے دروازے کی طرف بھاگتی ہے۔ مگر سیڑھیاں چڑھ کر رکتی اور مڑکر دیکھتی ہے کہ سلیم کروٹ بدلنے کے بعد پھر غافل ہو گیا ہے۔ تامل کے بعد ایوان میں آجاتی ہے ) ابھی نہیں! (سلیم کو تکنے لگتی ہے) پر تم جاگ کر کیا کرو گے شہزادے۔ اس خبر کو سن کر آنسو بہاؤ گے یا جنون میں کھلکھلاؤ گے (سلیم پھر کروٹ بدلتا ہے۔ دلارام پھر حرم کے دروازے کی طرف بڑھتی ہے مگر رخصت ہونے کو جی نہیں مانتا ۔ آخر جلدی سے بڑھتی ہے اور ورلے دروازے کے پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہے)

    سلیم:           (آنکھیں کھول دیتا اور ذرا دیر چپ چاپ پڑا ساکن نظروں سے چھت کو تکتا رہتا ہے۔ پھر اٹھ کر بیٹھ جاتا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیتا ہے۔ کچھ دیر بعد چونک کر حیرت سے ادھر ادھر دیکھتا ہے) یہ کیا ہے! ( آنکھوں پر ہاتھ پھیرتا ہے) کیا ہو گیا ہے! (کھڑا ہوتا ہے مگر لڑکھڑا کر پھر بیٹھ جاتا ہے) میرا اپنا ایوان ! .....میں انار کلی کے پاس تھا۔ اس کا سانس میری پیشانی پر اب تک تازہ ہے۔ (سوچنے لگتا ہے ) ہاں داروغہ آیا تھا اور ظل الہٰی .....داروغہ مجھے اپنے حجرے میں لے گیا۔ میں نے اس کے انتظار میں ایک زندگی کا پورا عذاب دیکھا اور پھر وہ لوٹا ..... ہاں وہ لوٹا.....  اور پھر ؟ ..... ہم انار کلی کی طرف جانے لگے اور وہ تھم گیا .....ہم نہ گئے .....اس نے مجھے تازہ دم کرنے کے لیے ایک شربت دیا اور پھر ؟ .....کچھ نہیں .....اور پھر ؟..... کچھ نہیں۔ اب میں یہاں ہوں ۔ یہ کیا اسرار؟ کیسے ہوا؟ (سوچتا سوچتا یک لخت چونک پڑتا ہے) خداوندا! یہ تمام منصوبہ تھا؟ کاش نہ ہو۔ کاش نہ ہو ۔ نہیں تو کیا نہ ہو چکا ہوگا! میری انارکلی ! میری اپنی انار کلی (ادھر ادھر یوں دیکھ کر جیسے یک لخت بدن میں بجلی سی بھر گئی ہے ) مجھے ابھی معلوم ہونا چاہیے۔ میری تلوار ! ( پہلو میں دیکھتا ہے۔ تلوار نہیں ) میری تلوار میری تلوار ۔ (جس میز پر تلوار رکھی رہا کرتی ہے۔ وہاں جا کر دیکھتا ہے۔ نیام خالی ہے ) خالی! (پھینک دیتا ہے ) یہ کیا! (ایک لمحے سکتے کے سے عالم میں رہتا ہے اور پھر یک لخت ) سلیم بھاگ۔ تیر کی طرح جا! (باہر جانے کے لیے دروازہ کی طرف بھاگتا ہے)

    ( در اوزے میں سے ایک سپاہی تلوار لیے ہوئے نکل آتا ہے اور جھک کر تعظیم بجالاتا ہے)

    ( سلیم اسے حیرت کے عالم میں تکتا ہوا پیچھے ہٹتا ہے ) کیا؟

    سپاہی :          صاحب عالم اس ایوان سے باہر نہیں جاسکتے ۔

    سلیم:           کیوں؟

    سپاہی:          ظل الہٰی کا فرمان ہے۔

    سلیم:           ظل الہٰی کا فرمان ! کس لیے ؟

     سپاہی:          صرف ظل الہٰی جانتے ہیں۔

    سلیم:           میں قید ہوں؟

    سپاہی:          صاحب عالم کی راحت کے تمام سامان مہیا کیے جاسکتے ہیں۔

    سلیم:           اور میں باہر نہیں نکل سکتا ؟

    سپاہی:          ہم مجبور ہیں۔

    سلیم:           (جلال کے عالم میں ) میں جاؤں گا۔

    سپاہی:          (سکون سے) کوشش بے سود ہے۔ ہر طرف مسلح سپاہی ہیں۔ آگے دروازے مقفل ہیں۔ اور دروازوں کے باہر پھر مسلح سپاہی ہیں۔

