خطاطانِ قرآن
خطاطانِ قرآن
مسلمانوں نے قرآنی خطاطی میں ایسے کارنامے انجام دئیے جو آج بھی دنیا کے عجائب خانوں میں مسلمانوں کی علم الخط سے وابستگی کی داستان رقم کر رہے ہیں۔ تمام اسلامی دنیا میں اپنے اپنے علاقائی اثرات کے تحت کوفی نسخ، ثلث، ریحان، محقق، بہار، نستعلیق میں کلام اللہ سے اوراق روشن کئے۔ جن سے اہل فرنگ کی آنکھیں آج بھی خیرہ ہوتی ہیں۔
(الف) اوائل عہد اسلام کے خطاط
قلم اور خطاطی کی اہمیت کے پیش نظر خدائے بزرگ و برتر نے پہلی وحی جو امت کو پہنچانے کے لیے بھیجی وہ لکھنے پڑھنے کے حکم اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ سارا انسانی تمدنِ قلم کار ہیں منت ہے قلم سے انسان وہ کچھ سیکھتا ہے جو علم سے نہیں۔
"یہ پڑھ اور یہ تیرا محترم و فیاض پروردگار ہی ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا جس نے انسان کو وہ چیزیں سکھائی جو وہ نہیں جانتا تھا۔"(1)
جزیرۃ العرب میں اسلام پھیلا تو قرآن پاک کی اشاعت کے لیے خطاطی کو عام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ حضور رسول کریم ﷺ امی تھے لکھنے پڑھنے سیکھنے کا بچپن میں کوئی موقع نہ ملا تھا قرآنی کتابت پر خصوصی توجہ دے کر اس کی مناسب ترویج کی اور انہوں نے عہد رسالت کے تیرہ برس مکہ معظمہ گزارے وہاں جو لوگ فن کتابت سے وابستہ ہوئے ان کا ذکر کئی کتب میں ملتا ہے۔ دس سالہ مدنی زندگی میں مذکورہ صحابہ کے علاوہ حضور ﷺ کی ہدایت پر کئی صحابہ کرام نے لکھنا سیکھ لیا ان میں سے ابی بن کعب، سعید بن زرارہ، منذربن عمر اوررافع بن مالک شامل ہیں۔ رمضان 2 ہجری مطابق 624ء میں مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی کفار کے جو اسیران جنگ اپنی رہائی کے لیے نقد فدیہ ادا کرنے سے قاصر رہے ان میں 170ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے۔ حکم ہوا کہ ان میں سے ہر قیدی انصاری کے دس بچوں کو لکھنا سکھا دے تو یہ اس کا فدیہ سمجھا جائے گا۔ پڑھے لکھے اسیران نے یہ شرط قبول کر لی اور یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں میں سات سو افراد تھوڑے عرصہ میں فن کتابت سے آشنا ہو گئے۔(2) حضرت زید بن ثابت نے اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ تعلیم الخط کا پہلا مدرسہ مدینہ منورہ میں قائم ہوا قبل از اسلام عرب لکھنے کو حافظے کی کمزوری کی علامت سمجھتے تھے مگر اب اس نظریہ میں تبدیلی آ گئی اور انہوں نے تحریر کی قدروقیمت کا اندازہ لگا لیا جس کے حیران کن نتائج مرتب ہوئے قرآن پاک عربی کی پہلی کتاب ہے اس سے قبال عربی کی کوئی کتاب نہ لکھی گئی تھی یہ ان پرھ لوگوں کی زبان سمجھی جاتی تھی لیکن اب صرف دو سال میں یہ دنیا کی متمول ترین زبانوں میں ایک علمی زبان کا درجہ حاصل کر گئی۔(3) بالخصوص خطاطی کے اعتبار سے اسے پورے عالم اسلام نے قبول کیا قرآن کے احکامات کے مطابق امیوں نے لکھنا پڑھنا سیکھ کر وہ تمام علوم و فنون حاصل کئے جو وہ نہیں جانتے تھے قرآن سے ہی مسلمان علم تفسیر، علم لغت، صرف و نحو، تاریخ جغرافیہ، فقہ قانون، عقائد، معاشرت اور تجوید و قرات جیسے علوم سے آشنا ہوئے ان علوم کو دیدہ زیب حالت میں عام کرنے کے لیے خطاطی کے علم کو ترقی دی گئی تو ادب کے تقاضا کے پیش نظر عالم اسلام نے جلد سازی، تذہیب کاری ، قلم سازی، قلمدان سازی، صنعت روشنائی جیسے فنون منظر عام پر آئے۔"
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے علوم و فنون کا سر چشمہ صرف اور صرف قرآن کریم ہی ہے اور مسلمانوں نے بھی قلم اور تحریر کے ذریعے نہ صرف مختلف النوع علوم و فنون کو کمال بخشا بلکہ خود قلم کو بھی وہ فن سکھایا جسے خطاطی کہا گیا یہ ناقبال ردید حقیقت ہے کہ مسلمانوں سے قبل "قلم" اس فن کی اس عظمت سے ہرگز آشنانہ تھا اسلامی تہذیب کی بدولت جو علوم و فنون وجود میں آئے ان میں خطاطی کو ایک پاکیزہ اور لطیف ترین فن شمار کیا جاتا ہے کسی بھی تہذیب نے اپنی خطاطی پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی کہ مسلمانوں نے۔(4)
“Islamic Calligraphy owes its historical development to human inventioness and genius, It owes its origins to the revelation of Islamic Holy Book.” (5)
” اسلامی خطاطی کی تاریخی ترقی کی انسانی عقل اور نئے تجربات کی رہیں اور اسی کی ابتداء(مبتداء) نزول قرآن کی مرہون منت ہے۔"
اسلام کی فتوحات سے یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ مکہ میں بنی ہاشم میں خط قیر آموز رائج تھا اور مصحف کی کتابت اس خط میں ہوئی۔ مدینہ منورہ میں جو کتابت ہوئی وہ خط حمیری میں ہوئی۔ دوسری صدی ہجری میں خط نسخ اختیار کیا گیا۔(6) حضرت عمر کے عہد خلافت میں عربی خط سر زمیں عرب سے باہر نکلا۔ اس زمانے میں فوجی نظامت کا سارا کام عربی زبان میں ہوتا تھا مگر مفتوحہ علاقوں میں سول سیکریٹریٹ کی زبان مقامی ہی رہی حضرت عمر کے زمانہ میں ہی کوفہ اور بصرہ کی چھاؤنیاں آباد ہوئیں مگر بہت جلد یہ شہر یمنی تہذیب کے اثرات کے ساتھ اسلامی تہذیب و ثقافت کے مراکز بن گئے۔ عربی خط نے اسلام کے زیر سایہ سب سے پہلے جو نیا جمالیاتی لباس پہنا اسے جدید کوفی خط کہا جاتا ہے جو بعد میں اپنے علاقائی ناموں سے بھی مشہور ہوا۔ بعض روایات کے مطابق جب حضرت علی نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تو سب سے پہلے اپ نے وہاں کے خط میں حسن و جمال پیدا کر کے اس کا نام خط کوفی رکھا جس کے ثبوت کے طور پر سلطان علی مشہدی کا یہ شعر پیش کیا جاتا ہے۔
مرتضیٰ اصل خطو کوفی را کرو پیدا و نشونما
یہاں لفظ"اصل خط کوفی کے الفاط یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت تک کوفی اپنی بہت سی اقسام کے ساتھ ارتقائی منازل طے کر چکا تھا۔ حضور نبی کریمﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو صحابہ رضوان اللہ علیھم کو پورے آداب و قواعد(ترتیل) ازبر کر لیتے اور کاتبان وحی ان آیات کو اسی وقت اونٹ کے شانے یہذی، پتھر کی سل، کھجور کے پچے یا درخت کی چھال پر منضبط کر لیتے تھے۔ سامان کتابت نے حروف کی صورتوں کو کافی متاثر کیا جب پتھر کی سلوں مٹی کی خام اینٹوں لکھڑی یا دھات کی تختیوں پر سخت اور نوکدار آلات سے لکھتے تھے تو نقوش زاویہ دار تھے لیکن جب چمڑے، بھوج پتر، ہیپسی رس یا کاغذ پر لکھنے لگے تو ان میں گولائیاں پیدا ہو گئیں۔"(7)
اس زمانے میں اعراب و نقاط کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ حفاظ الفاظ کو صحیح مخارج اور پوری صحت کے ساتھ ادا کرنے پر قادر ہوتے تھے ابتداء میں قرآن مجید چمڑے کے ٹکڑوں(8) پتھروں، کھجور کے پتوں، اونٹ کے شانے کی ہڈیوں پر لکھا جاتا رہا بعثت نبوی ﷺکے وقت قریش میں خط قیر آموز رائج تھا۔ (9) اس لیے مکہ معظمہ میں جس قدر کتابت ہوئی وہ اسی خط میں ہوئی جبکہ مدینہ منورہ میں خط حیری لکھا جاتا تھا چنانچہ ہجرت نبویق کے بعد قرآن کریم کے جو نسخے لکھے گئے وہ خط حیری میں تھے۔(10)حضرت خالد بن سعید ابی العاص کی صاحبزادی فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے بسم اللہ میرے والد ماجد نے لکھی یہ ربیع الاول سن 4 ہجری کا وقعہ ہے اس لحاظ سے خالد بن سعید پانچویں مسلمان اور خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں سب سے پہلے کتابت وحی کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت زید بن ثابت راوی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ پر وحی نازل ہوتی تو آپ مجھے بلاتے میں لوح وغیرہ لے کر حاضر خدمت ہو جاتا۔ آنحضرتﷺ پہلے وحی لکھاتے اور پھر سنتے اور اگر کوئی غلطی ہوتی تو درست کرا دیتے پھر میں اس کو لوگوں میں لاتا۔ (11) آخری وحی 3 ربیع الاول 11ھ/632ء کو نازل ہوئی جو ابی بن کعب نے لکھی۔ اس کے بعد نزول وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔(12) جناب رسول مقبول ﷺ کے کاتبان وحی کی تعداد مختلف روایات کے مطابق کم و بیش چالیس تھی۔(13) حضور ﷺ کے زمانے کے لکھے ہوئے قرآنی نسخے صحابہ کے پاس موجود تھے بعض صحابہ نے خود لکھے اور بعض نے لکھوائے کیوں کہ قرآن لکھنے اور پڑھنے کو ابتدائی اسلامی دور سے ہی عبادت کادرجہ حاصل تھا۔
“The Writing of Quran was a pious act in which not only professional scribes but also rulers and the more ordinary devout and literate Muslims engaged. Calligraphic ability was closely connected with piety.” (14)
"کتابت قرآن ایک ایسا مقدس عمل سمجھتا تھا۔ جسے نہ صرف پیشہ ور کاتب بلکہ مسلمانوں میں عام پرہیز گار لکھے پڑھے لوگ حاکمان وقت اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف رکھتے تھے۔ خطاطی کے فن میں کمال پرہیز گاری کے کمال سے منسلک ہوتا تھا۔"
امہات المومونین حضرت ام سلمہ " حضرت حفصہ" اور حضرت عائشہ نے قرآن پاک لکھوائے جن کو دیکھ کر آپ تلاوت کیا کرتی تھیں۔ (15) حضرت عائشہ نے اپنے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے کلام اللہ لکھوایا (16) حضرت عمر بن رافع نے حضرت حفصہ کے لیے قرا ن رکریم لکھا۔ عرب کے مشہور لبید جب مسلمانون ہوئے تو انہوں نے قرآن نویسی کا شغل اختیار کیا۔ (17) حضرت ناجیہ الطفائی عمر بھر قرآن پاک کی کتابت کرتے رہے(18) حضرت عبداللہ بن مسعود نے چار مرتبہ قرآن کریم لکھا ایک حضور ﷺ کے دور میں دوسرا مکمل قرآن بہ ترتیب نزول تیسری بار عہد صدیقی میں اور چوتھی مرتبہ عہد عثمانی میں019) دور نبوت میں صہیب رومی۔ سلمان فارسی ایشیا اور بلال حبشی افریقہ سے آ کر مسلمان ہوئے آگے چل کر ان خطوں کے علاقائی خط بھی اپنے اپنے علاقائی اثرات کے تحت نمایاں ہوئے۔
خلافت صدیقی میں قرآنی خطاطی
حضرت زید بن ثابت کا بیان ہے کہ میں نے ابوبکر کے حکم سے چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن پاک لکھا۔ یہ قرآن پاک خط حمیری میں لکھا گیا۔ اسی نسخے کو "نسخہ ام" کہتے ہیں امام بن حزم نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانے میں کوئی شہر ایسا نہ تھا جہاں لوگوں کے پاس بکثرت قرآن پاک موجود نہ ہوں۔
خلافت فاروقی
عہد فاروق میں حضرت زید نے ڈیڑھ برس کی مدت میں کلام مجید خط حمیری میں کتابت کای اس عہد کے ایک مصحف کا ورق جس پر سورہ جن کی آیات درج ہیں جو یورپ کے ایک کتب خانے میں محفوط ہے۔(20) حضرت عمر کے عہد میں صرف مصر، عراق، شام اور یمن میں قرآن کریم کے ایک لاکھ سے زائد نسخے موجود تھے۔(21) نافع بن ظریب النوفلی کے متعلق ابولمنڈ رہ ہشوم بن محمد الکلی کا بیان ہے کہ حضرت عمر کے لیے معارف کی کتابت کرتے۔(22)
خلافت عثمانی
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں میں نے قران پاک جمع کیا 25ھ/645ء میں حجرت عثمان نے 12 آدمی نامور فرمائے۔(23) جن میں حجرت زید بن ثابت، حضرت سعید بن العاص، حضرت عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام، (24) عبداللہ بن زبیر، حضرت ابی بن کعب، عبداللہ بن عمر و بن العاص، عبداللہ بن عباس، انس بن مالک، مالک بن ابی عامر اور افلخ بن کثیر بھی شامل ہیں جنہوں نے قرآن پاک کی تدوین کی اور لغت قریشی پر یہ نسخہ تیار کرایا اس لیے حضرت عثمان جامع القرآن مشہور ہوئے۔(25) اگرچہ عہد عثمان سے پہلے کاتبین وحی کے علاوہ کچھ لوگ کتابت مصاحف کے لیے مشہور عامہ رہے مگر حضرت عثمان کا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے صحف صدیق کی اشاعت عامہ کر کے تمام مصاحف فرد یہ کو یک قسلم منسوخ کر دیا۔ اس مصحف کی اشاعت کی کاروائی 25 سے 30ھ/645ء سے 450تک جاری رہی اور تمام نسخے اس وقت کے خط الجزم یا خط حیری میں لکھے گئے۔)26) جسے بعد میں خط کوفی کا نام دیا گیا۔ اس وقت خط جزم نقط اور شکل سے خالی ہوا کرتا تھا اس لیے مصاحف عثمانیہ بھی نقاط اور اعراب سے یکسر مبریٰ تھے ہر نسخے کے ساتھ قاری بھی روانہ کئے گئے۔ مصاحف عثمانی کے کل آٹھ نسخے تھے جن میں سے ایک حضرت عثمان کے پاس رہا اور باقی نسخے مدینہ، مکہ بصرہ کوفہ، شام، یمن اور بھرین بھیجے گئے۔ اگرچہ یہ مصحف ایک خط میں لکھے گئے اور قریشی لہجے میں پڑھے گئے۔ اس کے بعد قران کریم ہر خط میں اپنے علاقائی اثر کے تحت کتابت ہوا۔
خلافت علوی
