فرخ یار

فرخ یار

پڑاؤ

    محبت وہ ستارہ ہے جو سطح مرتفع پر خیر کی خبریں سناتا ہے تو راتیں بھیگ جاتی ہیں بدن کی سیپیوں میں خواہشوں کی بوند پڑتی ہے محبت ایسی ناؤ ہے جو بے آواز لوگوں سے نہیں کھینچتی اسے ..... ہم کھینچتے ہیں آبِ گم کی منزلوں پر سبز دریاؤں سے گدلے پانیوں تک محبت ایسا رستہ ہے جو ہم خود سے نہیں چنتے محبت ایسی چادر ہے جسے ہم لوگ طے کرکے نہیں بنتے کسی نے لکھ دیا اس کو سو ہم نے چن لیا اس کو کسی نے رکھ دیا اس کو سو ہم نے بن لیا اس کو