    سلیم :           (بے بسی کے احساس سے غضب ناک ہوکر ) میں تم کو مارڈالوں گا۔

    سپاہی:          (اسی سکون سے ) لیکن دروازے بہت مضبوط اور باہر سے مقفل ہیں۔

    سلیم:           (کچھ دیر سوچتارہتا ہے اور پھر شدت غم سے آنکھیں بند کر لیتا ہے ) آہ میں اسیر ہوں ! بے بس ہوں خداوندا! (مسند پر گر پڑتا ہے)

    سپاہی:          میں ڈیوڑھی میں احکام کا منتظر ہوں۔

                   (سپاہی جاتا ہے)

    سلیم:           (بے چارگی کے احساس سے مغلوب ہوکر سر تکیے پر رکھ دیتا ہے) سب کچھ  کھو چکا۔ انہیں سب معلوم ہو گیا ۔ محبت بچھڑ گئی۔ آرزوئیں اجڑ گئیں۔ (بے قراری سے سر ہلا کر) کچھ نہیں۔ کچھ نہیں۔ صرف آنسو۔ صرف آہیں ۔ ( بیٹھ کر مٹھیاں آسمان کی طرف اٹھا دیتا ہے ) تقدیر ! تقدیر ! صرف ایک تبسم اور اتنا عتاب ؟ کون سی خوشیاں مفت دے دی تھیں ؟ کن راحتوں کی قیمت لینی تھی؟ یہ بے بسی ۔ یہ مجبوری! اسیری اور صرف آہیں اور آنسو۔ میں نے کون سے قہقہے تجھ سے چھین لیے تھے؟ تکیے پر سر رکھ کر رونے لگتا ہے ) جدا کر دیے گئے۔ ایک دوسرے سے نوچ کر الگ الگ ڈال دیا گیا کہ میں یہاں خون روؤں اور وہ وہاں دیواروں سے سر پھوڑے۔ (سراٹھا کر ) اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ وہ وہاں دیواروں سے سر پھوڑے ( کھلی آنکھوں سے سوچتے ہوئے ) اور کون جانے ۔ اسیری اولاد کے لیے۔ اس کے لیے کیا ہوگا؟ نہیں نہیں کچھ اور نہ ہو اور نہ ہو۔ میں دم توڑ دوں گا۔ زندہ نہ بچوں گا۔ (پھر تکیے میں منہ چھپا کر رونے لگتا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتا ہے۔ آنسو پونچھ ڈالتا ہے اور استقلال کی تصویر بن کر کھڑا ہو جاتا ہے) موت ہے تو پھر یوں ہی ہو ۔ میں حرم میں گھس جاؤں گا۔ ظل الہٰی کے رو برو اور خدا ہی جانتا ہے۔ پھر کیا ہوگا ؟ (حرم میں جانے کے لیے سیٹرھیوں کی طرف بڑھتا ہے لیکن دو ہی سڑھیاں چڑھنے پاتا ہے کہ ڈیوڑھی کی طرف پردہ کھلتا ہے)

    (بختیار داخل ہوتا ہے۔ چہرہ پر فکر و تردد ہے)

    بختیار:          سلیم!

    سلیم:           آہ تم بختیار ! تم آگئے (لپک کر اس کے قریب جاتا اور اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام لیتا ہے ) میرے دوست ۔ میرے مخلص۔ مجھے بتاؤ ۔نہیں جانتا کیا کیاپوچھوں ۔ سب کچھ بتاؤ۔ نہیں پہلے بتاؤ وہ زندہ ہے؟

    بختیار:          (سلیم کو حسرت ناک نظروں سے دیکھتے ہوئے ) میں گھر سے سیدھا یہاں آ رہا ہوں ۔ لیکن تمہیں معلوم ہوگا۔ بہت کچھ ۔ ایک بے بس قیدی سے بہت زیادہ۔

    بختیار:          (نظریں جھکا کر ) میں کچھ نہیں جانتا۔

     سلیم:           یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں جانتا ہوں ۔ تم مجھے چاہتے ہو۔ تمہارا دوست قید ہے لیکن تم پھر بھی اس سے نفرت نہیں کر سکتے ۔ میری محبت تمہیں تالوں اور تلواروں میں سے کھینچ لائی ۔ تم نے کن دشواریوں سے یہاں آنے کی اجازت پائی ہوگی اور تم انار کلی کے حال سے بے خبر یہاں آگئے ہو گے؟ نہیں تم مجھے ستانا چاہتے ہو ۔ مگر بختیار تمہارے پس و پیش میں موت کا کرب ہے۔ میرا دل سینے سے ٹکریں مار رہاہے۔ مجھے انار کلی کی خبر سناؤ۔

