فرخ یار

فرخ یار

حاشیے پر پھیلتی بے چینی

    میں نے اُس کو اتنا دیکھا دو آنکھوں سے جتنا دیکھا جا سکتا ہے پھر بھی آخر دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا ہے