مجھے تو بس یہی کہنا ہے
-
نہ وہ وصل آخری وصل تھا کہ جہانِ رنگ و خمار میں کوئی تازہ باب ہی کھولتے نہ یہ ہجر آخری ہجر ہے کہ بدن کے گرم مزاج کو کسی برف رُت سے ہی تولتے مرے مرکز سے محیط تک کئی سلسلے ہیں غبار کے جنھیں کاٹنے کا ہدف لیے کئی زاویے کئی موڑ ہیں خطِ استوا کی تلاش میں یہ جو خوف ہے مری گفتگو، مری خامشی میں بھرا ہوا یہ جو گرد ہے مہ و سال کی مرے خاک داں پہ جمی ہوئی اسے کون لایا شمار میں اسے کون لائے شمار میں کہ جہانِ رنگ و خمار میں نہ وہ وصل آخری وصل تھا نہ یہ ہجر آخری ہجر ہے