    بختیار:          (منہ موڑتے ہوئے ) میں اس کی کوئی خبر حاصل نہ کر سکا۔

    سلیم:           اس کی خبر حاصل نہیں کر سکے؟ تم سے کتنی مختلف بات ! تم بختیار نہیں رہے؟ میرے دوست نہیں رہے؟ میں سلیم نہیں رہا؟ تمہارا شہزادہ نہیں رہا؟ ( بختیار کا ہاتھ چھوڑ کر سر جھکا لیتا ہے ) ہاں احمق تو شہزادہ نہیں رہا۔ بختیار شہزادے کی خدمت بجالاتا تھا۔ اب تقدیر نے منہ موڑ لیا۔ اسے سلیم سے۔ ایک ذلیل قیدی سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ ( مایوس و دل شکستہ انداز میں سیٹرھیوں سے اتر کر ایوان میں آجاتا ہے)

    بختیار:          ( اس کے پیچھے پیچھے اشک آلود آنکھوں کے ساتھ سیڑھیوں سے اتر تے اتر تے ) جان سے عزیز دوست ۔ یہ نہ کہو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔

    سلیم:           ( بے قراری سے اس کی طرف مڑکر ) پھر میں تم سے کیا کہوں ۔ کیا پوچھوں؟

    بختیار:          کچھ نہ پوچھو۔ للہ مجھ سے کچھ نہ پوچھو۔ ( آنسو چھپانے کو منہ دوسری طرف کر لیتا ہے)

    سلیم:           (آنسو دیکھ لیتا ہے ) آنسو۔ خداوندا! (لپک کر اس کے قریب آتا اور شانوں سے پکڑ کر اس کا منہ اپنی طرف کرتا ہے ) بختیار کچھ کہو۔ بدترین خبر بتاؤ ۔ مگر کچھ کہو۔

    بختیار:          (سلیم سے نظریں چار کرنے کی جرأت نہیں پڑتی۔ بھرائی ہوئی آواز میں ) سب کچھ ہو چکا۔ میرے شہزادے سب کچھ ہو چکا۔ بتانے کو کچھ باقی نہیں رہا۔

    سلیم:           ( بختیار سے آنکھیں ملانے کی کوشش کرتے ہوئے) کچھ باقی نہیں رہا؟ تم نےکیا کہا؟ کچھ باقی نہیں رہا؟

     بختیار:          امیدیں، آرز و ئیں، امنگیں ، حوصلے ، سب مٹ گئے (سلیم کو دیکھ کر ) سلیم ! تمہارا سب کچھ فنا ہو گیا۔

    (سلیم کی نظریں بختیار سے ملتی ہیں۔ بختیار کے چہرے پر دکھ ہے۔ سلیم کا چہرہ بالکل خالی ہے۔ سکوت ٹیسوں سے بھرا ہوا ہے۔ ذرا دیر دونوں ایک دوسرے کو تکتے رہتے ہیں۔ سلیم سب کچھ سمجھ جاتا ہے۔ اس کا سر جھک کر سینے پر آپڑتا ہے۔ اور وہ کھڑا کھڑا سامنے کو گرنے لگتا ہے۔ بختیار سلیم! سلیم ! کہتا ہوا بڑھتا اور اسے سنبھال لیتا ہے۔ پھر اپنے ساتھ لے کرمسند پر بیٹھ جاتا ہے۔ سلیم کی آنکھیں بند ہیں اور سر بختیار کی گود میں رکھا ہے)

    میرے شہزادے ! میرے بادشاہ! میری روح ہوش میں آؤ .....مرد بنو! دیکھو میں کیا کہتا ہوں۔ آنکھیں تو کھولو.....  (سلیم کو ہلا کر ) آؤ ہم انار کلی کی باتیں کریں۔ سن رہے ہو؟ جواب دو ۔ سلیم !..... سلیم ! ( پریشان نظروں سے ادھر ادھر یوں دیکھتا ہے گو یا کسی کو امداد کے لیے پکارنا چاہتا ہے)

    سلیم:           ( کچھ دیر بعد آہستہ سے) کہیں نیچے اترا جارہا ہوں۔ بختیار مجھے گود میں بھینچ لو۔

    بختیار:          میرے سینے کے ساتھ ہو ۔ میری جان کے ساتھ ہو۔ تم آنکھیں تو کھولو۔ میری خاطر سے۔ سلیم خدا کے لیے آنکھیں کھول دو ۔ دیکھو۔ میری بات تو سنو ۔

    سلیم:           (اسی طرح پڑے پڑے ہلکے سے ) انار کلی ! بختیار انار کلی!