عہد عثمانی جس قدر قرآن شریف لکھے گئے وہ سب خط حیریٰ میں تھے۔(27) حضرت علی کے دور خلافت میں آپ کے ندیم خاص اور نامور شاگرد ابوالاسودوئلی(م29ھ/688ء) نے رسم الخط میں ترمیم اور قرآن کریم میں اعراب بھی لگائے۔ ابوالاسود دوئلی نے اعراب لگواتے وقت کاتب کو ہدایت کی کہ جس لفظ کو ادا کرنے سے میرا منہ کھل جائے اس کے اوپر ایک نقطہ لگا دینا(فتحہ یعنی زبر کا قائم مقام) اور جس حرف کو ادا کرتے وقت میرے دونوں لب کناروں سے مل جائیں اور میں اسے منہ گول کر کے ادا کروں اس کے آگے ایک نقطہ لگا دینا۔(ضمہ یعنی پیش کا قائم مقام) اور جس حرف کے ادا کرنے میں بخلاف دیگر حروف کے آواز کا رخ نیچے کی جانب ہو، اس کے نیچے ایک نقطہ لگا دینا یعنی(کسرہ زیر کا بدل) کاتب ان ہدایات پر عمل کرتا رہا اور مصحف کا اعراب شدہ نسخہ تیار ہو گیا اور اگلے سو برس تک یہ نقاط اعراب کا کام دیتے رہے۔ ابوالاسود کے نامور شاگرد نصر بن عاسم، یحییٰ بن عمر عدوانی، میمون بن اقران اور غبسہ بن معدان فہری تھے۔ عبدالمحمد ایرانی کی تالیف پیدائش خط و خطاطوں کے صفہ 56پر کلام پاک کے ایک نسخے کا عکس چھپا ہے اس میں حروف پر بجائے، اعراب کے نقطے ہی لگائے گئے ہیں یہ نسخہ مصحف مکرم مصر کے کتب خانے میں محفوط ہے اور اس کو قرآن اول کی یادگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ جب اسلامی سلطنت نے وسعت پائی تو لہجہ کے اختلاف کے باعث خود عربوں کو کلام اللہ کے صحیح تلفط میں دشواریاں پیش اآئیں اس لیے کہ کتابت مصحف میں ب ت ث کے لیے صرف ایک شکل تھی ج ح خ کے لیے بھی ایک شکل اسی طرح وذ۔ رز۔ س ش۔ ص ض۔ ط ظ۔ ع غ کے لیے ایک ہی شکل بنائی جاتی تھی عجمیوں کے لیے یہ اور بھی مشکل تھا۔ عبدالملک بن مروان برسر اقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ ہوا اس نے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف سے کہا کہ ابوالاسود کی مقرر کردہ علامات عراب(نقاط) نا کافی ہیں۔ اس لیے اہل علم سے مشورہ کر کے متجانس الخط حروف میں تمیز کرنے کی غرض سے نقطے تجویز کئے جائیں (ع۔ا) حجاج نے علماء و فضلاء سے مشورہ کیا اور سب کی رائے سے نصر بن عاصم (شاگرد ابوالاسود دوئلی) نے متجانس الخط حروف کی تمیز کے لیے کلام پاک کے ایک نسخے پر ایک دو اور تین نقطے لگا دئیے مگر اعراب(زبر۔زیر۔ پیش) ظاہر کرنے والے نقطوں کو بھی برقرار رکھا۔ فرق کے لیے یہ صورت اختیار کی گئی کہ اعراب کے لیے سیاہ نقطے لگائے اور متجانس الخط حروف کے لئے سرخ ، بعد کے نسخوں میں اس صورت کا عکس بھی اختیار کیا گیا یعنی اعرب کے لیے سرخ نقاط لگائے گئے تجانس الخط حرف کے لیے سیاہ، پہلی سے پانچویں صدی عیسوی تک نہ صرف قرآن کریم خط کوفی کی مکتلف اقسام میں لکھا گیا بلکہ یہ خط پانچ سو سال تک 168ھ/784ء ہے قاہرہ کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔(28) ابتدائی دو صدیوں میں زیادہ تر قرآن کریم کپڑے پر لکھا گیا جس کے لیے لکھنے کی سطح ہموار مصفی اور دونوں اطراف کی سیاہی ایک ہی روانی نہیں رکھتی تھی جبکہ پیپی رس سرکاری فرائض اور کھاتوں کا حساب کتاب رکھنے کے لیے استعمال ہوا بعد میں کاغذ چین نے نویں صدی عیسوی کے وسط میں سمر قند کے راستے سے متعارف کرایا جس سے اسلامی آرٹ و فنون کی بساط ہی پلت گئی۔ دنیا کے مختلف عجائب خانوں میں پہلی صدی ہجری سے لے کر آٹھویں صدی ہجری تک لکھے ہوئے قرآن کریم کے جو نسخہ جات ملتے ہیں ان میں خط کوفی کے مختلف مدارج کا پتہ ملتا ہے۔ کوفی کے عروج کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اس مدت میں قرانی کتابت کے لیے خط کوفی ہی خاص ہو کر رہ گیا تھا۔(ع۔2)
عہد بن امیہ
امیر معاویہ کے زمانہ میں قطبہ نامی کاتب تھے انہوں نے آب زر سے کلام پاک ولید بن عبدالملک م 96ھ/714ء کے عہد میں خالد بن ابی الہیاج مشہور خطاط قرآن تھے جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ تک حیات تھے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے خالد نے ایک مطلقاً قرآن کریم کتابت کیا۔ جب یہ کلام پاک حضرت عمر بن عبدالعزیز کو پیش کیا گیا تو آپ خط دیکھ کر حیران رہ گئے۔ مصحف پاک کو بوسہ دیا اور سر پر کھا اور سوچا کہ اس کمال خط اور نفاست کا کیا ہدیہ یا انعام دیں مگر کچھ سمجھ میں نہ ایا تو اصل قرآن پاک ہی بطور ہدیہ خالد کو دے دیا۔ حسن بصری، ابو یحیٰ، مالک بن دینار، سامہ بن لوی بن غالب بھی اس دور کے کاتبان قرآن میں شمار ہوہتے ہیں۔
بنو عباس کے قرآنی خطاط
ابو العباس سفاح بانی دولت عباسیہ کے عہد میں ضحاک بن عجلان شامی قرآن پاک کے مشہور خطاط تھے انہوں نے قطبہ کی طرز نگارش میں اصلاحات کیں دوہ 154ھ/770ء میں فوت ہوئے۔ اسی عہد کے مشہور کاتب اسحاق بن حماد گزرے ہیں۔(29) جنہوں نے ضخاک کے خط میں ترمیم کی مہدی عباسی کے دور میں علم الخط کو بہت فروغ حاصل ہوا اس کے استاد امام کسائی (م 182ھ/798ء) نحو، ادب، قرآن اور علم خط کے امام تھے جنہوں نے خط میں خاص اصلاحات کیں ان کا اصلاح شدہ خط اس قدر مقبول ہوا کہ قرآن کریم کی کتابت اسی طرز میں ہونے لگی اہل کوفہ نے اس خط کو بہت پسند کیا۔
“The Koran dated 168 A.H in simple Kufic. The 3rd century Quran has rounder curves and slantingly pointed tips. By the middle 4th century the Kufic gives way to the naskhi, that is, to a little rounder script, and more or less, ceases to be employed in the copying of the Koran.” (30)
"قرآن حکیم کا نسخہ (نوشتہ 168ہجری) سا دو خط کوفی میں لکھا ہوا ہے تیسری صدی ہجری میں لکھا جانے والے قرآن کی نومبر کی کمانیں گول، اور انیاں ایک طرف جھکی ہوئی اور نوکدار تھیں۔ چوتھی صدی کے وسط تک کوفی خط کی جگہ منحی خط لے چکا تھا۔ یہ الفاظ دیگر یہ خط اب کچھ زیادہ گول ہو گیا تھا۔ اور قرآن کی کتابت کے لیے یہ خط کم و بیش متروک ہو چکا تھا۔"
ضحاک بن عجلان اور اسحاق بن حماد کے بے شمار شاگرد تھے جن میں ابراہیم الشجری کا شاگرد الاحوال المحرر اپنے زمانہ کا امام فن تھا اسی کے شاگردوں میں ابن مقلہ 328ھ/940ء کے ہاتھوں زاویہ وار کوفی کی جگہ نسخ نے اپنا سکہ جمانا شروع کیا جس نے پہلی مرتبہ حروف کی پیمائش کے لیے قلم کی موٹائی کو اکائی قرار دیا۔ ابن مقلہ کو موجودہ نسخی طرز نگارش کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ابن البواب 350۔431ھ 961۔1039ء نے اپنی زندگی میں 64 قرآن کری کتابت کئے۔(31) ابن البواب کے سو سال بعد تک گولائی دار خطوط ریحان، محقق، ثلث میں کوئی خاص فرق نہ آیا بار ہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں یا قوت المستعصمی کے ہاتھوں تمام گولائی دار خطوط اپنی ترقی کی انتائی منازل کو پہنچے (32) پانچویں صدی ہجری کے آغاز سے کوفی کا استعمال قرآنی کتابت کے لیے کم ہونے لگا اور یہ خط صرف عنوان نگاری، عمارتی خطاطی، لکری، پتحر، شیشے اور دھات کے ظروف تک محدود ہو گیا جبکہ ساتویں صدی عیسوی تک کوفی کا استعمال محض آرائش و تزئین تک محدود ہو گیا نقش و نگار عباسی اسلوب کے ساتھ مخصوص ہیں جن میں سا سانی آرٹ کی بہت سی خصوصیات موجود ہیں مثلاً چوکٹھے کے ساتھ درخت وغیرہ۔ـ33) یہی وہ دور ہے جب تذہیب کاری کا آغاز قرآنی کتابت میں بھرپور طریقے سے ہوا۔
“Illumination were at first largely in gold, with tricks of brown, red, blue and green from the Abbasid caliphate at least whole pages were devoted to illumination with little or no script.” (34)
"تذہیب کاری زیادہ تر سونے میں ہوتی تھی لیکن اس میں کہیں کہیں بھورے، سرخ، نیلے اور سبز رنگ میں استعمال ہوتے تھے کم از کم عباسی دور خلافت میں بعض اوقات پورا پورا صفحہ تذہیب کے لیے اس طرح وقف ہوتا تھا کہ اس پر تحریر کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جاتی تھی۔"
ساتویں صدی ہجری/تیرہویں صدی عیسوی میں قرآنی کتابت ترک خطاط یا قوت المستعصمی نے انتہائی خوبصورت نداز میں 11 سطور فی صفحہ کے حساب سے کی جن میں پہلی چھٹی اور گیارھویں سطور کو خط محقق (ع۔3) میں قدرے جلی قلم سے اور سطور2 تا 5 اور 7 تا 10 کو نسخی ریحان میں کتابت کیا۔ اس قبل جس طرح ابن البواب نے ابن مقلہ کے نسخ کو خوبصورت شکل دی تھی اس طرح ابن البواب کے نسخ کو یاقوت المستعصمی نے مزید بہتر صورت میں رائج کیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یا قوت المستعصمی 691ھ/1291ء نے ابن البواب کے خط کو بام عروج پر پہنچایا اور اس کے 6 باکمال شاگردوں میں ارغون بن عبداللہ کاملی، یوسف مشہدی، نصر اللہ طبیب ملقب بہ صدر عراقی، شیخ زادہ احمد سہروردی (ع۔4) (36) مبارک شاہ زریں قلم بن قطب تبریزی، سید حیدر علی جلی نویس تھے مئوخر الذکر کے نامور شاگرد مولانا عبداللہ الصیرفی کے بارے حالات ہنروراں میں ہے۔ "سلسلہ شاگردی خطاطان خراسان بکواجہ عبداللہ صیر فی فی رسد" مولانا عبداللہ صیرفی (37) کے متعلق مشہور ہے کہ وہ برصغیر بھی آئے موصوف سلطان ابو سعید خدا بندہ م 737ھ/1336ء کے معاصر تھے قرآنی کتابت میں یاقوت المستعصمی کی انہی منفرد خصوصیات کی بنا پر مؤرخین خط نے اسے سلطان الخطاطین کا خطاب بھی دیا۔ مارٹن لنگز کے مطابق۔
“it is often said that the supremacy of Ibn-al-Bawwab lasted only until the last part of the thirteenth century, when his script was surpassed by that of Yaqut al Mustasimi who is sometimes called Sultan of calligraphers. It is also said that Yaqut himself was surpassed by the Ottoman Turkish and Safavid Persian calligraphers of the sixteenth and seventeenth centuries.” (38)
"یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ابن البواب کی برتری صرف تیرھویں صدی کے آخر تک قائم رہی۔ اس کے بعد خطاطی کا سر تاج یا قوت المستعصمی قرار پایا اسے اکثر اوقات اسلامی خطاطی کا سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ یا قوت المستعصمی کو سولہویں صدی اور سترویں صدی عیسوی میں عثمانی اور صفوی خطاطوں نے مات دی۔"
لیکن685ھ/1286ء میں بغداد میں لکھے گئے ایک نسخہ قرآن میں یاقوت نے سورۃ کے عنوان تو پرانی روایت کے مطابق کوفی میں دئیے ہیں۔669ھ/1270ء کے مکتوبہ قرآن کریم میں سورہ کے عنوان ثلث میں لکھ کر ان کے گرو آؤٹ لائن لگا کر سنہرے کر دئیے۔ عمومی طور پر یا قوت نے قرآنی کتابت میں چھ مختلف ڈیزائن استعمال کئے۔
متن ریحان میں عنوان کوفی میں۔
متن تسخ میں اور عنوان آؤٹ لائن میں بخط ثلث جلی، سنہر ے رنگوں سے مزین۔
متن نسخ میں اور عنوان سورہ محقق میں جس کے گرد مستطیل چوکٹھے ہیں۔
نسخ میں دائرے اور مفردات س۔ ص، ن، م، ق، ک، ط، ع کے کھلے انداز میں۔
پہلی درمیانی اور آخری سطور جہ محقق میں اور بقایا متن نسخ میں۔
متن ریحان اور سورہ کے عنوان ثلث میں جبکہ آؤٹ لائن سنہری رنگ میں۔ اس انداز کو ترکوں نے خوب اپنایا مگر جہاں تک قرآنی کتابت میں رکوع، سجدات، رموز اوقاف کا تعلق ہے اس کی مثالیں بقول الفاروق تین طرح سے یوں ملتی ہیں۔ (39) چوتھی صدی ہجری کے بعد قرآن کریم اور دیگر دینی کتب کی کتابت کے لیے خط نسخ کا رواج عام ہوا اورگزشتہ ایک ہزار سال سے نسخ کو عالم اسلام کا قرآنی کتابت کے لیے کا مل مکمل خط سمجھ گیا۔(40) مگر ابن مقلہ اور ابن البواب کے نسخ نے ارتقائی منازل طے کیں اور یا قوت المستعصمی نے قرآنی کتابت کو ایک خوبصورت انداز دیا خط نسخ کی ایک بڑی فتح یہ تھی کہ اس نے بہت جلد کتابت قرآن کے لیے کوفی کی جگہ لے لی۔ایک ترکی مستشرق لکھتا ہے۔
"اس میں شک نہیں کہ قرآن کریم مکہ میں اترا۔ مصری میں پڑھا اور ترکی میں لکھا گیا" (41)
مگر اس کی اشاعت اور خطاطی کی تمام مروجہ اقسام میں برصغیر کے خطاطوں نے نمایاں جگہ پائی پورے عالم اسلام میں جس طرح قرآنی خطاطی نے عروج حاصل کیا۔ وہاں قرآنی کتابت اس کی تذہیب اپنے علاقائی انداز میں پورے کمال سے جاری رہی خطاطوں اور مصوروں کی اجتماعی کوششوں سے عالم اسلام کو خطاطی کے شاہکار میسر آئے ہر خطے کے خطاطین نے اپنی حس جمالیات اور اپنی تمام تر فنکارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا کے عجائب گھروں کو قرآنی محظوطات کے ایسے شاہکار مہیا کئے جن کو دیکھ کر انداز ہ ہوتا ہے کہ روحانی بالیدگی کے بغیر ایسے شاہکار وجود میں آنا ممکن نہیں۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک پانچویں صدی ہجری/گیارہویں صدی عیسوی میں مغربی کوفی دو شاخوں میں بت گئی ان میں سے ایک اندلسی شاخ تھی جو تیونس سے نکلی جبکہ دوسری شاخ مغربی خط ہے۔ جب اسلام دنیا کے دوسرے علاقوں یعنی شمال مغربی افریقہ اور سپین میں دوسری صدی ہجری/دسویں صدی عیسوی میں پہنچا جن کے ثقافتی مراکز قاہرہ، مراکش، الجیریا، تیونس اور لیبیا بنے کا مغری خط اس علاقے کا نمائندہ خط قرار پایا جو کوفی سے وجود میں آیا آج بھی مراکش میں اسی رسم الخط میں قرآن کریم شائع ہو رہے ہیں۔ مشرقی کوفی اور مغربی کوفی کو آپس میں ملائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مغربی خط کیسے وجود میں آیا۔ ابن خلدون کے مطابق خط مغربی میں مکمل لفظ کی بجائے حرف لکھا جاتا ہے۔
