رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا
-
رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا رات انبار اٹھا لائی ہے تاویلوں کا بن گئے پاؤں کی زنجیر پہاڑی رستے چند قدموں کی مسافت تھی سفر میلوں کا اب جو ریگ متلاطم میں گھرے بیٹھے ہیں ہم نے صحراؤں سے پوچھا تھا پتا جھیلوں کا ہاتھ رہ رہ کے دعاؤں کے لیے اٹھتے تھے آسماں پر تھا نشاں تک نہ ابابیلوں کا پی گیا کون چھلکتے ہوئے امکاں یوسف کیوں گھروں پر بھی گماں ہونے لگا ٹیلوں کا