    بختیار:          دیکھو وہ تمہیں دیکھ رہی ہے۔

    سلیم:           کہاں؟

    بختیار:          تم اسے نہیں دیکھ سکتے ۔ مگر تمہاری بے قراری اس کی روح کو بے چین کر رہی ہے ۔ تم اس ناشاد کو مر کر بھی اطمینان حاصل نہیں کرنے دیتے ۔ تم ہوش سنبھالو۔ وہ ہنستی ہوئی فردوس میں حوروں کے پاس چلی جائے گی۔

    سلیم:           ( کچھ دیر بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے۔ بختیار آنسو بھری آنکھوں سے اسے تک رہا ہے۔ آخر نقاہت سے ) مجھے بٹھا دو!

    ( بختیار بے حس و حرکت بیٹھا اندیشہ ناک نظروں سے سلیم کو دیکھتا رہتا ہے)

    نہیں نہیں میں بیٹھوں گا۔

    بختیار:          کیوں میرے شہزادے؟

    سلیم:           مجھے تم سے کچھ کام ہے۔

    بختیار:          (سلیم پر نظریں گاڑے ہوئے ) کیا ؟

    (بختیار کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ سرشانے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ چہرے   مردنی چھائی ہے۔ آنکھیں ساکت ہیں۔ ہاتھ جیسے بے جان ہیں۔ زندگی کل کا ایک بے کار پرزہ معلوم ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد سر اٹھاتا ہے اور سامنے اس طرح تکنے لگتا ہے کہ کہیں دیکھتا معلوم نہیں ہوتا )

    سلیم :           بختیار ! تم مجھے چاہتے ہو؟

    بختیار:          سلیم ۔ تم اس میں شبہ بھی کر سکتے ہو؟

    سلیم:           ایک کام کر دو ۔

    بختیار:          کیا چاہتے ہو؟

    سلیم:           ایک خنجر لا دو۔

    بختیار:          ( اٹھ کر سلیم کے سامنے آ بیٹھتا ہے ) تم کیا سوچ رہے ہو؟

    سلیم:           کچھ نہیں۔ مجھے انار کلی کے پاس پہنچنا ہے۔

     بختیار:          (چہرے پر دکھ لکھا ہے ) سلیم خدا کے لیے.....

    سلیم :           یہ مقررہ ہے۔

    بختیار:          رسول کے لیے.....

    سلیم :           (غصہ سے) خنجر لاؤ یا دور ہو جاؤ۔

     بختیار:          سلیم کچھ سمجھو۔

    سلیم :           (اور غصہ سے ) خنجر لاؤ یا دور ہو جاؤ۔

    بختیار:          (سلیم کے غصے سے ڈر کر کھڑا ہو جاتا ہے ) سلیم مجھ پر رحم کرو۔

    سلیم:           (یوں اٹھ کھڑا ہوتا ہے جیسے رک جانے کے بعد زندگی ریلا کر کے اس کے جسم میں واپس آگئی ہو ) کچھ نہیں۔ یہاں سے نکل جاؤ ۔ اٹھو۔ دور ہو۔ اس وقت ۔ اسی لمحے ۔ اسی گھڑی۔ میں تنہائی چاہتا ہوں۔ ( بختیار کو نکالنے کے لیے اس کی طرف بڑھتا ہے)

    (حرم کے دروازے سے ثریا داخل ہوتی اور سامنے چبوترے پر چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہے)

    سلیم :           (سلیم ثریا کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ) ثریا! .....ننھی ! تو رو نہیں رہی .....وہ زندہ ہے؟ .....(سلیم ثریا کی طرف بڑھتا ہے)

    ثریا:            (و میں کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھا کر ) میرے قریب نہ آ!

    سلیم:           (حیرت میں) کیا؟

    ثریا:            دور کھڑارہ

    سلیم:           ثریا!

