اک بے انت سمندر تیری منزل اے دریا
-
اک بے انت سمندر تیری منزل اے دریا لیکن خاک اڑائیں تیرے ساحل اے دریا ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں ہم بھی تیرے کنبے میںہیں شامل اے دریا سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں تیرا میرا ہونا ہے لاحاصل اے دریا تیری لہر میں رہ کر بھی ہم اپنی لہر میں ہیں مٹ جاتے ہیں اپنے آپ سے غافل اے دریا کب خیرات ملے گی تیرے خیر خزانوں سے صحرا صحرا جیون ہے اک سائل اے دریا کتنی عمروں سے میں تیرے ساتھ سفر میں ہوں کھول اپنے اسرار بھی تو اے دل اے دریا