فرخ یار

فرخ یار

ہفت شماری کے میزان پہ

    ہم اثبات کے نیلے خیمے اور پُرکھوں کے شب خانوں میں سانسیں لیتے لیتے اُس منزل پر پہنچ گئے ہیں جس سے آگے ہفت شماری کے میزان پہ جیون رُکا ہوا ہے لیکن عمریں بھاگ رہی ہیں رستہ چاہے مٹی کا ہو جنگل کا یا پانی کا ہم تیری دنیا تک آنا چاہتے ہیں تجھے فصیل زماں میں پوروں ، آنکھوں اور ہونٹوں سے جتنا بھی محسوس کیا ہے کم ہے تیزہوا کے رنگ کئی برفیلے موسم جسموں کے بے ربط تماشے جن کی کوکھ سے خوابوں اور حرفوں نے دھیرے دھیرے جنم لیا ہم نے بس درزوں سے دیکھے ہم اُس چشمے پر کب ٹھہرے جو تیری ایڑی سے نکلا اور ابد تک پھیل گیا دیکھ ہماری جانب دیکھ کہ ہم خوابوں اور حرفوں کی تکرار سے پہلے پتھر، کانسی اور لوہے کے فرش سے اُٹھ کر حسن اپنے منصب تک لانا چاہتے ہیں رستہ چاہے مٹی کا ہو جنگل کا یا پانی کا، ہم تیری دنیا تک آنا چاہتے ہیں