    ثریا:            تیمور کی نامراد اولاد! ہندستان کے بزدل ولی عہد ! میری بہن کی جان لے کر تو ابھی زندہ موجود ہے۔ پھول کو کھا جانے والے کیڑے۔ تو نے اس کی جان کو اپنی جان کہا تھا جھوٹے ۔ تو نے اس کو بچا لینے کا وعدہ کیا تھا بے حیا۔ اس کوشش میں تو نے اپنی جان تک دے دینے کو کہا تھا! اور سب قول یوں پورے ہوئے؟ جوان انار کلی کے۔ انار کلی کی بڑھیا ماں کے ناپاک قاتل ۔ تجھ پر بے کس کا صبر ٹوٹے ۔ تجھ کو مظلوم کی آہیں پھونکیں ۔ تجھ کو بے بس کے آنسو غرق کریں۔

    بختیار:          لڑکی خاموش ۔خاموش .....

    سلیم:           ( سر جھکا کر ) ثریا دنیا کی کوئی لعنت کوئی بد دعا باقی نہ چھوڑ اور جب تیرا دل بھر جائے تو صرف اتنا کر مجھے اپنی انار کلی کے راستے پر لگا دے۔ میری ثریا۔ میرا راستہ کھو گیا۔ ننھی تیری انار کلی کا سلیم رستے پر پڑ چکا تھا مگر لٹ گیا۔ بے بس کر دیاگیا۔

    ثریا:            ظالم اکبر کے دروغ گو بیٹے ۔ تجھے راستہ نہیں ملتا۔ میری جیتی جاگتی بہن کے گرد دیوار چن ڈالی گئی۔ وہ نا شاد زندہ گاڑ دی گئی۔ اس کی سلیم سلیم کی آخری چیخیں آسمان میں شگاف کرتی رہیں۔ وہ گڑتی چلی گئی اور سلیم کے سوا اس کے منہ سے کسی کا نام نہ نکل سکا۔ اس کی پھٹی ہوئی آنکھیں اینٹوں میں چھپ جانے سے پہلے صرف تجھ کو۔ تیری نحس صورت کو ڈھونڈتی رہیں اور تو یہاں پردوں میں گدیلوں پر جان کو لیے بیٹھا ہے۔

    سلیم:           ( آنکھیں پھٹی پڑ رہی ہیں)  زندہ دیوار میں۔ پناہ! تیری پناہ! میرے گردکس جہنم کا منہ کھل گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے چڑیل تو نے کس ہیبت کا نقشا کھینچ دیا۔

    ثریا:            وہ تھر تھراتی ہوئی نازنین پتھروں میں ہمیشہ کے لیے ساکت ہوگئی۔ اس کا دھڑکتا ہوا دل۔ دوڑتا ہوا لہو دیوار میں غرق ہونے کے بعد تھم گیا اور تجھے اس کا راستہ نہ ملا۔ موت نہ آئی؟

    سلیم:           (پاگلوں کی طرح کبھی اپنے آپ سے کبھی بختیار سے ) دیوار بند ہوگئی۔ اس پر دیوار بند ہوگئی۔ وہ پتھر میں ڈوب گئی۔ ہمیشہ کے لیے ڈوب گئی۔ میرا دم گھٹا۔ دم گھٹا۔ پتھروں میں رکا ہوا سانس۔ بند نظریں۔ تھما ہوا لہو مجھے پکار رہا ہے۔ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے۔

     بختیار:          (سلیم کو آغوش میں لے کر ) سلیم سلیم ! تمہیں کیا ہو گیا ؟ نا مرا دلڑ کی ! تو نے کیا کردیا؟

    ثریا:            خوشامدی کتے ۔ میری بہن کی روح دوسرے جہان میں اس کے لیے بیتاب ہے۔ میں اسے یوں ہی چھوڑ دوں گی۔ میں اپنے آخری سانس کو اس کے لیے لعنت بناؤں گی۔ میں اس کے لیے زندگی کو موت سے بدتر بنادوں گی۔ میں اسے خود کھینچ کر موت کے منہ میں لے جاؤں گی۔

    (سلیم بختیار کے آغوش سے یک لخت الگ ہو کر دیوانہ وار دروازے کی طرف بڑھتا ہے)

    بختیار:          (اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ) سلیم کہاں جا رہے ہو؟

    سلیم:           میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اس محل کو ۔ اس قلعے کو کھنڈر بنادوں گا۔ پتھروں کو اگلنا ہوگا میری انارکلی کا جو کچھ باقی ہے وہ اگلنا ہوگا۔ میرا آغواش اپنی جان اس کے جسم میں ڈالے گا۔ ورنہ ایک ہی کھنڈر پر دونوں چمٹ کر تمام ہوں گے۔

    بختیار:          راہ بند ہے۔

    سلیم :           ( مڑکر دروازے کی طرف بڑھتا ہے ) راہ بند ہے تو میری فکر میں راہ بنا ئیں گی۔

    (پرده دیوار سے نوچ ڈالتا ہے دیکھتا ہے۔ تو پیچھے دلارام سہمی ہوئی کھڑی اس کے جنون کو دیکھ کر کانپ رہی ہے۔ سلیم پاگلوں کی طرح اسے تکتا رہتا ہے)

    انار کلی ! تو دیواروں ہی دیواروں میں سے میرے پہلو میں آپہنچی۔

    دلارام:         (خوف کے مارے گلا خشک ہے ) صاحب عالم !