عہد ممالیک کے قرآن نسخوں کے نہایت اعلیٰ نمونے قاہرہ کے شاہی کتب خانہ میں محفوط ہیں یہ بڑی تقطیع کے قرآن پاک ہیں جو خط طومار میں لکھے گئے ہیں جو خط نسخ کی ایک صورت ہے۔ مسلمانان ایران نے رسم الخط عربوں سے لیا ایرانی خطاطوں نے عباسی عہد کے خط کوفی کی ایک ایسی صورت اختیار کی جس کے حروف کے عمودی حصوں پر افقی حصوں کی نسبت زیادہ زور دیا گیا اس طرز کے کوفی خط سے ایک اور خاص طرز نکلی جس کے حروف زیادہ زاویہ دار ہیں یہ طرز زیادہ تر عمارتی کتبات کے لیے موزوں قرار پائی آل سلجوق کے مصاحف میں جو گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی سے متعلق ہیں انہیں ایرانی طرز کا خط کوفی کمال کو پہنچا جس کے نقش و نگار اور بھی خوبصورت ہیں برٹش میوزیم میں قرآن کریم کا ایک ایسا نسخہ موجود ہے جس کے چند اوراق سلجوقی طرز میں بہت آراستہ ہیں۔ اسے ابو القاسم بن ابراہیم نے جمادی الاول 427ھ/1036ء میں لکھا اس طرز کا خط گیارھویں اور بارھویں صدی میں سلاحقہ کے عہد حکومت میں ایران میں رائج تھا اور مصر میں فاطمی دور میں 949ھ/1171ء میں قبول عام تھا جبکہ ایلخانیوں کے دور میں خطاطی اورنگ آمیزی کو نیا عروج و شعور حاصل ہوا چنانچہ اس دور کے متعدد نفیس اور عمدہ مصحف مختلف عجائب خانوں اور ذاتی مجموعات میں محفوظ ہیں ان میں سے بعض خدا بندہ محمد کی فرمائش پر لکھے گئے تھے ان میں سب سے مشہور دو مصاحف ہیں ایک جو 906ھ/1306ء میں بغداد میں لکھا گیا اور آج کل جرمنی کے شہر لائپزگ (Laipzig) میں ہے اور دوسرا قاہرہ کے قومی کتب خانہ میں ہے جسے عبداللہ بن محمد نے ہمدان میں 713ھ/1313ء میں لکھا تھا۔ (42) خدا بندہ الجایکتو کے دور میں پہلی مرتبہ خطاطی کے ساتھ ساتھ خوبصورت رنگوں کا استعمال کیا گیا چودھویں صدی کے اواخر اور پندرھویں صدی عیسوی کے اوائل میں کالی اور سنہرے باریک لائنوں سے حاشیے لگائے گئے۔
“In the Mongol period for the first time really bold antithesis of color were used (Uijoytu Korans) In the late 14th and early 15th Cent. Delicate black or black and gold drawing in margins developed. Divan of Ahmed Jalair, (Freer Gallery), Iskandar Miscellanies in the British Musauru and Gulbenkian collection and the richer pages and headings assumed a characteristic minute scale and blue and gold tonality pink, violet, orange and blue green invaded the Cool harmony in the 16th Cent in, and many 17th Cent illuminations are offensively colored to western eyes. An alternative style of margin also came in with the 16th Cent. In colored papers sprinkled or elaborately figured with gold.” (43)
"منگول عہد میں پہلی بار جلی حروف استعمال ہوئے(الجائتو قرآن) چودویں صدی اور پندرھویں صدی کی ابتدا میں حاشیوں پر نہایت مبین کالی یا کالی اور سنہری مصوری (ڈرائنگ) نے رواج پایا برٹش میوزیم اور گلبنکن ذخیروں میں دیوان احمد جلائر فرید گیلری اسکندر متفرقات میں عنوان باریک نیلے، سنہری، ارغوانی اور سبز رنگوں کے امتزاج سے ٹھنڈک کا گماں سولہویں اور سترویں صدی کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخوں کو دیکھ کر ہوتا ہے"
برصغیر میں قرآنی خطاطی کے مختلف ادوار
برصغیر میں قرآنی خطاطی اور اس کی اشاعت کی تاریخ یکساں پرانی ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے برصغیر میں اسلامی حکومت کا قیام محمد بن قاسم کی فتح سندھ 93/712ء سے ہوا اس طویل عرصے میں اسلامی خطاطی نے کئی عروج و زوال دیکھے قرآنی کتابت کے لحاظ سے ہم برصغیر کو چھ ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
پہلا دور 93تا 413ھ/712تا1022ء
دوسرا دور 413تا932ھ/1022تا1526ء
تیسرا دور 932تا1119ھ/1526تا1703ء
چوتھا دور 1119تا1274ھ/1707تا1857ء
پانچواں دور 1275تا1327ھ/1857تا1947ء
چھٹا دور(پاکستان میں خطاطی) 1367تا1416ھ/1947ء تا 1995ء
پہلا دور 93تا 413ھ/712تا1022ء
خطاطی کا پہلا دور محمد بن قاسم کے فتح سندھ سے لے کر سلطان محمود غزنوی کے فتح لاہور تک محدود ہے اسلامی حکومت اس دور میں سندھ اور ملتان کے نواح تک محدود ہی سندھ سے محمد بن قاسم دیبل فتح کر کے الرور اور ملتان کے سے ہوتا ہوا دیپالپور تک جا پہنچا یہ سلسلہ 290ھ/902ء تک جاری رہا جو یعقوب بن لیچ صفار پر ختم ہوا جبکہ خط اسلامی قرآنی محظوطات اور عماراتی کتابت تک محدود رہا منصورہ کی کھدائی کے دوران قرآن کریم کے جلے ہوئے اوراق شاہد ہیں کہ۔ اس عرصہ میں یہاں خط کوفی ہی رائج تھا۔ 044) بھنبھور کی کھدائی سے مقامی پتھر کے کتبات میسر آئے ہیں ان کا زمانہ 109۔294ھ/727۔906ء مقرر کیا گیا ہے۔ یہ 14کتبات برصغیر میں اسلام کی پہلی مسجد کے ہیں۔ (45) یہ کتبات بھنبھور میوزیم میں موجود ہیں۔
مندرجہ بالا شواہد پر انحصار کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے۔ کہ ابتدائے اسلام ہی سے برصغیر پاک و ہند کے ایک خطہ میں خط اسلامی رواج پا گیا تھا جو تیسری صدی ہجری کے اختتام تک ایک رسمی کیفیت اختیار کر گیا جو معیار میں باقی اسلامی دنیا کے خط کوفی کے بالکل متوازی تھا۔
دوسرا دور 413تا932ھ/1022تا1526ء
برصغیر میں اسلامی حکومت کا دوسرا دور سلطان محمود غزنوی کے شمال سے وارد ہو کر فتح لاہور 413ھ/1022ء کے بعد سے شروع ہو کر بابر کے فتح ہندوستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دور محمد بن قاسم کے تین سو سال بعد حملہ لاہور کے وقت 412۔413ھ/1022۔1021ء سلطنت غزنی کا لاہور کے ساتھ الحاق کر کے اسے چھوٹے غزنی(گزنی خورد) کا درجہ دیا گیا اور اس طرح یہاں علم و ہنر کے سر چشمے پھوٹے۔ اس دور میں لاہور اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ غزنویوں کے ہاتھ سے غزنی پہلے نکلا اور لاہور بعد میں۔ لاہور میں اسلامی خطاطی وسط ایشیائی اثرات کے ساتھ پہنچی۔ خط نستعلیق کی ایجاد سے قبل یہ عہد نسخ اور کوفی کی ترمیمات تک محدود رہا۔ اس عرصہ میں فارسی کے علاوہ عربی زبان کا رواج بھی رہا اور خطاطی زیادہ تر قرآنی کتابت تک ہی محدود رہی تا ہم کاغذ اور تعلیمی مدرسوں کے رواج سے یہ فن زیادہ مقبول ہوا اس عہد کے نومنے مختلف مخطوطوں، عمارتی کتبات اور سکوں وغیرہ کی عبارات کی صورت میں ملتے ہیں۔ لاہور میں باقاعدہ دفتر دیوانی قائم کیا گیا اور یہاں قلم کاغذ دوات معدگی سے دستیاب ہونے لگا۔ سلطان محمود غزنوی کی فتوحات سے جہاں معاشی سماجی، ثقافتی طور پر ہندوؤں کو نقصان پہنچا وہاں اہل لاہور کو یہ فائدہ ہوا کہ اسلامی سلطنت کے قیام سے غزنی سے کئی اہل علم بسلسلہ ملازمت یہاں آ کر آباد ہوئے اس لیے ان کے فیض سے یہ شہر بھی اسلامی علوم و فنون اور مذہب کی اشاعت کا مرکز بن گیا۔(46) ابتدا میں یہاں پر علم اور اہل علم کا قحط تھا حضرت داتا علی ہجویریؒ یہا ں تو انہیں غزنی کی محفلیں یاد آتی تھیں اس امر کی شکایت انہوں نے اپنی مشہور تصنیف کشف المحجوب میں اس طرح کی کہ۔
میں یہاں آ کر ناجنسوں میں گرفتار ہو گیا ہوں۔(47)
محمود کے علاوہ مسعود بھی اہل علم کا مربی و قدردان تھا اس کے دربار سے کئی اہل کمال وابستہ تھے لیکن اس زمانے کی اہم قابل ذکر تبدیلی لاہور اور اہل لاہور کا علم و فن میں عروج تھا۔(48)
ابراہیم غزنوی کے زمانہ حکومت (451۔492ھ/1059۔1098ء) میں لاہور علمی سرگرمیوں کا گہوارہ بن چکا تھا اور بقول عوفی لاہور اس وقت علم و فضل کا بڑا مرکز تھا۔ ابراہیم کا ایک وزیر ابو نصر فارسی جوادبی دلچسپیوں کی وجہ سے ادیب مشہور تھا علم و فضل کا مربی تھا اس نے لاہور میں میں ایک خانقاہ قائم کی جو اہل علم اور دوسرے بزرگوں کی جائے پناہ تھی اور آہستہ آہستہ کا شغر، بلخ، بخارا، عراق، کراسان، سمر قند، غزنی اور دوسرے ممالک سے اہل علم کھچ کر یہاں آنے لگے۔(49) تاریخ حبیب السیر، مصنفہ اخوند میر میں مذکور ہے کہ محمود غزنوی کا وزیر ابو العباس فضیل بن احمد بھی خطاط تھا اور یہ وزیر اپنے ابتدائی زمانےمیں فائق کے دربار میں کاتب کے عہدے پر فائز تھا۔(50) فائق کے دربار کے بعد ابو العباس نے سبکتگین کے دربار میں اثر و رسوخ پیدا کیا اور وزارت کے عہدے تک پہنچا۔ سبکتگین کے بعد محمود نے بھی اسے وزارت پر بحال رکھا عربی زبان سے اس ی عدم واقفیت کی بناء پر جو منشور اور فرامیں عربی زبان میں لکھے جاتے تھے اب فارسی زبان میں لکھے جانے لگے(51) مگر ان کا رسم الخط المسخی اور کوفی آمیز ثلث رہا۔ سلطان محمود غزنوی کا دوسرا وزیر خواجہ حسن بن احمد میمندی جو ابو العباس کے بعد منصف وزارت پر متمکن ہوا سلطان محمود کا رضاعی بھائی اور ہم سبق بھی تھا۔ خواجہ احمد بن حسن میمندی پتھر تیلا، عقلمند، سمجھدار اور خوش خط آدمی تھا۔ سب سے پہلے اسے عہدہ انشاء رسالت تفویض کیا گیا پھر وہ صدر خسمی میر بخشی اور خراسان کی حکومت تک پہنچا (52) اور اس نے 18 سال تک خدمات انجام دیں۔ احمد بن حسن نے شاہی عتاب کی وجہ سے 13 سال کالنجر کے قلعہ میں اسیری کے گزارے اور سلطان مسعود کے زمانہ میں دوبارہ وزارت کے عہدہ پر سرفراز ہوا اس نے 424ھ/1032ء میں وفات پائی۔ مذکورہ بالا دونوں وزراء کے دور، خطاطی کے یے انتہائی حوصلہ افزاء ثابت ہوئے اور وسعت سلطنت لاہور تک ہونے کی وجہ سے قرآنی خطاطی پر وسط ایشیائی اثرات چھوڑے۔
دور سلاطین میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اولادار الحکومت لاہور کی بجائے دہلی قرار پایا۔ دوسرے برصغیر میں اسلامی سلطنت وسط ایشیا سے لے کر ہندوستان کے مرکز دہلی تک پھیل گئی۔ سلطان شمس الدین التمش باکمال خطاط تھا۔ (53) سلطان ناصر الدین اپنے ہاتھ سے کلام مجید لکھ کر روزی کماتا۔ (54) غیاث الدین بلبن کے عہد کی تاریخ فیروز شاہی میں مذکور ہے کہ جو کاتب قرآن مجید لکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا وہ اس کو ہدیہ دیتا اور پھر یہ نسخہ کسی ایسے شخص کو دے دیا جاتا جو اس کے مطالعہ کی خواہش کرتا اس زمانے میں قرآنی خطاطی اجرت پر ہوتی تھی۔ خلجی عہد میں اسلامی خطاطی اپنے عروج پر تھی اس عہد میں نسخ کے ساتھ ساتھ ایک اور رسم الخط قرآنی کتابت کے لیے متعارف ہوا جس کا اصل وطن وسط ایشیا تھا ۔ اس کو "خط بہار" (ع۔5) کا نام دیا گیا یہ خط قرآنی خطاطی اور عمارتی کتبات میں مستعمل ہوا جو بالخصوص بنگال اور بہار میں بڑی سرعت سے ملتا ہے۔ ہمارے خیال میں خط بہار کوئی علیحدہ خط نہیں محض کوفی سے ثلث تک کے سفر کا ارتقائی عمل ہے۔
“The calligraphy of the dedication panel is strikingly original in style although it bears some resemblance to the so called Behari manuscripts style found in a fair number of 14th and 15th Cent. A.D Quran. A Chief Characteristic of Behari style is the thick end terminal endings of certain extended letter.” (55)
"یادگاری تختے کی خطاطی اپنے سٹائل میں بہت متنوع ہے اگرچہ یہ اس خط بہار میں لکھے گئے مسودات کے طرز سے مماثلت رکھتا ہے جو چودھویں اور پندرھویں صدی میں کافی تعداد میں ملتے ہیں۔ اس خط کی ایک مخصوص خاصیت بعض پھیلے ہوئے حروف کے آخری سرے کا جلی پن ہے۔"
چودہویں صدی میں نقاشی اور رنگ آمیزی صرف قرآنی نسخوں تک ہی محدود نہ تھی رفتہ رفتہ اس کا استعمال دیگر کتب میں بھی ہونے لگا ان کی آرائش و زیبائش کے لیے کبھی تو کتاب کے آخر میں بیل بوٹے بنائے جاتے تھے۔ اور کبھی تصویروں کے اردگرد چوکھٹوں کی شکل میں گل کاری کی جاتی جبکہ قرآنی خطاطی کی حد تک۔ اس عہد میں بعض قرآن کریم محقق میں اور بعض ریحان میں بھی لکھے گئے۔
