تماشاگاہِ ہستی میں
-
تماشا گاہِ ہستی میں جہاں گم پانیوں میں دل دھڑکتے ہیں ستارے جھلملاتے ہیں تڑپتی ہیں کڑکتے بازوؤں میں مچھلیاں لیکن جبینوں پر لکھی تحریر پڑھتے ہم مکاں سے لا مکاں تک آن پہنچے ہیں تماشاگاہِ ہستی میں جہاں دستِ کشیدہ کار ہے لاکھوں پرندوں کی اڑانیں ہیں زمیں ناراض ہے لیکن زمیں کا ذکر ہے سطرِ معطر تک خمارِ ابر ہے! کچھ دھوپ ہے اِک پردۂ افلاک ہے جس پر دۂ افلاک کو کل تک سرکنا ہے تماشا گاہِ ہستی میں مجھے کب تک ٹھہرنا ہے