    ثریا:            اندھے! یہ انار کلی ہے یا وہ سموم ہے جس نے انار کلی کو پھونک ڈالا ! دلا رام انار کلی کی قاتل تیرے سامنے کھڑی ہے۔ اس نے انار کلی کو گرفتار کرایا۔ جشن کی رات یہ اکبر کے حضور میں موجود تھی۔ اس نے قتل کا حکم دلوایا ۔ کل رات یہ اکبر کی خواب گاہ میں گئی تھی ۔ انار کلی کا سانس بند ہے اور یہ سانس لے رہی ہے۔ انارکلی کے جسم سے زندگی کی آخری رمق مٹ چکی اور اس کے جسم میں لہو جاگ رہا ہے۔مار! مار ! میرا کلیجہ ٹھنڈا کر ۔ انارکلی کی روح کی جلن کو مٹا۔

    دلارام:         ( تھر تھر کانپتے ہوئے) میں نے موت کی سزا نہیں دلوائی ہے۔ داروغہ زنداں نے دلوائی ہے۔ میں بے قصور ہوں ۔ میں بے قصور ہوں۔

    سلیم:           (لپک کر اس کی گردن دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیتا اور دبانا شروع کرتا ہے) آخر کار آخر کار ۔ انار کلی کو گھونٹ ڈالنے والے پتھر ۔ تو مجنوں سلیم کے ہاتھ آگیا۔ اب اس کے ہاتھ تیرے خون کی ایک ایک بوند سے انار کلی کا انتقام لیں گے۔

     بختیار:          (سلیم کو الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے) دیوانے ہوگئے ہو۔ میرے سلیم ! میرے شہزادے! ( دلارام پر سلیم کی گرفت بہت مضبوط ہے ) ظل الہٰی ! ظل الہٰی (گھبرا کر اکبر کو اطلاع دینے جاتا ہے)

    سلیم:           (گرفت ڈھیلی کر دیتا ہے ) ان آنکھوں کی چمک کہاں گئی؟ ان گالوں کی سرخی اور تازگی کیا ہوئی؟ (ایک خشک اور بے رس قہقہہ لگا کر دلا رام کو نیچے پٹخ دیتا ہے۔ خود مسند پر بیٹھ کر ہانپنے لگتا ہے۔ ثریا چبوترے پر آنکھیں بند کیے چپ چاپ کھڑی ہے)

    (اکبر باہر کے دروازے سے گھبرایا ہوا داخل ہوتا اور جلدی جلدی سیڑھیاں اترکر سلیم کے قریب آتا ہے)

    اکبر:           شیخو یہ کیا ہے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟

    سلیم:           (کچھ دیر چپ چاپ اکبر کو تکتا رہتا ہے ) تم کون ہو؟

    اکبر:           ( فکر مند نظروں سے) شیخو! اپنے باپ کو پہچانو!

    سلیم:           (سر ہلا کر منہ موڑ لیتا ہے) شیخو کا کوئی باپ نہیں۔ وہ مر چکا۔ تم ہندستان کے شہنشاہ ہو ۔ جہاں بانی کے باپ۔ دولت کے باپ۔ تم قاتل ہو۔ انارکلی کے قاتل۔ سلیم کے قاتل ۔تمہاری پیشانی پر خون کی مہریں ہیں۔ تمہاری آنکھوں میں جہنم کے شعلے ہیں تمہارے سانس میں نعش کی بو ہے۔

    اکبر :           (ایک رنگ چہرے پر آتا ہے ایک جاتا ہے) شیخو ! میرے بچے ہوش میں آؤ۔

    سلیم:            شیخو تمہارا بچہ نہیں۔ دیکھو تمہاری بیٹی وہ پڑی ہے۔ (دلارام کی طرف اشارہ کرتا ہے) جاؤ اس سے لپٹو اور اس پر آنسو بہاؤ !