تغلق عہد میں بھی قرآنی مخطوطات بڑے تزک و احتشام سے لکھے جاتے تھے۔ خود سلطان محمد تغلق اعلیٰ پائے کا خطاط تھا بغداد کی تباہی کے بعد مشہور خطاط عبد اللہ ہرہ ی متوفی 880ھ/1475ء محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آ کر امراء اور وزراء کا مقرب ہوا اس نادر روزگار خطاط نے 45قرآن کریم یادگار چھوڑے۔ (56) عہد لودھی کی خطاطی کا ارتقاء ہمیں اس عہد کے عمارتی کتبات، فرامیں، مخطوطات کے مشاہدات سے ملتا ہے اس عہد میں علم و فل کی شاہی سر پرستی جاری رہی اور اعلیٰ پائے کی لائبریریوں کے وجود کا پتہ بھی چلتا ہے۔
تیسرا دور 932تا1119ھ/1526تا1707ء
برصغیر میں قرآنی خطاطی کا تیسرا دور بابر کی فتح ہندو 932ھ/1526ء سے شروع ہو کر اورنگ زیب 1119ھ/1707ء تک محیط ہے برصغیر میں اس دور میں قرآ نی خطاطی ے جو عروج دیکھے وہ نہ تو پہلے نصیب تھے اور نہ ہی بعد میں ہوئے بانی مغلیہ سلطنت بابر، اورنگ زیب اور آخری مغلیہ حکمران بہادر شاہ تینوں اعلیٰ خطاط تھے انہوں نے نہ صرف اس فن میں خود طبع آزمائی کی بلکہ خطاطوں کی اس قدر حوصلہ افزائی کی کہ ایران اور توران کے معروف خطاطوں نے انہی کے سایہ عاطفت میں پناہ لی ماثر الامراء میں ہے کہ:
کتب نزد بادشاہ بردہ منطقنہ ساخت کہ مارابہ چیز ہائے دیگری نمایدو چوں خلوت می رود آں کاریگر میکند۔(57)
"سب تاجران کتب کو بادشاہ کے پاس لے گیا اور گویاہوا کہ ہمیں اور چیزیں دکھاتا ہے لیکن جب خلوت میں جاتا ہے تو دوسرا کام کرتا ہے۔"
ایک مرتبہ شہزادہ سلیم لاہور میں مقیم ابو الفضل کے گھر آیا اور دیکھا کہ چالیس کاتب قرآن و تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں وہ سب کو بادشاہ(اکبر) کے حضور لے گیا۔(58) مولانا علم الدین سالک کے مطابق ہندوستان میں چند سو سال قبل تک یہ رواج عام پایا جاتا تھا کہ جب کسی شخص سے کوئی گناہ سر زد ہو جاتا تو وہ کفارے کے طور پر قرآن مجید خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر یا لکھوا کر کسی بزرگ کی درگاہ پر رکھواتا لاہور میں حضرت علی ہجویریؒ کی درگاہ پر بڑے بڑے نایاب نسخے ہو اکرتے تھے۔ جو محکمہ اوقاف نے دریا بردکروا دئیے ان نسخوں میں سے لاہور کے فقیر خانہ میوزیم میں اعتماد الدولہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے چار پارے محفوظ ہیں۔(59) اس دور میں کشمیر میں ایک خاص انداز سے قرآن کریم نسخ میں مذہب کئے گئے۔ جبکہ پنجاب میں دیگر منفرد خصوصیت کے حامل ہیں۔
خطاطی کا چوتھا دور 1119تا1274ھ/1707تا1857ء
خطاطی کے چوتھے دور کا آغاز اورنگ زیب کی وفات 1119ھ/1707ء سے شروع ہو کر 1274ھ/1857ء میں ختم ہوتا ہے اس دور میں مرہٹوں کی لوٹ مار سکھا گردی اور افغانیوں کی یورش کی وجہ سے خطاطی کی وہ سر پرستی نہ رہی۔ مغلوں کے ابتدائی دور عروج میں آگرہ کے بعد لاہور ملک کا دوسرا بڑا وارا سلطنت تھا اکثر امراء یہیں مقیم تھے مغل سربراہ بھی یہاں پر اپنا قیام بالعموم رکھتے حکمرانوں کی اس نقل و حرکت کی وجہ سے درباری کاتب دوسرے شہروں کے کاتبوں اور ان کے فن سے باخبر رہتے۔ ایک دوسرے کے فن پر اثرات چھوڑتے اور قبول کرتے۔ ایران کی طرف سے خطاطوں کی آمدو رفت جاری رہی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں قرآنی خطاطی زیادہ تر ایرانی خطوط احمد نیریزی 1126ھ/1714ء کی طرز کی مرہون احسان ہے کہ برصغیر میں اس دور سے آج تک جتنے بھی قرآن کریم لکھے گئے وہ زیاہد تر نیزیزی طرز میں ہیں۔ (ع۔6) وارث شاہ کے بقول اس دور میں مرکزی حکومت کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ راجے مہاراجے خود مختار ہو چکے تھے اور فنون کو وہ شاہی سر پرستی حاصل نہ رہی جو کبھی مغلیہ دور کا شاخسانہ تھی۔ اور راجے مہاراجے خال خال ہی کوئی مخطوط اپنی سر پرستی میں لکھاتے کاتب زیادہ تر اجرت پر خطاطی کرنے لگے قرآنی مخطوطات جو پہلے منظم طریقے سے انتہائی اہتمام سے تیار ہوتے اب اجرت پر تیار ہونے لگے۔ دیگر فنون مثلاً روشنائی سازی، جندی سازی، قلمدان سازی، کاغذ سازی، مصوری، نقش و نگاری، قلم سازی میں سے سیاہی اور قلم سازی ہی باقی رہے باقی فنون شاہی سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے موقوف ہو گئے۔ اس دور میں پنجاب میں زیادہ تر جلی حروف میں قرآنی کتابت کا اہتمام ہوا جبکہ کشمیر میں خوبصورت نقش و نگاری سے مزین قرآن کریم لکھے جاتے مگر اس میں وہ رعنائی باقی نہ رہی جو کبھی مغلیہ دور کاطر و امتیاز تھی۔ وسط ایشیا سے آنے والے قرآن کریم متوسط قلم سے مطلا زمیں پر تیار ہوتے رہے۔ عہد محمد شاہ کے مشہور خطاط محمد حفیظ خان م 1194ھ/1780ء جوہر طرز میں خطاطی کرتے داروغہ کتاب خانہ تھے انہوں نے طرز یا قوت میں چند نسخے قرآن کریم کے طرز یا قوت میں مظلا اور مذہب لکھ کر بادشاہ کو دئیے۔(60)
خطاطی کا پانچواں دور (1857تا1947ء)
خطاطی کے پانچویں دور میں برصغیر میں قرآنی خطاطی سمٹ کر چند شہروں تک محدود ہوئی ان میں لاہور، دہلی اور لکھنو دبستان خطاطی کی حیثیت سے امتیازی خصوصیت کے حامل ہوئے لکھنوی روش کو جہاں پر قاضی نعمت اللہ لاہوری اور حافظ نور اللہ نے چھوڑا تھامنشی شمس الدین اعجاز رقم نے آگے بڑھایا عبدالرشید ویلمی کی روشن کو جہاں محمد افضل لاہوری آقا ئے ثانی نے چھوڑا تھا امام ویردی لاہوری نے آگے بڑھایا۔ دہلی سکول والے حافظ امیر الدین المعروف میر پنجہ کش اور مولوی ممتاز علی نزہت رقم جیسے خطاطوں کو نہیں بھولے تھے کہ بیسویں صدی کےآغاز میں ضلع گوجرانوالہ کے نواح جنڈیالہ ڈھاب والا سے محمد الدین مرحوم دہلی تشریف لائے جہاں ان کے بیٹے محمد یوسف نے دہلوی طرز کو آگے بڑھایا۔ خطاطی کا یہ وہ دور ہے کہ جب طباعت پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھی اور قرآن مجید طبع ہوتا تھا اور ہرادارے کے اپنے اپنے کاتب ہوتے تھے۔(61) منشی گلاب سنگھ المعروف رائے صاحب کے مطبع میں قرآن کریم بڑے اہتمام سے چھایاجاتا اور غلطی کا امکان کم کرنے کے لیے آٹھ حافظ قرآن ملازم رکھے ہوئے تھے اور ان حفاظ کے لیے ایک چبوترہ بنوا رکھا تھا پتحر کی قرآن کریم اور خاص کر عربی رسم الخط لکھنے والوں کو اکثر خط نسخ لکھنے کی وجہ سے نساخ کہا گیا ہے۔ ایک رسالہ "اصول النسخ" کے نام سے (1336ھ/1917ء) الناظر پریس لکھنو میں شائع ہوا تھا جس کے مصنف مولوی حامد علی مرصع رقم نساخ ابن مولانا شیخ محمد علی محدث لکھنوی ہیں۔ اس کا تعارف نامہ محمد جان نے لکھا ہے۔ مصنف نے اس کے شرو ع میں سبب تالیف بیان کرتے ہوئے لکھنو کے دور متاخرین کے نسخ نگاروں کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔
"عہد اورنگ زیب کے محمد عارف نے یاقوت المستعصمی کے طرز تحریر میں بت کچھ تغیر و تبدل کیا اور نیریزی طرز کو اپنایا ان کے برادر زاد سے قاضی عصمت اللہ تھے جن کا لقب یا قوت رقم ثالث تھا ان سے استفادہ یا تلمذ کرنے ولاے عبداللہ طباخ تھے ان کے بعد ان کے دو فرزند علی اکبر اور علی امیر نے اپنے باپ سے نسخ کی تعلیم حاصل کی اور ان کے تلامذہ میں شاہ غلام علی خلیفہ حاجی محمد تقی مہونوں باکمال نسخ نگار تھے۔ ان کے بعد ان کے دو فرزند میر اکبر علی اور میر کلن علی مشہور ہوئے اسی دور میں درویش مشرب شاہ غلام علی نسخ نگار ہوئے ان کے معاصرین میں نواب احمد قلی خان مرزائی بڑے کامل استاد تھے جن کے بعد ان کے نواسے میر بندہ علی مرتعش رقم اعلیٰ درجہ کے نساخ تھے یہ سو سال کی عمر میں 1283ھ/1866ء میں فوت ہوئے۔ ان کے شاگردوں میں آغاز محمد اور محمد مرزا اور مولوی محمد مہدی تھے مولوی محمدیحییٰ مہاجر مکہ معظمہ بھی مشہور نساخ تھے اسی زمانے میں مولوی زکریا اور حافظ خورشید برادر حافظ نور اللہ کا فیض ہند میں جاری تھا اور منشی عبدالحئی سندیلوی بھی مشہور تھے ان کے تلامذہ میں میر طفیل اور بلکر امی بھی اچھے نسخ نگار تھے میراکبر علی سکنہ قصبہ کالپی کے زمانے میں دہلی میں حافظ امیر الدین بادشاہ بہادر شاہ کے ہاں قرآن لکھتے، ان کا انتقال 1265ھ/1848ء میں ہوا اس کے علاوہ منشی محمد حفیظ، مولوی محمد صالح اور منشی محمد جعفر وغیرہ بھی قرآن لکھتے تھے اس کے مقابلے میں پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے بعض مقامات مثلاً ایمن آباد، سوہدرہ، کوٹ وارث، سمبڑیال کے نساخ مشہور تھے جن میں سے عبدالرشید ، محمد حسین، مولوی عبداللہ ان کے صاحبزادے مولوی عنایت اللہ، مولوی محمد دین وغیرہ۔ مشہور کاتب قرآن تھے۔(62)
خطاطی کا چھٹا دور: قیام پاکستان کے بعد قرآنی خطاطی
قیام پاکستان کے بعد دہلی اور دیگر ہندوستانی علاقوں سے بہت سے اعلیٰ خطاط ہجرت کر کے پاکستان آ کر آباد ہوئے ان میں محمد یوسف دہلوی کراچی میں جبکہ لاہور میں کپور تھلہ کے خورشید عالم خورشید رقم معروف خطاط ہیں۔ قیام پاکستان سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ مغربی پنجاب خطاطی کے میدان میں پورے برصغیر پر نمایاں اہمیت اختیار کر گیا اور لاہور ایک اہم اشاعتی مرکز کے طور پر ابھرا یہاں اخبارات کی کثیر تعداد نے اشاعت شروع کی اور بے شمار طباعتی ادارے وجود میں آئے اور کاتبوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور لاہور طرز نستعلیق عبدالمجید پروین رقم کے ہاتھوں اپنے عروج کو پہنچ گئی اور لاہور شہر خطاطی کے میدان میں پورے برصغیر میں اعلیٰ مرتبے ر فائز ہوا۔ یہی وہ دور ہے جب عالم اسلام کے معروف خطاطین یا قست المستعصمی، شیخ حماد اللہ، مصطفی زادہ، کرشانی، حافظ عثمان، مصطفیٰ عزت جیسے خطاطوں کے نمونوں کے علاوہ خوبصورت قرآن مجید چھپ کر لاہور آنے لگے اور یہاں کے خطاطین دیگر اسلامی ممالک میں گئے۔ قرآنی کتابت کے لیے پنجاب کے علاقے سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے قصبات پیر کوٹ، عادل گڑھ، کوٹ وارچ اور کیلیانوالہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
برصغیر میں پچھلے صد سالہ دور میں جہاں بے شمار مسلمانوں نے اس کی اشاعت میں بھرپور حصہ لیا وہاں ہندو اور سکھوں نے بھی اس کی اشاعت کے لیے گراں قادر خدمات انجام دیں۔ جن میں جے ایس سنت سنگھ لاہور، مطبع مفید عام ، مطبع منشی گلاب سنگھ اور مطبع نولکشو ر قابل ذکر ہیں۔ سراج الدین ، عزیز یہ کتب خانہ، فیروز سنز، قبول عام پریس، میراں بخش، شیخ محمد اشرف(چینیاں والی مسجد کے سیکریٹری) انجمن حمایت اسلام ریلوے روڈ، تاج کمپنی ریلوے روڈ، چاند کمپنی شیخ محمد حسین اینڈ دنز، اویس کمپنی اردو بازا لاہور، نیو انڈس پبلشنگ کمپنی اردو بازار لاہور، ویسٹ پاک پبلشنگ کمپنی اردو بازار لاہور، حافظ اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور، خالق بک سنٹر اردو بازار، اقراء کمپنی، ممتاز کمپنی، ممتاز قرآن کمپنی، مہتاب کمپنی، احمد بک سنٹر، ضیاء القران، فیض اینڈ کمپنی، قدرت اللہ اینڈ کمپنی، مکتبہ تعمیر انسانیت، مقدس پبلشر الوہاب مارکیٹ، اقبال اینڈ کمپنی الکریم مارکیٹ، قرآن کمپنی، ذکاء پبلشرز بالمقابل کامیاب ڈاکخانہ، زر کمپنی، شیخ غلام حسین اینڈ سنز، سلمانیہ کتب خانہ، ملک دین محمد، پکو لمیٹڈ، دین محمدی پریس، مجاہد کمپنی اردو بازار، خواجہ محمد اسلام، شیخ غلام علی اینڈ سنز جیسی کمپنیاں پچھلی صدی سے قرآن کریم کی اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہر ادارے کے اپنے خطاط ہیں جو اجرت پر کتابت کرتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں کی توجہ کا اہم مرکز چونکہ کلام اللہ ہے اس لیے جہاں اس کی سورہ اقراء کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس کی ترتیل و تجوید میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے اس کی خطاطی میں بھی مہارت کا ثبوت دیا گیا۔ کلام پاک خطاطی کی تمام مروجہ خطوط کوفی نسخ ریحان، محقق، ثلث، نستعلیق میں لکھا گیا۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ مسلمان اسلامی خطاطی جیسے پاکیزہ فن سے روشناس ہوئے۔ قرآنی خطاطی کوفی رسم الخط سے جدید نسخ اور نستعلیق تک کا ارتقائی سفر ہمیں مختلف ادوار کے شاندار ماضی اور حال کی خبر دیتا ہے کہ شمسی قمری رسم الخطوط گلزاری بہاری رسم الخط اور کود کوفی رسم الخط، ثلث، ریھان اور محقق جیسے رسم الخطوط کو قرآنی آیات نے لافانی بنا دیا۔ جس طرح دوسرے علوم و فنون میں لاہور کو مرکزیت حاصل رہی قرآنی کتابت میں بھی ہمیں لاہور کے کم و بیش 85کے قریب خطاط ملتے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں قرآنی کتابت کو ذریعہ روزگار بنایا اور آج بھی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ لاہور میں یہ سلسلہ ابراہیم غزنوی سے شروع ہو کر خورشید عالم گوہر قلم پر ختم ہوتا ہے۔
لاہور کے قرآنی خطاط
