یوسف حسن

یوسف حسن

بے نوائی میں بھی آہنگ جہانبانی ہے

    بے نوائی میں بھی آہنگ جہانبانی ہے اے خدا، دیکھ تری خلق نے کیا ٹھانی ہے پرورش جس کی ہوئی اہل جنوں کے خوں سے زندگی اپنی اسی موج کی دیوانی ہے اجنبی لگتی ہے اپنی بشریت بھی ہمیں شہر میں اتنی فرشتوں کی فراوانی ہے سطح دریا یہ سفینے بھی کوئی اور سے ہیں تہہ دریا بھی کوئی اور سی طغیانی ہے اے مری موج نمو، تیری خدا خیر کرے میرے ہمراہ کسی اور کی ویرانی ہے جن کو ہم تیرے خدوخال میں ڈھال آئے ہیں انھی لمحوں کو زمانوں میں پرافشانی ہے آسماں جائے اماں ڈھونڈ رہے ہیں یوسف مشتعل خاک میں کس خواب کی تابانی ہے