    اکبر:           دلارام

    سلیم:           ہاں تمہارے قید خانے کے کلید۔ تمہارا خون کا فرمان ۔ تمہارا کچل ڈالنے والاپتھر ۔

    اکبر:           ( آنکھیں بند کر کے ) خداوندا! یہ دن بھی دیکھنا تھا۔

     سلیم:           اس کی سرد نعش میں روح یہ کہنے کور کی ہوئی ہے کہ میں نے سلیم کو چاہا اور اس نے انکار کیا۔ اس نے انار کلی کو چاہا۔ اور میں نے انتقام لینے کے لیے انار کلی کو برباد کیا۔ جاؤ اس سے یہ سنو اور کلیجہ ٹھنڈا کرو اور پھر اپنے فرزند داروغہ زنداں کو بلاؤ۔ اس پیسہ کے کمینے غلام کو جس نے دولت پر انار کلی کو بیچنا چاہا۔ اور تمہارےہاتھ اس لیے بیچ ڈالا کہ تم زیادہ امیر تھے۔

    اکبر:           (کھوئی ہوئی نظروں سے سامنے تکتے ہوئے ) شیخو ۔ یہ سچ ہے؟.....( غضبناک ہو کر ) اس سے انتقام لیا جائے گا۔

    ثریا:            اس سے؟ اور شہنشاہ تم سے نہیں؟ تم بچ جاؤ گے؟ آسمان نہ ٹوٹے۔ بجلیاں نہ گریں۔ زلزلے نہ انہیں۔ لیکن یہ چنگاری جسے دوزخ کی ہوائیں سرخ کر رہی ہیں۔ تم کو۔ تمہارے محلوں کو ۔تمہاری سلطنت کو سب کو پھونک کر راکھ بنادے گی۔ غصے میں سیڑھیاں اتر کر اکبر کی طرف بڑھتی ہے مگر پاس پہنچنے کے بعد جب اکبر اس پر نظر ڈالتا ہے تو سہم جاتی اور ’’آہ‘‘ کہہ کر بیہوش ہو جاتی ہے)

    اکبر:           (سلیم کی طرف بڑھتا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے ۔ سلیم سکڑا ہوا آنکھیں بند کیے چپ چاپ بیٹھا ہے ) سلیم! تم ہوش میں آگئے؟ تم سن سکتے ہو؟سمجھ سکتے ہو؟

    سلیم:           (ہلکی آواز میں) مجھے کچھ نگل رہا ہے۔ مجھے کچھ گھونٹ رہا ہے۔ ویرانوں میں سے چھینیں آرہی ہیں۔ دیواروں میں سرگوشیاں ہیں۔ ہوا میں کچھ لرز رہا ہے۔(یک لخت کانپ اٹھتا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتا ہے) کیا ہے؟ میں کہاں ہوں؟ .....(اکبر کو دیکھ کر ) تم کون ہو؟ ظل الہٰی (اٹھ کر دو زانو ہو جاتا ہے ) تم شہنشاہ ہو۔سخی ہو ۔ رحیم ہو۔ مجھے خنجر لا دو۔ میں اس سب کے بعد بھی تم کو باپ کہوں گا۔ تمہارے قدموں میں سر رکھ دوں گا۔ تمہارے ہاتھ چوم لوں گا۔ مجھےللہ ایک خنجر لا دو۔

    اکبر:           ( آنکھوں میں آنسو امنڈ آتے ہیں) خداوندا! کیا معلوم تھا۔ یوں ہوگا ۔ شیخو میرے مظلوم بچے ! میرے مجنوں بچے۔ اپنے باپ کے سینے سے چمٹ جا۔ اگر ظالم باپ سے دنیا میں ایک راحت بھی پہنچی ہے ۔ تیرے سر پر اس کا ایک احسان بھی باقی ہے تو میرے بچے اس وقت میرے سینے سے چمٹ جا۔ میں شعلوں میں بھن رہا ہوں۔ میرے سینے سے چمٹ جا اور تو بھی آنسو بہا اور میں بھی آنسو بہاؤں گا۔

    (اکبر ہاتھ پھیلاتا ہے۔ سلیم کھڑا ہو جاتا ہے اور ذرا دیر باپ کو دیکھتارہتا ہے)

     مان جاؤ شیخو ۔ مان جاؤ ۔

     (سلیم منہ موڑ لیتا ہے اور ہاتھ پیشانی پر رکھ کر خاموش مسند پر بیٹھ جاتا ہے۔ اکبر کے ہاتھ مایوسی سے گر پڑتے ہیں)

