یوسف حسن

یوسف حسن

کس طرح شعلہ بجاں، خاک بسر آیا ہوں

    کس طرح شعلہ بجاں، خاک بسر آیا ہوں تو نے دیکھا ہے تو دنیا کو نظر آیا ہوں تو نے بس نام لیا ہم سفری کا لیکن میں ترے ساتھ زمانوں میں گزر آیا ہوں میرا کھونا بھی یہی سے مرا ہونا بھی یہی زندگی تیرے خدوخال میں بھر آیا ہوں میں نے بہتے ہوئے دریا میں قدم رکھا تھا اور بھڑکتے ہوئے صحرا میں اتر آیا ہوں میں سدا خاک کے پیچاک میں رہنے والا کتنے امکان ترے آئنہ کر آیا ہوں خلل آیا نہ مری شان پذیرائی میں میں تری سمت سدا خون میں تر آیا ہوں کبھی مجھ سے بھی لپٹ کر کوئی پوچھے یوسف کن خرابوں میں بھٹکتا ہوا گھر آیا ہوں