Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
فرخ یار
حاشیے پر پھیلتی بے چینی
میں نے اُس کو اتنا دیکھا
دو آنکھوں سے جتنا دیکھا جا سکتا ہے
پھر بھی آخر
دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا ہے
نظم
چائے خانہ
پڑاؤ
خالی دن تھے
مجھے کھول تازہ ہوا میں رکھ
تماشاگاہِ ہستی میں
ہفت شماری کے میزان پہ
ہم تو بس.....
مجھے تو بس یہی کہنا ہے
شاید ایسا نہ ہو
حاشیے پر پھیلتی بے چینی