چھوڑ جائیں گے یہ گھر سارے اگر لگ جائے
چھوڑ جائیں گے یہ گھر سارے اگر لگ جائے چار دیواریِ دنیا میں جو در لگ جائے آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا تیر کیا مارنا اس کو جسے ڈر ’’لگ جائے‘‘ چار دن ساتھ فقیروں کے کہیں چل تو سہی پھر بتانا تجھے گھر اپنا بھی گھر لگ جائے حسن اتنا بھی نہ وافر ہو کہ کوئی لڑکی ماں بنے اور اسے بچوں کی نظر لگ جائے پاؤں جھڑتے ہیں تو جھڑ جائیں مگر ایسا ہو جس جگہ آبلہ پھٹ جائے شجر لگ جائے راستوں کے ادب آداب بجا ہیں لیکن کیا کرے جس کے تعاقب میں سفر لگ جائے میرے پر کاٹ کے اب اپنی حفاظت کرنا عین ممکن ہے مری آہ کو پر لگ جائے