یوسف حسن

یوسف حسن

عشق اپنا سوال ہو رہا ہے

    عشق اپنا سوال ہو رہا ہے تر خوں میں جمال ہو رہا ہے کس سمت نکل گئے بگولے صحرا بے حال ہو رہا ہے کیوں پار پرار جا رہے ہو دریا تو بحال ہو رہا ہے چڑیوں نے جو آشیانے بنائے ہر نخل نہال ہو رہا ہے ہم کات رہے ہیں سوت اپنا ریشم ترا جال ہو رہا ہے