فرخ یار

فرخ یار

شاید ایسا نہ ہو

    ہے کوئی حجرۂ بے نام میں رُکنے والا آنکھ جس شخص کو اشکوں سے پذیرائی دے دل جسے بابِ تسلسل میں نمایاں کر دے خوابِ ہستی پسِ دیوار پریشاں نہ رہے اور اقرار کی ساعت میں کھلے نیلے فلک کا جادو ہے کوئی عمر کے صحرا میں کڑی دھوپ چنی ہو جس نے حوصلے جس کی نگاہوں سے فروزاں ٹھہریں جس کی آواز سے سرشار ہو گم گشتہ زمانوں کا ہجوم زندگی ضعفِ مہ و سال میں جس چہرے کو حیرتیں باندھ کے رُک رُک کے پلٹ کر دیکھے دیکھ اس موڑ پہ جس موڑ پہ میں زندہ ہوں دیکھ اس عہد میں جو عہدِ کرم خو بھی نہیں عین ممکن تھا کہ وہ تو ہو مگر تو بھی نہیں