کس جگہ ہم پہ پہرا نہیں ہے بہن
کس جگہ ہم پہ پہرا نہیں ہے بہن کیا زمیں قید خانہ نہیں ہے بہن کون دہلیز لچھمن کی ریکھا نہیں کس کہانی میں سیتا نہیں ہے بہن اُس کی لکھی کہانی سے باہر نکل ورنہ انجام اچھا نہیں ہے بہن تیرے چہرے کو تکتا ہوا آدمی کیوں تری بات سنتا نہیں ہے بہن تیری قسمت میں ہے ریت ہی ریت اور ریت کے پار دریا نہیں ہے بہن تیری خود سے شناسائی کیسے نہیں تیرا خود سے تو پردہ نہیں ہے بہن جو ترے خواب کو راستہ دے سکے ایسا کوئی دریچہ نہیں ہے بہن یہ محل ، رسمِ دنیا کا اونچا محل آسماں سے تو اونچا نہیں ہے بہن