راکب مختار

راکب مختار

عباء قبا کے پس پردہ اچھے کاموں سے

    عباء قبا کے پس پردہ اچھے کاموں سے لرز رہا ہے مرا شہر نیک ناموں سے نشانہ بازی میں شہزادگان کی خاطر ہدف چنے ہیں شہنشاہ نے غلاموں سے پھلوں میں ذائقہ پورا کبھی نہیں ہو گا زمیں نہ پاک ہو جب تک نمک حراموں سے نہ اس کی دن میں جگہ ہے نہ رات میں جو شخص نکل گیا ترے رخ کی سفید شاموں سے میں انتظار کے صحرا میں جل بجھا لیکن اسے ملی نہیں فرصت گھریلو کاموں سے جونہی وہ ہاتھ جھکی شاخ کی طرف لپکا نکل کے آ گئی باہر مٹھاس آموں سے