ذیل میں ابجد کی ترتیب سے غزنوی دور سے آج تک کے معروف خطاطین قرآن کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے قرآنی خطاطی میں لاہور کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دیں۔
(سلطان ابراہیم غزنوی)
سلطان ابراہیم غزنوی بن سلطان مسعود بن محمود غزنوی (63) نیک اطوار، ہر دلعزیز مستقل مزاج حکمران تھا یہ صلح جو شخصیت کا مالک تھا اس نے لاہور سے بڑھ کر اجودھن (موجودہ پاک پتن) کو جو لاہور سے 80 میل کے فاصلہ پر تھا فتح کیا۔ یہ بادشاہ فن خوشنویسی میں بھی یدطوبیٰ رکھتا تھا۔ ابراہیم غزنوی اپنے ہاتھ سے ہر سال قرآن کریم کتابت کرتا۔ (64) سلطان ابراہیم اچھا نساخ تھا جس نے تمام زندگی یہ شعار اپنائے رکھا کہ ہر سال قرآن کریم اپنے ہاتھ سے لکھ کر مکہ معظمہ ارسال کرتا۔ فرشتہ کے زمانہ تک اس کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کریم کے بعض نسخے کتب خانہ نبوی میں موجود تھے۔ اس نے تقریباً40برس تک حکومت کی اور 493ھ/1098ء میں وفات پائی(65)
ابراہیم سیالکوٹی
لاہور عجائب گھر میں قرآنی مخطوطہ نمبر920 جسے ابراہیم سیالکوٹی نے 1071ھ/1660ء میں کتابت کیا پنجاب میں قرآنی نسخ کی بہترین مثال ہے۔ اس کے ترقیمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قرآن کریم ابراہیم خان برادر علی مردان خان کے لیے لاہور میں لکھا گیا۔(66)
احمد یار خان یکتا
موصوف کے اسلاف خوشاب کے رہنے والے تھے آ کے والد الہ یار خان لاہور ٹھٹھہ اور ملتان کے صوبہ دار بھی رہے اس طرح احمد یار خان یکتالاہور میں بھی رہے اور عالمگیر کے آخری زمانے میں ٹھٹھہ کے صوبے دار رہے اور انہوں نے قرآن مجید لکھ کر میر عبدالجلیل بلگرامی کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ شاعر تھے اور یکتا تخلص کرتے تھے۔(67)
حافظ شیخ احمد
معروف خطاط محمد یوسف سدیدی کے تلامزہ سے تھے، موصوف کا بیٹا عقیل احمد بھی حافظ صاحب کا شاگرد ہے۔ حافظ شیخ احمد نے قرآنی کتابت کو ذریعہ معاش بنایا۔(ع۔7)
امام الدین کیلانی
آبائی وطن کیلیا نوالہ شریف ضلع گوجرانوالہ ہے قرآن پاک کے نہایت اعلیٰ خوشنویس اور مولوی عبداللہ وارثی کے ہمعصر تھے تمام عمر قرآن اور حدیث کی کتابت کی موصوف کے مطبوعہ قران مجید اور حمائلیں بطور یادگار محفوط ہیں ان کی اولاد میں تا حال خطاطی کا سلسلہ جاری ہے آپ کے فرزند نور الٰہی کیانی بھی کاتب قرآن تھے۔ آج کے دور میں بھی متعدد کیلانی اصحاب قرآن کریم کی کتابت سے بہر دور ہو رہے ہیں۔
برکت علی سیالکوٹی
قرآن پاک کے بہترین خطاط تھے ان کا مکتوبہ قرآن کریم بخط جلی (نسخ) پنجاب پریس سیالکوٹ میں با ہتمام منشی غلام قادر فصیح 1317ھ/1899ء میں چھپا۔
شہزادہ پرویز
مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگر کا دوسرا بیٹا(998ھ/1589ء) کابل میں پیدا ہوا۔ تذکرہ خوشنویساں میں غلام محمد مفت قمی نے لکھا ہے۔
"در علم عربی و فارسی و نوشتن خطوط بغایت آراستہ و پیراستہ بوداکثر اوقات را بکتابت کلام اللہ صرف می نمود" (68)
"عربی و فارسی کے آراستہ و پیراستہ خطوط لکھنے میں ماہر تھا اور اکثر اوقات کتابت کلام اللہ میں مصروف رہتا تھا۔"
شہزادہ پرویز کا انتقال 1035ھ/1625ء میں بمقام برہان پور ہوا قیاس کیا جاتا ہے کہ لاہور کے مضافات میں کوٹ خواجہ سعید میں موجود مزار شہزادہ پرویز کا ہے۔
خوشی محمد ناصر قادری
مرحوم کے والد کا نام کرم بخش تھا۔(69) آپ 8مارچ 1337ھ/1918ء کو موضع کانگنہ تحسیل نکودر ضلع جالندحر میں پیدا ہوئے اور 1350ھ/1931ء میں لاہور آ کر(بینک کالونی سمن آباد) رہائش خاتیار کی۔ آپ خطاطی میں عبدالمجید پروین رقم کے شاگرد تھے۔ خط تسخ اور نستعلیق میں خاص مہارت تھی۔(ع۔8) موصوف نے روزنامہ "انقلاب" میں سارھے چار سال کتابت کی اور تفسیر پیر کرم علی شاہ کے پہلے نو پارے لکھے اور حضرت سلطان باہوؒ کی ساری تصنیفات کی کتابت کی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مہر منیر، شمس ہدایہ، سیف چشتیائی، تصفیہ مابین سنی شیعہ اور مکتوبات مہر یہ کی کتابت کی۔1991ء میں ملاقات کے دوران انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ آج کل وہ فرینڈز سٹیشنری رٹ کا قرآن کریم کتابت کر رہے ہیں۔ 23جون 1991ء تک ساڑھے چودہ پاروں کی کتابت مکمل کر چکے تھے۔ آپ کے تلامذہ میں محمد رفیق گزنوی کراچی، شیخ محمد اشرف کراچی، عبدالواحد کراچی، حافظ گلزار کراچی ، محمد عظیم، عبدالرحمٰن سکول ٹیچر، انوار الحق لاہور، محمد افضل لاہور، محمد عنایت اللہ لاہور، محمد اشرف محکمہ انکم ٹیکس،محمد شفیع، محمد حنیف، محمد علی شامل ہیں۔ اپ کے ہمعصروں میں ہیرانوالہ، گوجرانوالہ کے محمد شفیع، سیالکوٹ کے محمد اسماعیل مرحوم بھیگووال سیالکوٹ کے عبدالعزیز احمد، لاہور کے محمد اعظم مرحوم نعت خواں حاجی محمد اعظم کاتب شامل ہیں۔ آپ کا انتقال لاہور میں یکم دسمبر 1995ء میں ہوا۔(70)
خورشید عالم گوہر قلم
1957ء میں دحریمہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے خطاطی کی تعلیم لاہور کے معروف خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی سے لی۔ لاہور عجائب گھر میں خطاطی کی نمائش منعقدہ 1981ء میں روایتی خطاطی میں تیسرا انعام حاصل کیا۔ (71) بچپن میں ان کا نام لاہور ہی کے معروف خطاط جناب خورشید عالم خورشید رقم کے نام پر رکھا گیا۔ موصوف نے کئی مساجد پر خطاطی کی (72) بے شمار کتابوں کے سرورق کتابت کئے۔ 1980ء میں 40 من وزنی قرآن پاک کی کتابت شروع کی جس کا ہر پارہ علیحدہ جلد میں ہے یہ کتابت 1989ء میں 9 سال کے عرصہ میں ختم ہوئی یہ نسخہ مختلف اقسام خط میں ہے اس کے علاوہ موصوف نے کئی قرآن کریم لکھ کر مختلف مساجد اور اہم اداروں کو پیش کئے ہیں۔ (ع۔9) خطاطی کے فروغ کے لیے موصوف نے لاہور میں ایک اکیڈمی قائم کی جہاں اب تک سینکڑوں طلباء استفادہ کر چکے ہیں۔ خورشید عام گوہر قلم ثلث، نسخ، نستعلیق، دیوانی اور طغریٰ میں مہارت رکھتے ہیں۔ بے شمار خطاطی کی نمائشوں میں حصہ لیا اور اعزازات سے نوازے گئے۔1991ء میں تمغہ حسن کارکردگی ملا۔
داراشکوہ
داراشکوہ بن شاہ جہاں باکمال مصنف، شاعر اور خطاط تھا۔ حضرت میاں میر قادری لاہور کے خلیفہ ملا شاہ بدخشی کا مرید اور اکثر لاہور میں میاں میر کی محفلوں میں حاضر رہتا۔ عبدالرشید ویلمی کا شاگرد رشید تھا۔(74) "تزکرہ خوشنویساں" کا مصنف غلام محمد ہفت قلمی لکھتا ہے۔
"دارالشکوہ پسر شاہ جہاں بادشاہ شاگرد عبدالرشید آقاست برویہ آقا عبدالرشید شاید کے مچل او نوشتہ باشد۔"(75)
"شاہجہان کا بیٹا دارا شکوہ عبدالرشید آقا کا شاگرد ہے۔ عبدالرشید کی طرز پر شاید ہی کسی نے اس جیسا لکھا ہو۔"
دارالشکوہ نسخ اور نستعلیق دونوں میں یکساں مہارت رکھتا تھا(76) اس کے ہاتھ کا قلمی قرآن کریم عزیز باغ لائبریری حیدر آباد دکن میں موجود ہے۔(77) جس کے حروف اول تا آخر سنہرے ہیں اس کے علاوہ ایک مطلا "پنج سورہ" وکٹوریہ ہال کلکتہ میں موجود ہے۔(75)
مولوی سراج الدین
موصوف معروف خطاط مولوی عزیز الدین کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور گوجرانوالہ کی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ کے خطیب تھے۔ آپ کی تصنیف "سراج الہدایہ" کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اپ بے مثل خوشنویس بھی تھے۔ (79) مولوی عزیز الدین خط نستعلیق کے استاد(80) جبکہ مولوی سراج الدین خط نسخ کے، آپ نے قرآن کریم کا ایک نسخہ کتابت کیا جو نواب بہاولپور کے دربار میں پہنچا، بعد میں اسی طرز کا ایک اور نسخہ تیار کیا۔ مولوی سراج الدین کے دو صاحبزادے تھے، بڑے بیٹے محمد حسین ایف سی کالج لاہور میں پروفیسر تھے جنہوں نے فارسمی زبان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں "عجائب"کا ایک نسخہ احمد حسین قلعداری کے ذخیرہ مخطوطات میں موجود ہے جس میں انہوں نے مغلیہ دور سے لے کر اپنے زمانے تک کے محیر العقول واقعات تحریر کئے ہیں۔ حکومت وقت نے آپ کو شمس العلماء کا خطاب دیا، دوسرے صاحبزادے مولوی نظیر حسین گوجرانوالہ میں بہترین خوشنویس تھے جنہیں حکومت نے آنریری مجسٹریٹ کا عہدہ دے رکھا تھا۔
ظہیر الدین بابر
بابر928ھ/1521ء میں لاہور پر حملہ آور ہوا۔ وہ ایک عمدہ خطاط بھی تھا۔(ع۔10) اور اس نے ایک خط ، خط بابری کے نام سے متعارف کروایا۔ (81) تیموریوں کی عام رسم تھی کہ وہ قرآن کریم اپنے ہاتھ سے لکھ کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ بھیجا کرتے۔ بابر کے متعلق بھی ایسی ہی روایت مشہور ہے۔ ملا عبدالقادر بدایونی کے قول کے مطابق یہ قرآن کریم خاص خط بابری میں لکھا گیا بابر کا سلسلہ تلمذ میر علی تبریزی سے ملتا ہے۔
پیر عبدالحمید
موصوف 1318ھ/1899ء کو پیدا ہوئے آبائی وطن موضع کالے والا ضلع گوجرانوالہ تھا۔ 15 سال کی عمر میں مولوی محمد عبداللہ وارثی کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا اور پھر مولوی عبدالرشید عدلی سے اکتساب فیض کیا دور حاضر کے ممتاز کاتب قرآن تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں تیس قرآن کریم کتابت کئے جن میں اکثر تاج کمپنی لاہور نے شائع کئے۔ آپ کے خط کا نمونہ لاہور عجائب گھر کی مخطوطات گیلری کی مشرقی دیوار کے ساتھ بخط نسخ(گلزاری) آویزاں ہے۔(ع۔11)
منشی عبدالحکیم جنڈیالوی
موضع جنڈیالہ ڈھاب والا ضلع گوجرانوالہ منشی عبدالحکیم کا شمار اساتذہ خطاطی میں ہوتا ہے خط نسخ اور نستعلیق میں یکساں مہارت رکھتے طرز تحریر میں امام ویردی کے مقلد تھے بڑے بڑے اشاعتی ادارے ان سے منہ مانگے معاوضہ پر کتابت کرواتے تھے، انہوں نے قرآن کریم کے متعدد نسخے کتابت کئے جو مختلف اشاعتی اداروں نے شائع کئے۔ موصوف جید عالم ہونے کے علاوہ مستند طبیب بھی تھے۔
مولوی عبدالرشید عادلی محبوب رقم
موصوف کے والد کا نام مولوی نیاز احمد تھا اور دادا کا نام مولوی غلام رسول عادل گڑھی تھا۔ 1281ھ/1865ء میں موضع عادل گڑھ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے انہوں نے مولوی عبداللہ وارثی کوٹ وارچ سے بھی اکتساب فیض کیا۔ آپ لاہور کے مشہور اشاعتی اداروں میں کتابت کا کام کرتے رہے پچاسی برس کی عمر تک خطاطی کی خدمت کی۔ ایک سو سے زائد قرآن کریم کتابت کئے۔ (82) موصوف کی رہائش خضری محلہ اندرون شیرانوالہ دروازہ تھی آخری عمر میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا اور آپ اپنے آبائی وطن عادل گڑھ چلے گئے اور وہیں 29نومبر 1381ھ/1961ء میں وفات پائی۔(ع۔12)
عبدالرحمٰن کیلانی
آپ کے والد کا نام نور الٰہی سے موصوف 11 نومبر1342ھ/1923ء کو کیلیا نوالہ میں پیدا ہوئے۔(83) 1367ھ/1947ء لاہور آ کر ادارہ کتابت چوک دانگراں رہائش اختیار کی 1347ھ/1954ء تک یہیں مقیم رہے۔ 1954ء میں اپنے مکان واقع بسن پورہ میں چلے گئے 1944ء میں فوجی ملازمت کے سلسلسہ میں راولپنڈی اور پونا (بھارت) بھی رہے 1326ھ/1942ء میں ترک ملازمت کے بعد کیلیا نوالہ منتقل ہو گئے۔ جون 1947ء سے 1965ء تک ادارہ فیروز سنز کا کام کرتے رہے۔ خطاطی کی تعلیم آپ نے محمد علی اور محمد صدیق الماس رقم سے حاصل کی۔ نسخ اور نستعلیق میں مہارت تھی۔ (ع۔13) الماس رقم کے بھائی محمد صادق کے ہم تلامذہ ہیں۔ موصوف نے روزنامہ "سیاست" میں کچھ عرصہ کتابت کمپنی اور حافظ محمد اشرف تعلیمی کتب خانہ نے طبع کئے۔ آپ کئی ایک کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جن میں (1) آئینہ پرویزیت (2) شریعت الطریقت (3) خلافت الجمہوریت (4) عقل پرسی اور انکار معجزات (5) اسلام میں ضابطہ تجارت (6) روح اور عذاب قبر(7) احکام سترو حجاب(8) اسلام میں فاضلہ دولت کا مقام (9) متراوفات القرآن (10) احوال صنعت و تجارت کی زکوٰۃ وغیرہ شامل ہیں۔
آپ کے خاندان میں گزشتہ تین پشتوں سے خطاطی کا سلسلہ جاری ہے موصوف کے کاندان کے خطاطین میں عبدالغفار گیلانی، محمد یوسف گیلانی، محمد ادریس گیلانی، محمد سلیمان گیلانی، ہارون الرشید، محمد ریاض، محمد خالد، عبدالقادر ، عبدالرحیم، غلام مصطفیٰ مرحوم، محمد یونس، عبدالمالک، محمد ایوب، محمد طارق، عبداقاد،ر عبدالرحیم، غلام مصطفیٰ مرحوم، نور الٰہی، عبدالحی، عبدالواحد، امام دین، محمد دین، محمد یعقوب، محمد مسعود محمود، فاروق، عبدالستار عبدالرؤف، عبدالشکور بشیر، احسان اللہ، عنایت اللہ، اکرام اللہ وغیرہ خطاط ہیں۔(84) آپ کے تلامذہ میں محمد حنیف، محمد ظہور الحسن، مظہر حسین، عنایت اللہ، عبدالرحمٰن، محمد سعید، محمود الحسن، محمد صادق، عبدالسلام، محمد سلیم، محمد مسلم (تینوں بھائی) خوشنویس ہیں۔
