رات خاموش ہے
رات خاموش ہے بولتی کچھ نہیں کن فراموشیوں کے کناروں سے یہ ایسے ادھڑے ہوئے دل زدہ منظروں کو اٹھا لائی ہے جو رفو گر کے ہاتھوں میں آتے نہیں بال و پر فاختاؤں کے جھلسے ہوئے راکھ اُڑتی ہوئی کیسے پوچھے مگر اُن دریدہ زمینوں کی بابت کوئی شاخِ زیتون سے کرگسوں نے جہاں عہدِ نسیان کی بے کفن ساعتوں کے بدن ہی نہیں بابِ وابستگی کے سنہری غلافوں میں لپٹی ہوئی یاد کے برگزیدہ ورق کھا لیے رہ گیا ایک پنجر سا تابوت میں وقت کی منجمد کروٹوں کا نشاں داستاں کے سرے ایک بے واقعہ واقعیت کے دھاگوں میں الجھے ہوئے رہ گئی ہے فضا میں فقط گونج سی گورکن کی کدالوں کی آواز کی اور حرفِ مکافات خاموش ہے رات خاموش ہے