ترے مکان کے بام پر
ترے دیار میں خزاں کی فصل بے ثمر خزاں کی فصل میں سفر، سفر کی رات بے خبر تمام دیس اجنبی، خموشی ایک اِک مکاں ترے مکاں کے آس پاس رہگذر نہ راہگیر فقط اداس دو شجر، برہنہ سر تھکے تھکے شجر، کہ جن کی ٹہنیوں نے کھو دیے ہیں برگ و بار ہوا کی سرد لہر سے وہ کپکپا کے رہ گئے اتر رہے ہیں دم بہ دم سفید کہر کے غبار اسی غبار میں چھپے ترے دیار کے نصیب مکاں سے دور آسمان، آسماں پہ قمقمے ٹھٹھرٹھٹھر کے بجھ گئے وہ زرد رُو چراغ بھی خلا کی دُھندلی برف پر سکڑ کے چاند جم گیا ترے مکاں کے بام پر دیوں کی ہلکی روشنی ستا رہی ہے رات کو، بڑھا رہی ہے خامشی اس مہیب خامشی میں دو قدم دبے دبے کبھی وہ چل کے رک گئے، کبھی وہ رک کے چل پڑے وہ چل پڑے تو زندگی کا نور پھیلنے لگا جو رُک گئے تو تھم گئی ہے نبض کائنات کی