میں چانن کے دیس کا پنکھو
میں چانن کے دیس کا پنکھو اور ماتھے پر لاٹ سورج ساتھ شریکا میرا، دل تاروں کی ہاٹ نیل کے منڈل والے پیڑ پہ آہلنے کی دہلیز کلغی زرد چراغوں کی اور سُرخ عقیقی چونچ روشن چونچ سے پکڑی میں نے صبح سویر کی شاخ اک اک بوند جگر کی لے کر باندھے شفق کے تار گھور اندھیرا جگ نگری میں ، کالا سب سنسار اس نگری کے بیچ میں لایا کرنوں کے کچھ ہار میں چانن کے دیس کا پنکھو، اور پروں میں لو میرے آہلنے کی دہلیز پہ قوس کی لمبی راہ راہ کی پہلی منزل پر ہے چودہ دن کا چاند میرا بھوجن نور کے ریزے، دھوپ کے اُجلے موتی ملک میں میری چاندنی فصلیں اور تاروں کے باغ میں پنکھو، پر لوگ نہ مانیں، مجھ کو کہیں وہ شاعر کالی شبوں میں کہنے والا چودھویں رُت کے شعر میٹھے سروں میں گاتا ہوں میں، سُن کر درد کے گیت سادہ لوح زمانے والے میرے بن گئے میت