مندرجہ بالا خوشنویسوں کے علاوہ کیلیانوالہ کے مندرجہ زیل خطاطین نے بھی قرآنی کتابت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ خلیل الرحمان ولد نور محمد، عبدالغفار ولد عبدالقادر، عنایت اللہ ولد عبدالرحیم، عبدالرؤف ولد عبدالستار، محمد یعقوب ولد محمد یوسف، محمد الدین ولد محمد بخش، محمد یوسف ولد غلام مصطفیٰ، محمد حنیف ولد محمد شریف، محمد سعید ولد عبدالطیف، خالد محمود ولد محمد ادریس، ریاض احمد ولد محمد ادریس ، محمد سلیمان ولد نور الٰہی، نور الٰہی ولد امام الدین۔
عبدالروف فاروقی
آپ کا تعلق مرید کے سے ہے آج کل ویسٹ پاک پبلشنگ کمپنی اردو بازار کا کام کر رہے ہیں۔ مظہر قیوم بھٹہ نے اسی خطاط کا مطبوعہ قرآن کریم راقم الحروف کو دکھایا۔
مولوی عبدالقادر
پیدائش 15نومبر1907ء ہے نسخ اور نستعلیق میں اپنے والد ماجد اور عنایت اللہ وارثی سے اصلاح لی۔ اردو کتابت میں خاصا وقت صرف کیا۔ چند قرآن کریم کتابت کئے۔(85)
عبدالکریم
غلام حسین کے بیٹے اور عمر دین کے پوتے تھے ان کے ہاتھ کا مکتوبہ قرآن کریم 1957ء میں سندھی ترجمہ کے ساتھ مولانا تاج محمود امروٹی نے مولانا احمد علی لاہور کی فرمائش پر کو اآپریٹو کیپیٹل پرنٹنگ پریس وطن بلڈنگ لاہور سے طبع کیا یہ نسخہ آج کل نیشنل میوزیم لائبریری کراچی کے مجموعہ پیر جھنڈ و میں نمبر5 کے تحت موجود ہے۔(86) قرآن کریم کا ترقیمہ(ع۔14) اس طرح سے لکھا ہے۔
"وتمت کلمت ربک صدق و عدلا، لامبدل للکمتہ و ہوا لسمیع العلیم رقمہ عاجز عبدالکریم عفی عنہ والد یہ ساکن عادل گڑھ ضلع گوجرانوالہ۔"
مولوی عبدالمجید شیریں رقم
1881 ء میں عادل گڑھ میں پیدا ہوئے والد کا نام حسن محمد تھا موصوف الہ آباد تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں قیام پذیر رہے۔ 67سال کی عمر پا کر 1948ء میں وفات پا گئے۔ قیام پاکستان سے قبل نسخ میں قرآن کریم کتابت کرتے رہے۔ نستعلیق بھی عمدہ لکھ لیتے۔ ان کے مکتوبہ قرآن سنت سنگھ کے زیر اہتمام طبع ہوئے۔(87) نیز موصوف نے کراچی کی ایک فرم سعید اینڈ سنز کا کام بھی کیا۔(ع۔15)
عبداللہ ہروی
عبداللہ ہروی متوفی 880ھ/1475ء قرآن پاک کے معروف خطاط گزرے ہیں انہوں نے یا قوت کی طرز کو یہاں تک اپنایا کہ ان کے اور یاقوف کے خط میں تفریق مشکل تھی ایک عرصہ تک بغداد میں رہے سقوط بغداد کے بعد ہندوستان آئے۔(88) یہاں امراء اور وزراء کے مقرب رہے اس خطاط نے 45قرآن کریم اپنی یاد گار چھوڑے۔(89)
مولوی عمر بخش رسول نگری
موصوف نے متعدد قرآن کریم اور پنج سور ے کتاب کتابت کئے۔ اس کے علاوہ مناجات حضرت نوشہ گنج بخش کتابت کئے۔(90)
عبید اللہ
اس خطوط کا مکتوبہ قرآن کریم راقم الحروف نے نیشنل میوزیم کراچی میں دیکھا ہے۔ یہ نسخہ نمبر 65/1972کے تحت ذخیرہ مخطوطات کا حصہ ہے اس کے ترقیمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے 1124ھ/1812ء میں محمد معزالدین جہاندار شاہ کو لاہور میں پیش کیا گیا۔(91)
علی احمد صابر چشتی
موصوف جالندحرمیں 16 اپریل 1946ء میں حکیم وزیر الدین آصف کے ہاں بستی شیخ درویش بھارت میں پیدا ہوئے 1966ء میں لاہور آئے کچھ عرصہ فیصل آباد کے چوہدری محمد صدیق سے زانوئے تلمذطے کیا۔ حافظ محمد یوسف سدیدی کی رفاقت میں امروز عرصہ گزرا اس دوران موصوف ان سے مشاورت کرتے رہے اب تک 6 قرآن کریم کتابت کر چکے ہیں۔ (ع۔16)
مولوی عنایت اللہ وارثی
وارث کوٹ ضلع گوجرانوالہ کے محمد عبداللہ وارثی کے بیٹے اپنے والد ماجد سے اکتساب فن کیا نسخ اور نستعلیق دونوں میں خوب لکھتے رہے۔ انجمن خدام الدین کا مطبوعہ کلام مجید پہلا ایڈیشن ان کے حسن خط کا نمونہ ہے۔ آپ نے "العصر" کے نام سے ایک مفت روزہ بھی نکالا۔ (ع۔17)
سید عنایت اللہ حسینی
سید عنایت اللہ حسینی کے والد کا نام محمد بن سید الہداد تھا آپ کے جدامجد سید ظہیر الدین خنجند سے ہند آ کر ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں سکونت پذیر ہوئے اسی قصبہ میں آپ کی ولادت ہوئی والدہ ماجدہ اور جید علماء کے فیض سے کتب متداولہ سے فارغ ہوئے 1059ھ/1649ء میں بالا پور برار تشریف لے گئے کچھ عرصہ بعد برہان پور چلے گئے۔ وہاں شیخ ابو المظفر صوفی خلیفہ حضرت خواجہ محمد معصوم سر ہندی کے دست حق پرست پر بیعت کی ، خلافت سے سرفراز ہوئے۔ آپ نے 18قرآن پاک تحریر فرمائے۔ (92) 25 صفر 1117ھ/1705ءکو آپ نے وفات پائی۔ مد فن بالا پور برار میں سے میر آزاد بلگری امی نے قطعہ تاریخ وفات لکھا اور اس مصرع سے تاریخ نکالی، "قطب اقطاب رفتہ دیں عالم"
مولوی غلام رسول عادل گڑھی
مشہور خطاط مولوی عبدالرشید محبوب رقم اور مولوی محمد حسین عادلی فرماتے تھے کہ ہمارے دادا مولوی غلام رسول عادل گڑھی اور مولوی فضل الٰہی وارثی نے سمبڑیال میں خوشنویسوں کے ایک مشہور خاندان سے اکتساب فیض کیا۔(93) مولوی غلام رسول کے تلامذہ میں ان کے بیٹے عبدالرشید عادلی مشہور ہوئے۔
میاں غلام قادر قادری
آپ نے ساری زندگی قرآن کریم کی کتابت کی۔ نستعلیق میں کمال حاصل تھا۔ ان کے ہاتھ کے قلمی نسخے اب بھی کوٹ وارث میں ہیں آپ اپنے نام کے ساتھ قادری لکھتے تھے۔ خط نسخ کی مصری طرز(خضری) کے بہترین خطاط تھے آپ نے زندگی کے آخری حصہ میں جو قرآن پاک کتابت کیا اس کے آخر میں آپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ترقیمہ کچھ یوں ہے۔ (10جمادی الثانی 1267ھ/1850ء) اس قرآن کریم کے آخری صفحہ کی پشت پر آپ کے منجھلے بیٹے میاں عطاء محمد کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تاریخ سے آپ کی وفات کا پتہ ملتا ہے جو 27 محرم 1267ھ/1850ء نظر آتی ہے۔ اس نسخہ قرآن کریم کی کتابت کے سلسلہ میں کچھ معلومات یوں درج ہیں۔ "بتاریخ دہم ماہ مبارک جمادی الثانی سنہ یک ہزار دو ڈ شست و ہفت ہجری مقدس با تمام رسانید و بعد ازیں پس از امضائے مدت چند بتاریخ بیست و ہفتم شہر المکزم محرم الحرام خود نیز ازیں عالم ست بنیاد رحلت فرمودہ روانہ جہان جاودانی گردیدند۔"
"اس مہیںے کی دسویں مبارک تاریخ 1667ء کو مکمل ہوا اس کے بعد کچھ مدت گزرنے پر 27 محرم الحرام خود بھی عالم فانی سے کوچ کر کے عالم جاودانی سے پیوستہ ہوئے۔"
آپ کی طرز تحریر کے نمونے مرقع خطاطی مرتبہ عنایت اللہ وارثی میں دئیے گئے ہیں۔ (94)
غلام محمد اچھروی
معروف صحافی جناب رفیق ڈوگر کے پاس راقم نے جہی کتابت کا قرآن کریم دیکھا جس کی کتابت غلام محمد اچھروی لاہوری نے کی ہے۔
مولانا غلام محمد لاہوری
آپ کے والد کا نام مولانا محمد صدیق لاہوری تھا موصوف کے آباؤ اجداد محمد اکبر ثانی کے عہد میں مسجد وزیر خان کے خطیب تھے۔ احمد شاہ ابدالی آپ کے علم و فضل کا معترف تھا۔ (95) آپ سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ انہیں قدر و منزلت سے دیکھتا تھا یہی وجہ تھی کہ مسجد وزیر خاں سکھا گردی سے محفوظ رہی آپ نے قرآنی کتابت کو وسیلہ روزگار بنایا آپ شاعر بھی تھے۔ تصوف کے علم پر ایک منظوم کتاب" گنج مخفی" لکھی۔ پنجابی میں بھی طبع آزمائی کی آپ 25 ذوالحج 1242ھ/1826کو لاہور میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ (96) آپ کا مزار مسجد وزیر خان کے پاس ہے۔(97)
حافظ غلام علی لاہوری
موصوف کا قرآن مجید نمبری 1980۔1/730مکتوبہ بارہویں صدی ہجری اٹھارویں صدی عیسوی نیشنل میوزیم کے ذخیرہ محظوطات میں موجود ہے جو بڑی تقطیع پر جلی قلم سے لکھا گیا ہے۔(98) کتابت کا نداز خالصتاً لاہوری ہے۔ جو بغیر نقاشی کے سادہ ہے۔
مفتی غلام محمد لاہوری
موصوف مفتی غلام سرور لاہوری مولف "خزینہ الاصفیاء" کے والد ماجد ہیں اور شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کی اولاد سے تھے۔ آپ جامع علوم و فنون و تدریس و طباعت میں سر گرم رہتے اور رزق حلال کا ذریعہ قرآن کتابت کو بنایا موصوف نے 9 ربیع الثانی 1276ھ/1859ء لاہور میں انتقال فرمایا۔ (99) آپ مسجد بلو چاں موضع مزنگ کے خطیب تھے۔ (100) اسی موضع میں حویی تیار کی (101) اشراق کی نماز کے بعد مریض دیکھتے اور پھر کتابت قرآن میں مصروف ہو جاتے مفتی غلام سرور نے "گنج تاریخ" میں ان کی وفات کے متعلق یہ قطعہ لکھا۔
مفتی دین غلام محمد چو از جہان پدر و دگشت و یافت بملک جناں وصال گو مظہر سلام بتاریخ رحتلش جان جہاں غلام محمد جواں وصال
مولوی غلام محی الدین انصاری
موصوف نومبر 1277ھ/1860ء میں پیدا ہوئے شمس الاطباء حکیم غلام جیلانی کے برادر بزرگ تھے۔ عربی، فارسی طب کی تعلیم اپنے والد چوہدری سلطان محمود انصاری سے حاصل کی فن کتابت میں منشی ممتاز علی نزہت رقم دہلوی کے تلمیذ تھے۔ اور خود کو زینت رقم (102) لکھتے تھے۔ حکیم صاحب ایک عرصہ تک گوالیار اور بمبئی میں بھی رہے "انڈیا یا گزٹ بمبئی" کے نام سے ایک ہفت روزہ بھی نکالا 1320ھ/1902ء میں دوستوں سے بغرض ملاقات لاہور آئے۔ اور پھر لاہور ہی کے ہر کر رہ گئے۔ موصوف نے "ارمغان قادری" ایک کتاب لکھی اور ایک حمائل شریف اپنے ہاتھ سے لکھ کر شائع کی جس کی خوبی یہ تھی کہ اگر ایک صفحہ کی پہلی سطر الف سے شروع ہوتی تو اس صفحہ کی آخری سطر کا ابتدائی حرف بھی الف ہے اسی طرح اوپر کی سطر کے مقابلے میں نیچے سے اوپر کی دوسری سطر ایک ہی لفظ یا حرف سے شروع ہوتی ہے اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ صفحہ اول کی درمیانی سطر جس حرف سے شروع ہو گی اس کے مقابل دوسرے صفحہ کی اس کے عین سامنے سطر بی اس حرف سے شروع ہو گی آپ11ذی الھجہ بروز اتوار 1337ھ/1918ء کو رحلت کر گئے آ پ کی قبر حضرت طاہر بندگی کے جوار میں جانب مشرق ہے لوح مزار پر "رفت در جنت" مادہ سال وفات (1337ھ) کندہ ہے ان کے ساتھ ہی ان کے بھائی حکیم غلام جیلانی مدفون ہیں جن کی قبر پر کوئی کتبہ نہیں آپ کی قبر کا کتبہ معروف خطاط عبدالمجید پروین رقم کے قلم کا اعجاز ہے۔
غلام یٰسین لاہوری
تیرہویں صدی ہجری/انیسویں صدی عیسوی کے خطاط تھے۔ مولوی نور احمد چشتی مصنف "تحقیقات چشتی" اور معروف خطاط سید نفیس رقم نے لکھا ہے کہ درگاہ قطب الاقطاب علی ہجویری قدس سرہ میں ایک قرآن کریم غلام یٰسین لاہوری نے لکھ کر نذر کیا۔(103)
فاطمہ الکبریٰ
منشی محمد الدین کی صاحبزادی اور معروف خطاط یوسف دہلوی کی ہمشیرہ اور نسخ کی باکمال خطاطہ تھیں(ع۔18) اپنے ننھیال سمبڑیال ضلع سیالکوٹ میں 1301ھ/1883ء میں پیدا ء ہوئیں۔ انہوں نے اپنے والد ماجد سے اکتساب فیض کیا ان کی شادی متیرانوالی ضلع سیالکوٹ کے سردار محمد سعید سے ہوئی جن کی وفات 1352ھ/1933ء کے بعد فاطمہ الکبریٰ اپنے والد کے پاس دہلی چلی گئیں ان کی کتابت شدہ تین حمائلیں چھپ چکی ہیں ان میں سے ایک "فتح الحمید" کے نام سے مشہور ہے دوسری ان کے کسی عزیز نے چھپوائی اور تیسری انہوں نے خود طبع کرائی تھی علاوہ ازیں اپ نے متعدد پنج سورے اور وہ سورے بھی رقم کئے ایک پنج سورہ پیش کرنے پر انہیں بیگم بھوپال کی جڑاؤ پہنچیاں پیش کی گئیں اور پنج سورہ نظام دکن میر عثمان علی خان کے لیے لکھا جس پر انہیں تا حیات وظیفہ دیا گیا مرحومہ نے آخری قرآن جلی حروف میں معرا لکھا اور اردو اکیڈمی سندھ نے اپنے طبع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1367ھ/1947ء میں تقسیم کے بعد لاہور آ گئی تھیں لاہور میں دو سالہ قیام کے بعد ناظم آباد کراچی چلی گئیں اور وہیں 84سال کی عمر میں 19دسمبر 1967ء مطابق 16 رمضان المبارک 1387ھ کو وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔
مولوی فضل الدین صحاف
آپ کے والد میاں محمد بخش صحاف تھا ان کا شمار لاہور کے ممتاز خط نسخ و نستعلیق کے ماہرین میں ہوتا ہے ان کے ہاتھ کی قلمی حمائل شریف لندن میں طبع ہوئی۔ (104) ان کی مکتوبہ نستعلیق کی ایک وصلی لاہور عجائب گیلری کی مخطوطات گھر کی زینت ہے۔ موصوف علامہ علاو الدین صدیقی کے دادا تھے۔ اور چوہنہ مفتی باقر میں رہائش پذیر تھے۔ مطبع صحافی کے نام سے لاہور ہی میں ان کا اپنا ایک پریس تھا تعلیم خطاطی پر آپ نے ایک کتابچہ بھی شائع کیا آپ کا انتقال 1318ھ/1900ء میں لاہور میں ہوا۔
حافظ فضل الٰہی
میاں عطا محمد کے چھوٹے بھائی میاں غلام قادر کے بیٹے الحاج حافظ الٰہی المتوفی 1325ھ/1907ء خط نسخ کے بہترین خوشنویس تھے ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کریم کے نسخے موجود ہیں۔ ہندوستان میں سب سے پہلا قرآن کریم جو طبع ہوا اس کی کتابت کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے طرز تحریر کے کے نمونے کا عکس مرقع خطاطی مرتبہ عنایت اللہ وارثی میں دیا گیا ہے۔(105)
