دھڑکن دھڑکن دل کی وحشت سامانی سے ڈرتے ہیں
دھڑکن دھڑکن دل کی وحشت سامانی سے ڈرتے ہیں کیسے پہرے دار میں اپنے زندانی سے ڈرتے ہیں خلقت اپنی موج میں آ کر کیا کیا رنگ جگاتی ہے ایک ہمیں اپنے جذبوں کی طغیانی سے ڈرتے میں صحرا میںاک سناٹے سے سہمے سہمے رہتے تھے شہر میں اپنی آوازوں کی ویرانی سے ڈرتے ہیں پہلے تو اک عمر بتائی ہم نے خواب بنانے میں اور اب پل پل تعبیروں کی ارزانی سے ڈرتے ہیں دلدل میں دھنس کر رہ جانا بھی ہے کب منظور مگر لہر میں لہر ہوں کیسے ہم بہتے پانی سے ڈرتے ہیں یوسف روپ بدلتی رو میں اپنا کوئی حال نہیں شب کے شاکی ہیں سورج کی تابانی سے ڈرتے ہیں