عنبرین صلاح الدین

 عنبرین صلاح الدین

پھر مرے بام و در سجانے سے

    پھر مرے بام و در سجانے سے کون روکے گا غم کوآنے سے سانس رُک جائے تو سکون آئے درد تھم جائے اس بہانے سے رنگ، خوشبو، سحاب، سب آئے تم نہ آئے مرے بُلانے سے آنکھ نے خوف کو مکین کیا خواب رخصت ہوئے ٹھکانے سے کوئی نغمہ، نوا، نہ کوئی صدا اب نہ جاگے یہ دل جگانے سے