سید فضل شاہ
موصوف اوجلہ خورد ضلع گوجرانوالہ ڈاک خانہ کوٹ عنایت خان کے رہنے والے تھے۔ جن کا لکھا ہوا کلام مجید ، نومبر 1943ء میں گیلانی الیکٹرک پریس ہسپتال روڈ نے چھاپا۔ یہ نسخہ علامہ اقبال کے زیر مطالعہ رہا۔ آج کل میوزیم میں علامہ اقبال کی زیر مطالعہ کتب کے ذخیرہ میں موجود ہے۔(106)
لطف اللہ مہندس
لطف اللہ مہندس استاد احمد معمار کا دوسرا نامور فرزند جو مختلف علوم کے ساتھ فن معماری میں بھی بڑی دستگاہ رکھتا تھا۔ استاد احمد معمار کا شجرہ کچھ یوں ہے۔(108) (ع۔33)
احمد معمار
عطا اللہ رشدی لطف اللہ مہندس معمار نور اللہ معار
امام الدین راضی ابوالخیر عرف خیر اللہ خان
امیر الدین علی مرزا محمد علی خطاط
سعادت اللہ زین العابدین عرف مکھو
محمد امان نثا
قرآن مجید بخط لطف اللہ مہندس کی بابت معلومات مہیا کرتے ہوئے صادق لعی دلاہوری رقم طراز ہیں۔
"مہندس نے قرآن مجید کی کتابت بڑے اچھے خط میں کی ہے اور اختلافات قرات حاشیے پر دئیے ہیں جبکہ نفیس ریشمی کاغذ کتابت کے لیے استعمال کیا ہے۔ (109)اوراق 397سطور 11فی صفحہ تقطیع 7x10 انچ سورتوں کی تمام سرخیاں مدآت متن اور بعض علامات اوقاف شنگرف سے لکھے گئے ہیں اور اسمائے سورہ کے اردگرد اور بعض علامات اوقاف پر سنہری کام ہوا ہے علامات رکوع اور اختلافات قرت بھی شنگرفی ہیں اور ان کی حرکات نیلگوں ہے جبکہ سپاروں کے اعداد پر آرائش کا کام پرانی طرز کا ہے۔ متن قرآنی 390پر ختم ہوا ہے 391(الف) سے 394(ب) تک دعائے ختم القرآن ہے 395(الف) پر علامات القرآن ور واتہیم درج ہیں۔ 395۔(ب) تا 396(الف) پر فہرست بعنوان۔ "کتبت ہذا المعروفتہ مواضع السور" اس فہرست کے آخر میں ہے کاتب لطف اللہ بن احمد معمار لاہوری مگر سوائے لاہوری کے باقی الفاظ اگرچہ مرمت کے کاغذ کے نیچے آ گئے ہیں پھر بھی پشت کاغذ پر روشنی ڈالنے سے پڑھے جاتے ہیں 396(ب) اور 397۔ (الف) پر سپاروں کی فہرست مع اعداد درج ہے اس فہرست کا عنوان ہے۔ "کتبت بذ ا المعرفتہ مواضع اجزائ القرآن العظیم والفرقان الکریم" کا تب نے آخری دو صفحوں پر اپنا اور انے باپ کا نام دوبارہ دیا ہے۔
دانا العبد لطف اللہ المتخلص المھندس ابن الاستاد احمد المعمار لاہوری۔
یہ نہ صرف خود خطاط تھا بلکہ "آثار الصنادید" کی روایت کی مطابق اس کا بھائی نور اللہ معار ابن احمد بھی ایک با کمال خطاط تھا۔ (110)جس کا لکھا ہوا دستخط شدہ کتبہ جامع مسجد دہلی میں موجود ہے۔ اس خاندان کے شاگردوں کا سلسلہ لاہور میں کافی دیر تک موجود رہا۔ (111)
قاضی محمد امام الدین
موصوف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ کے رہائشی اور قاضی نور محمد کے بیٹے اور عمدہ خطاط تھے تمام عمر قرآن کی کتابت کی۔ جنڈیالہ باغ والا متصل گوجرانوالہ میں وفات پائی ان کے خاندان میں خطاطی وراثت کے طور پرچلی۔
قاضی میراں بخش
قاضی محمد امام الدین کے بھائی قاضی میراں بخش بھی کاتب قرآن تھے قاضی میراں بخش کے پوتے حکیم محمد شفیع موجود ہیں اور کتابت کرتے ہیں ـ(112)
سید محمد اشرف علی سید القلم
آ کے والد کا نام سید بدھن شاہ ہے معروف خطاط سید انور حسین نفیس رقم کے والد محترم تھے۔ 1325/1907ء میں موضع گھوڑیالہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے انے تایا زاد بھائیوں حکیم سید محمد عالم، حکیم سید نیک عالم سے اکتساب فن کیا آپ نسخ اور نستعلیق میں مہارت رکھتے تھے آپ کا خط لاہوری، دہلوی اور لکھنوی طرزوں کا حسین امتزاج ہے موصوف نے 1341ھ/1922ء میں کتابت کا آغاز کیا۔ ابتداء میں زیادہ تر نستعلیق لکھتے رہے۔ موصوف نے متعدد قرآن کریم کتابت کئے۔ 1994ء میں لاہور میں وفات پائی۔ (113) (ع۔19)
مولوی محمد اشرف
گوجرانوالہ کے مولوی محمد اشرف(ڈاکٹر وحید قریشی کے دادا) نے مصحف تیار کیا جو کافی عرصہ تک مولوی غلام جیلانی برادرز ادہ مولوی محبوب عالم کے پاس رہا۔
حافظ محمد اعظم
حافظ محمد اعظم مو لا بخش کے فرزند تھے۔ (114) آ 1328ھ/1910ء میں موضع راہو کھیڑی تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور(بھارت) میں پیدا ہوئے اور 1351ھ/1932ء میں لاہور آ کر کوٹ عبداللہ شاہ مزنگ میں مقیم ہوئے اور یہیں 1406ھ/1985ء میں 75سال کی عمر میں وفات پائی آپ خطاطی میں لاہور کے معروف خطاط اور موجودہ طرز جدید کے بانی عبدالمجید پرویں رقم کے شاگرد رشید تھے۔ (115) نسخ اور نستعلیق نہایت عمدہ لکھتے تھے۔ روزنامہ "انقلاب" کے ہیڈ کاتب رہے۔ ایوب خان کے دور میں سونے کی تارں سے مزین قرآن کریم کی کتابت کے سلسلہ میں مرکزی تزئین قرآن کمپنی نے زردوزی کے لیے کتابت کے نمونے نسب کئے (116) جن فن کاروں نے نمونے بھیجے ان میں معروف خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی کا نمونہ بھی تھا چند نمونے محمد صدیق الماس رقم نے پیش کئے نمونوں کے انتخاب میں زردوزی کی آسائش پہلی شرط تھی اس شرط پر جو نمونہ پورا اترا وہ محمد صدیق الماس رقم کا پیش کردہ تھا۔ جو انہوں نے حافظ محمد اعظم سے لیا ہوا تھا اس طرح اس قرآن کریم کی کتابت کا اعزاز حافظ محمد اعظم کو حاصل ہوا۔(ع۔20)
محمد بن ادریس بن العقاب البصری
بغداد میں پیدا ہوا ماہر خطاط ہونے کے ساتھ ساتھ سنگ تراش بھی تھا۔ ابن ادریس ابن مقلہ کے جانشین ابن البواب کے زمانہ میں بغداد میں موجود تھا اس نے ابن البواب سے کسب فیض کیا نسخ اور ثلث کا ماہر تھا۔ فقہ اور حدیث کا عالم بھی تھا مگر وجہ شہرت قرآنی خطاطی تھی اس نے قرآن کریم کتابت کر کے خلیفہ طالع باللہ کو پیش کیا۔ یہ قرآن کریم پتلی خوبصورت جھلی پر سنہری حاشیوں میں سیاہ روشنائی سے لکھا تھا عنوان سورہ ثلث اور عبارت نسخ میں تھی جب کہ ہر آیت کا پہلا حرف خفی رقاع میں تھا ابن ادریس لاہور میں مقیم رہا اور دہلی تک غزنوی لشکر کے ہمر کا ب تھا۔(117)
حافظ محمد حسین کر دی
ان کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری /سترہویں صدی عیسوی کا ہے۔ موصوف نے تیس اوراق پر مشتمل ایک نسخہ قرآن اس طرح سے کتابت کیا کہ ہر صفحہ کی پہلی سطر کے علاوہ باقی تمام سطور حرف "الف" سے شروع ہوتی ہیں اسی طرح انہوں نے قرآن مجید کا ایک اور نسخہ لکھا یہ بھی تیس اوراق پر مشتمل تھا اس میں صفحہ کی پہلی سطر کے علاوہ ساری سطور حرف"و" سے شروع ہوتی تھیں۔ محمد طاہر بن عبدلقادر کر دی نے اپنی تالف"الخط العربی" میں مذکورہ دونوں نسخوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کے زمانے سے 40،50سال قبل تک یہ دونوں نسخے مدینہ منورہ میں موجود تھے۔(118)
مولوی محمد حسین عادلی
موصوف کے والد کا نام مولوی نیاز احمد سے مولوی عبدالرشید کے چھوٹے بھائی تھے ان کا قلمی نام مبارک رقم تھا۔1310ھ/1893ء میں پیدا ہوئے اور عمر کا زیادہ حصہ قرآنی کتابت میں گزارا نسخ نستعلیق اور ثلث کے ماہر تھے۔(ع۔21)
طٖر انویسی قطعات اور نقاشی میں بے مثال تھے۔ ان کی رہائش لاہور کے محلہ وسن پورہ میں تھی۔ 8مئی 1964۔ کو اپنے مکان دارالامان میں وفات پائی اور جسم خاکی عادل گڑھ لے جا کر دفن کیا گیا۔
حافظ محمد حسین لاہوری
حافظ محمد حسین کے بیٹے حافظ روح اللہ کی مکتوبہ حمائل کے ترقیمہ سے معلومات بہم پہنچتی ہے کہ حافظ محمد حسین لاہوری اکبری دور میں کاتب قرآن تھے ۔(119) محمد حسین 1272ھ میں عبداللہ لاہوری کے بھائی محمد حسین بھی اچھے نساخ تھے۔ اور کاتب قرآن تھے۔(ع۔34)
مفتی محمد حیات اللہ قصوری
موصوف کے والد کا نام محمد فاضل تھا جو نسخ کے باکمال خطاط اور عالم دین تھے موصوف کا مکتوبہ قلمی قرآن کریم ان کے خاندان میں موجود ہے اکثر صفحات طلائی اور منتش ہیں آپ کی سکونت پکا قلعہ قصور رہی، 1198ھ/1783ء میں وفات پائی اور قصور ہی میں مدفون ہیں۔(120)
محمد دین جنڈیالوی
جندیالہ جی ٹی روڈ پر گکھ منڈی سے وہ میل شمال کی طرف ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں محمد الدین پیدا ہوئے دانہ کا نام نظام الدین تھا اسی گاؤں میں محمد الدین کے بیٹے محمد یوسف پیدا ہوئے باپ بیٹا جب دہلی پہنچے تو دبستان دہلی کے بانی کہلائے۔ موصوف نے خط نسخ اور نستعلیق میں الفی قرآن کریم لکھا جس کی ہر سطر الف سے شروع ہوتی ہے یہ قرآن 184صفحات پر مشتمل ہے جسے مطبع دہلی نے شائع کیا۔ (ع۔22) خط نسخ میں ان کا لکھا ہوا ایک اور قرآن مجید امر تسر سے شائع ہوا جس کی ہر سطر "ک" پر ختم ہوتی ہے۔ موصوف کی بیٹی نامور خطاطہ قرآن تھیں اور بیٹے محمد یوسف دہلوی سینٹ پیٹرز کالج دہلی کے گریجویٹ تھے اور 13زبانوں کے ماہر تھے۔ جن کی خطاطی کے نمونے دہلی کی عمارات پر موجود ہیں۔ موصوف نے متعدد قرآن مجید کتابت کئے 1932ء میں جب غلاف کعبہ پہلی مرتبہ برصغیر میں تیار ہوا تو اس کی خطاطی کی سعادت محمد الدین کو حاصل ہوئی مرحوم نے زندگی کا بیشتر حصہ لاہور اور دہلی میں گزارا۔ 1943ء میں دہلی میں وفات پائی۔ وہیں مدفون ہوئے موصوف کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک کتبہ ملتان میں موجود ہے جو عید گاہ ملتان کی مرمت کے بارے ہے۔ (121) ان کے تلامذہ کی تعداد کثیر ہے۔
محمد روح اللہ لاہوری
محمد روح اللہ لاہوری حافظ محمد حسین کے صاحبزادے تھے اُنہوں نے 1109ھ/1697ء میں قرآن کریم کا ایک نسخہ پچاس دن میں تحریر کیا۔(122) یہ نسخہ مثمن شکل میں 305صفحات پر مشتمل تھا اسی طرح انہوں نے تیس اوراق پر ایک قرآن کریم کا نسخہ تحریر کیا جو مذکورہ بالا طرز تحریر میں تھا۔ بقول مولف "تاریخ الخط العربی و آدابہ" یہ نسخہ دارالکتب العربیہ القاہرہ مصر میں موجود ہے۔(123) ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا دوسرا نسخہ لاہور عجائب گھر کے ذخیرہ مخطوطات میں نمبر ایم ایس /929 کے تحت ہے جو انہوں نے 1124ھ/1712ء میں کتابت کیا۔ (124)(ع۔23)
محمد شریف لدھیانوی
موصوف سلطان القلم محمد قاسم لدھیانوی کے صاحبزادے تھے اور دسمبر1912ء میں لاہور آئے اور رام گلی نمبر11نشتر روڈ لاہور رہائش پذیر ہوئے۔ ابتدائی دنوں میں نستعلیق کی طرف رجحان تھا 1945ء کے بعد کلام اللہ کی کتابت شروع کی آپ نے 12قرآن کریم یادگار چھوڑے(ع۔24) لاہور کے معروف خطاط جناب حافظ محمد یوسف سدیدی نے بھی کچھ عرصہ آپ سے استفادہ کیا۔
حافظ محمد شریف ولد شیخ عبداللہ
راقم نے خط نسخ میں مجلد قرآن کریم مشہور پامسٹ مطیع الرحمان سابق مینجر سٹیٹ لائف کے پاس دیکھا۔ (125) اس قرآن کریم کے بارے میں جتنی معلومات نوٹ کر سکا وہ درج ذیل ہیں۔ اس قرآن کریم کی 18سطور فی صفحہ متن کالی روشنائی سے بخط نسخ ہے جبکہ آیات کی تقسیم کے لیے گول دائرے بعد کا اضافہ ہیں۔ سائز مخطوطہ 17x26cm جب کہ تقطیع 10.5x9.15cm ہے کاتب کا نام اور اس کے متعلق کافی معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ دہلی میں یہ قرآن کریم حافط محمد شریف ولد شیخ عبداللہ متوطن دارالسلطنت لاہور کے بارے معلومات مندرجہ ذیل ترقیمے سے ملتی ہیں۔
"الحمد اللہ الذی بعزیہ تم الصالحت والصلوۃ والسلام علی سید نا محمد الہ واصحابہ اجمعین اما بعد فقد من اللہ تعالیٰ با تمام ہٰذا المصحف الشریفہ علے رسم العثمانیہ کتبہ حافط محمد شریف ولد شیخ عبداللہ متوطن دارالسلطنت لاہور و نوشتہ شدہ دارالخلافہ شاہ جہاں آباد درگز رنخاس اسپاء محلہ مقیم پورہ تحریر فی التاریخ 11ربیع الاول سنہ 7جلوس مبارک فرخ سیر بادشاہ غازی مطابق 1131ھ ترجمہ کلام اللہ مذکور 1163ھ در عہد محمد شاہ غازی نوشتہ شد"
آغاز فصل (درموز قرت سبعہ اختتام واجب است در سورہ اعراف و مریم) اور قران کریم کے متعلق دیگر معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ اس نسخے پر 1250ھ/1834ء کے نوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قران کریم کسی محمد غلام علی خاں کی تحویل میں بھی رہا۔ یہ قران کریم فرخ سیر کے عہد میں 1131ھ/1718ء میں لکھا گیا جبکہ اس کا ترجمہ محمد شاہ کے عہد میں 1163ھ/1749ء میں مکمل ہوا۔
محمد شفیع لودھیانوی
آپ مولانا محمد قاسم لدھیانوی کے بڑے صاحبزادے تھے 1623ھ/1905ء میں دریا گنج دہلی میں پیدا ہوئے۔(126) موصوف نے اپنے والد سے خطاطی کے علاوہ صنعت روشنائی، بلاک سازی اور طباعت کا کام بھی سیکھا آپ کے خط میں آپ کے والد کے خط کا مکمل عکس تھا۔ (ع۔25) موصوف نے اپنے والد کا چھوڑا ہوا نا مکمل قرآن پاک مکمل کیا قیام پاکستان کے بعد لدھیانہ سے لاہور آ گئے اور افواج پاکستان کے لیے بیجز کا کام کرتے رہے نومبر 1372ھ/1952ء میں لاہور میں وفات پائی۔ اور میانی صاحب لاہور میں دفن ہوئے۔
