یوسف حسن

یوسف حسن

دالان میں دیکھوں کبھی در میں اسے دیکھوں

    دالان میں دیکھوں کبھی در میں اسے دیکھوں رہ رہ کے میں چھوڑے ہوئے گھر میں اسے دیکھوں اے دل وہ تری موج میں آئے کہ نہ آئے کب سے میں تذبذب کے بھنور میں اسے دیکھوں وہ آئے تو شاید مرا گھر ڈھونڈ نہ پائے میں دیکھوں تو کس راہ گزر میں اسے دیکھوں جو آئنہ خانوں میں دکھائی نہیں دیتا میں اپنے خرابوں کے سفر میں اسے دیکھوں وہ بھی نہ مجھے بیعت بازار میں چاہے میں بھی نہ کبھی سایہ زر میں اسے دیکھوں وہ خاک جو گرویدہ افلاک نہیں ہے ہر آن میں امکان دگر میں اسے دیکھوں چھب اس کی کسی مد میں سماتی نہیں یوسف دل میں اسے دیکھوں کہ میں در میں اسے دیکھوں