ناہید قمر

ناہید قمر

خواب بہ جاتے ہیں

    ہم اگر وقت کی اُس رو کو سراپا سکتے جس میں بہتی ہوئی مل جائے کسی یاد کی آسودہ مہک جس میں دن رات کے آزار کا چارہ مل جائے خوابِ موجود کے رفتہ کا کنارہ مل جائے اُس کنارے سے ترے عکس کی لو تھام کے ہم کسی امکاں کے معلوم تلک جا سکتے ہم مگر کچھ بھی نہیں ذات کے وہم کا آشوب ہیں ہم گیلی مٹی ہیں نہ وہ چوب ہیں ہم جس سے اک خواب کی صورت یا صدا پھوٹ سکے تار آنسو کا کہیں ٹوٹ سکے خاک جب خاک میں ملتی ہے تو کب کھلتا ہے کس کے قدموں کے نشاں ثبت ہیں پہچان کی پگڈنڈی پر دل میں اب کون سی قبروں پہ دیے جلتے ہیں تجھ سے ملتے ہیں تو پل بھر کے لیے زخم اک بھرتا ہے اک سانس ادھڑ جاتی ہے چشم نمناک پہ ٹھہرے ہوئے منظر لے کر یاد کے نیند کے معدوم کناروں کی طرف خواب بہ جاتے ہیں اور رات گزر جاتی ہے