حافظ محمد طاہر
موصوف لاہور کے حافظ محمد یوسف کے بیٹےتھے آپ کی مکتوبہ حمائل شریف لاہور عجائب گھر کے ذخیرہ مخطوطات کے قرآن سیکشن کے ایم ایس ایس 928نمبر کے تحت موجود ہے جو اٹھارویں صدی عیسوی/بارہویں صدی ہجری کی کتابت ہے۔ (127) (ع۔26)
محمد مظہر قیوم بھٹہ
موصوف 15ستمبر 1952ء کو بمقام ڈھل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔1973ء میں لاہور آئے (128) آپ کے والد کا نام محمد شریف ہے۔ موصوف روزنامہ "کوہستان" صداقت" اور "آزاد" میں کام کرتے رہے۔ خطاطی میں محمد ادریس کیلانی کے تلامذہ میں سے ہیں آج تک موصوف نے دس قرآن کریم کتابت کئے آپ کی رہائش چوک سوئی گیس محلہ اسلام نگر غربی شاہدرہ ہے ان کے کاندان میں ان کے چچا شہباز، ماموں زاد محمد شفیع انور، مشتاق احمد بھٹہ، محمد اقبال بھٹہ، محمد یوسف بھٹہ، محمد نعیم، احمد علی بھٹہ، فیض رسول بھٹہ، سلطان احمد بھٹہ، زاہد حسین بھٹہ، عبدالرحمٰن بھٹہ، عبدالرؤف بھٹہ، ارشد حسین ، منور حسین، علی محمد بھٹہ لاہور کے مختلف اخبارات ، اشاعتی اداروں اور دیگر دفاتر میں کام کر رہے ہیں۔
محمد عباس شہباز رقم
آپ مولوی عبدالمجید کے بیٹے تھے 1930ء میں عادل گڑھ پیدا ہوئے 1987ء میں 57سال کی عمر میں وفات پائی سیٹھ آدم جی اور درسی ادارہ گجرات کا کام کرتے رہے۔ 1969ء تک لاہور قیام رہا پھر واپس (الہ آباد) وزیر آباد چلے گئے درسی ٹیسٹ پیپرز زیادہ تر ان ہی کے کتابت شدہ ہیں۔ موصوف نے متعدد قرآن کریم کتابت کئے۔(ع۔27)
مولانا محمد عبداللہ وارثی
مولانا حافظ فضل الٰہی کے دوسرے بیٹے مولانا عبداللہ وارثی کو طرز نسخ میں کمال حاصل تھا خضری ثلث، ولائتی باریک، جلی طغریٰ قطعات کے ماہر تھے۔ موصوف دہلی اور بمبئی کے کتاب خانوں کا کام کرتے رہے منشی محمد قاسم لدھیانوی کے ہم عصر تھے۔ مولوی محمد عبداللہ وارثی قدیم مصری طرز کے علاوہ دہلوی ولائتی چلث وغیرہ کو اپنی جودت طبع کے زور پر درجہ کمال کو پہنچایا قرآن کریم کے بے شمار جلی اور خفی نسخے ان کے ہاتھ سے نکلے (ع۔28) یہاں تک کہ 20x30 سائز کے ایک تختے پر سارا قرآن کریم کتابت کیا جو"پیسہ اخبار" لاہور کے ادارے نے طبع کیا۔ عبداللہ وارثی نے گوجرانوالہ کے مشہور خطاط مولوی سراج الدین سے بھی اسلاحیں لیں یہ زمانہ امام ویردی کی وفات (1299ھ/1881ء) کے قریب تر ہے لیکن خط نستعلیق کی مشق مشہور خوش نویس مولوی سید احمد ایمن آبادی کے پاس لاہور رہ کر کی۔(129) "قطعات العربیہ" کے نام سے عربی مشقیں اور نستعلیق کی مشقیں 1924ء میں طبع ہوئیں۔ آ پ کے تلامذہ میں آ کے فرزند مولوی محمد عنایت اللہ کے علاوہ مولوی عبدالرشید محبوب رقم عادلی، پیر عبدالحمید، منشی عبدالقدوس مشہور ہیں(130)
محمد عبدالغفور
گکھڑ منڈی کے رہنے والے ہیں۔ ان کے علاوہ بوتالہ شیر سنگھ گوجرانوالہ کے صوفی محمود الحسن کاتب اور نوید اجمل نے بھی متعدد پنج سورے اور قرآن کریم کتابت کئے۔
محمد علی زاہد
محمد علی زاہد کے والد کا نام احمد علی ہے موصوف 23فروری 1966ء کو فیصل آباد پیدا ہوئے خطاطی حافظ یوسف سدیدی کے شاگرد خالد جاوید یوسفی سے سیکھی 1993ء میں ریسرچ سنٹر فار اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر استنبول ترکی کے بین الاسلامی مقابلہ خطاطی میں خط ثلث میں تیسری پوزیشن 1996ء میں نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کے قومی مقابلہ خطاطی میں اول انعام گولڈ میڈل 1995ء میں سید بابر علی فاؤنڈیشن لاہور کے مقابلہ حسن خطاطی بخط نسخ و نستعلیق میں ہر دو خطوط میں اول انعام حاصل کئے 1996ء ذاتی فن پاروں کی نمائش بمقام شاکر علی میوزیم لاہور ہوئی 1998ء نیشنل کونسل آف دی آرٹس اسلام آباد میں مقابلہ خطاطی میں خصوصی اعزاز ملا قرآن کریم کی مکمل کتابت کی جو قدرت اللہ کمپنی اردو بازار کے زیر اہتمام چھپ چکا ہے۔(ع۔29)
سردار محمد عمر کابلی
موصوف کے والد کا نام سردار محمد کلدن خان تھا آپ کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد بعبد محمود شاہ سردار قندھار و ھاکم سندھ و شکار پور تھے۔ والد کے ہمراہ انہوں نے قندھار، سندھ، بلوچستان، شکار پور، پشاور کشمیر اور لاہور کی سیاحت کے دوران سفر اور علوم عربی اور تعلیم خطاطی سے بھی بہرہ ور ہوئے وہ پشتو اور فارسی کے شاعر بھی تھے۔ ایک قلمی قرآن پاک انہوں نے یادگار چھوڑا اور 1293ھ/1876ء وفات پائی۔(132)
محمد غوث
بھارت کے مغربی ضلع گجرات کے شہر ڑودہ میں سلطان مظفر شاہ کی تعمیر کردہ چار سو سالہ پرانی جامی مسجد میں دنیا کا منفرد قران پاک کا نسخہ موجود ہے۔ اس قرآن کریم کا سائز 6فٹ 3انچ اور چوڑائی 3فٹ 6 انچ ہے صفحہ 11سطور پر مشتمل ہے اور وزن 100کلو گرام ہے مجموعی طور پر قرآن کریم بارہ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ایک سپارہ اٹھانے کے لیے 4 افراد کی ضرورت ہوتی ہے اس کو پڑھنے کے لیے دو اشخاص ورق الٹے ہیں اور ایک شخص تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کے اس دو سو سالہ پرانے نسخے کو خطاط محمد غوث نے کتابت کیا جو بچپن میں پنجاب سےیہاں آئے تھے۔(133)انہوں نے 15سال کی عمر میں یہ قرآن کریم تحریر کرنا شروع کیا اور اسے مکمل کرنے میں 45سال لگے۔
سلطان القلم مولوی محمد قاسم لدھیانوی
موصوف کے والد کا نام مولوی الہ دین تھا آپ نے محلہ واعظ گنج لدھیانہ میں ولادت پائی خط نسخ کی تعلیم سید امیر الدین دہلوی اور مولوی ممتاز علی نزہت رقم سے حاصل کی۔ خط نستعلیق میں مولوی سید احمد ایمن آبادی اور منشی شمس الدین اعجاز رقم سے بھی استفادہ کیا 1907ء میں آپ نے ایک مفت رنگ قرآن کریم اپنے مطبع قاسمی سے طبع کیا جس کا انتساب آپ نے خاب حبیب اللہ خان والئی افغانستان کے نام کیا یہ نسخہ قرآنی خطاطی کا بہترین نمونہ ہے انہوں نے اپنی زندگی میں کثیر تعداد میں قرآن کریم کتابت کئے متاخر دور میں آپ انجمن حمایت اسلام کی دعوت پر لاہور تشریف لائے لدھیانہ کے علاوہ ایک عرصہ تک دہلی میں بھی مقیم رہے لاہور میں گلی نقشبندیاں نشتر روڈ میں قیام رہا۔ جہاں پر انہوں نے انجمن حمایت اسلام کے لئے قرآن کریم لکھا۔ (ع۔30) ڈاکٹر عبداللہ چغتائی لاہور کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔
"انگریز کے زمانہ میں یہاں اور بھی اعلیٰ درجے کے کاتب قرآن تھے ان میں خاص کر کات محمد قسم لدھیانوی کا ذکر ضروری ہے ۔ جنہوں نے ہمیشہ قرآن لکھا اور امیر ھبیب الرحمٰن کو پیش کیا۔(134)
قیام لاہور میں مولانا کی صحت مخدوش ہو گئی اور کتابت مسلسل جاری نہ رہ سکی اور اس طرح طویل علالت کے بعد 13محرم الحرام 1351ھ/1932ء کو بروزجمعہ ستر برس کی عمر میں وفات پائی آپ کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے منشی محمد شفیع نے ان کے شروع کئے ہوئے کلام مجید کو مکمل کیا۔ آپ نے ایک اور بھی قران کریم ادھورا چھوڑا یہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیو بندی کی تفسیر تھی جس کے 25پاروں کی کتابت کی جبکہ بقیہ پانچ پاروں کی تکمیل ان کے بیٹے منشی محمد شفیع نے کی آپ کے چھوٹے بیٹے محمد اشرف بھی کاتب قرآن تھے۔
میر صالح
راقم الحروف نے اس خطاط کے قلم سے دایہ انگہ کے مزار(گلابی باغ) میں سورۃ فتح چاروں اطراف لکھی دیکھی ہے۔ اس خطاط کا مکتوبہ قرآن کریم دارالاحسان ضلع فیصل آباد میں 465نمبر کے تحت موجود ہے۔(134) یہ خطاط میر عبداللہ مشکیں قلم کا بیٹا اور عبد شاہ جہاں کا نامور خطاط تھا۔(135)
شیخ میر لاہوری
آ پ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآنی نسخہ نیشنل میوزیم کراچی کے ذخیرہ مخطوطات میں 316۔1958/این ایم نمبر کے تحت موجود ہے جو خاص لاہوری طرز نسخ میں جلی قلم سے 1184ھ/1770ء میں لکھا گیا۔ (136)
مولوی میراں بخش
آپ کا شماراپنے دور کے نامور خوشنویسوں میں ہوتا ہے آپ موضع چک خلیل ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔ موصوف نے تمام زندگی اپنے گاؤں میں گزاری معروف عالم دین اور طبیب تھے آپ کی تاریخ پیدائش 1230ھ/1814ء ہے۔ اپ کے یادگار متعدد قلمی نسخے موجود ہیں ان میں نسخ اور نستعلیق خط زور قلم کا گواہ ہے آپ نے چند کتب بھی تصنیف کیں۔ آپ کے بیٹوں مولوی محمد اسماعیل اور مولوی ابراہیم نے فن کتابت کو اپنایا جو اپنے دور کے ممتاز خوشنویسوں میں شمار ہوتے ہیں۔(137)
مولوی محمد یٰسین قریشی
کوٹلی مچھر انواں ضلع گوجرانوالہ میں 1900میں پیدا ہوئے والد کا نام مولوی محمد دین ہے جو جید عالم اور درویش صفت انسان تھے خط نسخ اور نستعلیق میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے استاد منشی محمد انور لاہوری تھے۔ جب مولوی محمد یٰسین نے فن کتابت میں مہارت حاصل کر لی تو یہ بیسیوں دوسرے خوشنویسوں کے ساتھ ڈیرہ کاتباں لاہور مقیم ہو گئے۔ شروع میں قرآن حکیم کا ایک نسخہ کتابت کیا اور پھر پوری توجہ خط نستعلیق کی طرف مرکوز کردی اور امام ویردی کی طرز اپنائی۔ بعد میں عبدالمجید پروین رقم کو اپنا استاد تسلیم کرتے ہوئے ان کی طرز میں اتنی مہارت حاصل کی کہ بڑے بڑے اشاعتی اداروں نے ان سے رجوع کیا مگر انہوں نے دارالاشاعت لاہور کے کام کو ترجیح دی اور اسی ادارہ کا کام کرتے رہے شمس العلماءمولوی ممتاز علی مرحوم کو ان کا کام اتنا پسند تھا کہ اپنا زیادہ تر کام ہمیشہ انہی سے کروایا کرتے تھے انہوں نے دارا لاشاعت پنجاب کے لیے متعدد چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں اس کے علاوہ اسی ادارہ کے صفت روزہ "پھول" اور ماہنامہ "تہذیب نسواں" کی کتابت کئی برس تک مسلسل کرتے رہے۔
حاجی محمد امیں
مولوی محمد یٰسین قریشی کے براہ رکورد حاجی محمد امیں 1332ھ، 1913ء کا شمار بھی اچھے خوشنویسوں میں ہوتا ہے ان کا تعلق بھی موضع کوٹلی مچھرانواں ضلع گوجرانوالہ سے ہے خط نسخ و نستعلیق میں یکساں مہارت سے لکھتے رہے کتابت میں جدید طرز کو اپنایا۔ روزنامہ "پرتاب" "ویر بھارت" "ماپ" "زمیندار" کے لیے طویل عرصہ کتابت کی۔ انہوں نے متعدد اشاعتی اداروں کے لیے درجنوں چھوٹی بڑی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ موصوف نے متعدد پنج سورے اور کلام مجید کتابت کئے۔
محمد یوسف
آپ کی مکتوبہ حمائل شریف 26/ایم ایس ایس نمبر کے تحت لاہور عجائب گھر کی مخطوطات گیلری کے قرآن سیکشن کی زینت ہے(ع۔31) جس کی تاریخ کتابت 1120ھ/1889ء ہے یہ حمائل شریف رئیس لاہور فقیر سید جمال الدین لاہوری کے لیے لکھی گئی اور انہیں لاہور میں ہی پیش کی گئی۔(138) اس کا سائز 3x4 انچ ہے جبکہ کتابت متن نسخ خفی قلم میں انتہائی چابکدستی سے کی گئی ہے جو موصوف کی قلم پر مضبوط گرفت کی عکاس ہے۔
مولوی نیاز احمد
موصوف مولوی غلام رسول عادل گڑھی کے بیٹے تھے عمدہ نسخ نویس اور کاتب قرآن تھے۔
مولوی نور الٰہی
آپ امام الدین کے بیٹے تھے موصوف نے 15 قرآن کریم کتابت کئے۔
نذیر محمد قریشی
تلونڈی موسیٰ خان ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔ 1075ھ/1664ء میں پیدا ہوئے اور وفات 1147ھ/1734ء میں ہوئی اپنے دور کے معروف خوشنویس تھے قرآن کریم بڑے ذوق و شوق سے لکھتے اس دور میں رہا کرتے تھے کہ میں قرآن کریم کی کتابت خط نستعلیق میں کر سکتا ہوں، مگر رسم الخط بدلنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک قرآن کریم لندن کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ اس قرآن کریم کے آخر میں نذر محمد قریشی تلونڈی موسیٰ خان پنجاب لکھا ہے۔(139)
حکیم سید نیک عالم شاہ
آپ کے والد کا نام سید نواب شاہ تھا جو گھوڑیالہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے 1313ھ/1895ء میں پیدا ہوئے اور اپنے برادر بزرگ حکیم سید محمد عالم م 1342ھ/1943ء سے خطاطی سیکھی۔ عمر بھر آ پ نے 59قرآن کریم کتابت کئے۔(ع۔32) (140) جبکہ ایک حمائل شریف 23دن میں مکمل کی۔ (141) جو 1352ھ/1933ء میں طبع ہوئی۔ موصوف لاہور دہلی اور کانپور کے اشاعتی اداروں کی کتابت کا کام کرتے رہے۔ آخری زمانہ میں محلہ گڑھی شاہو نئی آبادی لاہور میں رہائش اختیار کی اور یہیں 4 ستمبر 1967ء کو وفات پائی۔(142) اور اسی محلہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے آپ کے تلامذہ میں آپ کے چچیرے بھائی سید محمد اشرف علی ہیں جو قرآن پاک کے نابغہ روزگار خطاط اور لاہور کے معروف خطاط سید انور حسین نفیس رقم کے والد محترم ہیں۔