     مجھے چھومت۔ ایک دفعہ باپ کہہ دے۔ صرف ابا کہہ کر پکار لے۔ ( آنسو اور زیادہ امنڈ آتے ہیں ) میں تجھے خنجر تک لا دوں گا ہاں خنجر تک لا دوں گا۔ مگر بیٹا یہ بد نصیب باپ ۔ جسے سب شہنشاہ کہتے ہیں۔ اپنا سینا ننگا کر دے گا۔ خنجر اس کے سینے میں بھونک دینا۔ پھر تو دیکھے گا اور دنیا بھی دیکھے گی کہ اکبر باہر سے کیا ہے اور اندر سے کیا ہے۔ اکبر کا قہر ۔ اکبر کا ستم اور اکبر کا ظلم کیوں ہے؟ اس کے خون میں بادشاہ کا ایک قطرہ نہیں۔ ایک بوند نہیں ۔ وہ سب کا سب شیخو کا باپ ہے۔صرف باپ۔ وہ بادشاہ ہے تو تیرے لیے ۔ وہ مزدور ہے تو تیرے لیے۔ وہ قاہر و جابر بھی ہے تو تیرے لیے۔ وہ تیرا غلام ہے اور میرے جگر گوشے غلاموں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ (اکبر سسکیاں بھرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے اور ضبط کی کوشش کرتا ہے)

    رانی گھبرائی ہوئی حرم کے دروازے سے داخل ہوتی ہے۔ جلدی جلدی سیٹرھیاں اتر کر اندر آتی اور مسند پر بیٹھ کر سلیم کو آغوش میں لے لیتی ہے۔ سلیم سامنے ہوا میں بے معنی نظروں سے تک رہا ہے)

    رانی:           میرا سلیم !میر اسلیم ۔ لٹا ہوا بچہ۔ زخمی جگر کا ٹکڑا۔ میرا نامراد شہزادہ .....( آگے جھک کر ) کہاں دیکھ رہا ہے۔ چندا۔ ہوا میں کیا ہے؟

     سلیم:           (آہستہ سے ) وہ راستہ تک رہی ہے۔ وہاں راستہ تک رہی ہے۔ اس کے فق چہرے پر فریاد ہے۔ دھندلی آنکھوں میں انتظار ہے۔ نیلے ہونٹ پر سلیم ہے ( بیتاب ہو کر ) مجھے وہاں بھیج دو۔ میری کوئی ماں ہے تو بھیج دے۔ میرا کوئی باپ ہے تو بھیج دے۔ اس محل میں کوئی انسان ہے تو بھیج دے۔ بدنصیب روح کا۔ معصوم انار کلی کا صبر نہ لو۔ اجڑ جاؤ گے۔ اس محل میں وہ ناشاد روح سائیں سائیں کرے گی ۔ دیواروں میں پناہ نہ ہوگی ۔ قبر میں پناہ نہ ہوگی۔ آسمان تک میں پناہ نہ ہوگی۔

     رانی:           (آنچل سے آنسو پونچھتے ہوئے) دیکھا مہابلی!۔ دیکھ لیا۔ تمہارے سینے میں ٹھنڈک پڑگئی ۔ جاؤ ۔ اپنے تخت پر جاؤ ۔ حکومت کرو۔ فتحیں پاؤ۔ اولا د کو بر بادکر لیا۔ ماؤں کو خون رلا دیا۔ اور کیا چاہتے ہو؟

    (اکبر آنسو پونچھتا ہوا بھاری قدموں سے سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے)

    سلیم:           (ماں سے لپٹ کر روتے ہوئے ) اماں ۔ انارکلی ! اماں۔انار کلی

    رانی:           (سلیم کو لپٹا کر اور اپنا رخسار اس کے سر پر رکھ کر ) میرے لال وہ زندہ رہے گی وقت کی گرد میں۔ زمانہ کے آغوش میں۔ یہ لا ہور اس کا نام زندہ رکھے گا۔ دنیا اس کی داستان سلامت رکھے گی۔ اور تو بھی۔ میں بھی اور دور دراز کی نسلیں بھی اس پر آنسو بہائیں گی .....سن رہا ہے چاند !

    (سلیم ماں کے سینا سے سر لگائے رورہا ہے۔ ماں اس کے سر پر شفقت مادری کاسکوں ریز ہاتھ پھیر رہی ہے۔

    اکبر دل شکستہ اور آنسو بہاتا ہوا یوں سیڑھیاں چڑھ رہا ہے گویا ان کے اوپر نامرادی اور غم نصیبی کا ویرانہ ہے اور اس نے اپنے لیے اسی کو پسند کر لیا ہے۔ )

    پرده