ناہید قمر

ناہید قمر

آئینے سوالوں کے

    کیوں آسمان بھر سے حصے میں اپنے آئے آدھے ادھورے منظر کیوں آنکھ کو ملی ہیں ٹوٹی ہوئی لکیریں اک دستِ آرزو پر دل نے کفِ گماں سے اک نظمِ گم شدہ کی سطریں تو ڈھونڈ لی ہی پر جھڑچکیں لبوں سے سوکھی ہوئی دعائیں اور چشمِ خامشی میں اک اَن کہی کا شیشہ دھیرے سے چبھ گیا ہے حاصل کے آئینوں میں اک سانس بھر گھڑی کے معکوس زاویوں پر معدوم ہو رہا ہے عکس رخِ تعلق متروک راستوں کی ویرانیاں پہن کر ہم کر سکیں گے کب تک نادیدہ کا تعاقب